بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 146 hadith
حضرت عمروؓ بن العاص بیان کرتے ہیں کہ بنی ہاشم کے کچھ لوگ حضرت اسماءؓ بنتِ عمیس کے پاس گئے۔ حضرت ابو بکرؓ تشریف لائے اور وہ اس وقت اُن (حضرت عمروؓ بن العاص) کے نکاح میں تھیں۔ آپؓ نے ان لوگوں کو دیکھا اور اسے ناپسند کیا اور آپؓ نے اس بات کا ذکر رسول اللہﷺ سے کیا اور کہا میں نے (حضرت اسماءؓ سے) بھلائی ہی دیکھی ہے۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے انہیں اس بات سے بری قرار دیا ہے۔ پھر رسول اللہﷺ منبر پر تشریف لائے اور فرمایا آج کے بعد کوئی اکیلا شخص کسی ایسی عورت کے پاس جس کا خاوند موجود نہ ہو نہ جائے سوائے اس کے کہ اس کے ساتھ ایک دو شخص اور ہوں۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ اپنی ازواجؓ مطہرات میں سے ایک زوجہ مطہرہؓ کے ساتھ تھے۔ آپؐ کے پاس سے ایک شخص گذرا۔ آپؐ نے اسے بلایا۔ وہ آیا تو آپؐ نے فرمایا اے فلاں! یہ میری فلاں بیوی ہے۔ اس پر اس شخص نے کہا یا رسولؐ اللہ! میں کسی کے متعلق گمان کرتا (بھی) تو آپؐ کے بارہ میں (ہرگز) نہ کرتا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا شیطان انسان میں خون کی طرح دوڑتا ہے۔
آنحضرتﷺ کی زوجہ مطہرہؓ حضرت صفیہؓ بنت حُیَی سے روایت ہے آپؓ فرماتی ہیں نبیﷺ اعتکاف میں تھے۔ میں رات کے وقت آپؐ سے ملنے آئی۔ آپؐ سے باتیں کیں۔ پھر واپس جانے کے لئے اٹھی۔ آپؐ بھی میرے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے تا مجھے واپس چھوڑ آئیں اور ان کا گھر اسامہؓ بن زید کے محلہ میں تھا۔ دو انصاری شخص گذرے اور جب انہوں نے نبیﷺ کو دیکھا تو جلدی جلدی چلنے لگے۔ نبیﷺ نے فرمایا رُکو! یہ صفیہؓ بنتِ حُیَی ہیں۔ ان دونوں نے کہا سبحان اللہ، یا رسولؐ اللہ! آپؐ نے فرمایا شیطان انسان میں خون کی طرح گردش کرتا ہے اور میں ڈرا کہ وہ تم دونوں کے دل میں کچھ شر نہ ڈال دے۔ ایک اور روایت میں ہے نبیﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت صفیہؓ بنت حُیَی بیان کرتی ہیں کہ وہ رمضان کے آخری عشرہ میں مسجد میں رسول اللہﷺ سے آپؐ کے اعتکاف کے دوران ملنے آئیں اور آپؐ سے کچھ دیر باتیں کرتی رہیں۔ پھر واپس جانے کے لئے کھڑی ہوئیں اور نبیﷺ انہیں واپس چھوڑنے کے لئے کھڑے ہوئے۔ باقی روایت سابقہ روایت کی طرح ہے مگر اس میں (یَجْرِی کی بجائے) یَبْلُغُ اور مَجْرَی کی بجائے مَبْلَغَ کے الفاظ ہیں۔
حضرت ابو واقد لیثیؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ ایک دفعہ مسجد میں تشریف فرما تھے اور کچھ لوگ آپؐ کے ساتھ تھے کہ تین شخص آئے۔ دو رسول اللہﷺ کے پاس آگئے اور ایک چلا گیا۔ راوی کہتے ہیں وہ دونوں رسول اللہﷺ کے پاس کھڑے ہوئے۔ ان دونوں میں سے ایک نے تو مجلس میں خالی جگہ دیکھی اور وہاں بیٹھ گیا اور جو دوسرا تھا وہ لوگوں کے پیچھے بیٹھ گیا جبکہ تیسرا واپس چلا گیا۔ جب رسول اللہﷺ فارغ ہوئے۔ آپؐ نے فرمایا میں تمہیں ان تین اشخاص کا حال نہ بتاؤں؟ ان میں سے ایک نے تو اللہ کے حضور پناہ لی تو اللہ نے اسے پناہ دے دی اور دوسرے نے شرم محسوس کی تو اللہ نے بھی اس سے شرم محسوس کی اور جو تیسرا تھا اس نے اعراض کیا تو اللہ تعالیٰ نے بھی (اس سے) اعراض کیا۔
حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں نبی ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی کسی کو اس کی جگہ سے نہ اٹھائے کہ پھر وہاں خود بیٹھ جائے۔
حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں نبیﷺ نے فرمایا کوئی شخص کسی شخص کو اس کی نشست سے نہ اٹھائے کہ خود وہاں بیٹھ جائے بلکہ وسعت اور گنجائش پیدا کرو۔ ایک اور روایت میں وَلَکِنْ تَفَسَّحُوا وَتَوَسَّعُوا کے الفاظ نہیں ہیں مگر اس روایت میں مزید ہے کہ میں نے (نافع) سے پوچھا جمعہ کے متعلق؟ انہوں (حضرت ابن عمرؓ) نے فرمایا جمعہ کے دن اور اس کے علاوہ بھی۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو اٹھا کر اس کی نشست پر نہ بیٹھے اور حضرت ابن عمرؓ کے لئے جب کوئی شخص نشست سے کھڑا ہوتا تو آپؓ وہاں نہ بیٹھتے۔
حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص جمعہ کے دن اپنے بھائی کو نہ اٹھائے اور پھر اس کی نشست کا قصد کرے اور وہاں بیٹھ جائے بلکہ آپؐ فرماتے تھے کہ وسعت پیدا کرو۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی اٹھے _ اور ابو عوانہ کی روایت میں ہے جو شخص اپنی جگہ سے اٹھے _ پھر وہ اس کی طرف واپس آئے تو وہ اس کا زیادہ حق دار ہے۔
حضرت ام سلمہؓ سے روایت ہے کہ ایک مخنث ان کے ہاں تھا اور رسول اللہﷺ گھر میں تھے۔ اس (مخنث) نے ام سلمہؓ کے بھائی سے کہا اے عبداللہ بن ابی امیہ! اگر اللہ تعالیٰ نے کل تمہیں طائف پر فتح عطا فرمائی تو میں تجھے غیلان کی بیٹی بتاتا ہوں۔ وہ آتی ہے تو چار بل پڑتے ہیں اور جاتی ہے تو آٹھ بل پڑتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے یہ سنا تو فرمایا یہ لوگ تمہارے پاس نہ آیا کریں۔