بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 209 hadith
حضرت عبداللہ بن عمر و رضی اللہ عنہما کہتے ہیں مجھے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے عبداللہ بن عمرو! مجھے پتہ چلا ہے کہ تم دن بھر روزہ رکھتے اور رات بھر عبادت کرتے ہو۔ ایسا نہ کرو، یقینا تمہارے جسم کا تم پر حق ہے اور تمہاری آنکھوں کا (بھی) تم پر حق ہے اور تمہاری بیوی کا تم پر حق ہے، روزہ بھی رکھو اور ناغہ بھی کرو۔ ہر ماہ تین دن روزے رکھو یہ زمانے بھر کے روزے ہوں گے۔ میں نے کہا یا رسولؐ اللہ! مجھ میں (زیادہ) طاقت ہے۔ آپؐ نے فرمایا پھر داؤد علیہ السلام کے سے روزے رکھو ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن ناغہ کرو۔ وہ (حضرت عبداللہ بن عمروؓ) کہا کرتے تھے اے کاش میں رخصت قبول کر لیتا۔
یزید رشک کہتے ہیں کہ مجھ سے معاذہ العدویۃ نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہؓ سے پوچھا کہ کیا رسول اللہ ﷺ ہر ماہ تین دن روزے رکھتے تھے؟ انہوں نے کہا ہاں۔ میں نے ان سے کہا کہ مہینے کے کون سے دن آپؐ روزہ رکھتے تھے؟ انہوں نے کہا آپؐ اس بات کا خیال نہیں فرماتے تھے کہ مہینے کے کن دنوں میں روزہ رکھیں۔
حضرت عمر ان بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے انھیں فرمایا _ یا کسی اور شخص سے فرمایا اور وہ سن رہے تھے _ اے فلاں ! کیا تو نے اس ماہ کے وسط میں روزہ رکھا؟ اس نے کہا نہیں۔ آپؐ نے فرمایا جب تم (رمضان کے) روزوں سے فارغ ہو جاؤ تو پھر دو دن روزے رکھو۔
حضرت ابو قتادہؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبیﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا آپؐ کس طرح روزے رکھتے ہیں؟ رسول اللہﷺ ناراض ہوئے جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپؐ کی ناراضگی دیکھی تو عرض کیا ہم اللہ کے رب ہونے پر راضی ہیں اور اسلام کے دین ہونے پر اور محمدﷺ کے نبی ہونے پر۔ ہم اللہ کے غضب اور اس کے رسولؐ کے غضب سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ یہ بات دہراتے رہے یہاں تک کہ آپؐ کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا۔ پھر حضرت عمرؓ نے کہا یارسولؐ اللہ! اس شخص کا کیا حال ہے جو عمر بھر روزے رکھتا ہے؟ آپؐ نے فرمایا۔ اس نے نہ روزہ رکھا نہ چھوڑا۔ یا _فرمایا لَمْ یَصُمْ وَلَمْ یُفْطِر_ انہوں نے پوچھا اس شخص کے بارہ میں کیا خیال ہے جو دو دن روزے رکھتا ہے اور ایک دن ناغہ کرتا ہے؟ آپؐ نے فرمایا کوئی اس کی طاقت رکھتا ہے؟ انہوں نے عرض کیا تو وہ شخص کیسا ہے جو ایک دن روزہ رکھتا ہے اور ایک دن ناغہ کرتا ہے؟ آپؐ نے فرمایا یہ داؤد علیہ السلام کے روزے ہیں اور انہوں نے عرض کیا وہ شخص کیا ہے جو ایک روزہ رکھتا ہے اور دو دن ناغہ کرتا ہے آپؐ نے فرمایا میں چاہتا ہوں کہ مجھے یہ توفیق مل جائے پھر رسول اللہﷺ نے فرمایا ہر ماہ تین (روزے رکھنا) اور ایک رمضان سے دوسرے رمضان تک (ایسا کرے تو) یہ سارے زمانہ کے روزے ہیں اور عرفہ کے دن روزہ رکھنا، میں اللہ تعالیٰ سے امید رکھتا ہوں کہ وہ اس سے پہلے سال کا اور اس کے بعد کے سال کا کفارہ بنا دے گا اور یوم عاشورا کے روزے کے بارہ میں اللہ پر امید رکھتا ہوں کہ اللہ اسے اس سے پہلے سال کا کفارہ بنا دے گا۔
