بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 163 hadith
علی بن عبداللہ (مدینی) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عُیَینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو (بن دینار) سے، عمرو نے طائوس سے، طائوس نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت عمررضی اللہ عنہ سے سنا۔ کہتے تھے: اللہ فلاں شخص کو ہلاک کرے۔ کیا وہ نہیں جانتا تھا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: اللہ نے یہودیوں پر لعنت کی کہ ان پر چربیاں حرام کی گئی تھیں تو انہوں نے ان کو پگھلایا اور ان کو بیچا۔ حضرت عمرؓ کی طرح حضرت جابرؓ اور حضرت ابوہریرہؓ نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی روایت بیان کی۔
محمد (بن معمر) نے ہمیں بتایا۔ حجاج (بن منہال) نے ہم سے بیان کیا کہ جریر (بن حازم) نے ہمیں بتایا کہ حسن سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت جندب بن عبداللہؓ نے اسی مسجد میں ہمیں بتایا اور جب سے انہوں نے بتایا ہم نہیں بھولے اور ہم اس بات سے بھی نہیں ڈرتے کہ حضرت جندبؓ ایسے ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق جھوٹ بولیں۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سے جو پہلے تھے ان میں ایک شخص تھا جسے کوئی زخم تھا اور وہ گھبرا گیا۔ اس نے ایک چھری لی اور اپنا ہاتھ کاٹ ڈالا جس سے خون بہتا رہا یہاں تک کہ وہ مرگیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میرا بندہ اپنی جان کے لئے مجھ سے پہلے لپکا ہے۔ میں نے اس پر جنت حرام کردی۔
احمدبن اسحاق (سرماری) نے ہم سے بیان کیا کہ عمرو بن عاصم نے ہمیں بتایا۔ ہمام نے ہم سے بیان کیا، کہا: اسحاق بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا۔ عبدالرحمن بن ابی عمرہ نے مجھے بتایا کہ حضرت ابوہریرہؓ نے ان سے بیان کیا کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ (دوسری سند) اور محمد (بن یحيٰذہلی) نے مجھ سے بیان کیا کہ عبداللہ بن رجاء نے ہمیں بتایا کہ ہمام نے ہمیں بتایا کہ اسحاق بن عبداللہ (بن ابی طلحہ) سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: عبد الرحمن بن ابی عمرہ نے مجھے بتایا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا اور انہوں نے رسول اللہﷺ سے سنا۔ آپ فرماتے تھے کہ بنی اسرائیل میں تین شخص تھے، ایک کوڑھی اور ایک گنجا اور ایک اندھا۔ اللہ نے ان کو آزمانا چاہا۔ ان کی طرف ایک فرشتہ بھیجا جو کوڑھی کے پاس آیا اور پوچھا: تجھے کونسی شئے زیادہ پیاری ہے؟ اس نے کہا: اچھا رنگ اور اچھا جسم۔ لوگ مجھ سے بہت کراہت کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: فرشتے نے اس پر اپنا ہاتھ پھیرا اور وہ کوڑھ اس سے جاتا رہا اور اسے اچھا رنگ اور اچھا جسم دیا گیا۔ پھر فرشتہ نے پوچھا: تمہیں کونسا مال زیادہ پیارا ہے؟ اس نے کہا اونٹ یا کہا گائے بیل۔ اسحاق (راوی) نے اس کے متعلق شک کیا کہ کوڑھی اور گنجے ان دونوں میں سے ایک نے اونٹ کہے اور دوسرے نے گائے بیل۔ چنانچہ اسے دس مہینے کی گابھن اونٹنی دی گئی اور کہا: تیرے لئے اس میں برکت دی جائے گی اور وہ گنجے کے پاس آیا۔ اس نے پوچھا: تجھے کونسی چیز زیادہ پیاری ہے؟ اس نے کہا: اچھے بال اور یہ گنج پن مجھ سے جاتا رہے۔ لوگ مجھ سے بہت ہی نفرت کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: فرشتہ نے اس پر ہاتھ پھیرا اور گنج پن جاتا رہا اور اسے اچھے بال دئیے گئے۔ فرشتہ نے کہا: تجھے کونسا مال زیادہ پیارا ہے؟ کہا: گائے بیل۔ فرشتہ نے اسے ایک گابھن گائے دی اور کہا: تجھے اس میں برکت دی جائے گی اور اندھے کے پاس آیا اور اس سے پوچھا: تجھے کونسی چیز زیادہ پیاری ہے؟ اس نے کہا: اللہ میری بینائی مجھے واپس دیدے۔ جس سے میں لوگوں کو دیکھوں۔ آپ نے فرمایا: فرشتہ نے اس پر ہاتھ پھیرا اور اللہ نے اس کی بینائی اس کو پھر دے دی۔ فرشتہ نے پوچھا: کونسا مال تجھے زیادہ پیارا ہے؟ اس نے کہا: بکریاں۔ اس نے اس کو ایک جننے والی بکری دی۔ چنانچہ ان دونوں نے بچے دئیے اور اس نے بھی بچے دئیے۔ چنانچہ کوڑھی کے پاس اونٹوں کا اور گائے والے کے پاس گائے بیلوں کا گلہ اور اندھے کے پاس بکریوں کے دَل کے دَل ہوگئے۔ پھر وہ فرشتہ کوڑھی کے پاس ہوبہو اسی صورت شکل میں آیا اور کہنے لگا: ایک مسکین آدمی ہوں میرے سفر میں سارے وسیلے کٹ گئے ہیں، اس لئے سوائے اللہ کے اور پھر تمہارے بن آج میں اپنے ٹھکانے نہیں پہنچ سکتا۔ میں تم کو اسی ذات کا واسطہ دیتے ہوئے جس نے کہ تم کو یہ اچھا رنگ دیا اور یہ اچھا بدن دیا اور یہ اونٹ دئیے تم سے ایک اونٹ مانگتا ہوں تا کہ میں اپنے سفر میںاس پر۱؎ سوار ہو کر اپنے ٹھکانے پہنچوں۔ اس نے جواب دیا: حق بہت سے ہیں (جنہیں میں نے ادا کرنا ہے۔) وہ فرشتہ اسے کہنے لگا: ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میں تمہیں پہچانتا ہوں۔ کیا تو کوڑھی نہ تھا؟ لوگ تجھ سے کراہت کرتے تھے، محتاج تھا۔ اللہ نے تجھے دیا۔ اس نے کہا: میں تو خود بڑا ہوں اور بڑوں سے وراثت ملتی چلی آئی ہے۔ فرشتہ نے کہا: تم جھوٹے ہو۔ اللہ تمہیں اسی حالت میں لوٹا دے جس میں تم تھے اور وہ گنجے کے پاس اسی کی شکل و صورت میں آیا اور اس کو بھی ویسا ہی کہا }۲؎جیسا اس کوڑھی سے کہا تھا{ اس نے بھی اس کو وہی جواب دیا جو اس کوڑھی نے اس کو دیا تھا۔ فرشتہ نے کہا: تم جھوٹے ہو۔ اللہ تمہیں اسی حالت میں لوٹا دے جس میں تم تھے پھر وہ اندھے کے پاس اسی صورت شکل میں آیا اور کہنے لگا: میں ایک مسکین شخص ہوں، مسافر ہوں۔ سفر میں میرے سارے وسیلے کٹ گئے ہیں۔ آج سوائے اللہ کے اور تمہارے بغیر ٹھکانے پہنچنے کی کوئی صورت نہیں۔ میں اسی کے وسیلے سے جس نے تمہاری بینائی تم کو واپس دی ایک بکری مانگتا ہوں تاکہ میں اپنے سفر میں اس سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے اپنے ٹھکانے پہنچ جائوں۔ اس نے کہا: ہاں میں اندھا تھا اور اللہ نے میری بینائی لوٹا دی اور محتاج تھا اور اس نے مجھے مالدار کردیا، اس لیے جو تم چاہو لے لو؛ اللہ کی قسم! میں تم سے آج کسی بات میں تنگی نہیں کرنے کا۔ جو تو لے لے، اللہ کے لئے لے گا۔ فرشتہ نے یہ سن کر کہا: تم اپنا مال اپنے پاس ہی رکھو کیونکہ تم کو توصرف آزمایا گیا ہے۔ اللہ تم سے خوش ہوگیا ہے اور تمہارے دونوں ساتھیوں پرناراض۔
