بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 66 hadith
شعبی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں فاطمہؓ بنت قیس کے پاس گیا اور میں نے ان سے رسول اللہ ﷺ کے ان کے بارہ میں فیصلہ کے متعلق دریافت کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے شوہر نے ان کو طلاقِ بتّہ دی۔ انہوں نے کہا میں رہائش اور نفقہ کے بارہ میں مقدمہ لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس گئی۔ وہ کہتی ہیں آپؐ نے مجھے رہائش اور نفقہ نہ دلایا اور مجھے حکم دیا کہ میں اپنی عدّت ابن ام مکتومؓ کے گھر پوری کروں۔
شعبی کہتے ہیں ہم فاطمہؓ بنت قیس کے پاس گئے انہوں نے ہمیں ابن طاب (کی قسم) کی کھجوریں پیش کیں اور جو کے ستّو پلائے۔ اور میں نے ان سے اس کے بارہ میں پوچھا جس کو تین طلاق مل چکی ہیں وہ عدت کہاں گُزارے اُس نے کہا مجھے میرے خاوند نے تینوں طلاقیں دی تھیں تو مجھے نبی ﷺ نے اجازت دی کہ میں اپنے لوگوں میں جاکر عدّت پوری کروں۔
فاطمہؓ بنت قیس اس کے بارہ میں جس کو تین طلاقیں مل چکی ہیں روایت کرتی ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا کہ اس کے لئے کوئی رہائش اور نفقہ نہیں ہے۔
فاطمہؓ بنت قیس سے روایت ہے وہ کہتی ہیں مجھے میرے خاوند نے تین طلاقیں دیں میں نے وہاں سے منتقل ہونے کا ارادہ کیا تو میں نبی ﷺ کے پاس آئی۔ آپؐ نے فرمایا تم اپنے چچا زاد بھائی عمرو بن ام مکتومؓ کے ہاں منتقل ہو جاؤ اور اس کے ہاں عدّت گزارو۔
ابو اسحاق سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں اسود بن یزید کے ساتھ بڑی مسجد میں بیٹھا ہوا تھا اور ہمارے ساتھ شعبی بھی تھے۔ شعبی نے فاطمہؓ بنت قیس کی روایت بیان کی کہ رسول اللہﷺ نے اس کے لئے نہ رہائش ٹھہرائی نہ نفقہ۔ اسود نے ایک مٹھی کنکروں کی لے کر اس کی طرف پھینکی اور کہا اللہ تیرا بھلا کرے۔ تم اس قسم کی بات بیان کرتے ہو۔ حضرت عمرؓ نے کہا کہ ہم ایک عورت کی بات کی وجہ سے اللہ کی کتاب اور اپنے نبیؐ کی سنت نہیں چھوڑیں گے۔ ہم نہیں جانتے کہ اس نے (بات کو) یاد رکھا ہے یا بھول گئی ہے۔ مکان اور نفقہ (اس کا حق ہے) اللہ عزّوجل فرماتا ہے۔ ان کو ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ ہی وہ خود نکلیں سوائے اس کے کہ وہ کھلی کھلی بے حیائی کی مرتکب ہوں۔
ابو بکر بن ابی جہم صغیر العدوی سے روایت ہے وہ کہتے میں نے حضرت فاطمہؓ بنت قیس کو کہتے سنا کہ ان کے خاوند نے انہیں تین طلاقیں دیں تو رسول اللہﷺ نے ان کے لئے کوئی رہائش یا نفقہ مقرر نہ فرمایا۔ وہ کہتی ہیں مجھے رسول اللہﷺ نے فرمایا جب تم عدّت پوری کرلو تو مجھے آگاہ کرو۔ میں نے آپؐ کو بتایا۔ انہیں معاویہ اور ابو جہم اور اسامہ بن زیدؓ نے نکاح کے لئے پیغام دیا۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا جہاں تک معاویہ کا معاملہ ہے وہ غریب ہے جس کے پاس کوئی مال نہیں اور ابو جہم عورتوں پر بہت سختی کرنے والا ہے لیکن اسامہ بن زید (اچھا شخص ہے) انہوں نے اپنے ہاتھ کے اشارہ سے اس طرح کہا اُسامہ اسامہ، تو رسول اللہﷺ نے اسے فرمایا اللہ کی اطاعت اور اس کے رسولؐ کی اطاعت تمہارے لئے بہتر ہے وہ کہتی ہیں میں نے اس سے شادی کرلی اور میں قابل رشک حال میں ہوگئی۔
