بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 60 hadith
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے آپؓ فرماتی ہیں حضرت سعد بن ابی وقاصؓ اور حضرت عبد بن زمعہؓ کے درمیان ایک لڑکے کے بارہ میں جھگڑا ہوا حضرت سعدؓ نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! یہ میرے بھائی عتبہ بن ابی وقاص کا بچہ ہے۔ اس نے مجھے وصیت میں کہا تھا کہ یہ اس کا بیٹا ہے۔ آپ اس کی شباہت ملاحظہ فرمائیں اور عبد بن زمعہؓ نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! یہ میرا بھائی ہے جو میرے باپ کے بستر پر ان کی اپنی لونڈی سے پیدا ہوا ہے۔ رسول اللہﷺ نے اس کی شباہت کو دیکھا تو اسے عتبہ کے عین مشابہ پایا۔ آپؐ نے فرمایا اے عبد! یہ تمہارا ہے۔ بچہ بستر والے کا ہے اور زانی کے لئے محرومی ہے اور اے سودہؓ بنت زمعہ تم اس سے پردہ کرو۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں پھر اس نے حضرت سودہؓ کو کبھی نہیں دیکھا۔ ایک روایت میں ’’یَا عَبْد‘‘ کے الفاظ نہیں۔ ایک روایت میں ’’اَلْوَلَدُ لِلْفِرَاش‘‘ کے الفاظ ہیں مگر ’’لِلْعَاہِرِ الْحَجَر‘‘ کے الفاظ نہیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بچہ بستر والے کا ہے اور بدکار کے لئے محرومی ہے۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے آپؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ میرے پاس خوش خوش تشریف لائے، آپؐ کا چہرہ چمک رہا تھا۔ آپؐ نے فرمایا جانتی ہو کہ مُجزّز نے ابھی ابھی زید بن حارثہ اور اسامہ بن زید کو دیکھ کر کہا ہے کہ ان میں سے بعض پیر بعض سے ہیں۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہﷺ میرے پاس خوش خوش تشریف لائے آپؐ نے فرمایا اے عائشہؓ کیا تمہیں علم ہے کہ مُجِزّز مدلجی میرے پاس آیا اور اس نے اسامہ اور زید کو دیکھا۔ ان دونوں پر ایک چادر تھی جس سے انہوں نے اپنے سر ڈھانپے ہوئے تھے اور ان کے پاؤں کھلے تھے اس نے کہا کہ یہ پیر ایک دوسرے سے ہیں۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ ایک قیافہ شناس رسول اللہﷺ کی موجودگی میں آیا اور اسامہ بن زیدؓ اور زید بن حارثہؓ لیٹے ہوئے تھے۔ اس نے کہا یہ پیر ایک دوسرے سے ہیں۔ نبیﷺ اس بات سے بہت خوش ہوئے اور آپؐ کو یہ بات بہت اچھی لگی اور آپؐ نے یہ بات حضرت عائشہؓ کو بتائی۔ ایک اور روایت میں یہ اضافہ ہے کہ مجزز ایک قیافہ شناس تھا۔
حضرت ام سلمہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے جب ان سے شادی کی تو ان کے پاس تین دن قیام فرمایا اور فرمایا تمہیں تمہارے خاندان کے سامنے کوئی شرمساری نہیں ہوگی۔ اگر تم چاہتی ہو تو تمہارے پاس ایک ہفتہ ٹھہر سکتا ہوں لیکن اگر میں تمہارے پاس ہفتہ ٹھہرا تو اپنی (باقی) بیویوں کے پاس بھی ہفتہ ٹھہروں گا۔
عبد الملک بن ابی بکر بن عبد الرحمان سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب حضرت ام سلمہؓ سے شادی کی اور وہ آپؐ کے پاس رہیں تو آپؐ نے فرمایا تمہیں تمہارے خاندان کے سامنے کوئی شرمساری نہیں ہوگی۔ اگر تم چاہتی ہو تو تمہارے پاس ایک ہفتہ رہ سکتا ہوں، اگر تم چاہو تو تین دن، پھر میں باری دیتا رہوں۔ انہوں نے عرض کیا کہ تین دن۔
ابو بکر بن عبد الرحمان سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے جب حضرت ام سلمہؓ سے شادی کی اور ان کے پاس تشریف لائے۔ پھر ان کے پاس سے جانے کا ارادہ فرمایا تو انہوں نے آپؐ کا کپڑا پکڑ لیا۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا اگر تم چاہو تو میں تمہارے پاس زیادہ رہوں اور تمہارے پاس رہنے کا حساب رکھوں۔ کنواری کے پاس سات دن اور بیوہ کے پاس تین دن۔
حضرت ام سلمہؓ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہﷺ نے ان سے شادی کی۔ (راوی نے کئی باتوں کا ذکر کیا جن میں یہ بھی ہے) اور رسول اللہﷺ نے فرمایا اگر تم چاہو تو میں سات دن تمہارے پاس رہوں اور سات دن دوسری بیویوں کے پاس۔ اگر میں سات دن تمہارے پاس ٹھہروں گا تو سات سات دن اپنی دوسری بیویوں کے پاس ٹھہروں گا۔
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ جب کوئی شخص بیوہ کے ہوتے ہوئے کسی کنواری سے شادی کرے تو اس کے پاس سات دن ٹھہرے اور جب کنواری کے ہوتے ہوئے کسی بیوہ سے شادی کرے تو اس کے پاس تین دن ٹھہرے۔ راوی خالد کہتے ہیں کہ اگر میں کہوں کہ یہ حدیث مرفوع ہے تو یہ میں درست کہہ رہا ہوں گا لیکن انہوں نے کہا کہ سنت اسی طرح ہے۔