حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کہتے ہیں کہ میں ایک سال حضرت عمرؓ بن خطاب سے ایک آیت کے بارہ میں پوچھنے کے لئے ارادہ کرتا رہا مگر ان کے رعب کی وجہ سے نہ پوچھ سکا یہانتک کہ جب وہ حج کے لئے نکلے تو میں بھی ان کے ساتھ نکلا جب وہ واپس روانہ ہوئے تو ہم ابھی راستہ میں تھے تو آپؓ اپنی ضرورت کی غرض سے پیلوں کے درختوں کی طرف گئے اور میں آپؓ کے انتظار میں ٹھہرا رہا وہ فارغ ہوئے پھر میں ان کے ساتھ چلا میں نے کہا اے امیر المؤمنین آپؐ کی ازواج مطہرات میں سے وہ دو کون تھیں جنہوں نے رسول اللہﷺ کو (ایک بات کہنے) پر اتفاق کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ حفصہؓ اور عائشہؓ تھیں۔ وہ کہتے ہیں میں نے ان سے کہا اللہ کی قسم میں تو ایک سال سے آپ سے یہ پوچھنے کا ارادہ رکھتا تھا مگر آپ کے رعب کی وجہ سے ایسا نہ کر سکا انہوں نے کہا ایسا نہ کیا کرو۔ اگر تمہارا خیال ہے کہ مجھے کسی بات کا علم ہے تو وہ مجھ سے پوچھ لیا کرو۔ اگر وہ مجھے معلوم ہوئی تو میں تمہیں بتا دوں گا۔ وہ کہتے ہیں حضرت عمرؓ نے کہا اللہ کی قسم جاہلیت میں ہم عورتوں کو کسی شمار میں نہ لاتے تھے یہانتک کہ اللہ نے ان کے بارہ میں نازل کیا جو نازل کیا۔ اور ان کے لئے حصہ مقرر کیا جو مقرر کیا۔ وہ کہتے ہیں میں اس دوران میں کسی کام کے بارہ میں غور کر رہا تھا کہ میری بیوی نے مجھے کہا آپ اس اس طرح کیوں نہیں کر لیتے۔ اس پر میں نے اسے کہا تمہارا اس سے کیا تعلق اور تمہارا اس میں کیا عمل دخل جس کا میں ارادہ کر رہا ہوں؟ اس نے مجھے کہا اے ابن خطاب! تجھ پر تعجب ہے تو چاہتا ہے کہ تجھ سے کوئی سوال و جواب نہ کرے اور تیری بیٹی رسول اللہﷺ سے سوال و جواب کرتی ہے یہانتک کہ وہ دن بھر ناراض رہتے ہیں حضرت عمرؓ کہتے ہیں کہ میں نے اپنی چادر لی اور مکان سے نکلا اور حفصہؓ کے پاس گیا اور اسے کہا اے میری پیاری بیٹی! تو رسول اللہﷺ سے سوال و جواب کرتی ہے؟ یہانتک کہ وہ دن بھر ناراض رہتے ہیں۔ حفصہؓ نے کہا اللہ کی قسم! ہم آپ سے سوال و جواب کرتی ہیں میں نے کہا تو میں تمہیں اللہ کی سزا اور اس کے رسولؐ کی ناراضگی سے ڈراتا ہوں اے میری پیاری بیٹی! تجھے وہ غلط فہمی میں مبتلاء نہ کرے جس کو اپنے حسن پر اور رسول اللہﷺ کی محبت پر ناز ہے۔ پھر میں نکلا اور ام سلمہؓ کے ہاں ان سے اپنی رشتہ داری کی وجہ سے گیا اور ان سے گفتگو کی۔ مجھے حضرت ام سلمہؓ نے کہا اے خطاب کے بیٹے! مجھے تجھ پر تعجب ہے تم ہر چیز میں دخل دیتے ہو حتّٰی کہ تم چاہتے ہو کہ رسول اللہﷺ اور ان کی ازواج مطہرات کے درمیان بھی دخل اندازی کرو۔ وہ کہتے ہیں انہوں نے مجھے ایسی گرفت کی کہ جو کچھ میں محسوس کر رہا تھا اس شدت کو نرم کردیا اور میں ان کے ہاں سے چلا آیا اور انصار میں سے میرا ایک ساتھی تھا کہ جب میں (حضورﷺ کی مجلس سے) غیر حاضر تو وہ مجھے خبر دیتا اور جب وہ غیر حاضر ہوتا تو میں اسے آگاہ کرتا۔ ان دنوں ہمیں غسّان کے بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ کی طرف سے ڈر تھا اور ہمارے درمیان ذکر ہوا تھا کہ وہ ہماری طرف آنے کا ارادہ رکھتا ہے اور ہمارے سینے اس کی وجہ سے بھرے ہوئے تھے اس دوران میں میرا انصاری ساتھی آیا اور دروازہ زور زور سے کھٹکھٹانے لگا۔ اس نے کہا کھولو کھولو، میں نے کہا غسّانی آگیا ہے۔ اس نے کہا اس سے بھی سخت معاملہ ہے۔ رسول اللہ
نے اپنی ازواج سے علیحدگی اختیار کر لی ہے۔ میں نے کہا حفصہ اور عائشہ کی ناک کو مٹی لگے۔ پھر میں نے اپنا کپڑا لیا اور نکلا یہانتک کہ آیا اور دیکھا کہ رسول اللہ
ﷺ
اپنے چوبارہ میں ہیں جس پر ایک سیڑھی کے ذریعہ سے چڑھا جاتا تھا اور رسول اللہ
ﷺ
کا سیاہ رنگ کا خادم سیڑھی کے او پر تھا۔ میں نے کہا یہ عمرؓ ہے۔ مجھے اجازت دی گئی۔ حضرت عمرؓ کہتے ہیں پھر میں نے رسول اللہ
ﷺ
سے یہ بات بیان کی۔ جب میں ام سلمہؓ کی بات پر پہنچا تو رسول اللہ
ﷺ
نے تبسّم فرمایا اور آپؐ ایک چٹائی پر تھے۔ اس کے اور آپؐ کے درمیان کوئی چیز نہ تھی اور آپؐ کے سر کے نیچے چمڑے کا ایک تکیہ تھا جس کے اندر کھجور کی چھال تھی اور آپؐ کے پاؤں کے پاس قرظ کے پتوں کے ڈھیر تھے۔ اور آپ کے سر کی طرف کچھ چمڑے لٹکے ہوئے تھے۔ میں نے چٹائی کے نشانات رسول اللہ
ﷺ
کے پہلو پر دیکھے تو میں رو دیا۔ آپؐ نے فرمایا تجھے کس چیز نے رُلایا میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ کسریٰ اور قیصر کس (آرام) میں وہ دونوں ہیں اور آپؐ اللہ کے رسولؐ ہیں۔ رسول اللہ
ﷺ
نے فرمایا کیا تم پسند نہیں کرتے کہ ان دونوں کے لئے تو دنیا ہو اور تمہارے لئے آخرت ہو۔ حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ میں حضرت عمرؓ کے ساتھ آیا یہانتک کہ جب ہم مرالظہران میں تھے اور باقی روایت سابقہ روایت کی طرح ہے سوائے اس کے کہ اس میں یہ بھی ہے میں نے دو عورتوں کے بارہ میں پوچھا (حضرت عمرؓ نے فرمایا) حفصہؓ اور ام سلمہؓ اور اس روایت میں مزید ہے کہ (حضرت عمرؓ نے) فرمایا میں حجروں کے پاس آیا اور دیکھا کہ ہر گھر میں رونے کی آواز آرہی ہے۔ اس روایت میں یہ بھی اضافہ ہے کہ آپؐ نے اُن (ازواج مطہرات) سے ایک مہینہ کے لئے ایلاء کیا تھا جب اُنتیس دن ہوئے تو آپؐ ان کے پاس تشریف لائے۔
حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت عمرؓ سے ان دو عورتوں کے بارہ میں پوچھنا چاہتا تھا جنہوں نے رسول اللہﷺ کے زمانہ میں ایک دوسرے سے اتفاق کیا تھا۔ میں ایک سال اس کے لئے انتظار میں رہا مگر مجھے موقعہ نہ ملا یہاں تک کہ میں مکہ جاتے ہوئے آپؓ کا ہم سفر ہوا۔ پس جب آپؓ مرا لظہران میں تھے تو آپؓ قضاء حاجت کے لئے گئے۔ آپؓ نے کہا کہ میرے لئے پانی کی چھاگل لاؤ۔ میں وہ آپؓ کے لئے لایا جب آپؓ قضاء حاجت سے فارغ ہوگئے اور واپس آئے اور میں نے آپ کے لئے پانی اُنڈیلا تو مجھے یاد آگیا اور آپؓ سے کہا اے امیر المؤمنین وہ دو عورتیں کون تھیں؟ ابھی میں نے اپنی بات پوری نہیں کی تھی کہ آپؓ نے فرمایا عائشہ اور حفصہؓ۔
