بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 163 hadith
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ ابوعوانہ نے ہمیں بتایا۔ عبدالملک (بن عمیر) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے ربعی بن حراش سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: حضرت عقبہ بن عمرو (ابو مسعود انصاریؓ) نے حضرت حذیفہؓ سے کہا: کیا آپؓ ہمیں وہ باتیں نہیں بتائیں گے جو آپؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہیں۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپؐ فرماتے تھے: دجال جب نکلے گا تو اس کے ساتھ پانی اور آگ ہوں گے مگر جس کو لوگ دیکھ رہے ہوں گے کہ وہ آگ ہے، وہ ٹھنڈا پانی ہوگا اور جس چیز کو لوگ دیکھ رہے ہوں گے کہ وہ ٹھنڈا پانی ہے، وہ آگ ہوگی جو جلادے گی۔ اس لئے تم میں سے جو( اس کا زمانہ) پائے تو وہ جو آگ دیکھ رہا ہے اس میں چلا جائے تو وہ میٹھا ٹھنڈا پانی ہوگا۔
حضرت حذیفہؓ نے کہا: میں نے آپؐ کو یہ فرماتے سنا کہ تم سے پہلے جو لوگ ہوئے ہیں ان میں ایک شخص تھا۔ فرشتہ اس کی روح قبض کرنے کو آیا اور اس سے پوچھا گیا: کیا تم نے کوئی نیکی بھی کی ہے؟ اس نے کہا: میں کچھ نہیں جانتا۔ اسے کہا گیا: دوبارہ غور کرو۔ اس نے کہا: میں اس کے سوا کچھ نہیں جانتا کہ میں دنیا میں لوگوں سے خریدوفروخت کا معاملہ کرتا تھا اور ان سے تقاضا کرتا تھا تو جو خوشحال ہوتا اس کو مہلت دیتا اور تنگ دست سے درگزر کیا کرتا تھا۔ چنانچہ اللہ نے اسے جنت میں داخل کردیا۔
عمران بن میسرہ نے ہمیں بتایا۔ عبدالوارث نے ہم سے بیان کیا کہ خالد (حذائ) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے ابوقلابہ سے، ابوقلابہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: لوگوں نے آگ اور ناقوس (یعنی گھنٹے) کاذکر کیا اور یہود و نصاریٰ کا بھی ذکر کیا (کہ وہ ان کو بجاتے ہیں) آخر حضرت بلالؓ کو حکم دیا گیا کہ اذان کے الفاظ دو دو بار کہیں اور اقامت کے ایک بار۔
بشر بن محمد نے مجھ سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں خبردی۔ معمر اور یونس نے مجھے بتایا کہ زہری سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: عبیداللہ بن عبداللہ نے مجھے بتایا کہ حضرت عائشہ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہم دونوں نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیماری کی تکلیف بڑھ گئی تو آپؐ اپنے منہ پر چادر ڈالتے اور جب تنفس کی تنگی کی وجہ سے گھبراہٹ محسوس کرتے تو اپنے منہ سے ہٹا دیتے۔ اسی حالت کرب میں آپؐ نے فرمایا: یہود اور نصاریٰ پر اللہ کی لعنت ہو۔ انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو مسجدیں بنا لیا ہے۔ آپؐ اپنی امت کو ہوشیار کرتے تھے، اس فعل سے جو انہوں نے کیا (مبادا وہ بھی ایسا کرنے لگیں۔)
بشر بن محمد نے مجھ سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں خبردی۔ معمر اور یونس نے مجھے بتایا کہ زہری سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: عبیداللہ بن عبداللہ نے مجھے بتایا کہ حضرت عائشہ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہم دونوں نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیماری کی تکلیف بڑھ گئی تو آپؐ اپنے منہ پر چادر ڈالتے اور جب تنفس کی تنگی کی وجہ سے گھبراہٹ محسوس کرتے تو اپنے منہ سے ہٹا دیتے۔ اسی حالت کرب میں آپؐ نے فرمایا: یہود اور نصاریٰ پر اللہ کی لعنت ہو۔ انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو مسجدیں بنا لیا ہے۔ آپؐ اپنی امت کو ہوشیار کرتے تھے، اس فعل سے جو انہوں نے کیا (مبادا وہ بھی ایسا کرنے لگیں۔)
