بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 163 hadith
ہدبہ بن خالد نے ہم سے بیان کیا۔ ہمام بن یحيٰ نے ہمیں بتایا کہ قتادہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حضرت انس بن مالکؓ سے، حضرت انسؓ نے حضرت مالک بن صعصعہؓ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اس رات کا حال بیان کیا جس رات آپؐ کو اِسراء ہوا۔ فرمایا: پھر جبریل اوپر گئے۔ یہاں تک کہ دوسرے آسمان پر پہنچے اور دروازہ کھولنے کے لئے کہا: پوچھا گیا: کون ہیں؟ انہوں نے کہا: جبریل۔ پوچھا گیا: اور تمہارے ساتھ یہ کون ہیں؟ انہوں نے کہا: محمد۔ پوچھا گیا: کیا ان کو بلا بھیجا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ جب میں پہنچا تو میں کیا دیکھتا ہوں کہ یحيٰ و عیسیٰ ہیں اور وہ دونوں خالہ زاد بھائی ہیں۔ جبریل نے کہا: یہ یحيٰ اور عیسیٰ ہیں۔ ان کو سلام کہو۔ چنانچہ میں نے سلام کیا اور ان دونوں نے جواب دیا۔ پھر ان دونوں نے کہا: خوشی سے آئیں نیک بھائی اور نیک نبی۔
(تشریح)ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے روایت کی، کہا: سعید بن مسیب نے مجھ سے بیان کیا، کہا: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: بنی آدم میں سوائے مریم اور ان کے بیٹے کے کوئی بھی ایسا بچہ نہیں جس کو کہ جب وہ پیدا ہوا ہے شیطان نے نہ چھؤا ہو۔ پھر وہ شیطان کے چھونے سے چلا کر رونا شروع کردیتا ہے۔ یہ بیان کرکے حضرت ابوہریرہؓ یہ آیت پڑھتے تھے:اور میں اسے اوراس کی اولاد کو مردود شیطان (کے حملہ) سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔
(تشریح)احمد بن ابی رجاء نے مجھ سے بیان کیاکہ نضر (بن شمیل) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میرے باپ (عروہ بن زبیر) نے مجھے بتایا، کہا: میں نے عبداللہ بن جعفر سے سنا۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: دنیا کی عورتوں میں سے بہتر عمران کی بیٹی مریم تھیں اور اس زمانہ کی عورتوں میں سے بہتر عورت خدیجہؓ ہیں۔
(تشریح)آدم (بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو بن مرہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے مرہ ہمدانی سے سنا۔ وہ بیان کرتے تھے کہ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ عائشہؓ کی فضیلت دوسری عورتوں پر ایسی ہے جیسے ثرید کی سب کھانوں پر۔ مردوں میں سے بہت سے کامل ہوئے اور عورتوں میں سے سوائے مریم بنت عمران اور آسیہ فرعون کی بیوی کے کوئی کامل نہیں ہوئی۔
اور (عبداللہ) ابن وہب نے کہا: یونس نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: سعید بن مسیب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت ابوہریرہؓ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: قریش کی عورتیں اچھی عورتیں ہیں۔ اونٹوں پر سوار ہوتی ہیں۔ بچوں پر بہت مہربان ہیں اور خاوندوں کا بہت خیال رکھتی ہیں۔ حضرت ابوہریرہؓ یہ بیان کرنے کے بعد کہتے تھے: مریم بنت عمران کبھی بھی کسی اونٹ پر سوار نہیں ہوئی۔ یونس کی طرح زہری کے بھتیجے (محمد بن عبداللہ بن یسار) اور اسحق کلبی نے بھی زہری سے یہ روایت نقل کی۔
(تشریح)صدقہ بن فضل نے ہم سے بیان کیا کہ ولید (بن مسلم) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اوزاعی سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: عمیر بن ہانی نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: جنادہ بن ابی امیہ نے مجھے بتایا۔ انہوں نے حضرت عبادہ (بن صامت) رضی اللہ عنہ سے، حضرت عبادہؓ نے نبیﷺ سے روایت کی۔آپؐ نے فرمایا: جس نے یہ شہادت دی کہ صرف ایک اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ کوئی اس کا شریک نہیں اور یہ کہ محمد اس کے عبد ہیں اور اس کے رسول ہیں اور یہ کہ عیسیٰ اللہ کے عبد ہیں اور اس کے رسول ہیں اور اس کی ایک بشارت ہیں جو اس نے مریم کو دی تھی اور اس کی رحمت تھے اور جنت برحق ہے اور آگ بھی برحق ہے۔ اللہ ان کو جنت میں اپنے اپنے عمل کے مطابق داخل کر دے گا۔ ولید نے کہا: (عبدالرحمن بن یزید) بن جابر نے مجھے یہ حدیث بتائی۔ انہوں نے عمیر سے، عمیر نے جنادہ سے روایت کی اور اس میں یہ الفاظ زیادہ بیان کئے کہ جنت کے آٹھ دروازوں میں سے جن میں سے وہ چاہے گا داخل ہوگا۔
