وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ يَدْخُلُ عَلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مُخَنَّثٌ فَكَانُوا يَعُدُّونَهُ مِنْ غَيْرِ أُولِي الإِرْبَةِ - قَالَ - فَدَخَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا وَهُوَ عِنْدَ بَعْضِ نِسَائِهِ وَهُوَ يَنْعَتُ امْرَأَةً قَالَ إِذَا أَقْبَلَتْ أَقْبَلَتْ بِأَرْبَعٍ وَإِذَا أَدْبَرَتْ أَدْبَرَتْ بِثَمَانٍ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَلاَ أَرَى هَذَا يَعْرِفُ مَا هَا هُنَا لاَ يَدْخُلَنَّ عَلَيْكُنَّ . قَالَتْ فَحَجَبُوهُ .
عروہ سے مروی ہے کہ حضرت عائشہؓ نے فرمایا ایک مخنث رسول اللہﷺ کی ازواجِ مطہراتؓ کے ہاں آتا تھا۔ لوگ اسے ان میں شمار کرتے تھے جو (قرآن کریم کے مطابق) غَیْرِ اُولِیْ الْاِرْبَۃِ (یعنی جنسی حاجت نہ رکھنے والے) ہیں۔ راوی کہتے ہیں ایک دن نبیﷺ تشریف لائے تو وہ حضورﷺ کی ازواج میں سے کسی کے پاس تھا اور اس نے ایک عورت کا نقشہ کھینچا اور کہا جب وہ سامنے سے آتی ہے تو چار بل کے ساتھ آتی ہے اور جب لوٹتی ہے تو آٹھ بل کے ساتھ لوٹتی ہے۔ اس پر نبیﷺ نے فرمایا سنو! میں دیکھتا ہوں کہ یہ ان باتوں کو جانتا ہے یہ تمہارے پاس ہر گز نہ آئے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں پھر انہوں نے اسے اندر آنے سے روک دیا۔
حضرت اسماءؓ بنت ابو بکرؓ سے روایت ہے وہ کہتی ہیں حضرت زبیرؓ نے میرے ساتھ شادی کی تو اس دنیا میں نہ ان کے پاس مال تھا نہ غلام اور نہ ہی ایک گھوڑے کے سوا کچھ اور۔ وہ کہتی ہیں میں ان کے گھوڑے کو چارہ ڈالتی اور میں انہیں اس (گھوڑے) کی خوراک کے خیال سے مستغنی کر دیتی اور اس کی نگرانی کرتی تھی اور ان کے پانی لانے والے اونٹ کے لئے گٹھلیاں کوٹتی اور اس کو چارہ ڈالتی اور پانی لاتی اور اس کے ڈول کو سیتی اور آٹا گوندھتی لیکن روٹی اچھی طرح سے نہ پکا سکتی تھی اور ہمسایہ (انصاری) عورتیں میرے لئے روٹی پکا دیتیں اور وہ بڑی اچھی عورتیں تھیں۔ وہ (حضرت اسماءؓ) کہتی ہیں اور میں اس قطعہ زمین سے جو زبیرؓ کو رسول اللہﷺ نے دیا تھا اپنے سر پر گٹھلیاں لایا کرتی اور وہ دو تہائی فرسخ پر تھا۔ وہ کہتی ہیں ایک دن میں آرہی تھی اور گٹھلیاں میرے سر پر تھیں میرا سامنا رسول اللہﷺ سے ہوا اور آپؐ کے ساتھ آپؐ کے کچھ صحابہؓ بھی تھے۔ آپؐ نے مجھے بلایا پھر (اونٹ کو بٹھانے کے لئے) اِخ، اِخ کہا تاکہ مجھے اپنے پیچھے سوار کرلیں۔ حضرت اسماءؓ نے (حضرت زبیرؓ کو) کہا مجھے شرم آئی اور مجھے آپؓ کی غیرت کا پتہ تھا۔ اس پر وہ کہنے لگے اللہ کی قسم! تمہارا اپنے سر پر گٹھلیاں اٹھاکر لانا میرے نزدیک نبیﷺ کے ساتھ سوار ہونے سے زیادہ گراں ہے۔ وہ کہتی ہیں اس کے بعد حضرت ابوبکرؓ نے ایک خادمہ بھجوا دی اور اس نے گھوڑے کی نگہداشت سے مجھے سبکدوش کر دیا اور گویا اس نے مجھے آزاد کر دیا۔