حضرت ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ سے آپؐ کے روزے کے بارہ میں سوال کیا گیا۔ راوی کہتے ہیں رسول اللہﷺ ناراض ہوئے تو حضرت عمرؓ نے کہا ہم اللہ تعالیٰ کے رب ہونے پر اور اسلام کے دین ہونے پر اور محمدﷺ کے رسول ہونے پر اور اپنی بیعت کے حقیقی بیعت ہونے پر راضی ہیں۔ راوی کہتے ہیں پھر آپؐ سے مسلسل روزوں کے متعلق پوچھا گیا۔ آپؐ نے فرمایا نہ اس نے روزہ رکھا اور نہ روزہ چھوڑا _ یا فرمایا مَا صَامَ وَمَا اَفْطَرَ _ راوی کہتے ہیں پھر آپؐ سے دو دن روزہ رکھنے اور ایک دن ناغہ کرنے کے بارہ میں پوچھا گیا۔ آپؐ نے فرمایا کون اس کی طاقت رکھتا ہے؟ راوی کہتے ہیں اور آپؐ سے ایک دن روزہ رکھنے اور دو دن ناغہ کرنے سے متعلق پوچھا گیا۔ آپؐ نے فرمایا اے کاش! اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی طاقت عطا فرمائے۔ راوی کہتے ہیں اور آپؐ سے ایک دن روزہ رکھنے اور ایک دن ناغہ کرنے سے متعلق پوچھا گیا۔ آپؐ نے فرمایا یہ میرے بھائی داؤد علیہ السلام کے روزے ہیں۔ راوی کہتے ہیں آپؐ سے پیر کے دن کے روزے کا پوچھا گیا۔ آپؐ نے فرمایا یہ وہ دن ہے جس میں میں پیدا ہوا۔ جس دن میں معبوث کیا گیا یا فرمایا جس میں مجھ پر (قرآن کا) نزول شروع ہوا۔ راوی کہتے ہیں آپؐ نے فرمایا ہر مہینہ میں تین روزے اور رمضان سے رمضان تک صَوْمُ الدَّھرْ سارے دنوں کے روزے ہیں۔ راوی کہتے ہیں اور آپؐ سے یوم عرفہ کے روزے کا پوچھا گیا۔ آپؐ نے فرمایا وہ سال کے گزرے ہوئے حصہ اور باقی حصہ کا کفارہ ہے۔ راوی کہتے ہیں پھر آپؐ سے عاشوراء کے دن کے روزہ کا پوچھا گیا۔ آپؐ نے فرمایا وہ گزشتہ سال کا کفارہ ہے۔ (امام مسلم کہتے ہیں) شعبہ کی روایت میں ہے کہ ’’آپؐ سے پیر اور جمعرات کے دن کے روزے کا پوچھا گیا‘‘ ہم جمعرات کے بارہ میں خاموش رہے کیونکہ ہمارے نزدیک یہ غلط فہمی ہے۔ ایک اور روایت میں سوموار کا ذکر ہے جمعرات کا ذکر نہیں۔
حضرت ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پیر کے دن کے روزہ کا پوچھا گیا۔ آپؐ نے فرمایا۔ اس دن میں پیدا ہوا اور اسی میں مجھ پر قرآن کا نزول شروع ہوا۔
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اُن سے یا کسی اور سے فرمایا کہ کیا تم نے شعبان کے وسط کے روزے رکھے ہیں؟ انہوں نے کہا نہیں۔ آپؐ نے فرمایا جب (رمضان کے) روزوں سے فارغ ہو جاؤ تو پھر دو دن روزے رکھ لینا۔
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ایک شخص سے فرمایا کیا تم نے اس ماہ کے وسط میں کوئی روزہ رکھا؟ اس نے کہا نہیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم رمضان کے روزوں سے فارغ ہو جاؤ تو اس کی جگہ دو روزے رکھ لینا۔
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک شخص سے فرمایا کیا تم نے اس ماہ کے وسط میں کوئی روزہ رکھا؟ آپؐ کی مراد شعبان سے تھی اس نے کہا نہیں راوی کہتے ہیں آپؐ نے اس سے فرمایا جب تم رمضان سے فارغ ہو جاؤ تو ایک دن یا دو دن روزے رکھو۔ شعبہ کو اس میں شک ہے کہ یَوْمًا کہا یا یَوْمَیْنِ جبکہ ایک راوی کا گمان ہے کہ انہوں نے یَومَیْنِ کہا تھا۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا رمضان کے بعد سب سے افضل روزے اللہ کے مہینے محرّم کے ہیں اور سب سے افضل نماز فرض نماز کے بعد رات کی نماز ہے۔