بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 87 hadith
یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یونس سے، یونس نے ابن شہاب سے روایت کی۔ (انہوں نے کہا:) عروہ بن زبیر نے مجھے بتایا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ہند بنت عتبہ بن ربیعہ نے کہا: یا رسول للہ! جتنے بھی ڈیروں والے یا ڈیرہ والے سطح زمین پر ہیں اُن میں سے کسی کا بھی ذلیل ہونا مجھ کو اتنا پسند نہیں تھا جتنا آپؐ کے ڈیرے والوں کا یا ڈیرہ والوں کا۔ یحيٰ (بن بکیر) نے شک کیا (کہ ڈیرے کہا یا ڈیرہ)۔ پھر آج یہ حالت ہے کہ اب کوئی ڈیروں والے یا (کہا) ڈیرہ والے مجھے ان کا معزز ہونا اتنا پسند نہیں جتنا کہ آپؐ کے ڈیرے والوں یا (کہا) ڈیرہ والوں کا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابھی اور زیادہ تمہیں پسند ہوگا، اُس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے۔ وہ کہنے لگیں: یا رسول اللہ! ابوسفیان ایک کنجوس آدمی ہے تو کیا مجھ پر کوئی گناہ ہوگا اگر میں اس مال سے جو اس کا ہے (اپنے بچوں کو) کچھ کھلاؤں؟ آپؐ نے فرمایا: نہیں مگر دستور کے مطابق۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالعزیز بن مسلم نے ہمیں بتایا۔ عبداللہ بن دینار نے ہم سے بیان کیا، کہا: میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا۔ وہ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے باپ دادوں کی قسمیں نہ کھایا کرو۔
احمد بن عثمان نے ہم سے بیان کیا کہ شریح بن مسلمہ نے ہمیں بتایا۔ ابراہیم بن یوسف نے ہم سے بیان کیا۔ ابراہم نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے ابواسحاق سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے عمرو بن میمون سے سنا۔ انہوں نے کہا: مجھ سے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، کہا: ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک چمڑے کے یمنی خیمے سے پشت لگائے کھڑے تھے۔ تب آپؐ نے اپنے صحابہ سے فرمایا: کیا تم اس بات پر خوش ہو کہ جنتیوں میں چوتھائی تم ہو؟ انہوں نے کہا: ہاں کیوں نہیں ضرور ۔ آپؐ نے فرمایا: کیا تم اس بات پر خوش نہیں کہ جنتیوں میں تہائی تم ہو؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں ضرور۔ آپؐ نے فرمایا: اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، میں ضرور اُمید رکھتا ہوں کہ جنتیوں میں تم آدھے ہو گے۔
عبداللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن عبدالرحمٰن سے، عبدالرحمٰن نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت کی کہ ایک شخص نے کسی آدمی کو قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ پڑھتے ہوئے سنا۔ وہ اسے بار بار دُہرا رہا تھا۔ جب صبح ہوئی تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپؐ سے اس کا ذکر کیا۔ یوں معلوم ہوتا تھا کہ جیسے یہ شخص اس سورة کا پڑھنا تھوڑا سمجھتا تھا،تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، یہ سورة تو تہائی قرآن کے برابر ہے۔
عبداللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے نافع سے، نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عمر بن خطابؓ سے آملے اور وہ ایک قافلہ کے ساتھ جا رہے تھے، وہ اپنے باپ کی قسم کھا رہے تھے۔ آپؐ نے فرمایا: دیکھو! اللہ تمہیں منع فرماتا ہے کہ تم اپنے باپ دادوں کی قسمیں کھاؤ۔ جس نے قسم کھانی ہی ہو تو وہ اللہ کی قسم کھائے یا خاموش رہے۔