ابن ابی مُلیکہ سے روایت ہے کہ حضرت اسماءؓ نے کہا میں حضرت زبیرؓ کے گھر کے کام کاج کیا کرتی تھی ان کا ایک گھوڑا تھا جس کی میں نگہداشت کرتی۔ گھوڑے کی دیکھ بھال کرنے سے زیادہ مشکل مجھے کوئی اور کام نہ لگتا تھا۔ میں اس کے لئے گھاس لاتی اور اس کی دیکھ بھال کرتی اور اس کا خیال رکھتی۔ راوی کہتے ہیں پھر انہیں ایک خادمہ ملی۔ نبی ﷺ کے پاس قیدی آئے تو آپؐ نے انہیں یہ خادمہ عطا کی۔ حضرت اسماءؓ کہتی ہیں اس نے مجھے گھوڑے کی دیکھ بھال سے مستغنی کردیا اور مجھ سے یہ بوجھ اتار دیا۔ پھر میرے پاس ایک شخص آیا اور اس نے کہا اے ام عبداللہ! میں ایک غریب آدمی ہوں میں چاہتا ہوں کہ تمہارے گھر کے سایہ میں کاروبار کروں۔ حضرت اسماءؓ نے کہا اگر میں تمہیں اجازت دے بھی دوں تو حضرت زبیرؓ انکار کردیں گے۔ پس تم آنا اور مجھ سے زبیرؓ کی موجودگی میں اجازت طلب کرنا۔ وہ شخص آیا اور اس نے کہا اے ام عبداللہ! میں ایک غریب آدمی ہوں اور چاہتا ہوں کہ آپ کے گھر کے سایہ میں کاروبار کروں۔ انہوں نے کہا کیا تجھے مدینہ میں میرا ہی گھر نظر آیا ہے؟ حضرت زبیرؓ نے انہیں کہا تمہیں کیا ہوا کہ تم ایک غریب آدمی کو کاروبار سے منع کرتی ہو۔ پھر وہ تجارت کرتا رہا یہانتک کہ اس نے کچھ کمائی کرلی اور میں نے خادمہ اس کے ہاتھ بیچ دی۔ حضرت زبیرؓ میرے پاس آئے تو اس کی قیمت میری گود میں تھی۔ انہوں نے کہا (پیسے) مجھے ہبہ کر دو۔ انہوں (حضرت اسماءؓ) نے کہا میں انہیں صدقہ کر چکی ہوں۔
حضرت عبداللہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا جب تم تین ہو تو ایک کو چھوڑ کر دو سرگوشی سے بات نہ کریں جب تک اور لوگوں سے مل جل نہ جاؤ۔ اس وجہ سے کہ یہ (بات) اس کو تکلیف دے گی۔
حضرت عبداللہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا جب تم تین ہو تو دو اپنے ایک ساتھی کو چھوڑ کر سرگوشی میں بات نہ کریں کیونکہ یہ بات اسے تکلیف دے گی۔
صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ إِذَا اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَقَاهُ جِبْرِيلُ قَالَ بِاسْمِ اللَّهِ يُبْرِيكَ وَمِنْ كُلِّ دَاءٍ يَشْفِيكَ وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ وَشَرِّ كُلِّ ذِي عَيْنٍ .
نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہؓ سے روایت ہے۔ وہ فرماتی ہیں کہ جب کبھی رسول اللہ ﷺ بیمار ہوتے تو جبریل آپؐ کو دَم کرتے اور کہتے اللہ کے نام کے ساتھ وہ آپؐ کو صحت دے اور ہر بیماری سے شفاء دے اور حاسد کے شر سے جب وہ حسد کرے اور ہر نظر والے کے شر سے۔
حضرت ابو سعیدؓ سے روایت ہے کہ جبریل نبیﷺ کے پاس آئے اور کہا اے محمدؐ ! آپؐ بیمار ہیں۔ آپؐ نے فرمایا ہاں۔ انہوں نے کہا اللہ کے نام کے ساتھ میں آپؐ کو دَم کرتا ہوں، ہر اس چیز سے جو آپؐ کو تکلیف دیتی ہے۔ ہر نفس کے شر سے اور حسد کرنے والے کی آنکھ سے۔ اللہ آپؐ کو شفا دے گا اللہ کے نام کے ساتھ میں آپؐ کو دَم کرتا ہوں۔
عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
الْعَيْنُ حَقٌّ
.
ہمام بن منبّہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ یہ وہ احادیث ہیں جو حضرت ابو ہریرہؓ نے ہمیں رسول اللہﷺ سے بتائیں اور انہوں نے کئی احادیث بیان کیں۔ جن میں سے ایک یہ ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا نظر بر حق ہے۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا نظر حق ہے اور اگر کوئی چیز تقدیر سے سبقت لے جا سکتی تھی تو نظر ہی اس سے سبقت لے جا سکتی تھی اور جب تم کو نہانے کے لئے کہا جائے تو نہا لیا کرو۔