بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 108 hadith
سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب سے، ایوب نے ابوعثمان (نہدی) سے، ابوعثمان نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ہم ایک سفر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ جب ہم بلندی پر چڑھتے تو اللہ اکبر کہتے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! اپنے آپ کو سنبھال کر ٹھہر کر۔ کیونکہ تم کسی بہرے کو نہیں پکار رہے اور نہ ہی کسی غیر حاضر کو۔ بلکہ تم اُس ذات کو پکار رہے ہو جو بہت ہی سنتا اور بہت ہی دیکھتا ہے۔ پھر آپؐ میرے پاس آئے اور میں اپنے دل میں کہہ رہا تھا: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ۔ آپؐ نے فرمایا: عبداللہ بن قیسؓ! تم کہو لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ۔ (یعنی نہ بدی سے بچنے کی طاقت ہے نہ نیکی کرنے کی قوت مگر اللہ ہی کی مدد سے) کیونکہ وہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے یا فرمایا: کیا میں تمہیں ایسی بات کا پتہ نہ دوں جو جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے؟ وہ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ ہے۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالوارث (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبدالعزیز (بن صہیب) سے، عبدالعزیز نے حضرت انسؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ کی اکثر دعا یہ ہوا کرتی تھی کہ اے اللہ ! ہمارے ربّ ! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا کر اور آخرت میں بھی بھلائی عطا کر اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔
(تشریح)(محمد) بن سلام نے ہم سے بیان کیا کہ وکیع نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے (اسماعیل) ابن ابی خالد سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت (عبداللہ) ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہما سے سنا۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان قوموں کے مغلوب ہونے کی دعا کی جو جنگ احزاب میں شریک ہوئی تھیں۔ آپؐ نے کہا: اے اللہ! کتاب کے نازل کرنے والے، بہت جلدی حساب لینے والے، ان فوجوں کو شکست دے، ان فوجوں کو بھگا اور ان کے پاؤں اُکھیڑ دے۔
اسماعیل نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: مالک نے ہمیں بتایا۔ مالک نے نافع سے، نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ کا معمول تھا کہ جب آپؐ کسی غزوہ یا حج یا عمرہ سے لوٹتے تو زمین کی ہر بلندی پر چڑھتے وقت تین بار اللہ اکبر کہتے۔ پھر فرماتے: ایک اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اسی کی ساری بادشاہی ہے، اسی کی ساری حمد ہے اور وہ ہر ایک چیز پر کامل قدرت رکھتا ہے۔ ہم واپس آ رہے ہیں، اپنے ربّ کی طرف رجوع کررہے ہیں، اپنے ربّ کی عبادت کرنے والے ہیں، حمد کرنے والے ہیں۔ اللہ نے اپنے وعدہ کو سچا کیا اور اپنے بندے کی مدد کی اور اکیلے ہی ان تمام جتھوں کو بھگا دیا۔
(تشریح)مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ثابت سے، ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ پر زردی کا نشان دیکھا تو فرمایا: مَهْيَمْ۔ یا (فرمایا:) مہ ۔یعنی یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے ایک عورت سے گٹھلی برابر سونے پر نکاح کیا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ تمہیں مبارک کرے۔ ولیمہ کرو گو ایک بکری ہی سہی۔