سعید بن عفیر نے ہم سے بیان کیا کہ (عبداللہ) بن وہب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یونس سے، یونس نے ابن شہاب سے روایت کی، کہا: سالم نے بیان کیا: حضرت ابن عمرؓ کہتے تھے: میں نے حضرت عمرؓ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اللہ تمہیں منع فرماتا ہے کہ تم اپنے باپ دادوں کی قسمیں کھاؤ۔ حضرت عمرؓ کہتے تھے: اللہ کی قسم جب سے میں نے یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا اُن (آباء) کی قسم نہیں کھائی۔ نہ خود اُن کا نام لیا اور نہ کسی دوسرے کی زبانی نقل کیا۔ مجاہد نے کہا: (یہ جو سورة احقاف میں فرمایا ہے:) اَوْ اَثٰرَةٍ مِّنْ عِلْمٍ۔ (اس کے معنی ہیں:) یا کوئی علم کی بات ہی نقل کی جائے۔ یونس کی طرح اس حدیث کو عقیل اور زبیدی اور اسحاق کلبی نے بھی زُہری سے روایت کیا۔ اور (سفیان) ابن عیینہ اور معمر نے بھی زُہری سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا کہ زُہری نے سالم سے، سالم نے حضرت ابن عمرؓ سے نقل کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرؓ کو سنا۔
قتیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالوہاب (بن عبدالمجید ثقفی) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب سے، ایوب نے ابوقلابہ اور قاسم تمیمی سے، ان دونوں نے زہدم بن حارث سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: جرم کے اس قبیلہ اور اشعریوں کے درمیان دوستی اور برادری تھی۔ ہم حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ کے پاس (بیٹھے) تھے۔ اتنے میں ان کے سامنے کھانا رکھا گیا جس میں مرغ کا گوشت تھا اور اُن کے پاس بنو تیم اللہ قبیلے کا سرخ رنگ کا ایک شخص تھا جیسے کہ وہ غلاموں میں سے تھا تو حضرت ابوموسیٰؓ نے اس کو بھی کھانے کے لئے بلایا۔ وہ کہنے لگا: میں نے اس کو کچھ کھاتے ہوئے دیکھا تو مجھے اس سے گھن آئی اور میں نے قسم کھائی کہ اسے کبھی نہیں کھاؤں گا۔ انہوں نے کہا: اُٹھو آؤ بھی، میں تمہیں اس کے متعلق کچھ بتاتا ہوں۔ میں رسول اللہﷺ کے پاس کچھ اشعری لوگوں سمیت آیا کہ ہم آپؐ سے سواری مانگیں۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ کی قسم میں تمہیں کوئی سواری نہیں دوں گا اور میرے پاس ہے بھی نہیں جس پر میں تمہیں سوار کروں۔ پھر رسول اللہﷺکے پاس غنیمت کے کچھ اونٹ لائے گئے اور آپؐ نے ہمارے متعلق دریافت فرمایا۔ پوچھا: وہ اشعری لوگ کہاں ہیں؟ اور ہمیں پانچ اونٹ جو سفید کہانوں والے تھے دینے کا حکم فرمایا۔ جب ہم چلے ہم نے کہا: ہم نے کیا کِیا؟ رسول اللہ ﷺ نے قسم کھائی تھی کہ آپؐ ہمیں کوئی سواری نہیں دیں گے اور آپؐ کے پاس کوئی سواری نہیں کہ جس پر ہمیں سوار کریں، پھر ہمیں سواری بھی دے دی۔ ہم نے رسول اللہ ﷺ کو آپؐ کی قسم کے متعلق لاعلمی میں رکھ کر ناجائز فائدہ اُٹھایا۔ اللہ کی قسم ہم کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ (یہ خیال کر کے) ہم آپؐ کے پاس واپس گئے اور کہا: ہم اس لئے آئے تھے کہ ہم آپؐ سے سواری مانگیں۔ آپؐ نے قسم کھائی کہ آپؐ ہمیں سواری نہیں دیں گے اور نہ ہی آپؐ کے پاس کوئی ہے جس پر آپؐ ہمیں سوار کریں۔ آپؐ نے فرمایا: میں نے تو تمہیں سواری نہیں دی بلکہ اللہ نے تمہیں سواری دی۔ اللہ کی قسم میں جو ایسی قسم کھاؤں کہ پھر اس کے علاوہ کسی اور کو بہتر سمجھوں تو ضرور ہی وہی کروں جو اس سے بہتر ہے اور اس کو توڑ کر اس کا کفارہ دے دوں۔
(تشریح)عبداللہ بن محمد نے مجھ سے بیان کیا کہ ہشام بن یوسف نے ہمیں بتایا۔ معمر نے ہمیں خبر دی۔ معمر نے زُہری سے، زہری نے حمید بن عبدالرحمٰن سے، حمید نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: جس نے قسم کھائی اور اپنی قسم میں لات اور عزیٰ کا نام لیا تو وہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ کا اقرار کرے اور جس نے اپنے ساتھی سے کہا: آؤ میں تم سے جوا کھیلتا ہوں تو وہ صدقہ دے۔
(تشریح)