بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 209 hadith
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپؓ فرماتی ہیں ایک شخص رسول اللہﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا میں جل گیا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا کیوں؟ اس نے عرض کیا میں نے اپنی بیوی سے رمضان میں دن کے وقت تعلق قائم کر لیا۔ آپؐ نے فرمایا صدقہ دو صدقہ دو۔ اس نے کہا میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ آپؐ نے اسے بیٹھنے کا ارشاد فرمایا، پھر آپؐ کے پاس دو ٹوکرے آئے جن میں غلّہ تھا۔ پھر رسول اللہﷺ نے اسے ارشاد فرمایا کہ وہ اسے صدقہ کر دے۔۔۔ ایک اور روایت میں تَصَدَّقْ تَصَدَّقْ کے الفاظ نہیں ہیں اور نہ ہی نَھَارًا کا ذکر ہے۔
رسول اللہﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ ایک شخص رمضان میں رسول اللہﷺ کے پاس مسجد میں آیا اور عرض کیا یا رسولؐ اللہ! میں تو جل گیا، میں تو جل گیا۔ رسول اللہﷺ نے اس سے پوچھا کیا بات ہے؟ اس نے کہا میں اپنی بیوی سے تعلق قائم کر بیٹھا۔ آپؐ نے فرمایا صدقہ کرو۔ اس نے کہا اللہ کی قسم اے اللہ کے نبیؐ! میرے پاس تو کچھ نہیں اور نہ ہی مجھے اس کی طاقت ہے۔ آپؐ نے فرمایا بیٹھو، وہ بیٹھ گیا۔ اس دوران ایک شخص گدھے کو ہانکتے ہوئے آیا جس پر غلہ تھا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہاں ہے وہ ’’جل جانے والا‘‘ جو ابھی (یہاں) تھا؟ وہ شخص کھڑا ہوا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا یہ صدقہ کر دو۔ اس نے کہا یا رسولؐ اللہ! اپنے علاوہ کسی اور کو!؟_خدا کی قسم ہم تو خود بھوکے ہیں ہمارے پاس کچھ نہیں _فرمایا تو خود یہ کھالو۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فتح مکہ کے سال رمضان میں نکلے آپؐ نے روزہ رکھا ہوا تھا یہاں تک کہ آپؐ کدید مقام پر پہنچے تو روزہ کھول دیا۔ رسول اللہ ﷺ کے صحابہؓ آپؐ کے عمل میں جدید تر (بعد والے عمل) کی پیروی کرتے تھے۔ سفیان کہتے ہیں مجھے معلوم نہیں کہ یہ کس کا قول ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے قول میں سے بعد والے کو لیا جاتا ہے۔ زہری کہتے ہیں روزہ نہ رکھنا دونوں باتوں میں سے آخری عمل تھا رسول اللہ ﷺ کے کام میں سے سب سے آخری کام کو اختیار کیا جاتا ہے اور رسول اللہ ﷺ رمضان کے تیرہ دن گزرنے کے بعد صبح کے وقت مکہ میں داخل ہوئے۔ ابن شھاب کہتے ہیں کہ (اصحاب رسول ﷺ) آپؐ کے کام میں سے تازہ تر اور جدید تر کی پیروی کرتے تھے اور اس کو ناسخ محکم سمجھتے تھے۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے رمضان میں سفر کیا اور روزہ رکھا یہاں تک کہ عُسفان مقام پر پہنچے تو آپؐ نے برتن منگوایا جس میں کوئی مشروب تھا۔ آپؐ نے اسے دن کے وقت پیا تا کہ آپؐ کو لوگ دیکھ لیں پھر آپؐ نے روزہ نہیں رکھا یہاں تک کہ مکہ میں داخل ہو گئے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (سفر میں) روزہ رکھا بھی اور چھوڑا بھی۔ پس جو شخص چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اس شخص پر جو روزہ رکھے عیب نہ لگاؤ اور نہ ہی اس پر جو روزہ نہ رکھے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے سفر میں روزہ رکھا اور چھوڑا بھی۔
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فتحِ کے سال مکہ کی طرف رمضان میں نکلے آپؐ نے روزہ رکھا یہانتک کہ آپ کُرَاع الغَمِیْم مقام پر پہنچے۔ لوگوں نے بھی روزہ رکھا ہوا تھا۔ آپؐ نے پانی کا ایک پیالہ منگوایا اور اسے بلند کیا یہانتک کہ لوگوں نے اس کی طرف دیکھا۔ پھر آپؐ نے پیا۔ اس کے بعد آپؐ سے عرض کیا گیا کہ بعض لوگوں نے پھر بھی روزہ رکھا ہوا ہے۔ آپؐ نے فرمایا یہ نافرمان ہیں یہ نافرمان ہیں۔ ایک اور روایت میں یہ اضافہ ہے کہ آپؐ سے عرض کیا گیا کہ لوگوں پر روزہ گراں ہے اور وہ محض آپؐ کا عمل دیکھ رہے ہیں پس آپؐ نے پانی کا پیالہ عصر کے بعد منگوایا۔
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک سفر میں تھے آپؐ نے ایک شخص کو دیکھا جس کے گرد لوگوں کا ہجوم تھا اور اس پر سایہ کیا گیا تھا۔ آپؐ نے پوچھا اسے کیا ہوا؟ لوگوں نے کہا (یہ) ایک روزہ دار شخص ہے اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ (اعلیٰ درجہ کی) نیکی نہیں ہے کہ تم سفر میں روزہ رکھو۔ ایک اور روایت میں (کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فِیْ سَفَرٍ فَرَأَی رَجُلًا کی بجائے) رَأَی رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ رَجُلًا کے الفاظ ہیں۔ شعبہ کہتے ہیں کہ مجھے یحییٰ ابن ابی کثیر سے یہ روایت پہنچی ہے جس میں مزید یہ ہے کہ آپؐ (ﷺ) نے فرمایا تمہیں اللہ کی وہ رخصت اختیار کرنی چاہئے جو اس نے تمہیں عطا کی ہے۔ وہ (شعبہ) کہتے ہیں پھر جب میں نے اُن (یحییٰ) سے پوچھا تو انہیں (یحییٰ کو) یہ یاد نہیں تھا۔
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ 16 رمضان کو غزوہ میں آپؐ کے ساتھ گئے۔ ہم میں روزہ دار بھی تھے اور بغیر روزہ کے بھی۔ نہ تو روزہ دار نے روزہ نہ رکھنے والے کو عیب لگایا اور نہ ہی روزہ چھوڑنے والے نے روزے دار کو۔ ایک روایت میں 18 رمضان، اور ایک میں 12 رمضان، اور ایک اور روایت میں 17 یا 19 کا ذکر ہے۔
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رمضان میں سفر کرتے تھے۔ نہ تو روزہ دار کے روزہ رکھنے کو معیوب سمجھا جاتا اور نہ ہی روزہ نہ رکھنے والے کے روزہ چھوڑنے کو۔
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رمضان میں غزوہ کے لئے جاتے تھے۔ ہم میں روزہ دار بھی ہوتے تھے اور روزہ نہ رکھنے والے بھی۔ پس نہ تو روزہ والا روزہ چھوڑنے والے کا بُرا مانتا اور نہ ہی بغیر روزہ والا روزے دار کا بُرا مانتا۔ وہ سمجھتے تھے جس میں طاقت ہو وہ روزہ رکھ لے تو یہ بھی اچھا ہے اور وہ سمجھتے تھے کہ جس میں طاقت نہ ہو وہ نہ رکھے تو یہ بھی اچھا ہے۔