حضرت ابن عباّس سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں ہمیشہ چاہتا رہا کہ حضرت عمرؓ سے نبیﷺ کی اُن دو ازواج کے بارہ میں پوچھوں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اگر تم اپنی غلطی پر اللہ سے توبہ کرو تو تم دونوں کے دل تو پہلے ہی اس بات کی طرف جھکے ہوئے ہیں (اور توبہ کے لئے تیار ہیں) حتّٰی کہ حضرت عمرؓ نے حج کیا اور میں نے بھی آپؓ کے ساتھ حج کیا۔ جب ہم رستہ میں کسی جگہ تھے حضرت عمرؓ ایک طرف گئے میں بھی ان کے ساتھ پانی کی چھاگل کے ساتھ گیا۔ آپ قضائِ حاجت سے فارغ ہوئے پھر میرے پاس آئے میں نے آپؓ کے ہاتھوں پر پانی ڈالا۔ آپؓ نے وضوء کیا میں نے کہا اے امیر المؤمنین! نبیﷺ کی ازواج مطہرات میں سے وہ دو عورتیں کونسی تھیں جن کے متعلق اللہ عزّوجلّ نے فرمایا اگر تم اپنی غلطی پر اللہ سے توبہ کرو تو تم دونوں کے دل تو پہلے ہی اس بات کی طرف جھکے ہوئے ہیں (اور توبہ کے لئے تیار ہیں)۔ حضرت عمرؓ نے کہا واہ ابن عباس! تم پر تعجب ہے۔ زہری کہتے ہیں بخدا انہوں نے ناپسند کیا کہ انہوں (حضرت ابن عباسؓ) نے (ان سے پہلے) نہ پوچھ لیا اور (حضرت عمرؓ نے) اس کو چھپایا نہیں۔ آپؓ نے کہا وہ حفصہؓ اور عائشہؓ تھیں پھر آپؓ تفصیل سے روایت بیان کرنے لگے۔ انہوں نے کہا ہم گروہ قریش ایسی قوم تھے جو عورتوں پر غالب رہتے تھے۔ جب ہم مدینہ آئے تو ہم نے ایسی قوم پائی جن پر ان کی عورتیں غالب تھیں تو ہماری عورتیں ان کی عورتوں سے سیکھنے لگیں اور کہنے لگے میرا مکان بنی امیہ بن زید کے قبیلہ میں بالائی بستی میں تھا۔ ایک دن میں اپنی بیوی پر ناراض ہوا وہ مجھے جواب دینے لگی مجھے برا لگا کہ وہ مجھے جواب دے۔ اس نے کہا میرا تمہیں جواب دینا برا لگتا ہے۔ اللہ کی قسم نبیﷺ کی ازواج آپؐ کو جواب دیتی ہیں۔ اور ان میں سے کوئی دن بھر آپؐ سے روٹھی رہتی ہے۔ اس پر میں چلا اور حفصہؓ کے پاس گیا اور میں نے کہا کیا تم رسول اللہﷺ کو جواب دیتی ہو۔ اس نے کہا ہاں۔ میں نے کہا کیا تم میں سے کوئی آپؐ سے دن بھر روٹھی رہتی ہے۔ اس نے کہا ہاں۔ میں نے کہا تم میں سے جس نے ایسا کیا وہ ناکام و نامراد ہوئی۔ کیا تم میں سے کوئی اس بات سے امن میں ہے کہ اللہ تعالیٰ اس پر اپنے رسولؐ کی ناراضگی کی وجہ سے غضب کرے اور وہ ہلاک ہوجائے۔ تم رسول اللہﷺ کو جواب نہ دیا کرو اور آپؐ سے کچھ طلب نہ کیا کرو جو تمہاری ضرورت ہو وہ مجھ سے مانگ لیا کرو اور تمہاری ہمسائی تمہیں دھوکہ میں نہ ڈالے کہ وہ تم سے زیادہ خوبصورت اور رسول اللہﷺ کو تم سے زیادہ محبوب ہے۔ آپؓ کی مراد حضرت عائشہؓ سے تھی انہوں (حضرت عمرؓ) نے کہا میرا ایک انصاری ہمسایہ تھا اور ہم باری باری رسول اللہﷺ کے پاس آتے تھے۔ ایک دن وہ آتا اور ایک دن میں آتا وہ مجھے وحی وغیرہ کی خبر دیتا اور میں اس کے پاس اسی طرح خبریں لاتا تھا ہم باہم گفتگو کیا کرتے تھے کہ غسان کا بادشاہ ہم سے جنگ کرنے کے لئے گھوڑوں کو نعل لگا رہا ہے۔ میرا ساتھی گیا اور میرے پاس عشاء کے وقت آیا اور میرا دروازہ کھٹکھٹایا اور مجھے آواز دی میں باہر اس کے پاس آیا۔ اس نے کہا ایک بہت بڑا حادثہ ہوا ہے۔ میں نے کہا کیا ہوا! غسان آگیا ہے؟ اس نے کہا نہیں بلکہ اس سے بھی بڑا اور بہت بڑا۔ نبی
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے آپؓ فرماتی ہیں جب اُنتیس راتیں گذر گئیں تو رسول اللہﷺ میرے پاس تشریف لائے۔ آپؐ نے مجھ سے ابتداء کی میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! آپؐ نے تو قسم کھائی تھی کہ آپؐ ہمارے پاس ایک مہینہ تشریف نہیں لائیں گے اور آپؐ اُنتیسویں دن تشریف لے آئے ہیں میں دن گنتی آئی ہوں۔ آپؐ نے فرمایا مہینہ اُنتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔ پھر فرمایا اے عائشہ میں تمہارے پاس ایک بات کا ذکر کرنے لگا ہوں تمہیں اس بارہ میں جلدی کی ضرورت نہیں یہانتک کہ اپنے ماں باپ سے مشورہ کرلو پھر آپؐ نے میرے سامنے یہ آیت پڑھی یٰایُّھَا النَّبِیُّ قُلْ لِّأَزْوَاجِکَ یہانتک کہ آپؐ اَجْرًا عَظِیْمًاتک پہنچ گئے۔ ترجمہ: اے نبیؐ ! اپنی بیویوں سے کہہ دے۔۔۔ بہت بڑا اجر مہیّا کیا ہے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں اللہ کی قسم آپؐ جانتے تھے کہ میرے ماں باپ مجھے آپؐ سے جدا ہونے کا مشورہ کبھی دینے والے نہیں۔ آپؓ فرماتی ہیں میں نے کہا کیا میں اس معاملہ میں اپنے ماں باپ سے مشورہ کروں گی؟ میں تو اللہ اور اس کے رسولؐ اور آخرت کے گھر کو چاہتی ہوں۔ معمر کہتے ہیں مجھے ایوب نے بتایا حضرت عائشہؓ نے کہا آپؐ اپنی دوسری بیویوں کو نہ بتائیں کہ میں نے آپ کو اختیار کر لیا ہے نبیﷺ نے اُن (حضرت عائشہؓ) سے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے مبلغ بنا کر بھیجا ہے مشکل میں ڈالنے والا بنا کر نہیں بھیجا۔ قتادہ کہتے ہیں صَغَتْ قُلُوبُکُمَا کے معنے مَالَتْ قُلُوبُکُمَا ہیں یعنی تم دونوں کے دل (پہلے ہی نیکی کی طرف) مائل ہیں۔
فاطمہ بنت قیس سے روایت ہے کہ ابو عمرو بن حفص نے انہیں طلاقِ بتّہ دی اور وہ موجود نہیں تھے اور ان (فاطمہ) کی طرف اس (ابو عمرو بن حفص) کے وکیل نے کچھ جو بھیجے۔ وہ اس پر ناراض ہوئی اس وکیل نے کہا اللہ کی قسم ہم پر تمہاری کوئی ذمّہ داری نہیں ہے۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور آپؐ سے یہ معاملہ عرض کیا تو آپؐ نے فرمایا اس کے ذمّہ تمہارا کوئی نفقہ نہیں ہے۔ اور اسے حکم دیا کہ وہ اپنی عدّت ام شریک کے گھر گذارے۔ پھر فرمایا وہ ایک ایسی عورت ہے جہاں میرے صحابہؓ آتے جاتے رہتے ہیں۔ اس لئے تم ابن ام مکتومؓ کے پاس عدّت گزارو وہ نابینا آدمی ہیں تم اپنے (زائد) کپڑے اُتار سکتی ہو۔ پھر جب تمہاری عدّت پوری ہو جائے تو مجھے بتانا۔ وہ کہتی ہیں جب میری عدّت پوری ہوگئی تو میں نے آپؐ کو بتایا کہ معاویہ بن ابی سفیان اور ابو جہم نے مجھے نکاح کا پیغام دیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جہاں تک ابو جہم کا تعلق ہے۔ وہ تو اپنی لاٹھی کندھے سے نہیں اُتارتا اور معاویہ تنگدست آدمی ہے۔ اس کے پاس کوئی مال نہیں۔ تم اُسامہؓ بن زید سے نکاح کر لو۔ میں نے اس کو ناپسند کیا۔ آپؐ نے پھر فرمایا اُسامہؓ سے نکاح کر لو۔ میں نے اس سے نکاح کر لیا اور اللہ تعالیٰ نے اس میں ایسی خیر و برکت رکھی اور میں اچھے حال میں ہوگئی۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَازِمٍ وَقَالَ قُتَيْبَةُ أَيْضًا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ - كِلاَهُمَا عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ أَنَّهُ طَلَّقَهَا زَوْجُهَا فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَكَانَ أَنْفَقَ عَلَيْهَا نَفَقَةَ دُونٍ فَلَمَّا رَأَتْ ذَلِكَ قَالَتْ وَاللَّهِ لأُعْلِمَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَإِذَا كَانَ لِي نَفَقَةٌ أَخَذْتُ الَّذِي يُصْلِحُنِي وَإِنْ لَمْ تَكُنْ لِي نَفَقَةٌ لَمْ آخُذْ مِنْهُ شَيْئًا قَالَتْ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لاَ نَفَقَةَ لَكِ وَلاَ سُكْنَى .
ابو سلمہ فاطمہؓ بنت قیس سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے خاوند نے نبیﷺ کے زمانہ میں انہیں طلاق دے دی اور انہیں معمولی نفقہ دیا جب انہوں نے یہ دیکھا تو کہا اللہ کی قسم میں رسول اللہﷺ کو بتاؤں گی۔ اگر نفقہ میرا حق ہوا تو میں اپنی ضرورت کے مطابق لوں گی اور اگر میرا حق نہ ہوا تو اس میں سے کچھ نہ لوں گی۔ وہ کہتی ہیں میں نے یہ بات رسول اللہﷺ سے بیان کی۔ آپؐ نے فرمایا تمہارے لئے نہ نفقہ ہے نہ رہائش۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّهُ قَالَ سَأَلْتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ فَأَخْبَرَتْنِي أَنَّ زَوْجَهَا الْمَخْزُومِيَّ طَلَّقَهَا فَأَبَى أَنْ يُنْفِقَ عَلَيْهَا فَجَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرَتْهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاَ نَفَقَةَ لَكِ فَانْتَقِلِي فَاذْهَبِي إِلَى ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَكُونِي عِنْدَهُ فَإِنَّهُ رَجُلٌ أَعْمَى تَضَعِينَ ثِيَابَكِ عِنْدَهُ .
