بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 163 hadith
اور آج رات خواب میں مَیں نے دیکھا کہ کعبہ کے پاس ہوں۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ایک گندم گوں شخص ہے ایسا ہی خوبصورت جیسے گندم گوں لوگ نظر آتے ہیں۔ اس کے بال کندھوں تک پہنچے تھے۔ بالوں میں کنگھی کی ہوئی تھی۔ اس کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے۔ دو آدمیوں کے کندھوں پر اپنے ہاتھ رکھے ہوئے بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ مسیح ابن مریم ہیں۔ پھر میں نے اس کے پیچھے ایک اور شخص چھوٹے گنگھریالے بالوں والا داہنی آنکھ سے کانا، جن لوگوں کو میں نے دیکھا ہے ان میں سے عبدالعزیٰ بن قطن سے بہت مشابہ تھا۔ وہ بھی ایک شخص کے کندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے بیت اللہ کا چکر لگا رہا تھا۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا: مسیح دجال ہے۔ موسیٰ بن عقبہ کی طرح اس حدیث کو عبیداللہ نے بھی نافع سے روایت کیا۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ابوسلمہ بن عبد الرحمن نے مجھے خبردی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: لوگوں میں سے سب سے زیادہ ابن مریم کے ساتھ تعلق رکھنے والا مَیں ہوں اور نبی علاتی بھائی ہوتے ہیں۔ میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں۔
ہم سے احمد بن محمد مکی نے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: میں نے ابراہیم بن سعد سے سنا۔ ابراہیم نے کہا: مجھے زہری نے بتایا۔ زہری نے سالم سے، سالم نے اپنے باپ (حضرت عبداللہ بن عمرؓ )سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نہیں۔ اللہ کی قسم! نبی ﷺ نے عیسیٰ کو سرخ رنگ کا نہیں بتایا بلکہ فرمایا: اسی اثناء میں کہ میں سویا ہوا تھا (میں نے خواب میں دیکھا کہ میں) کعبہ کا طواف کر رہا ہوں۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ایک شخص گندم گوں سیدھے بالوں والا ہے۔ دو آدمیوں کے درمیان ان کا سہارا لئے ہوئے جا رہا ہے۔ اس کے سر سے پانی ٹپک رہا ہے یا فرمایا: اس کے سر سے پانی بہہ رہا ہے۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا: ابن مریم۔ میں مڑکر جو دیکھنے لگا٭ تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک موٹا شخص سرخ رنگ گھنگھریالے بالوں والا اپنی داہنی آنکھ سے کا نا ہے۔ اس کی آنکھ جیسے پھولا ہوا انگور کا دانہ ہوتا ہے۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ دجال ہے اور لوگوں میں سے (عبدالعزیٰ) ابن قطن اس سے زیادہ ملتا جلتا ہے۔ زہری نے کہا: یہ خزاعہ قبیلہ میں سے ایک شخص تھا جو جاہلیت میں ہی مرگیا تھا۔
محمد بن سنان نے ہمیں بتایا کہ فلیح بن سلیمان نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) ہلال بن علی نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبدالرحمن بن ابی عمرہ سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دنیا اور آخرت میں تمام لوگوں سے بڑھ کر عیسیٰ ابن مریم سے تعلق رکھنے والا مَیں ہوں اور نبی علاتی بھائی ہوتے ہیں۔ ان کی مائیں مختلف ہیں مگر ان کا دین ایک ہی ہوتا ہے۔ اور ابراہیم بن طہمان نے کہا کہ موسیٰ بن عقبہ سے مروی ہے۔انہوں نے صفوان بن سُلَیم سے، صفوان نے عطاء بن یسار سے، عطاء نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
اور عبداللہ بن محمد (مسندی) نے بھی ہمیں بتایا کہ عبدالرزاق نے ہم سے بیان کیا۔ معمر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہمام سے، ہمام نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: عیسیٰ بن مریم نے ایک شخص کو چوری کرتے دیکھا۔ انہوں نے اس سے پوچھا: کیا تم چوری کرتے ہو؟ اس نے کہا: ہرگز نہیں؛ اسی ذات کی قسم ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ عیسیٰ یہ سن کر بولے: میں اللہ پر ایمان لایا اور اپنی آنکھ کو جھوٹا قرار دیتا ہوں۔
