بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 209 hadith
حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ شدید گرمی کے دن آپؐ کے ایک سفر میں تھے یہاں تک کہ ایک شخص شدت گرمی کی وجہ سے اپنے سر پر اپنا ہاتھ رکھتا اور ہم میں سوائے رسول اللہ ﷺ اور حضرت عبداللہ بن رواحہؓ کے کوئی روزے سے نہ تھا۔
حضرت عبداللہ بن عباسؓ کے آزاد کردہ غلام عمیر حضرت ام الفضلؓ بنت حارث سے روایت کرتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے ان کے پاس عرفہ کے دن رسول اللہﷺ کے روزہ رکھنے کے بارہ میں اختلاف رائے کیا۔ کسی نے کہا آپؐ روزے سے ہیں کسی نے کہا آپؐ روزہ سے نہیں ہیں۔ (وہ کہتی ہیں) میں نے آپؐ کے پاس دودھ کا پیالہ بھیجا اور آپؐ عرفہ میں اپنے اونٹ پر سوار تھے۔ آپؐ نے وہ (دودھ) پی لیا۔ ایک اور روایت میں وَھُوَ وَاقِفٌ عَلٰی بَعِیْرِہِ کے الفاظ نہیں ہیں۔ اور حضرت ام الفضلؓ کے آزاد کردہ غلام عمیر سے روایت کی گئی ہے۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام عمیر نے بتایا کہ انہوں نے حضرت ام فضل رضی اللہ عنہا کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہؓ میں سے کچھ لوگوں نے عرفہ کے دن روزے کے متعلق شک کیا اور ہم اس (عرفہ) میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے۔ میں نے آپؐ کے پاس ایک پیالہ بھیجا جس میں دودھ تھا اور آپؐ اس وقت عرفہ میں تھے اور آپؐ نے اسے پی لیا۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام کریب نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ آپؓ نے فرمایا عرفہ کے دن لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کے روزہ کے بارہ میں شک کیا۔ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے آپؐ کی طرف دودھ کا برتن بھجوایا اور آپؐ موقف میں قیام فرما تھے۔ آپؐ نے اس میں سے پیا اور لوگ آپؐ کو دیکھ رہے تھے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپؓ فرماتی ہیں کہ قریش جاہلیت میں عاشورہ (دسویں محرم) کا روزہ رکھتے تھے اور رسول اللہ ﷺ بھی یہ روزہ رکھتے تھے اور جب آپؐ نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی تو آپؐ نے اس دن کا روزہ رکھا اور اس روزے کے رکھنے کا حکم دیا۔ جب رمضان کا مہینہ فرض ہوا تو آپؐ نے فرمایا جو چاہے یہ روزہ رکھے جو چاہے نہ رکھے۔ ایک اور روایت کے شروع میں یہ ذکر نہیں کہ رسول اللہ ﷺ یہ روزہ رکھا کرتے تھے اور اس روایت کے آخر میں ہے کہ آپؐ نے عاشوراء (کا روزہ) رکھنا چھوڑ دیا۔ جبکہ اس روایت میں فَمَنْ شَاءَ صَامَہُ وَ مَنْ شَائَ تَرَکَہُ کے الفاظ کو جریر کی روایت کی طرح نبی ﷺ کا قول قرار نہیں دیا گیا۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ عاشورا کے دن جاہلیت میں روزہ رکھا جاتا تھا۔ پھر جب اسلام آگیا تو جو چاہتا یہ روزہ رکھتا اور جو چاہتا اِسے چھوڑ دیتا۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اللہ ﷺ رمضان فرض ہونے سے پہلے اس (عاشوراء) کا روزہ رکھنے کا ارشاد فرمایا کرتے تھے۔ پھر جب رمضان فرض ہوا تو یہ ہوا کہ جو چاہتا یوم عاشوراء کا روزہ رکھتا اور جو چاہتا نہ رکھتا۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ قریش جاہلیت میں یوم عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ روزہ رکھنے کا حکم دیا یہاں تک کہ رمضان فرض ہو گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو چاہے اس (عاشورا) کا روزہ رکھے اور جو چاہے وہ اس کا روزہ نہ رکھے۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بتایا کہ جاہلیت والے عاشورا کے دن روزہ رکھتے تھے اور رسول اللہ ﷺ اور مسلمان رمضان فرض ہونے سے پہلے اس کا روزہ رکھتے رہے پھر جب رمضان فرض ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ عاشورہ کا دن اللہ کے دنوں میں سے ایک (خاص) دن ہے جو چاہے اس کا روزہ رکھے اور جو چاہے اس کو چھوڑ دے۔
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس عاشورہ کے دن کا ذکر کیا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ ایسا دن ہے جس میں جاہلیت والے روزہ رکھتے تھے پس جو تم میں سے اس دن کا روزہ رکھنا پسند کرے تو وہ اس کا روزہ رکھے اور جو نہ چاہے وہ اسے چھوڑ دے۔