بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 163 hadith
خلاد بن یحيٰ نے ہم سے بیان کیا کہ مسعر نے ہمیں بتایا کہ حبیب بن ابی ثابت نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوالعباس سے، ابوالعباس نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاصؓ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: کیامجھے یہ نہیں بتایا گیا کہ تم رات بھر عبادت کرتے ہو اور دن کو روزہ رکھتے ہو۔ میں نے کہا: ہاں۔ آپؐ نے فرمایا: اگر تم نے ایسا کیا تو آنکھ بیٹھ جائے گی اور جان کمزور ہوجائے گی۔ ہر مہینہ میں تین دن روزہ رکھا کرو۔ یہ عمر بھر کا روزہ ہوگا۔ یا فرمایا: یہ ایسا ہی ہے جیسے عمر بھر روزہ رکھنا۔ میں نے کہا: میں اپنے اندر طاقت پاتا ہوں۔ مسعر نے کہا: اَجِدُ بِیْ کے معنی ہیں اپنے اندر قوت پاتا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا: پھر دائود علیہ السلام کے روزہ کی طرح روزہ رکھو اور وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن چھوڑدیا کرتے اور جب دشمن سے مقابلہ کرتے، بھاگتے نہیں تھے۔
(تشریح)موسیٰ بن اسماعیل نے ہمیں بتایا۔ وُہیب نے ہم سے بیان کیا۔ ایوب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے کہا: سورۃ ص کا سجدہ ضروری سجدوں میں سے نہیں ہے۔ مگر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپؐ اس میں سجدہ کیا کرتے تھے۔
(تشریح)قُتَیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عُیَینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو بن دینار سے، عمرو نے عمرو بن اوس ثقفی سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمروؓ سے سنا۔ کہتے تھے: مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کو سب سے پیارے روزے دائود ؑ کے روزے ہیں۔ وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن نہ رکھتے تھے اور اللہ کو سب سے پیاری نماز دائود ؑ کی نماز ہے۔ آدھی رات سوتے تھے اور تہائی رات عبادت کرتے تھے اور پھر رات کے چھٹے حصے میں سو جاتے تھے۔
محمد (بن سلام) نے ہم سے بیان کیاکہ سہل بن یوسف نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: میں نے عو ّام سے سنا۔ وہ مجاہد سے روایت کرتے تھے۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عباسؓ سے پوچھا: کیا ہم سورۃ ص میں سجدئہ تلاوت کریں؟ تو انہوں نے (سورۃ الانعام) کی آیت پڑھی: اور اس (ابراہیم) کی اولاد میں سے دائود اور سلیمان … کو ہم نے ہدایت دی پس تو ان کی ہدایت کی پیروی کر۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان میں سے ہیں جنہیں ان کی پیروی کرنے کا حکم ہوا ہے۔
محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا۔ محمد بن جعفر نے ہمیں بتایا کہ شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے محمد بن زیادسے، انہوں نے حضرت ابوہریرہؓسے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ جنگلی درندوں میں سے ایک مکروہ شکل درندہ کل رات(مجھ پر) یکایک ٹوٹ پڑا تاکہ میری نماز کو توڑ دے۔ مجھے اللہ نے اس پر قابودے دیا۔ میں نے اس کو پکڑلیا اور چاہا کہ مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون سے اس کو باندھ دوں تا کہ تم سب اس کو دیکھو۔ مگر مجھے اپنے بھائی سلیمان کی یہ دعا یاد آئی: اے میرے رب! مجھ کو ایسی بادشاہت عطا کر جو میرے بعدکسی کو نہ ملے۔تو میں نے اس کو دھتکارکر بھگا دیا۔ عِفْرِیْتکے معنی سرکش خواہ انسان ہو یا جانور اس کو عِفْرِیَّۃبھی کہتے ہیں۔ جیسے زِبْنِیَّۃ اس کی جمع زَبَانِی ہے۔