(تشریح)مسلم بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ جریربن حازم نے ہمیں بتایا۔انہوں نے محمد بن سیرین سے، ابن سیرین نے حضرت ابوہریرہؓ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی ﷺسے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: بچپن میں سوائے تین کے کسی نے باتیں نہیں کیں۔ یعنی عیسیٰ اور بنی اسرائیل میں ایک مشہور شخص تھا جسے جُرَیج کہتے تھے۔ وہ نماز پڑھ رہا تھا اس کی ماں آئی اور اس نے اس کو بلایا۔ جُرَیج نے دل میں کہا: میں اس کے پاس جائوں یا نماز پڑھتا رہوں۔ ماں نے یہ دیکھ کر بددعا کی: اے اللہ! اس کو نہ ماریو جب تک تو اس کو کنچنیوں کا منہ نہ دکھالے اور جریج اپنے عبادت خانہ میں ہی رہتا تھا۔ ایک عورت نے اس سے چھیڑ چھاڑ کی اور اس سے (بدکاری کے لیے)کہا۔ اس نے انکار کیا۔ پھر وہ ایک چرواہے کے پاس آئی اور اپنے تئیں اس کے سپرد کیا جس سے وہ ایک لڑکا جنی اور کہنے لگی: جُرَیج سے ہوا ہے۔ لوگ اس کے پاس آئے اور انہوں نے اس کے عبادت خانہ کو توڑڈالا۔ اور اس کو نیجے اتارا اور گالیاں دیں ۔ جریج نے وضو کیا اور نماز پڑھی اور اس کے بعد اس لڑکے کے پاس آیا اور اس سے پوچھا: اے لڑکے ! تیرا باپ کون ہے؟ اس نے جواب دیا: چرواہا۔ لوگ کہنے لگے: ہم تمہارا عبادت خانہ سونے کا بنا دیتے ہیں۔ اس نے کہا: نہیں مٹی سے ہی بنادو۔ بنی اسرائیل میں سے ایک عورت اپنے بچے کو دودھ پلا رہی تھی کہ ایک شخص سوار جو خوش وضع تھا {اس کے پاس سے} گزرا۔ اس کو دیکھ کر وہ عورت دعا کرنے لگی: اے اللہ! میرے بیٹے کو بھی اس جیسا بنا۔ بچہ نے اس کا پستان چھوڑ دیا اور سوار کی طرف منہ کرکے بولا: اے اللہ! مجھے اس جیسا نہ بنائیو۔ یہ کہہ کر پھر اپنی ماں کے پستان کو چوسنے لگا۔ حضر ت ابوہریرہؓ کہتے تھے: جیسے میں اب بھی نبیﷺ کو دیکھ رہا ہوں کہ آپؐ اپنی انگلی کو چوس رہے ہیں۔ پھر ایک لونڈی وہاں سے گزری۔ اس کو دیکھ کر دعا کرنے لگی: اے اللہ! میرے بیٹے کو اس جیسا نہ بنائیو۔ اس بچے نے پستان چھوڑ دیا اور بولا: اے اللہ ! مجھے اس جیسا کیجیئو۔ اس عورت نے پوچھا: یہ کیوں (تم نے کہا ہے؟) اس نے جواب دیا: وہ سوار بڑا ظالم ہے اور یہ لونڈی ، لوگ اس کو کہتے ہیں: تو نے چوری کی، تو نے زناکیا حالانکہ اس نے کچھ نہیں کیا۔
ابراہیم بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام نے ہمیں بتایا۔انہوں نے معمر سے روایت کی۔ اور محمود (بن غیلان) نے مجھ سے بیان کیا کہ عبدالرزاق نے ہمیں بتایا۔ معمر نے ہمیں خبردی ہے۔ انہوں نے زہری سے، زہری نے کہا کہ سعید بن مسیب نے مجھے بتایا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس رات مجھے لے جایا گیا۔ میں موسیٰ سے ملا۔ عبدالرزاق نے کہا: معمر نے ان کا حلیہ روایت کیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ انہوں نے یوں کہا: میں کیا دیکھتا ہوں کہ وہ پتلے لمبے آدمی ہیں۔ سیدھے بالوں والے جیسے شنوء ہ قبیلہ کے آدمی ہوتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: میں عیسیٰ سے ملا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا حلیہ بیان کیا۔ آپؐ نے فرمایا: وہ میانہ قد سرخ رنگ کے تھے۔ ایسے تروتازہ کہ جیسے وہ حمام سے نکلے تھے اور میں نے ابراہیم کو دیکھا، ان کی اولاد میں سے مَیں ان سے زیادہ ہم شکل ہوں۔ آپؐ نے فرمایا: میرے پاس دو برتن لائے گئے۔ ان میں سے ایک میں دودھ تھا اور دوسرے میں شراب اور مجھے کہا گیا: ان میں سے جس کو تم چاہو لے لو۔ میں نے دودھ لیا اور اس کو پیا۔ تو مجھ سے کہا گیا: فطرت کی تمہیں رہنمائی کی گئی ہے یا تم نے فطرت کو اختیار کیا ہے۔ دیکھو! اگر تم شراب لیتے تو تمہاری امت کج روی اختیار کرتی۔
محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا کہ اسرائیل نے ہمیں خبردی۔ عثمان بن مغیرہ نے ہمیںبتایا۔ انہوں نے مجاہد سے، مجاہد نے حضرت ابن عمر٭ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے عیسیؑ اور موسیٰ ؑاور ابراہیم ؑ کو دیکھا۔ عیسیٰ ؑجو تھے تو ان کا رنگ سرخ، گھونگھریالے بال اور سینہ چوڑا رکھتے تھے اور موسیٰ ؑ جو تھے تو وہ گندم گوں، فربہ جسم، سیدھے بالوں والے، جیسے کہ وہ زُطّ کے لوگوں میں سے ہیں۔