ابو سلمہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے فاطمہؓ بنت قیس سے پوچھا انہوں نے مجھے بتایا کہ ان کے مخزومی خاوند نے انہیں طلاق دے دی اور اسے نفقہ دینے سے انکار کر دیا۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور آپؐ کو بتایا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تمہارے لئے کوئی نفقہ نہیں ہے وہاں سے منتقل ہو جاؤ اور ابن ام مکتوم کے پاس چلی جاؤ اور اس کے پاس رہو وہ نا بینا آدمی ہے۔ تم اس کے ہاں (زائد) کپڑے اُتار سکتی ہو۔
ابو سلمہ بیان کرتے ہیں کہ ضحاک بن قیس کی بہن فاطمہ بنت قیس نے انہیں بتایا کہ ابو حفص بن مغیرہ مخزومی نے انہیں تین طلاقیں دیں پھر یمن چلے گئے اور ان کے گھر والوں نے ان سے کہا ہمارے ذمّہ تمہارے لئے کوئی نفقہ نہیں ہے۔ خالدؓ بن ولید چند لوگوں کے ساتھ حضرت میمونہؓ کے گھر رسول اللہﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا ابو حفص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی ہیں۔ تو کیا اس کے لئے کوئی نفقہ ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا اس کے لئے کوئی نفقہ نہیں ہے ہاں اس پر عدّت ہے اور اسے پیغام بھیجا کہ اپنے بارے مجھے بتائے بغیر جلدی نہ کرنا اور انہیں حکم دیا کہ وہ ام شریک کے گھر منتقل ہو جائیں پھر کہلا بھیجا کہ ام شریک کے گھر ابتدائی مہاجرین آتے رہتے ہیں اس لئے تم ابن ام مکتومؓ نابینا کے ہاں منتقل ہو جاؤ اس لئے کہ جب اپنی اوڑھنی اُتارو گی تو وہ تمہیں نہیں دیکھے گا وہ ان کے ہاں چلی گئیں۔ جب ان کی عدّت پوری ہوگئی تو رسول اللہﷺ نے ان کا نکاح اُسامہؓ بن زید بن حارثہ سے کر دیا۔ ابو سلمہ حضرت فاطمہؓ بنت قیس سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا میں نے فاطمہ بنت قیس کے منہ سے یہ روایت سن کر لکھ لی تھی۔ انہوں نے کہا میں بنی مخزوم کے ایک شخص کے نکاح میں تھی اس نے مجھے طلاقِ بتّہ دے دی۔ میں نے ان کے گھر والوں کو نفقہ لینے کے لئے پیغام بھیجا۔ باقی روایت سابقہ روایت کی طرح ہے مگر روایت میں (لَا تَسْبِقِیْنِیْ بِنَفْسِکِ کی بجائے) لَا تَفُوْتِیْنَا بِنَفْسِکِ کے الفاظ ہیں۔
فاطمہؓ بنت قیس بیان کرتی ہیں کہ وہ ابو عمرو بن حفص بن مغیرہ کے نکاح میں تھیں انہوں نے انہیں تین طلاقوں میں سے آخری طلاق بھی دے دی۔ ان کا بیان ہے کہ وہ رسول اللہﷺ کی خدمت میں اپنے گھر سے نکلنے کے لئے فتویٰ پوچھنے آئیں۔ آپؐ نے انہیں فرمایا کہ ابن ام مکتوم نابینا کے ہاں منتقل ہو جائیں۔ مروان نے اس بات سے انکار کیا کہ وہ (راوی کی) مطلقہ کے گھر سے نکلنے کی تصدیق کرے اور عروہ نے کہا حضرت عائشہؓ نے بھی فاطمہ بنت قیس کی اس بات کو عجیب قرار دیا تھا۔
عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے روایت ہے کہ ابو عمر و بن حفص بن مُغیرہ حضرت علیؓ بن ابی طالب کے ساتھ یمن گئے اور اپنی بیوی فاطمہؓ بنت قیس کو ایک طلاق جو اس کی طلاقوں میں سے باقی تھی بھیجی اور حارث بن ہشام اور عیاش بن ابی ربیعہ کو اسے نفقہ دینے کو کہا ان دونوں نے اسے (فاطمہؓ کو) کہا اللہ کی قسم تمہارے لئے کوئی نفقہ نہیں ہے۔ سوائے اس کے کہ تم حاملہ ہو وہ نبیﷺ کے پاس آئی اور اُن دونوں کی بات بتائی۔ آپؐ نے فرمایا تمہارے لئے کوئی نفقہ نہیں ہے۔ اس نے آپؐ سے نقل مکانی کی اجازت مانگی۔ آپؐ نے اسے اجازت دے دی۔ اس نے عرض کیا کہاں یا رسولؐ اللہ؟ آپؐ نے فرمایا ابن ام مکتومؓ کے ہاں اور وہ نابینا تھے وہ اس کے ہاں اپنے (زائد) کپڑے اُتار سکتی تھی اور وہ اسے دیکھ نہیں سکتا تھا جب اس کی عدّت گزر گئی تو نبیﷺ نے ان کا نکاح اُسامہؓ بن زید سے کر دیا۔ مروان نے ان کی طرف قُبیصہ بن زوائب کو ان سے اس بات کے معلوم کرنے کے لئے بھیجا اور انہوں نے اس کو یہ بات بتائی۔ تو مروان نے کہا ہم نے یہ روایت ایک عورت سے سنی ہے ہم ضرور اس کو اختیار کرنے میں احتیاط کا طریق کریں گے؟ جس پر ہم نے لوگوں کو پایا ہے۔ جب فاطمہؓ کو مروان کی یہ بات پہنچی تو اس نے کہا میرے اور تمہارے درمیان (فیصلہ کرنے والا) قرآن ہے۔ اللہ عزّو جلّ فرماتا ہے۔ لَا تُخْرِجُّوْ ھُنَّ مِن ُبیوُتِھِنَ (الآیۃ) انہیں ان کے گھروں سے نہ نکالو۔ اس نے کہا یہ حکم اس کے لئے ہے جس سے رجوع ہو سکتا ہے تو پھر تین طلاقوں کے بعد کونسی نئی صورت ہو سکتی ہے (یعنی تین طلاقوں کے بعد رجوع نہیں ہو سکتا) پس تم کیسے کہہ رہے ہو کہ اس کے لئے کوئی نفقہ نہیں جب کہ وہ حاملہ نہیں ہے تو پھر تم اسے کیوں روکتے ہو؟
نے اپنی ازواج کو طلاق دے دی ہے میں نے کہا حفصہؓ ناکام و نامراد ہوگئی۔ میں گمان کرتا تھا کہ ایسا ہوکر رہے گا۔ جب میں نے صبح کی نماز پڑھی اپنے کپڑے پہنے پھر اترا اور حفصہؓ کے پاس گیا وہ رو رہی تھی میں نے پوچھا کیا رسول اللہ
ﷺ
نے تم سب کو طلاق دے دی ہے؟ اس نے کہا میں نہیں جانتی آپؐ تو اس چوبارہ میں علیحدہ بیٹھے ہیں۔ میں آپؐ کے سیاہ رنگ خادم کے پاس آیا اور کہا عمر کے لئے اجازت طلب کرو۔ وہ داخل ہوا پھر میری طرف آیا اور کہا میں نے حضورؐ سے آپ کا ذکر کیا مگر آپ خاموش رہے۔ میں چلا اور منبر تک گیا اور بیٹھ گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ اس کے پاس کچھ لوگ بیٹھے ہیں اور ان میں سے بعض رو بھی رہے ہیں۔ میں تھوڑی دیر بیٹھا رہا اور جو کچھ محسوس کر رہا تھا اس نے مجھ پر غلبہ کیا میں اس غلام کے پاس آیا اور کہا عمر کے لئے اجازت مانگو وہ اندر گیا پھر باہر میرے پاس آیا اور کہا میں نے آپؐ سے اس کا ذکر کیا تو آپؐ خاموش رہے میں واپس جانے کے لئے مڑا تو اچانک لڑکا میرے پاس باہر آیا اور کہا جائیں آپ کے لئے اجازت ہے۔ میں (کمرے میں) داخل ہوا اور میں نے رسول اللہ