(تشریح)اسماعیل بن خلیل نے ہم سے بیان کیا کہ علی بن مسہر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبیداللہ بن عمر سے، عبیداللہ نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: ایک دفعہ تین شخص ان لوگوں میں سے جو تم سے پہلے تھے، }٭جارہے تھے کہ اتنے میں{ ان پر بارش ہونے لگی اور انہوں نے ایک غار میں پناہ لی۔ پھر وہ غار ان پر بند ہو گئی تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: اللہ کی قسم! تمہیں صرف اخلاص ہی نجات دے سکتا ہے ۔ اس لئے تم میں سے ہر ایک شخص نے جو اخلاص سے کام کیا ہے اس کے توسل سے دعا کرے تو ان میں سے ایک نے یوں دعا کی: اے میرے اللہ! تو جانتا ہے کہ میرا ایک مزدور تھا جس نے میرے لئے ایک فرق٭ چاولوں کی اجرت پر کام کیا۔ پھر وہ چلا گیا اور چاول چھوڑ دئیے، نہ لئے۔ پھر میں نے وہ ایک فرق چاول لئے اور انہیں بو دیا۔ پھر اس کی پیداوار اتنی ہوئی کہ میں نے اس میں سے گائے بیل خرید لئے۔ پھر یوں ہوا کہ وہ میرے پاس اپنی مزدوری مانگنے آیا۔ میں نے اسے کہا کہ ان گائے بیل کی طرف جائو اور ان کو ہانک کرلے جائو۔ یہ سن کر اس نے مجھ سے کہا: میرے تو تمہارے پاس صرف ایک فرق چاول تھے۔ میں نے اس سے کہا کہ ان کی طرف جائو کیونکہ یہ ایک فرق چاول سے خرید کردہ ہیں۔ چنانچہ وہ ان کو ہانک کر لے گیا۔ ( اے اللہ!) اگر تو جانتا ہے کہ میں نے یہ کام تیرے خوف سے کیا تھا تو ہم سے یہ مشکل دور کر۔ اس پر وہ پتھر ان سے پھٹ کر ہٹ گیا اور دوسرے نے یوں دعا کی: اے میرے اللہ! تیرے علم میں ہے کہ میرے بہت ہی بوڑھے ماں باپ تھے اور میں ہر رات ان کے لئے اپنی بکریوں کا دودھ لایا کرتا تھا۔ ایک رات مجھے ان کے پاس آنے میں دیر ہوگئی اور میں ایسے وقت میں ان کے پاس آیا کہ وہ دونوں سوگئے تھے اور میرے بچے اور بیوی بھوک سے چلا رہے تھے۔ میرا طریق تھا کہ جب تک میرے والدین دودھ نہ پی لیتے، میں ان (بچوں)کوپلایا نہیں کرتا تھا۔ میں نے ناپسند کیا کہ ان دونوں کوجگائوں اور یہ بھی ناپسند کیا کہ انہیں چھوڑ دوں اور وہ اپنی جھونپڑی ہی میں پڑے دودھ پینے کا انتظار کرتے رہیں۔ اس لئے میں انتظار کرتا رہا یہاں تک کہ صبح ہو گئی۔ پس اے اللہ ! اگر تو جانتا ہے کہ میں نے یہ کام تیرے خوف سے کیا تھا تو یہ مصیبت ہم سے دور کر۔ اس پر وہ پتھر ان کے اوپر سے اتنا ہٹ گیا کہ انہوں نے آسمان کو دیکھ لیا۔ پھر تیسرے نے یوں دعا کی: یااللہ! تیرے علم میں ہے کہ میرے چچا کی ایک بیٹی تھی جو تمام لوگوں میں سے مجھے نہایت ہی پیاری تھی اور یہ کہ میں نے اسے بدی کی ترغیب دی۔ اس نے نہ مانا مگر اس شرط پر کہ میں اسے ایک سو اَشرفیاں لادوں ۔ میں نے ان کی جستجو کی یہاں تک کہ ان کو حاصل کر لیا۔ پھر میں اس کے پاس لے آیا اور اس کے حوالے کر دیں۔ اس پر اس نے مجھے اپنے پاس آنے دیا۔ جب میں اس کی دونوں ٹانگوں کے درمیان بیٹھا تو اس نے کہا: اللہ کی ناراضگی سے بچ اور اس مہر کو جائز طریق کے سوا مت توڑ۔ یہ سنتے ہی میں کھڑا ہو گیا اور میں نے ایک سو دینار بھی اس کے پاس چھوڑدئیے ۔ اے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ میں نے یہ کام تیرے خوف کی وجہ سے کیا تھا تو تو یہ مصیبت ہم سے دور کر۔ چنانچہ اللہ نے ان سے مصیبت دور کردی اور وہ تینوں نکل آئے۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا کہ ابوالزناد نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے عبدالرحمن سے روایت کی۔ عبد الرحمن نے ان کو بتایا کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا۔ حضرت ابوہریرہؓ نے رسول اللہﷺ سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: ایک بار ایک عورت اپنے بیٹے کو دودھ پلا رہی تھی۔ اتنے میں ایک سوار اس کے سامنے سے گذرا اور وہ اس کو دودھ پلا رہی تھے۔ وہ بولی: اے اللہ! میرے بیٹے کو نہ ماریو جب تک کہ اس جیسا نہ ہوجائے۔ (یہ سن کر) وہ بچہ بولا: اے اللہ! مجھے اس جیسا نہ بنائیو۔ پھر وہ پستان سے دودھ پینے لگ گیا۔ پھر ایک عورت کو لے کر گذرے جسے گھسیٹ رہے تھے۔ اس سے ہنسی مخول کر رہے تھے۔ وہ کہنے لگی: اے اللہ! میرے بیٹے کو اس عورت جیسا نہ بنائیو۔ وہ بولا: اے اللہ! مجھے اس جیسا بنا۔ وہ بچہ کہنے لگا: وہ جو سوار ہے وہ تو کافر ہے اور یہ جو عورت ہے اس کو کہہ رہے ہیں کہ تو زنا کرتی ہے اور وہ کہتی ہے کہ اللہ ہی مجھے جانتا ہے کہ میں پاک دامن ہوں۔ اسی طرح لوگ کہتے ہیں کہ تو چوری کرتی ہے ۔ وہ کہتی ہے کہ اللہ ہی مجھے جانتا ہے کہ میں نے ایسا فعل کبھی نہیں کیا۔
سعید بن تلید نے ہم سے بیان کیا کہ (عبداللہ) بن وہب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: جریر بن حازم نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ایوب سے، ایوب نے محمد بن سیرین سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے فرمایا: ایک بار ایک کتا ایک کنوئیں پر گھوم رہا تھا۔ قریب تھا کہ پیاس اس کو مار ڈالے۔ اتنے میں بنی اسرائیل کی کنچنیوں میں سے ایک کنچنی نے اسے دیکھ لیا۔ اس نے اپنا موزہ اتار ا اور اس کتے کو پانی پلایا۔ اس سبب سے اس کو بخش دیا گیا۔
عبداللہ بن مسلمہ (قعنبی) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے حُمَید بن عبدالرحمن سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت معاویہ بن ابی سفیانؓ سے جس سال انہوں نے حج کیا، سنا جبکہ وہ منبر پر کھڑے تھے۔ انہوں نے بالوں کا ایک پوٹلا لیا اور وہ ان کے پہریدار کے ہاتھ میں تھا اور کہنے لگے: اے اہل مدینہ! تمہارے علماء کہاں ہیں؟ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ ایسا کرنے سے منع کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ بنی اسرائیل اس وقت ہلاک ہوئے کہ جب ان کی عورتوں نے یہ کام شروع کیا۔