خالد بن مخلد نے ہم سے بیان کیا کہ مغیرہ بن عبدالرحمن نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوالزناد سے، انہوں نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہؓ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: سلیمان بن دائود نے کہا: آج میں ستر عورتوں کے پاس چکر لگائوں گا۔ ہر عورت کے حمل سے شاہسوار ہو گا جو اللہ کی راہ میں جہاد کرے گا۔ ان کے مصاحب نے کہا: انشاء اللہ کہیے، سلیمان نے نہیں کہا۔ اور ان عورتوں نے کچھ نہ جنا مگر ایک ہی بچہ جس کا آدھا جسم نہ تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر انشاء اللہ کہتے تو سب اللہ کی راہ میں یقینا جہاد کرتے۔ شعیب بن ابی الزناد نے اپنی روایت میں نوے کا عدد بیان کیا ہے مگر یہ ستر کی روایت زیادہ صحیح ہے۔
عمر بن حفص نے ہمیں بتایا کہ میرے باپ نے ہم سے بیان کیا، (کہا: )اعمش نے ہمیں بتایا کہ ابراہیم تیمی نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! کونسی مسجد پہلے پہل بنائی گئی؟ آپؐ نے فرمایا: مسجد حرام۔ میں نے پوچھا: پھر اس کے بعد کونسی؟ آپؐ نے فرمایا: اس کے بعد مسجد اقصیٰ۔ میں نے پوچھا: ان دونوں میں کتنا فاصلہ تھا؟ آپؐ نے فرمایا: چالیس (برس) پھر اس کے بعد آپؐ نے فرمایا: جہاں بھی تمہیں نماز کا وقت آجائے نماز پڑھ لو اور ساری زمین ہی تمہارے لئے مسجد ہے۔
اور فرمایا: دو عورتیں تھیں۔ ان کے ساتھ ان کے دو بیٹے تھے۔ بھیڑیا آیا۔ ان میں سے ایک عورت کا بیٹا لے گیا۔ اس کی ساتھن کہنے لگی: وہ تو تیرا بیٹا لے گیا ہے؛ اور دوسری کہنے لگی۔ تیرا ہی بیٹالے گیا ہے۔ اس کے بعد وہ دونوں دائود ؑ کے پاس اپنا جھگڑا فیصلہ کے لئے لے گئیں۔ انہوں نے بڑی عورت کو بچہ دلانے کا فیصلہ کیا۔ پھر دونوں نکل کر سلیمان ؑ بن دائود ؑ کے پاس گئیں اور انہوں نے ان سے واقعہ بیان کیا۔ سلیمان ؑنے کہا: مجھے چھری لادو تاکہ میں اس کو ان دونوں کے درمیان نصف ، نصف تقسیم کردوں۔ یہ سن کر چھوٹی کہنے لگی: ایسا نہ کیجیئے۔ اللہ آپ پر رحم کرے۔ یہ اسی کا بیٹا ہے۔ یہ سن کر سلیمان ؑ نے چھوٹی کو اس بیٹے کے دینے کا فیصلہ کیا۔ حضرت ابوہریرہؓ نے کہا: بخدا سِکِّیْن کا لفظ صرف اسی دن میں نے سنا ورنہ ہم چھری کو مُدْیَۃ ہی کہا کرتے تھے۔
(تشریح)ابوالولید نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے ابراہیم (نخعی) سے، ابراہیم نے علقمہ سے، علقمہ نے حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: جب یہ آیت نازل ہوئی: جو لوگ ایمان لے آئے اور انہوں نے اپنے ایمان کو ظلم سے مخلوط نہیں کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے کہا: ہم میں سے کون ایسا ہے جس نے اپنے ایمان کو گناہ سے نہیں ملایا۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی: اللہ کا شریک نہ ٹھہرا۔ شرک یقینا بہت ہی بڑا ظلم ہے۔
اسحاق (بن راہویہ) نے ہم سے بیان کیا کہ عیسیٰ بن یونس نے ہمیں خبردی۔ اعمش نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابراہیم (نخعی) سے، ابراہیم نے علقمہ سے، علقمہ نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: جب یہ آیت نازل ہوئی: جو لوگ ایمان لے آئے اور انہوں نے اپنے ایمان کو ظلم سے مخلوط نہیں کیا۔ مسلمانوں پر شاق گزرا اور انہوں نے پوچھا: یا رسول اللہ ! ہم میں سے کون ایسا ہے جس نے اپنی جان پر ظلم نہیں کیا۔ آپؐ نے فرمایا: یہ مراد نہیں یہ تو صرف شرک ہے۔ کیا تم نے نہیں سنا جو لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا جبکہ وہ اس کو نصیحت کررہے تھے۔ اے میرے بیٹے ! اللہ کا شریک مت ٹھہرا کیونکہ شرک یقینا بہت بڑا گناہ ہے۔
(تشریح)