بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 9 of 209 hadith
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ اس عشرہ میں جو مہینہ کے درمیان میں آتا ہے اعتکاف فرماتے تھے جب بیس راتیں گذر جاتیں اور اکیسویں رات آتی تو آپؐ اپنے گھر لوٹ آتے اور وہ لوگ بھی جو آپؐ کے ساتھ اعتکاف کرتے لوٹ آتے۔ پھر آپؐ نے ایک ماہ اسی طرح اعتکاف کیا اور وہ رات (اکیسویں) جس میں واپس لوٹتے تھے اعتکاف میں ہی رہے اور لوگوں سے خطاب فرمایا اور جو اللہ نے چاہا آپؐ نے انہیں حکم دیا پھر فرمایا میں اس (درمیانی) عشرہ میں اعتکاف کرتا تھا پھر مجھ پر ظاہر ہوا کہ میں اس آخری عشرہ میں اعتکاف کروں۔ پس جس نے میرے ساتھ اعتکاف کیا تھا وہ رات اپنے معتکف میں ہی گزارے اور میں نے اس رات (لیلۃ القدر) کو دیکھا مگر پھر وہ مجھے بھلا دی گئی۔ پس تم اسے آخری عشرہ کی ہر طاق (رات) میں ڈھونڈو۔ اور میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں پانی اور مٹی میں سجدہ کر رہا ہوں۔ حضرت ابو سعید خدریؓ کہتے ہیں اکیسویں رات کو ہم پر بارش ہوئی مسجد رسول اللہﷺ کی نماز کی جگہ پر ٹپکی۔ میں نے آپؐ کو دیکھا آپؐ صبح کی نماز سے فارغ ہوئے تو آپؐ کا چہرہ مٹی اور پانی سے گیلا تھا۔ ایک اور روایت (فِی الْعَشْرِ کی بجائے) فِیْ رَمَضَانَ الْعَشْرَ کے الفاظ ہیں۔ اور (فَلْیَبِتْ کی بجائے) فَلْیَثْبُتْ کے الفاظ ہیں۔ (یعنی رات گزارنے کی بجائے فرمایا ٹھہرا رہے) اور اسی طرح (وَجْہُہُ مُبْتَلٌّ) کی بجائے وَجَبِیْنُہُ مُمْتَلِئاً طِیْنًا وَمَائً کے الفاظ ہیں۔ یعنی آپؐ کی پیشانی پر مٹی اور پانی تھا۔
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ رمضان کا پہلا عشرہ اعتکاف کرتے تھے۔ پھر آپؐ نے درمیانی عشرہ میں ایک ترکی خیمہ میں جس کی چوکھٹ پر چٹائی تھی اعتکاف کیا۔ راوی کہتے ہیں۔ آپؐ نے چٹائی اپنے ہاتھ سے پکڑی اور وہ خیمہ کی طرف کردی۔ پھر آپؐ نے اپنا سر مبارک باہر نکالا اور لوگوں سے گفتگو فرمائی۔ وہ آپؐ کے قریب ہو گئے۔ آپؐ نے فرمایا میں نے پہلے عشرہ میں اعتکاف کیا کہ میں اس رات (لیلۃ القدر کو) تلاش کروں پھر درمیانی عشرہ میں اعتکاف کیا پھر میرے پاس کوئی آیا اور مجھے کہا گیا وہ (لیلۃ القدر) آخری عشرہ میں ہے۔ پس جو کوئی تم میں سے پسند کرتا ہے کہ وہ اعتکاف کرے تو وہ ضرور اعتکاف کرے لوگوں نے آپؐ کے ساتھ اعتکاف کیا۔ آپؐ نے فرمایا مجھے وہ ایک طاق رات میں دکھائی گئی ہے اور یہ کہ اس کی صبح کو میں مٹی اور پانی میں سجدہ کر رہا ہوں۔ پس آپؐ نے اکیسویں رات کی صبح کی اور صبح تک عبادت کی۔ تو بارش برسی اور مسجد ٹپک پڑی۔ میں نے مٹی اور پانی دیکھا پس آپؐ جب صبح کی نماز سے فارغ ہوئے تو باہر نکلے اور آپؐ کی پیشانی اور ناک دونوں پر پانی اور مٹی لگے ہوئے تھے اور یہ آخری عشرہ کی اکیسویں رات تھی۔
