بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 108 hadith
حسن بن ربیع نے ہم سے بیان کیا کہ ابوالاحوص نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عاصم (بن سلیمان) سے، عاصم نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دستہ فوج بھیجا جنہیں قراء کہا کرتے تھے اور وہ سارے کے سارے شہید ہوگئے۔ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی بات پر بھی کبھی اتنا غمگین ہوتے ہوئے نہیں دیکھا جو غم آپؐ نے ان کے متعلق محسوس کیا اور آپؐ صبح کی نماز میں کھڑے ہو کر ایک مہینہ تک دعا کرتے رہے: عُصیہ نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔
عبداللہ بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام نے ہمیں بتایا۔ معمر نے ہمیں خبر دی۔ معمر نے زُہری سے، زہری نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ وہ بیان کرتی تھیں کہ یہود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کہتے تو یوں کہتے: السَّامُ عَلَيْكُمْ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اُن کی بات سمجھ گئیں اور انہوں نے یوں جواب دیا: عَلَيْكُمُ السَّامُ وَاللَّعْنَةُ۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! ٹھہرو، اللہ تعالیٰ ہر کام میں نرمی پسند کرتا ہے۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! کیا آپؐ نے نہیں سنا جو وہ کہتے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا: کیا تم نے نہیں سنا کہ میں اُن کو وہی جواب دیتا ہوں، میں کہتا ہوں وَعَلَيْكُمْ۔
محمد بن مثنیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ (محمد بن عبداللہ) انصاری نے ہمیں بتایا۔ ہشام بن حسان نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن سیرین نے ہمیں بتایا۔ عبیدہ نے ہم سے بیان کیا کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: ہم خندق والے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ ان کی قبروں اور ان کے گھروں کو آگ سے بھرے۔ انہوں نے ہمیں مصروف رکھا اور صلوٰۃِ وسطیٰ (درمیانی نماز) کا موقع نہیں دیا یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا، اور وہ نماز عصر تھی۔
(تشریح)علی (بن عبداللہ مدینی) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ ابو الزناد نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت طفَیل بن عمروؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: یارسول اللہ! دَوس نافرمان ہوگئے ہیں اور ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ اس لئے آپؐ اللہ سے ان کے لیے بددُعا کریں۔ لوگوں نے سمجھا کہ آپؐ اُن پر بددعا کریں گے۔ آپؐ نے دعا کی: اے اللہ! دَوس کو ہدایت دے اور ان کو لے آ۔
محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالملک بن صباح نے ہمیں بتایا۔ شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ شعبہ نے ابو اسحاق سے، ابو اسحاق نے ابن ابو موسیٰ سے، انہوں نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپؐ یہ دعا کیا کرتے تھے: اے میرے ربّ! مجھ پر پردہ پوشی فرماتے ہوئے میری خطا اور میری جہالت اور اپنے ہر معاملے میں جو کام میں نے بے جا کیا ہے اس سے درگزر فرما اور نیز اس امر کو بھی جو تو مجھ میں (خراب) جانتا ہے۔ اے میرے اللہ ! مجھ پر پردہ پوشی فرماتے ہوئے میری خطاؤں اور جو کام میں نے عمداً کیا اس کو اور جو کام میں نے لاعلمی سے کیا اور نیز میرے مذاق سے درگزر فرما اور یہ سب باتیں مجھ میں ہیں۔ اے اللہ! مجھ پر پردہ پوشی فرماتے ہوئے ان امور میں مجھ سے درگزر فرما جو پیچھے کرنے تھے اور میں نے پہلے کر لئے اور جو پہلے کرنے تھے اور میں نے پیچھے کرڈالے اور جو میں نے چھپایا ہے اور جس کا میں نے اظہار کیا ہے ان سب سے درگزر فرما۔ تو ہی آگے کرنے والا ہے اور تو ہی پیچھے کرنے والا ہے۔ تو ہر بات پر قدرت رکھتا ہے۔ اور عبیداللہ بن معاذ نے کہا کہ میرے باپ نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابواسحاق سے، ابواسحاق نے ابوبردہ بن ابی موسیٰ سے، ابوبردہ نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی روایت بیان کی۔