ابو بکر بن ابی جہم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے فاطمہؓ بنت قیس سے سنا انہوں نے کہا میرے خاوند ابو عمرؓ بن حفص بن مُغیرہ نے عیاش بن ابی ربیعہ کے ذریعہ مجھے میری طلاق کے ساتھ پانچ صاع کھجور کے اور پانچ صاع جو بھیجے۔ میں نے کہا کیا میرے لئے صرف یہی نفقہ ہے اور میں تمہارے گھر عدّت بھی پوری نہیں کروں گی۔ اس نے کہا نہیں۔ میں نے کپڑے پہنے اور رسول اللہﷺ کے پاس آئی۔ آپؐ نے فرمایا اس نے تمہیں کتنی طلاقیں دی ہیں؟ میں نے کہا تین۔ آپؐ نے فرمایا اس نے درست کہا تمہارے لئے کوئی نفقہ نہیں ہے۔ تم اپنی عدّت اپنے چچّا زاد ابن ام مکتومؓ کے گھر پوری کرو اس کی نظر کمزور ہے۔ تم اس کے ہاں (زائد) کپڑے اُتار سکتی ہو۔ اور جب تمہاری عدت پوری ہو جائے تو مجھے اطلاع دینا۔ وہ کہتی ہیں میرے پاس کئی لوگوں نے نکاح کا پیغام دیا جن میں معاویہ اور ابو جہم بھی تھے۔ معاویہ اور ابو جہم نے نکاح کا پیغام بھجوایا۔ نبیﷺ نے فرمایا معاویہ مفلس ہے اور ابو جہم کی طرف سے عورتوں پر سختی ہوتی ہے یا فرمایا عورتوں کو مارتا ہے یا اسی قسم کی کوئی بات بیان فرمائی لیکن تم اسامہ بن زیدؓ سے نکاح کر لو۔ ایک اور روایت میں ہے ابو بکر بن ابی الجہم کہتے ہیں میں اور ابو سلمہ بن عبد الرحمان فاطمہؓ بنت قیس کے پاس گئے اور ان سے پوچھا انہوں نے کہا میں عمروؓ بن حفص بن مغیرہ کے نکاح میں تھی۔ وہ نجران کے غزوہ کے لئے نکلے باقی روایت سابقہ روایت کی طرح ہے مگر اس روایت میں یہ مزید ہے کہ انہوں (فاطمہؓ ) نے کہا میں اس (اسامہ بن زیدؓ ) سے شادی کر لوں پس اللہ نے مجھے ابو زید سے مشرف کیا اور اللہ نے مجھے ابو زید کے ذریعہ عزّت بخشی ایک دوسری روایت میں ہے کہ ابو بکر کہتے ہیں کہ انہوں نے مجھے بتایا کہ ان کے شوہر نے انہیں طلاق بتہ دی تھی۔
فاطمہؓ بنت قیس سے روایت ہے وہ کہتی ہیں مجھے میرے خاوند نے تین طلاقیں دیں تو رسول اللہﷺ نے مجھے نہ رہائش دلوائی نہ نفقہ۔
ہشام سے روایت ہے کہ مجھے میرے باپ (جن کا نام عروہ تھا) نے بتایا انہوں نے کہا یحیٰ بن سعید بن العاص نے عبد الرحمان بن الحکم کی بیٹی سے نکاح کیا پھر اُسے طلاق دے دی اور اسے اپنے پاس سے نکال دیا۔ اس بات پر عروہ نے ان لوگوں کو قابل ملامت ٹھہرایا تو انہوں نے کہا بے شک فاطمہؓ گھر سے نکل گئی تھی۔ عروہ نے کہا میں حضرت عائشہؓ کے پاس آیا اور انہیں یہ بات بتائی تو انہوں نے کہا فاطمہؓ بنت قیس کے لئے اس روایت کا بیان کرنا اچھا نہیں ہے۔
فاطمہؓ بنت قیس سے روایت ہے وہ کہتی ہیں میں نے کہا یا رسولؐ اللہ! میرے خاوند نے مجھے تینوں طلاقیں دی ہیں اور میں ڈرتی ہوں کہ میرے ساتھ بد سلوکی کی جائے گی۔ راوی کہتے ہیں آپؐ نے اسے ارشاد فرمایا اور اس نے جگہ بدل لی۔