ابو سلمہ سے روایت ہے کہ ہم نے آپس میں لیلۃ القدر کا ذکر کیا پھر میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آیا وہ میرے دوست تھے۔ میں نے کہا کیا آپ ہمارے ساتھ کھجوروں کے باغ میں نہیں جائیں گے؟ وہ نکلے اور انہوں نے چادر اوڑھی ہوئی تھی۔ میں نے ان سے کہا آپ نے رسول اللہﷺ کو لیلۃ القدر کا ذکر کرتے سنا ہے؟ انہوں نے کہا ہاں ہم رمضان کے درمیانی عشرہ میں رسول اللہﷺ کے ساتھ اعتکاف بیٹھے۔ ہم بیسویں (رمضان کی) صبح کو نکلے اور ہم سے رسول اللہﷺ نے خطاب فرمایا آپؐ نے فرمایا مجھے لیلۃ القدر دکھلائی گئی میں اسے بھول گیا ہوں یا مجھے وہ بھلا دی گئی۔ پس تم اسے آخری عشرہ کی ہر طاق (رات) میں تلاش کرو اور مجھے دکھایا گیا کہ میں پانی اور مٹی میں سجدہ کر رہا ہوں۔ پس جو شخص رسول اللہﷺ کے ساتھ اعتکاف بیٹھا وہ (معتکف) میں واپس آ جائے۔ وہ کہتے ہیں ہم واپس آ گئے اور ہم آسمان پر بادل کا کوئی ٹکڑا (تک) نہ دیکھتے تھے۔ وہ کہتے ہیں پھر ایک بدلی آئی اور ہم پر بارش ہوئی یہاں تک کہ مسجد کی چھت ٹپکنے لگی وہ کھجور کی ٹہنیوں کی تھی نماز کھڑی ہوئی۔ میں نے رسول اللہﷺ کو پانی اور مٹی میں سجدہ کرتے دیکھا۔ وہ کہتے ہیں یہاں تک کہ میں نے گیلی مٹی کا نشان آپؐ کی پیشانی پر دیکھا۔ ایک اور روایت میں (حَتَّی رَأَیْتُ اَثَرَ الطِّیْنِ فِیْ جَبْھَتِہِ کی بجائے) رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِﷺ حِیْنَ انْصَرَفَ وَعَلَی جَبْہَتِہِ وَأَرْنَبَتِہِ أَثَرُ الطِّیْنِ کے الفاظ ہیں۔ یعنی میں نے رسول اللہﷺ کو دیکھا جب آپؐ فارغ ہوئے اور آپؐ کی پیشانی پر اور ناک پر گیلی مٹی کا نشان تھا۔
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ رمضان کے درمیانی عشرہ میں اعتکاف بیٹھے۔ آپؐ لیلۃ القدر کو قبل اس کے کہ وہ آپؐ پر ظاہر کر دی گئی تلاش فرما رہے تھے۔ جب یہ (عشرہ) گزر گیا آپؐ نے خیمہ کے بارہ ارشاد فرمایا اور وہ اکھاڑ لیا گیا اور پھر آپؐ پر ظاہر کیا گیا کہ وہ (لیلۃ القدر) آخری عشرے میں ہے تو آپؐ نے خیمہ لگانے کا ارشاد فرمایا۔ وہ دوبارہ لگایا گیا پھر آپؐ لوگوں کے پاس باہر آئے اور فرمایا اے لوگو! مجھ پر لیلۃ القدر ظاہر کی گئی اور میں اسے تمہیں بتانے کے لئے باہر نکلا۔ تو دو آدمی ایک دوسرے سے اپنے حق کے لئے جھگڑتے ہوئے آئے ان کے ساتھ شیطان تھا اور وہ مجھے بھلا دی گئی۔ پس تم اسے رمضان کے آخری عشرہ میں تلاش کرو۔ تم اسے نویں ساتویں اور پانچویں (رات میں) تلاش کرو۔ راوی کہتے ہیں میں نے کہا اے ابو سعید! یقینا آپ ہم سے زیادہ گنتی جانتے ہیں۔ انہوں نے کہا ہاں ہم اس کے تم سے زیادہ حقدار ہیں۔ راوی کہتے ہیں میں نے کہا (یہ) نویں ساتویں اور پانچویں کیا ہے؟ انہوں نے کہا جب اکیسویں گزر جائے تو جو اس کے بعد آئے گی یعنی بائیسویں وہی نویں ہے اور جب تیئیسویں گزر جائے تو جو اس کے بعد آئے گی وہ ساتویں ہوگی۔ اور جب پچیسویں گزر جائے تو جو اس کے بعد آئے گی وہ پانچویں ہوگی اور ابن خلّاد نے یَحْتَقَّانِ کی بجائے یَخْتَصِمَانِ کہا۔ (یعنی دونوں جھگڑ رہے تھے)
