بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 209 hadith
یحییٰ نے بیان کیا کہ میں اور عبداللہ بن یزید چلے یہاں تک ہم ابو سلمہ کے پاس گئے۔ ہم نے ان کے پاس ایک پیغام رساں بھیجا۔ وہ ہمارے پاس آنے کے لئے نکلے۔ ان کے گھر کے دروازے کے پاس ہی مسجد تھی۔ راوی کہتے ہیں ہم مسجد میں ہی تھے کہ وہ ہمارے پاس تشریف لائے۔ انہوں نے کہا اگر تم چاہو تو (اندر) چلو اور اگر چاہو تو یہیں بیٹھو۔ راوی کہتے ہیں ہم نے کہا نہیں بلکہ ہم یہیں بیٹھیں گے۔ آپ ہمیں حدیث سنائیں۔ انہوں نے کہا مجھ سے عبداللہ بن عمر و بن العاص رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں روزانہ روزے رکھتا تھا اور ہر رات قرآن پڑھتا تھا۔ وہ کہتے ہیں یا تو نبیؐ کے سامنے میرا ذکر کیا گیا یا آپؐ نے مجھے بلا بھیجا۔ میں آپؐ کے پاس آیا۔ آپؐ نے مجھے فرمایا کیا مجھے خبر نہیں دی گئی کہ تم روزانہ روزہ رکھتے ہو اور رات قرآن کریم پڑھتے رہتے ہو۔ میں نے کہا جی ہاں اے اللہ کے نبیؐ! اور میرا ارادہ اس سے صرف بھلائی کا ہے۔ آپؐ نے فرمایا پھر تمہارے لئے کافی ہے کہ تم ہر ماہ تین روزے رکھو۔ میں نے کہا اے اللہ کے نبیؐ! میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا۔ تیری بیوی کا بھی تجھ پر حق ہے اور تیرے مہمان کا بھی تجھ پر حق ہے اور تیرے جسم کا بھی تجھ پر حق ہے۔ آپؐ نے فرمایا۔ پس تم اللہ کے نبی داؤدؑ جیسے روزے رکھو اور وہ لوگوں میں سے سب سے زیادہ اللہ کی عبادت کرنے والے تھے۔ کہتے ہیں میں نے کہا اے اللہ کے نبیؐ! اور داؤدؑ کے روزے کیا تھے؟ آپؐ نے فرمایا وہ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن روزہ چھوڑ دیتے۔ آپؐ نے فرمایا اور ایک مہینہ میں (پورا) قرآن پڑھ لو۔ وہ کہتے ہیں میں نے کہا اے اللہ کے نبیؐ! میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا پھر تم بیس دنوں میں (پورا) قرآن پڑھ لو۔ وہ کہتے ہیں میں نے کہا اے اللہ کے نبیؐ! میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا پھر دس دنوں میں (پورا) قرآن پڑھ لو۔ وہ کہتے ہیں میں نے کہا اے اللہ کے نبیؐ! میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا پھر ہر سات دن میں قرآن پڑھ لیا کرو اور اس سے زیادہ نہ کرو کیونکہ تیری بیوی کا بھی تجھ پر حق ہے اور تیرے مہمان کا بھی تجھ پر حق ہے اور تیرے جسم کا بھی تجھ پر حق ہے۔ وہ کہتے ہیں میں نے سختی اختیار کی پس مجھ پر سختی کی گئی۔ وہ کہتے ہیں مجھے نبیؐ نے (یہ بھی) فرمایا تمہیں معلوم نہیں شاید تیری عمر لمبی ہو۔ وہ کہتے ہیں میں وہاں پہنچ گیا ہوں جہاں نبیؐ نے فرمایا تھا۔ اب جبکہ میں بوڑھا ہو گیا ہوں میں نے خواہش کی اے کاش میں نے نبی کریمؐ (کی طرف سے ملنے والی) رخصت قبول کر لی ہوتی۔ ایک اور روایت میں ہر ماہ تین دن (کے روزوں) کے ذکر کے بعد یہ اضافہ ہے یقینا تیرے لئے ہر نیکی کا دس گنا بدلہ ہے اور یہ عمر بھر کے (روزے ہو جاتے) ہیں۔ اسی روایت میں ہے میں نے عرض کیا کہ اللہ کے نبیؐ! داؤدؑ کے روزے کیا تھے؟ آپؐ (ﷺ) نے فرمایا آدھی عمر کے اور اس روایت میں قرآن پڑھنے کا ذکر نہیں ہے اور یہ بھی ذکر نہیں کہ تیرے مہمان کا بھی تجھ پر حق ہے۔ بلکہ یہ ذکر ہے کہ تیرے بچوں کا بھی تجھ پر حق ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں مجھے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر مہینہ میں (پورا) قرآن پڑھ لیا کرو۔ وہ کہتے ہیں میں نے کہا مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے۔ آپؐ نے فرمایا تو پھر بیس راتوں میں پڑھ لو۔ وہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا مجھے اس سے بھی زیادہ کی طاقت ہے۔ آپؐ نے فرمایا تو پھر سات (دنوں) میں پڑھ لو، اور اس سے زیادہ نہ کرو۔
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے عبداللہ! فلاں کی طرح نہ ہو جانا۔ وہ رات کو عبادت کیا کرتا تھا پھر اس نے رات کی عبادت چھوڑ دی۔
ابوالعباسؓ نے بیان کیا کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر و بن العاص رضی اللہ عنہما کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ نبیﷺ کو یہ بات پہنچی کہ میں مسلسل روزے رکھتا ہوں اور (ساری) رات نماز پڑھتا ہوں پھر یا تو آپؐ نے مجھے بلا بھیجا یا میں آپؐ سے ملا تو آپؐ نے فرمایا کیا مجھے خبر نہیں دی گئی کہ تم روزے رکھتے ہو اور روزہ چھوڑتے نہیں اور رات بھر نماز پڑھتے ہو تم ایسا نہ کیا کرو۔ یقینا تمہاری آنکھ کا بھی حق ہے اور تمہارے نفس کا بھی حق ہے اور تمہارے گھر والوں کا بھی حق ہے۔ پس روزہ بھی رکھو اور ناغہ بھی کرو، اور نماز پڑھو اور نیند بھی لو، اور ہر دس دنوں میں ایک دن روزہ رکھ لیا کرو تو تمہارے لئے نو دنوں کا بھی اجر ہو گا۔ انہوں نے کہا اے اللہ کے نبیؐ ! میں اس سے زیادہ کی طاقت پاتا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا پھر داؤد علیہ السلام جیسے روزے رکھو۔ انہوں نے کہا اے اللہ کے نبیؐ ! داؤدؑ کیسے روزہ رکھتے تھے؟ آپؐ نے فرمایا وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن ناغہ کرتے تھے اور جب (دشمن کا) سامنا کرتے تو بھاگتے نہیں تھے۔ انہوں نے کہا اے اللہ کے نبیؐ ! میری یہ قسمت کہاں؟ (راوی) عطاء کہتے ہیں میں نہیں جانتا انہوں نے عمر بھر کے روزوں کا کیسے ذکر کیا تو نبیﷺ نے فرمایا جس نے عمر بھر روزے رکھے اس نے روزہ نہیں رکھا۔ جس نے عمر بھر روزے رکھے اس نے روزہ نہیں رکھا۔ جس نے عمر بھر روزے رکھے اس نے روزہ نہیں رکھا۔
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے تھے مجھے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے عبداللہ بن عمرو! تم مسلسل روزے رکھتے ہو اور رات بھر عبادت کرتے ہو، اگر تم ایسا کرو گے تو اس کی وجہ سے آنکھیں دھنس جائیں گی اور بینائی کمزور پڑ جائے گی۔ جس نے عمر بھر روزے رکھے اس نے روزہ نہیں رکھا۔ ایک ماہ میں تین دن روزے رکھنا سارا مہینہ روزے رکھنا ہے میں نے عرض کیا میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا پھر داؤدؑ کے (سے) روزے رکھو۔ وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن ناغہ کرتے تھے اور جب (دشمن کا) سامنا ہوتا تھا تو بھاگتے نہیں تھے۔ ایک اور روایت میں (نَھِکَتْ کی بجائے) نَفِھَتِ النَّفْسُ کے الفاظ ہیں یعنی جان کمزور پڑ جائے گی۔