6399: محمد بن مثنیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ عبیداللہ بن عبدالمجید نے ہمیں بتایا۔ اسرائیل نے ہم سے بیان کیا کہ ابواسحاق نے ہمیں بتایا۔ ابواسحاق نے ابوبکر بن ابی موسیٰ اور ابوبُردہ سے روایت کی۔ میں سمجھتا ہوں انہوں نے حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ سے، حضرت ابوموسیٰؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپؐ یہ دعا کیا کرتے تھے: اے اللہ ! مجھ پر پردہ پوشی فرماتے ہوئے میری خطا سے اور میری نادانی سے اور جو زیادتی میں نے اپنے کام میں کی ہے اُس سے اور نیز اُس بات کو جو تو مجھ میں بہتر جانتا ہے، (ان سب سے) درگزر فرما۔ اے اللہ! جو غلطی میں نے مذاق سے یا سنجیدگی سے کی ہے اس کو اور نیز میرے تمام قصوروں کو جو بھول چوک سے ہوئے ہوں یا ان قصوروں کو جو میں نے جان بوجھ کر کئے ہوں اُن سب سے پردہ پوشی فرماتے ہوئے مجھ سے درگزر فرما اور یہ سب باتیں مجھ میں موجود ہیں۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ اسماعیل بن ابراہیم نے ہمیں بتایا۔ ایوب نے ہمیں خبر دی۔ ایوب نے محمد (بن سیرین) سے، محمد نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جمعہ میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ جس کو جو مسلمان بھی ایسے وقت میں پالیتا ہے کہ وہ کھڑا نماز پڑھ رہا ہو تو جو بھلائی بھی وہ مانگے گا تو ضرور ہی وہ اس کو عطا فرمائے گا اور آپؐ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا۔ ہم سمجھے کہ آپؐ کی یہ مراد ہے کہ وہ گھڑی بہت ہی تھوڑی ہے۔ یعنی ہمیں بتاتے ہیں کہ وہ تھوڑی دیر تک رہتی ہے۔
قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالوہاب (بن عبدالمجید ثقفی) نے ہمیں بتایا۔ ایوب نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے ابن ابی ملیکہ سے، ابن ابی ملیکہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ یہودی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور انہوں نے کہا: السَّامُ عَلَيْكَ۔ (آپ پر ہلاکت ہو) آپؐ نے فرمایا: وَعَلَيْكُمْ۔ حضرت عائشہؓ نے کہا: السَّامُ عَلَيْكُمْ وَلَعَنَكُمُ اللهُ وَغَضِبَ عَلَيْكُمْ۔(تم پر ہلاکت ہو اور تم پر لعنت ہو اور تم پر اللہ کا غضب ہو) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! ٹھہرو، نرمی کو اختیار کرو۔ سختی سے یا (فرمایا:) بدزبانی سے بچتی رہو۔ حضرت عائشہؓ نے کہا: کیا آپؐ نے سنا نہیں جو انہوں نے کہا؟ آپؐ نے فرمایا: کیا تم نے نہیں سنا جومیں نے کہا؟ میں نے اُن ہی کے سلام کا اُنہیں جواب دیا ہے اور میری ان کے متعلق قبول کی جائے گی اور ان کی میرے متعلق نہیں قبول کی جائے گی۔
(تشریح)عبداللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے سُمَيّ سے، سُمَيّ نے ابوصالح سے، ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے لَا اِلٰہ اِلَّا اللہُ وَحْدَہُ …… دن میں سو بار کہا۔ یعنی ’’ایک اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہی ہے، اس کے لئے سب حمد ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے‘‘ تو یہ کلمات اس کے لئے دس گردنوں کے آزاد کرنے کے برابر ثواب کا موجب ہوں گے اور اس کے لئے سو نیکیاں لکھی جائیں گی اور اس کی سو بدیاں مٹادی جائیں گی اور یہ کلمات اس کے لئے شیطان سے سارا دن شام ہونے تک بطور بچاؤ کے ہوں گے اور کوئی شخص بھی اس سے بڑھ کر عمل نہیں کرے گا جو اس نے کیا مگر وہ شخص جس نے اس سے زیادہ ان کلمات کو پڑھا۔