بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 209 hadith
حضرت ابو سعید خدریؓ اور حضرت جابر بن عبداللہؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر کیا تو روزہ رکھنے والا روزہ رکھتا اور روزہ نہ رکھنے والا روزہ نہ رکھتا اور ان میں سے کوئی دوسرے پر عیب نہ لگاتا۔
حُمَید کہتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سفر میں رمضان کا روزہ رکھنے کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رمضان میں سفر کیا۔ روزہ رکھنے والا روزہ نہ رکھنے والے پر عیب نہیں لگاتا تھا اور نہ ہی روزہ نہ رکھنے والا روزہ رکھنے والے پر۔
حُمَید سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں سفر پر نکلا اور میں نے روزہ رکھ لیا مجھے لوگوں نے کہا تمہیں دوبارہ روزہ رکھنا ہوگا۔ وہ کہتے ہیں میں نے کہا کہ حضرت انسؓ نے مجھے بتایا ہے کہ رسول اللہﷺ کے صحابہؓ سفر کرتے تھے تو روزہ دار روزہ نہ رکھنے والے پر عیب نہیں لگاتا تھا اور نہ ہی روزہ چھوڑنے والا روزہ دار پر۔ (راوی کہتے ہیں) میں ابن ابی ملیکہ سے ملا انہوں نے مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایسی ہی روایت بتائی۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم نبیﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے۔ ہم میں روزہ دار بھی تھے اور روزہ نہ رکھنے والے بھی۔ وہ (حضرت انسؓ) کہتے ہیں ہم نے ایک شدید گرمی والے دن ایک جگہ پڑاؤ کیا۔ ہم میں سب سے زیادہ سایہ اسے (میسر) تھا جس کے پاس چادر تھی اور ہم میں وہ بھی تھے جو اپنے ہاتھ سے دھوپ سے بچاؤ کرتے تھے۔ راوی کہتے ہیں پھر روزے دار تو پڑے رہے اور جو روزہ سے نہ تھے وہ اُٹھے۔ انہوں نے خیمے لگائے اور سواریوں کو پانی پلایا۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا آج روزہ نہ رکھنے والے اجر لے گئے۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ سفر میں تھے بعض نے روزہ رکھا اور بعض نے نہ رکھا تو روزہ نہ رکھنے والوں نے کمر کس لی اور خوب کام کیا اور روزہ دار کمزوری کی وجہ سے بعض کام نہ کر سکے۔ وہ (حضرت انسؓ ) کہتے ہیں آپؐ نے اس بارے میں فرمایا آج روزہ نہ رکھنے والے اجر لے گئے۔
قزعہ نے بیان کیا میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان کے پاس بہت سے لوگ جمع تھے۔ جب لوگ ان کے پاس سے چلے گئے۔ میں نے کہا میں آپؓ سے اس کے بارہ میں نہیں پوچھتا جس کے بارہ میں یہ لوگ پوچھ رہے تھے۔ میں نے اُن سے سفر میں روزہ رکھنے کے بارہ میں پوچھا۔ انہوں نے کہا ہم نے رسول اللہﷺ کے ساتھ مکہ کی طرف سفر کیا اور ہم روزہ سے تھے۔ وہ (حضرت ابو سعید خدریؓ) کہتے ہیں ہم نے ایک جگہ پڑاؤ کیا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا تم اپنے دشمن کے قریب پہنچ گئے ہو اور روزہ نہ رکھنا تمہارے لئے زیادہ طاقت کا موجب ہے۔ یہ رخصت تھی پھر ہم میں سے بعض نے روزہ رکھا اور بعض نے روزہ نہیں رکھا۔ پھر ہم دوسرے پڑاؤ پر اترے تو آپؐ نے فرمایا یقینا تم صبح دشمنوں کا مقابلہ کرنے والے ہو اور روزہ نہ رکھنا تمہارے لئے زیادہ قوت کا موجب ہے۔ پس روزہ نہ رکھو اور یہ فیصلہ تھا۔ چنانچہ ہم نے روزہ نہیں رکھا۔ پھر انہوں نے کہا اس کے بعد رسول اللہﷺ کے ساتھ ہم سفر میں روزہ رکھ لیا کرتے تھے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپؓ فرماتی ہیں کہ حضرت حمزہ بن عمر و الاسلمیؓ نے سفر میں روزہ رکھنے کی بابت رسول اللہ ﷺ سے پوچھا آپؐ نے فرمایا اگر تم چاہو تو روزہ رکھو اور اگر تم چاہو تو نہ رکھو۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت حمزہ بن عمرو الاسلمیؓ نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا اور عرض کیا یا رسولؐ اللہ! میں ایک ایسا شخص ہوں جو متواتر روزے رکھتا ہوں کیا میں سفر میں روزہ رکھ لیا کروں۔ آپؐ نے فرمایا اگر تم مناسب سمجھتے ہو تو روزہ رکھ لو اور اگر مناسب سمجھتے ہو تو نہ رکھو۔ ایک اور روایت میں (اِنِّیْ رَجُلٌ أَسْرُدُ الصَّوْمَ کی بجائے) اِنِّیْ رَجُلٌ اَصُوْمُ کے الفاظ ہیں۔
حضرت حمزہ بن عمرو الا سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا یا رسولؐ اللہ! میں سفر میں روزے رکھنے کی قوت پاتا ہوں۔ تو کیا مجھے (روزے رکھنے پر) گناہ ہو گا؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک رخصت ہے جو اس کو اختیار کرے تو اچھا ہے اور جو روزہ رکھنا پسند کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔ ہارون کی روایت میں ’’ھِیَ رُخْصَۃٌ‘‘ کے الفاظ ہیں جبکہ ’’مِنَ اللّٰہِ‘‘ (کے الفاظ) کا ذکر نہیں۔
حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رمضان کے مہینہ میں شدید گرمی میں (سفر پر) نکلے۔ یہاں تک کہ (یہ حال تھا) ہم میں سے کوئی شدید گرمی کی وجہ سے اپنا ہاتھ اپنے سر پر رکھتا تھا اور ہم میں سوائے رسول اللہ ﷺ اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے کوئی روزہ دار نہ تھا۔