بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 87 hadith
محمد (بن سلام) نے مجھ سے بیان کیا کہ عبدہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے، حضرت عائشہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: اے محمد کی اُمت! اللہ کی قسم، اگر تم جانتے جو میں جانتا ہوں تو تم روتے بہت اور ہنستے تھوڑا۔
ابراہیم بن موسیٰ نے مجھ سے بیان کیا کہ ہشام جو کہ یوسف کے بیٹے ہیں، نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے معمر سے، معمر نے ہمام سے، ہمام نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، اگر تم جانتے ہوتے جو میں جانتا ہوں تو تم روتے بہت اور ہنستے تھوڑا۔
یحيٰ بن سلیمان نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابن وہب نے مجھے بتایا۔ حیوہ نے مجھے خبر دی، کہا: ابوعقیل زہرہ بن معبد نے مجھ سے بیان کیا کہ انہوں نے اپنے دادا عبداللہ بن ہشام سے سنا۔ انہوں نے کہا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور آپؐ حضرت عمر بن خطابؓ کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے۔ حضرت عمرؓ نے آپؐ سے کہا: یا رسول اللہ! آپؐ مجھے ہر ایک چیز سے زیادہ پیارے ہیں مگر میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ میرے نفس سے بھی بڑھ کر ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسی ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس وقت تک نہیں، جب تک کہ میں تمہیں تمہارے نفس سے بھی بڑھ کر پیارا نہ ہو جاؤں۔ تو حضرت عمرؓ نے آپؐ سے کہا: تو پھر اب یہ ایسا ہی ہو گا۔ اللہ کی قسم! آپؐ مجھے میرے نفس سے بھی بڑھ کر پیارے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمر! اب ٹھیک ہے۔
اسماعیل (بن ابی اویس) نے ہم سے بیان کیا، کہا: مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے، عبیداللہ نے حضرت ابوہریرہؓ اور حضرت زید بن خالدؓ سے روایت کی۔ ان دونوں نے ان کو بتایا کہ دو شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس اپنا جھگڑا لائے۔ ان میں سے ایک نے کہا: کتاب اللہ کے مطابق ہمارے درمیان فیصلہ فرماویں اور دوسرے نے کہا، اور وہ ان دونوں میں سے زیادہ سمجھ دار تھا، ہاں یا رسول اللہ! کتاب اللہ کے مطابق ہمارے درمیان فیصلہ فرماویں۔ مجھے اجازت دیں کہ میں بیان کروں۔آپؐ نے فرمایا: بیان کرو۔ اس نے کہا: میرا بیٹا اس شخص کے پاس نوکر تھا۔ مالک نے کہا: عسیف نوکر کو کہتے ہیں۔ اُس نے اس کی بیوی کے ساتھ زناکیا اور لوگوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے کو سنگسار کیا جائے گا تو میں نے سو بکریاں اور اپنی ایک لونڈی (اس کو) دے کر اس کو چھڑا لیا ہے۔ پھر میں نے اہل علم سے پوچھا: انہوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے کو جو سزا ہونی چاہیئے تو سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی ہے اور سنگسار تو اس کی بیوی کو کیا جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دیکھو اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں تمہارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کروں گا۔ تمہاری بکریاں اور تمہاری لونڈی جو ہیں تو یہ تمہیں واپس ملیں گی اور آپؐ نے اس کے بیٹے کو سو کوڑے لگوائے اور ایک سال کے لئے اس کو جلا وطن کر دیا اور اُنیس اسلمیؓ کو حکم دیا گیا کہ وہ دوسرے کی بیوی کے پاس جائے۔ اگر وہ اقرار کرے تو اس کو سنگسار کرے۔ چنانچہ اُس نے اعتراف کیا اور اُنیس نے اس کو سنگسار کیا۔