حضرت عبداللہ بن اُنَیسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا مجھے لیلۃ القدر دکھائی گئی پھر وہ مجھے بھلا دی گئی اور میں نے اپنے آپ کو اس کی صبح میں دیکھا کہ میں پانی اور مٹی میں سجدہ کر رہا ہوں۔ راوی کہتے ہیں تیئیسویں رات کو ہم پر بارش ہوئی۔ ہمیں رسول اللہﷺ نے نماز پڑھائی جب آپؐ فارغ ہوئے تو پانی اور مٹی کا نشان آپؐ کی پیشانی اور ناک پر تھا۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن اُنَیسؓ (لَیلَۃ ثَلَاثٍ وَ عِشْرینَ کی بجائے) ثَلَاثٍ وَ عِشْرینَ کہا کرتے تھے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ کہتی ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (لیلۃ القدر) کو رمضان کے آخری عشرہ میں ڈھونڈو۔ ابن نمیر کی روایت میں اِلْتَمِسُوْا اور وکیع کی روایت میں تَحَرَّوْا کا لفظ ہے۔ (دونوں الفاظ کا مفہوم ایک ہی ہے)
زِرّبن حُبیش کہتے ہیں میں نے حضرت اُبیّ بن کعب رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ کے بھائی ابن مسعودؓ کہتے ہیں جو سارا سال عبادت کرے وہ لیلۃ القدر کو پائے گا۔ انہوں نے کہا اللہ ان پر رحم کرے ان کا مقصد یہ ہے کہ لوگ (صرف اسی ایک رات) پر تکیہ نہ کر لیں ورنہ وہ خوب جانتے ہیں کہ وہ رات رمضان میں آتی ہے اور یہ کہ وہ آخری عشرہ میں آتی ہے اور یہ کہ وہ ستائیسویں رات ہے پھر انہوں نے قطعی طور پر قسم کھا کر کہا کہ وہ ستائیسویں رات ہے۔ (راوی کہتے ہیں) میں نے کہا اے ابو منذر تم کس بناء پر یہ بات کہتے ہو؟ انہوں نے کہا اس علامت یا اس نشانی کی وجہ سے جو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں بتائی کہ اس دن وہ (سورج) نکلتا ہے اور اس میں کوئی شعاع نہیں ہوتی۔
زِرّ بن حُبیش حضرت اُبیّ بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں اُبیّ (بن کعبؓ) نے لیلۃ القدر سے متعلق کہا اللہ کی قسم میں اسے جانتا ہوں۔ شعبہ کہتے ہیں میرا سب سے زیادہ علم یہ ہے کہ یہ وہ رات ہے جس میں عبادت کا ہمیں رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا تھا اور وہ ستائیسویں رات ہے۔ شعبہ کو شک ہے کہ یہ الفاظ کہے تھے ھِیَ الَّلَیْلَۃُ الَّتِی اَمَرَنَا بِھَا رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ۔ انہوں نے کہا کہ مجھے میرے ایک ساتھی نے ان کی طرف سے روایت کرتے ہوئے بتایا تھا۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہﷺ کے پاس آپس میں لیلۃ القدر کا تذکرہ کیا آپؐ نے فرمایا تم میں سے کون اسے یاد رکھے گا جب چاند طلوع ہوگا وہ پیالے کے ٹکڑے کی مانند ہو گا۔