محمد بن بشار نے مجھے بتایا۔ محمد بن جعفر نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے فرات قزاز سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے ابوحازم سے سنا۔ انہوں نے کہا: میں حضرت ابوہریرہؓ کے ساتھ پانچ سال بیٹھتا رہا اور میں نے ان سے سنا وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ روایت بیان کرتے تھے۔ آپؐ نے فرمایا: بنی اسرائیل کی نگرانی نبی کیا کرتے تھے۔ جب کوئی نبی فوت ہوجاتا تو ایک اور نبی اس کا جانشین ہوتا اور دیکھو میرے بعد کوئی نبی نہیں مگر خلفاء ضرور ہوں گے اور بہت ہوں گے۔ صحابہؓ نے پوچھا: پھر آپؐ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ فرمایا: جو پہلے ہو اس کی بیعت پہلے پوری کرو۔ پھر اس کے بعد جو ہو، اُن کا حق انہیں دو۔ کیونکہ اللہ بھی ان سے ضرور پوچھے گا اس(رعیت) کے بارے میں جس کی نگرانی اس نے ان کے سپرد کی۔
سعید بن ابی مریم نے ہمیں بتایا کہ ابوغسان نے ہم سے بیان کیا، کہا: زید بن اسلم نے مجھے بتایا۔ انہوں نے عطاء بن یسار سے، عطاء نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم بھی ضرور انہی لوگوں کے قدم بقدم چلوگے جو تم سے پہلے ہوئے۔ بالشت کے بدلے بالشت اور ہاتھ کے بدلے ہاتھ۔ یہاں تک کہ اگر وہ گوہ کے سوراخ میں گھسے تو تم بھی اس میں گھسو گے۔ ہم نے پوچھا: یا رسول اللہ ! یہود اور نصاریٰ کے؟ فرمایا: اور پھر کس کے؟
محمد بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے ابوالضحیٰ سے، ابوالضحیٰ نے مسروق سے، مسروق نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ وہ ناپسند کرتی تھیں کہ کوئی نمازی(نماز میں) اپنے پہلو پر ہاتھ رکھے؛ اور کہتی تھیں کہ یہود ایسا کرتے تھے۔ سفیان کی طرح شعبہ نے بتایا کہ اعمش سے بھی یہی روایت ہے۔
قُتَیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، حضرت ابن عمرؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: تمہارا زمانہ ان امتوں کے زمانے کے مقابل میں جو تم سے پہلے گزر چکی ہیں صرف اتنا ہی ہے جتنا کہ عصر کی نماز اور سورج کے غروب ہونے کے درمیان ہوتا ہے اورتمہاری اور یہود و نصاریٰ کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے کچھ مزدور کام پر لگائے اور اس نے کہا: کون میرے لئے آدھے دن تک ایک ایک قیراط کی مزدوری پر کام کرے گا؟ یہ سن کر یہود نے ایک ایک قیراط پر آدھے دن تک کام کیا۔ پھر اس نے کہا: کون میرے لئے دوپہر سے عصر کی نماز تک ایک ایک قیراط پر کام کرے گا۔ یہ سن کر نصاریٰ نے دوپہر سے عصر کی نماز تک ایک ایک قیراط پر کام کیا۔ پھر اس نے کہا: کون میرے لئے عصرکی نماز سے سورج کے غروب ہونے تک دو دو قیراط پر کام کرے گا۔ سنو! ہوشیار رہو کہ تم وہ لوگ ہو جو عصر کی نماز سے سورج کے غروب ہونے تک دو دو قیراط پر کام کررہے ہو۔ اچھی طرح سن لو۔ تمہارے لئے دوگنا اجر ہے جس سے یہود و نصاریٰ ناراض ہوگئے اور کہنے لگے: ہم نے کام زیادہ کیا اور دیا گیا تھوڑا۔ اللہ نے کہا: کیا میں نے تمہارے حق سے کچھ کم دیا ہے۔ انہوں نے کہا: نہیں۔ اللہ نے فرمایا: پھر یہ میرا انعام ہے ، جسے چاہتا ہوں دیتا ہوں۔