حضرت عبداللہ بن عمر و رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں مجھے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا مجھے بتایا نہیں گیا کہ تم رات بھر عبادت کرتے ہو اور دن بھر روزہ رکھتے ہو؟ میں نے کہا جی میں ایسا کرتا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا جب تم ایسا کرو گے تو تمہاری آنکھیں دھنس جائیں گی۔ اور تمہاری جان کمزور پڑ جائے گی۔ تمہاری آنکھ کا بھی حق ہے تمہارے نفس کا بھی حق ہے اور تمہارے گھر والوں کا بھی حق ہے۔ عبادت بھی کرو اور سوؤ بھی اور روزہ بھی رکھو اور افطار بھی کرو۔
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسندیدہ روزے حضرت داؤدؑ کے روزے ہیں اور سب سے زیادہ پسندیدہ نماز حضرت داؤد علیہ السلام کی نماز ہے۔ وہ آدھی رات سوتے تھے ایک تہائی (رات) عبادت کرتے اور رات کا چھٹا حصہ سوتے اور وہ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے۔
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسندیدہ روزے حضرت داؤدؑ کے روزے ہیں وہ آدھا زمانہ روزہ رکھتے تھے (ایک دن روزہ ایک دن ناغہ) اور سب سے زیادہ پسندیدہ نماز اللہ عزّوجل کے نزدیک حضرت داؤد علیہ السلام کی نماز ہے وہ نصف رات سوتے پھر عبادت کرتے پھر رات کا آخری حصہ سوتے۔ آپؑ نصف رات کے بعد رات کا تہائی حصہ عبادت کرتے۔ راوی کہتے ہیں میں نے عمرو بن دینار سے پوچھا کیا عمرو بن اوس نے یَقُوْمُ ثُلُثَ اللَّیْلِ بَعْدَ شَطْرِہِ کے الفاظ کہے تھے؟ انہوں نے کہا ہاں۔
ابو قلابہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں مجھے ابو ملیح نے بتایا وہ کہتے ہیں میں تمہارے باپ کے ساتھ حضرت عبداللہ بن عمروؓ کے پاس گیا انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ رسول اللہﷺ کی خدمت میں میرے روزوں کا ذکر کیا گیا۔ آپؐ میرے پاس تشریف لائے۔ میں نے آپؐ کے لئے چمڑے کا کُشن بچھایا جس کے اندر کھجور کے پتے تھے۔ آپؐ زمین پر بیٹھ گئے اور کُشن میرے اور آپؐ کے درمیان تھا۔ آپؐ نے مجھے فرمایا کیا تمہارے لئے ہر مہینہ میں سے تین دن کافی نہیں ہیں؟ میں نے کہا یا رسول اللہ! آپؐ نے فرمایا پانچ۔ میں نے کہا یا رسولؐ اللہ! آپؐ نے فرمایا سات؟ میں نے کہا یا رسول اللہ! آپؐ نے فرمایا نو؟ میں نے کہا یا رسولؐ اللہ! آپؐ نے فرمایا گیارہ؟ میں نے کہا یا رسولؐ اللہ! تو نبیﷺ نے فرمایا داؤد کے روزوں سے بڑھ کر کوئی روزے نہیں نصف زمانے کے روزے، ایک دن روزہ اور ایک دن افطار۔
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا (مہینے میں) ایک دن روزہ رکھو تو تمہارے لئے باقی دنوں کا اجر ہو گا۔ انہوں نے کہا میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا دو دن روزہ رکھ لو تو تمہارے لئے باقی دنوں کا ثواب ہو گا۔ انہوں نے کہا میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں آپؐ نے فرمایا تین دن روزے رکھو تو تمہارے لئے باقی دنوں کا ثواب ہو گا۔ انہوں نے کہا میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا چار دن روزہ رکھ لو تو تمہارے لئے باقی دنوں کا ثواب ہو گا۔ انہوں نے کہا میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں آپؐ نے فرمایا تم اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے بہترین روزے رکھو۔ یعنی حضرت داؤد علیہ السلام کے روزے۔ وہ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے تھے۔