حمیدی نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: میں نے زہری سے سنا۔ وہ کہتے تھے: عبیداللہ بن عبداللہ نے مجھے بتایا۔ حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ منبر پر کھڑے کہہ رہے تھے: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: میری تعریف میں مبالغہ نہ کرو۔ جیسے نصاریٰ نے ابن مریم کی تعریف میں مبالغہ کیا۔ میں تو صرف اللہ کا بندہ ہوں اور تم یہی کہو: اس کا بندہ اور اس کا رسول ہے۔
محمد بن مقاتل نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ٭ (بن مبارک) نے ہمیں خبردی۔ صالح بن حي نے ہمیں بتایا کہ اہل خراسان میں سے ایک شخص نے شعبی سے پوچھا تو شعبی نے کہا: ابوبردہ نے مجھے بتایا۔ انہوں نے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص اپنی لونڈی کو اَدب سکھائے اور عمدہ ادب سکھائے اور اس کو تعلیم دے اور عمدہ تعلیم دے اور پھر اس کے بعد اس کو آزاد کردے اور اس سے نکاح کرلے، اس کو دو ثواب ہوں گے۔ اور اگر عیسیٰ کو مانا ہے اور پھر مجھے مانا ہے تو اس کو بھی دو ثواب ہوں گے۔ اور جو غلام اپنے ربّ کی ناراضگی سے بچے اور مالکوں کی اطاعت کرے تو اس کو بھی دو ثواب ہوں گے۔
محمد بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے مغیرہ بن نعمان سے، مغیرہ نے سعید بن جبیر سے، سعید نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں ننگے پائوں، ننگے بدن، بے ختنہ اُٹھایا جائے گا۔ یہ کہہ کر آپؐ نے یہ آیت پڑھی: جس طرح ہم نے پہلے پہل پیدا کیا اسی طرح دوبارہ پیدا کریں گے۔ ہمارے ذمہ یہ ایک وعدہ ہے ہم ضرور پورا کریں گے۔ (پھر فرمایا:) سب سے پہلے جسے پہنایا جائے گا، ابراہیم ہوں گے۔ پھر (جب سب پہنائے جائیں گے تو) ایسا ہوگا کہ میرے صحابہ میں سے بعض لوگوں کو دائیں طرف لے جایا جائے گا اور بعض کو بائیں طرف۔ میں کہوں گا یہ میرے ساتھی ہیں۔ تو کہا جائے گا: آپؐ جب سے ان سے جدا ہوئے وہ اپنی ایڑیوں کے بل پھرے رہے ۔ تو میں ویسے ہی کہوں گا جیسے اس نیک بندے یعنی عیسیٰ بن مریم نے کہا تھا: میں اپنی قوم پر نگران رہا جب تک میں ان کے درمیان رہا۔ جب تو نے مجھے وفات دے دی تو تُو ہی ان کا نگہبان تھااور تو ہی ہر ایک چیز کا نگران ہے۔ اگر تو انہیں سزا دے تو وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو ان کی پردہ پوشی فرمائے تو تُو بڑی عزت والا اور بڑی حکمتوں والا ہے۔ محمد بن یوسف فربری نے کہا: ابوعبداللہ (امام بخاریؒ) سے بیان کیا گیا ہے کہ انہوں نے قبیصہ سے نقل کیا اور انہوں نے کہا: یہ وہی مرتد ہیں جو حضرت ابوبکرؓ کے زمانہ خلافت میں مرتد ہوئے تھے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے جنگ کی تھی۔
(تشریح)ہم سے اسحاق (بن راہویہ) نے بیان کیا کہ یعقوب بن ابراہیم نے ہمیں خبردی کہ میرے باپ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے صالح (بن کیسان) سے، صالح نے ابن شہاب سے روایت کی کہ سعید بن مسیب نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے قریب ہے کہ ابن مریم تم میں نازل ہوں، عادل حَکَم ہوکر وہ صلیب کو توڑیں گے اور خنزیر کو مار ڈالیں گے اور جنگ موقوف کریں گے اور مال اس بہتات سے ہوگا کہ کوئی اس کو قبول نہ کرے گا اور حالت یہ ہوگی کہ ایک سجدہ دنیا و مافیہا سے بہتر ہوگا۔ یہ حدیث بیان کرکے حضرت ابوہریرہؓ کہتے تھے: اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو: اہل کتاب میں سے ایک بھی نہیں جو اس (واقعہ) پر اپنی موت سے پہلے ایمان نہ لاتا رہے اور وہ قیامت کے دن ان پر گواہ ہو گا۔
(یحيٰ) بن بُکَیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یونس سے، یونس نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے ابو قتادہ انصاری کے آزاد کردہ غلام نافع سے روایت کی کہ حضرت ابوہریرہؓ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کیسے ہوگے جب ابن مریم تم میں نازل ہوں گے اور تم ہی میں سے امام ہوں گے۔ یونس کی طرح عُقَیل اور اَوزاعی نے بھی اس کو روایت کیا۔
(تشریح)