اسماعیل (بن ابی اویس) نے ہم سے بیان کیا، کہا: مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے، عبیداللہ نے حضرت ابوہریرہؓ اور حضرت زید بن خالدؓ سے روایت کی۔ ان دونوں نے ان کو بتایا کہ دو شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس اپنا جھگڑا لائے۔ ان میں سے ایک نے کہا: کتاب اللہ کے مطابق ہمارے درمیان فیصلہ فرماویں اور دوسرے نے کہا، اور وہ ان دونوں میں سے زیادہ سمجھ دار تھا، ہاں یا رسول اللہ! کتاب اللہ کے مطابق ہمارے درمیان فیصلہ فرماویں۔ مجھے اجازت دیں کہ میں بیان کروں۔آپؐ نے فرمایا: بیان کرو۔ اس نے کہا: میرا بیٹا اس شخص کے پاس نوکر تھا۔ مالک نے کہا: عسیف نوکر کو کہتے ہیں۔ اُس نے اس کی بیوی کے ساتھ زناکیا اور لوگوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے کو سنگسار کیا جائے گا تو میں نے سو بکریاں اور اپنی ایک لونڈی (اس کو) دے کر اس کو چھڑا لیا ہے۔ پھر میں نے اہل علم سے پوچھا: انہوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے کو جو سزا ہونی چاہیئے تو سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی ہے اور سنگسار تو اس کی بیوی کو کیا جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دیکھو اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں تمہارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کروں گا۔ تمہاری بکریاں اور تمہاری لونڈی جو ہیں تو یہ تمہیں واپس ملیں گی اور آپؐ نے اس کے بیٹے کو سو کوڑے لگوائے اور ایک سال کے لئے اس کو جلا وطن کر دیا اور اُنیس اسلمیؓ کو حکم دیا گیا کہ وہ دوسرے کی بیوی کے پاس جائے۔ اگر وہ اقرار کرے تو اس کو سنگسار کرے۔ چنانچہ اُس نے اعتراف کیا اور اُنیس نے اس کو سنگسار کیا۔
عبداللہ بن محمد (مسندی) نے مجھ سے بیان کیا کہ وہب (بن جریر) نے ہمیں بتایا۔ شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ شعبہ نے محمد بن ابی یعقوب سے، محمد نے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ سے، عبدالرحمٰن نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: بھلابتاؤ اگر اسلم اور غفار اور مزینہ اور جہینہ بہتر ہوں تمیم اور عامر بن صعصعہ اور غطفان اور اسد سے، تو یہ نامراد رہے اور گھاٹے میں پڑے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ آپؐ نے فرمایا: اُس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ وہ ان سے بہتر ہیں۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زُہری سے روایت کی، کہا: عروہ نے مجھے خبر دی۔ عروہ نے حضرت ابوحمید ساعدیؓ سے روایت کی۔ انہوں نے ان کو بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک محصل مقرر کیا اور وہ محصل جب اپنے کام سے فارغ ہوا آپؐ کے پاس آیا۔ وہ کہنے لگا: یا رسول اللہ! یہ آپؐ کے لئے ہے اور یہ مجھے ہدیہ دیا گیا ہے۔ آپؐ نے اسے فرمایا: تم پھر اپنے ماں باپ کے گھر میں کیوں نہ بیٹھے رہے اور پھر دیکھ لیتے تمہیں تحفہ دیا جاتا ہے یا نہیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شام کو نماز کے بعد کھڑے ہوئے اور تشہد پڑھا اور اللہ کی وہ کچھ تعریف کی جس کا وہ اہل ہے۔ پھر فرمایا: اما بعد، محصل کی یہ کیا حالت ہے کہ ہم اس کو مقرر کرتے ہیں اور پھر وہ ہمارے پاس آتا ہے اور کہتا ہے یہ تو تمہارا مالیہ ہے اور یہ مجھے ہدیہ دیا گیا ہے۔ وہ اپنے ماں باپ کے گھر میں کیوں نہیں بیٹھا رہتا اور پھر دیکھتا کیا اسے تحفے دئیے جاتے ہیں یا نہیں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، تم میں سے جو کوئی بھی اس (زکوٰة کے) مال میں کچھ بھی خیانت کرے گا تو ضرور ہی وہ قیامت کے دن اُس کو اپنی گردن پر اُٹھائے ہوئے لائے گا۔ اگر اونٹ ہوگا تو اس کو لائے گا وہ بڑبڑا رہا ہوگا اور اگر گائے ہوئی تو اس کو لائے گا وہ بائیں بائیں کرتی ہوگی اور اگر بکری ہوگی تو اسے لائے گا کہ وہ مَیں مَیں کر رہی ہوگی۔ دیکھو میں نے پیغام حق پہنچا دیا۔ حضرت ابوحمیدؓ نے کہا: پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنا ہاتھ اتنا اونچا اُٹھایا کہ ہم آپؐ کی بغلوں کی سفیدی دیکھ رہے تھے۔ حضرت ابوحمیدؓ نے کہا: اور میرے ساتھ زید بن ثابتؓ نے بھی یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی، تم ان سے پوچھ لو۔
عمر بن حفص نے ہم سے بیان کیا کہ میرے باپ نے ہمیں بتایا۔ اعمش نے ہم سے بیان کیا۔ اعمش نے معرور سے، معرور نے حضرت ابوذرؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں آپؐ کے پاس پہنچا اور آپؐ اس وقت کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہوئے یہ فرما رہے تھے: وہ لوگ بڑے ہی گھاٹے میں ہیں کعبہ کے ربّ کی قسم، وہ بڑے ہی گھاٹے میں ہیں کعبہ کے ربّ کی قسم۔ میں نے پوچھا: میرا کیا حال ہے؟ کیا میرے متعلق آپؐ کو کچھ معلوم ہوا ہے؟ یہ کہہ کر میں آپؐ کے پاس بیٹھ گیا اور آپؐ یہ فرما رہے تھے: مجھ سے چپ نہ رہا گیا اور جو حالت اللہ نے چاہی مجھ پر طاری ہو گئی تھی۔ میں نے پوچھا: یہ کون لوگ ہیں؟یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپؐ پر قربان۔ آپؐ نے فرمایا: وہی جو بہت مالدار ہیں مگر وہ نہیں جو اس طرح اور اس طرح اور اس طرح خرچ کریں۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ ابوالزناد نے ہم سے بیان کیا۔ ابوالزناد نے عبدالرحمٰن اعرج سے، عبدالرحمٰن نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حضرت سلیمانؑ نے کہا: آج رات میں نوّے بیویوں کے پاس جاؤں گا۔ ان میں سے ہر عورت ایک شہسوار جنے گی جو اللہ کی راہ میں جہاد کرے گا۔ ان کا رفیق ان سے کہنے لگا: انشاء اللہ کہیں مگر انہوں نے انشاء اللہ نہ کہا اور وہ ان سب عورتوں کے پاس سے ہو آئے مگر ان میں سے کوئی بھی حاملہ نہ ہوئی مگر ایک ہی عورت جو ادھورا انسان جنی۔ اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، اگر وہ انشاء اللہ کہتے تو سبھی شہسوار بن کر اللہ کی راہ میں جہاد کرتے۔
محمد (بن سلام) نے ہم سے بیان کیا کہ ابوالاحوص نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابواسحاق (سبیعی) سے، ابواسحاق نے حضرت براء بن عازبؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ریشمی کپڑا ہدیہ بھیجا گیا۔ لوگ اس کو آپس میں ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ لینے لگے اور اس کی خوبصورتی اور نرمی کو دیکھ کر تعجب کرنے لگے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس سے تعجب کرتے ہو؟ انہوں نے کہا: ہاں یا رسول اللہ۔ آپؐ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، سعد کے رومال جنت میں اس سے بھی بہتر ہوں گے۔ شعبہ اور اسرائیل نے ابواسحاق سے روایت کرتے ہوئے یوں نہیں کہا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