ﷺ
کو سلام کیا۔ آپؐ چٹائی پر تکیہ لگائے ہوئے تھے جس نے آپؐ کے پہلو پر نشان ڈال دیئے تھے۔ میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! کیا آپؐ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے؟ آپؐ نے میری طرف اپنا سر اُٹھایا اور فرمایا نہیں میں نے کہا اللہ اکبر یا رسولؐ اللہ! آپؐ جانتے ہیں کہ گروہِ قریش ایسی قوم تھے جو عورتوں پر غالب تھے جب ہم مدینہ آئے تو ہم نے ایسی قوم پائی جن کی عورتیں ان پر غالب ہیں ہماری عورتوں نے ان کی عورتوں سے سیکھنا شروع کیا ایک دن میں اپنی بیوی پر ناراض ہوا۔ تو وہ مجھے جواب دینے لگی۔ مجھے برا لگا کہ وہ مجھے جواب دے۔ اس نے کہا آپ کو کیوں برا لگتا ہے کہ میں آپ کو جواب دیتی ہوں۔ اللہ کی قسم نبی
ﷺ
کی بیویاں آپؐ کو جواب دیتی ہیں۔ ان میں سے کوئی ایک دن بھر آپؐ سے روٹھی رہتی ہے۔ میں نے کہا ان میں سے جس نے ایسا کیا وہ ناکام و نامراد رہی۔ کیا ان میں سے کوئی ایک بھی اس بات سے امن میں ہے کہ اللہ تعالیٰ اس پر اپنے رسولؐ کی ناراضگی کی وجہ سے ناراض ہو۔ پھر تو وہ ہلاک ہوگئی۔ رسول اللہ
ﷺ
مسکرائے میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! میں نے حفصہؓ سے کہا تم کسی دھوکے میں نہ رہنا تیری ہمسائی تجھ سے زیادہ خوبصورت اور تجھ سے زیادہ رسول اللہ
ﷺ
کو محبوب ہے۔ آپؐ پھر مسکرائے۔ میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! مجھے اجازت ہے؟ میں دل بہلانے کی بات کروں۔ آپؐ نے فرمایا ہاں میں بیٹھ گیا اور اپنا سر کمرے کو دیکھنے کے لئے اُٹھایا۔ بخدا میں نے اس میں سوائے تین چمڑوں کے کوئی چیز نہیں دیکھی جس کو دیکھ کر نظر واپس آئے۔ میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! آپؐ دعا کریں کہ وہ آپؐ کی امت کو فراخی و کشادگی عطا فرمائے۔ اس نے فارس اور روم کو فراخی دے رکھی ہے حالانکہ وہ اللہ کی عبادت نہیں کرتے۔ اس پر آپؐ اٹھ کر بیٹھ گئے اور فرمایا اے ابن خطاب تم بھی شک میں ہو؟ یہ وہ لوگ ہیں جن کو ان کی اچھی چیزیں دنیا کی زندگی میں جلدی دے دی گئی ہیں۔ میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! میرے لئے مغفرت طلب کیجئے۔ آپؐ نے ان (اپنی ازواج مطہرات پر) شدت غم کی وجہ سے قسم کھائی تھی کہ ان کے پاس ایک ماہ تک نہیں جائیں گے یہانتک کہ اللہ عزّوجل نے آپؐ کی محبت پر اعتماد کرتے ہوئے آپؐ سے ناز سے خطاب فرمایا۔