بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 209 hadith
حضرت ابو موسیؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں اہل خیبر یوم عاشوراء کا روزہ رکھتے تھے۔ وہ اس دن عید مناتے تھے۔ اس دن وہ اپنی عورتوں کو اپنے زیور اور عمدہ لباس پہناتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم اس دن کا روزہ رکھو۔
عبید اللہ بن ابی یزید سے روایت ہے انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا اور ان سے عاشورا کے روزہ کے بارہ میں سوال کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا میں نہیں جانتا کہ رسول اللہﷺ نے کسی دن اس کی دوسرے ایام پر فضیلت کے پیش نظر روزہ رکھا ہو سوائے اس دن کے اور نہ ہی کسی مہینہ کی (فضیلت کی بناء پر) سوائے اس مہینہ یعنی رمضان کے۔
حکم بن اعرج سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گیا وہ زمزم میں اپنی چادر کا سہارا لئے ہوئے تھے۔ میں نے ان سے کہا مجھے عاشوراء کے روزے کے بارہ میں بتائیے۔ انہوں نے کہا جب تم محرم کا چاند دیکھ لو تو گننا شروع کرو اور نویں دن تم روزہ کی حالت میں صبح کرو۔ میں نے کہا کیا رسول اللہ ﷺ اس طرح اس دن کا روزہ رکھتے تھے؟ انہوں نے کہا ہاں۔ ایک اور روایت میں (قَالَ انْتَھَیْتُ اِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمَا وَھُوَ مُتَوَسِّدٌ رِدَائَ ہُ فِیْ زَمْزَمَ فَقُلْتُ لَہُ اَخْبِرْنِیْ عَنْ صَوْمِ عَاشُوْرَائَ کی بجائے) قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا وَھُوَ مُتَوَسِّدٌ رِدَائَ ہُ عِنْدَ زَمْزَمَ عَنْ صَوْمِ عَاشُوْرَائَ کے الفاظ ہیں۔
ابو غَطَفان بن طریف مُرّی بیان کرتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا جب رسول اللہ ﷺ نے عاشوراء کا روزہ رکھا اور اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ تو انہوں (صحابہؓ) نے کہا یا رسولؐ اللہ! یہ وہ دن ہے جس کی یہودی اور عیسائی تعظیم کرتے ہیں اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انشاء اللہ جب اگلا سال ہو گا تو ہم نویں محرم کو روزہ رکھیں گے۔ راوی کہتے ہیں پھر اگلا سال آنے سے پہلے رسول اللہ ﷺ کی وفات ہو گئی۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر میں اگلے سال تک زندہ رہا تو ضرور نویں (محرم) کا روزہ رکھوں گا۔ (راوی) ابو بکر کی روایت میں ہے وہ کہتے ہیں یعنی یوم عاشورا کا۔
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اسلم (قبیلہ) کے ایک شخص کو عاشورہ کے دن یہ ارشاد فرما کر بھیجا کہ وہ لوگوں میں اعلان کرے کہ جس نے روزہ نہیں رکھا وہ روزہ رکھے اور جس نے (کچھ) کھا لیا ہے وہ اپنا روزہ رات تک پورا کرے۔
حضرت رُبَیِّع ؓ بِنْتِ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَائَ سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے عاشورا کی صبح انصار کی بستیوں کی طرف جو مدینہ کے ارد گرد تھیں پیغام بھجوایا کہ جس نے صبح کو کچھ نہیں کھایا وہ اپنا روزہ پورا کرے اور جس نے صبح کو کچھ کھا لیا تو وہ باقی دن اپنا روزہ مکمل کرے۔ اس کے بعد ہم اس (دن) روزہ رکھا کرتے تھے اور اگر اللہ چاہتا تو ہم حسب توفیق اپنے چھوٹے بچوں میں سے (بھی) بعض کو روزہ رکھواتے اور ہم مسجد جاتے اور ان بچوں کے لئے پشم کا کھلونا بناتے۔ جب ان میں سے کوئی (بچہ) کھانے کے لئے روتا تھا تو ہم روزہ کھلنے تک ان کو وہ (کھلونا) دے دیا کرتے تھے۔ ایک اور روایت میں ہے خالد بن ذکو ان کہتے ہیں کہ میں نے حضرت رُبَیِّع ؓ بِنْت مُعَوِّذ سے عاشورہ کے روزے کے بارہ میں پوچھا۔ انہوں نے کہا رسول اللہﷺ نے انصارؓ کی بستیوں میں اپنے قاصد بھجوائے۔۔۔ ہاں انہوں نے یہ کہا ہم ان کے لئے پشم کا کھلونا بناتے اور ہم اسے (بچہ کو) اپنے ساتھ لے جاتے۔ پھر جب وہ ہم سے کھانا مانگتے تو ہم انہیں بہلانے کے لئے وہی کھلونا دے دیتے یہاں تک کہ وہ اپنا روزہ پورا کرتے۔
ابن ازہر کے آزاد کردہ غلام ابو عبید سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ نماز عید ادا کی۔ آپؓ تشریف لائے اور نماز ادا کی۔ پھر آپ نے سلام پھیرا اور لوگوں سے خطاب کیا اور فرمایا یہ دو دن ایسے ہیں جن میں رسول اللہ ﷺ نے روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ تمہارے روزوں سے تمہاری افطاری کا دن اور دوسرے وہ دن جس میں تم اپنی قربانیوں میں سے کھاتے ہو۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دو دنوں میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ قربانی کے دن اور عید الفطر کے دن۔
قزعہ سے روایت ہے انہوں نے حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے کہا کہ میں نے ان سے ایک حدیث سنی جو مجھے اچھی لگی۔ میں نے کہا کیا آپ نے خود یہ رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا (کیا) میں رسول اللہ ﷺ کی طرف وہ بات منسوب کروں گا جو میں نے نہیں سنی! انہوں نے کہا میں نے آپؐ کو فرماتے ہوئے سنا دو دن روزہ درست نہیں ہے۔ قربانیوں کے دن اور رمضان کے روزوں سے افطار کرنے کے دن۔