ابونعمان نے ہم سے بیان کیا کہ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمر و (بن دینار) سے، عمرو نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا:میرے باپ وفات پا گئے ۔ وہ سات یا نو بیٹیاں چھوڑ گئے۔ میں نے ایک عورت سے نکاح کیا۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جابرؓ! تم نے نکاح کر لیا؟ میں نے کہا: ہاں۔ آپؐ نے فرمایا: کنواری یا بیوہ؟ میں نے کہا: بیوہ۔ آپؐ نے فرمایا: کسی نوجوان لڑکی سے کیوں نہ کیا کہ تم اُس سے کھیلتے اور وہ تم سے کھیلتی یا (فرمایا:) تم اُس سے ہنستے اور وہ تم سے ہنستی۔ میں نے کہا: میرے والد فوت ہوگئے اور وہ سات یا نو بیٹیاں چھوڑ گئے تو میں نے نا پسند کیا کہ اُن کے پاس اُن جیسی لے آؤں۔ اس لئے میں نے ایک (پختہ عمر) عورت سے شادی کی جو اُن کی نگرانی کرے۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ تمہیں برکت دے۔ ابن عیینہ اور محمد بن مسلم نے عمرو (بن دینار) سے بَارَكَ اللهُ عَلَيْكَ کے الفاظ نقل نہیں کئے۔
(تشریح)عثمان بن ابی شیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ جریر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصور سے، منصور نے سالم سے، سالم نے کریب سے، کریب نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان میں سے کوئی جب اپنی بیوی کے پاس جانے کا ارادہ کرے یہ دعا کرے: اللہ کے نام سے، اے میرے اللہ! ہمیں شیطان سے بچانااور شیطان کو اُس سے پرے رکھنا جو تو ہمیں عطا فرمائے۔ تو اگر دونوں کے تعلق سے کوئی بچہ مقدر ہوا تو شیطان اُس کو کبھی نقصان نہیں پہنچائے گا۔
(تشریح)فروہ بن ابی المغراء نے ہم سے بیان کیا کہ عبیدہ جو حُمید کے بیٹے ہیں، نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبدالملک بن عمیر سے، عبدالملک نے مصعب بن سعد بن ابی وقاص سے، انہوں نے اپنے باپ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے بتایا۔ انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ ہمیں یہ کلمات سکھایا کرتے تھے۔ اسی طرح جس طرح کہ کسی کو لکھنا سکھایا جاتا ہے۔ اے اللہ! میں بخل سے تیری پناہ مانگتاہوں اور بزدلی سے تیری پناہ لیتا ہوں اور میں تیری پناہ لیتا ہوں اس سے کہ ہمیں نکمی عمر تک پہنچایا جائے اور میں دنیا کے فتنے اور عذاب قبر سے تیری پناہ لیتا ہوں۔
(تشریح)ابراہیم بن منذر نے ہم سے بیان کیا کہ انس بن عیاض نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ہشام (بن عروہ) سے، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے، یہاں تک کہ آپؐ کو یہ خیال ہوتا کہ آپؐ نے کوئی کام کیا ہے حالانکہ آپؐ نے اسے نہ کیا ہوتا اور آپؐ نے اپنے ربّ سے دعا کی، پھر فرمانے لگے: (عائشہ!) کیا تمہیں معلوم ہوا ہے کہ اللہ نے مجھے وہ بات بتا دی جس کے متعلق میں نے اس سے پوچھا تھا۔ حضرت عائشہؓ نے کہا: یا رسول اللہ! وہ کیا ہے؟ آپؐ نے فرمایا: میرے پاس دو آدمی آئے۔ اُن میں سے ایک میرے سرہانے کے قریب بیٹھ گیا اور دوسرا میرے پاؤں کے قریب، تو اُن میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے پوچھا: اس شخص کو کیا تکلیف ہے؟ تو اُس نے کہا: (کہتے ہیں) جادو کیا گیا ہے۔ اس نے پوچھا: کس نے جادو کیا ہے؟ اس نے جواب دیا: لبید بن اعصم نے۔ اس نے پوچھا: کس میں؟ بتایا: کنگھی اور کنگھی کے بالوں میں اور نر کھجور کے خوشے کے غلاف میں۔ اس نے پوچھا: وہ کہاں ہے؟ بتایا: ذروان میں اور ذروان بنی زریق کے محلے میں کنواں ہے۔ فرماتی تھیں: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں گئے اور پھر حضرت عائشہؓ کے پاس لوٹ آئے فرمانے لگے: اللہ کی قسم! اُس کا پانی ایسا تھا کہ جیسے مہندی کا شیرہ اور وہاں کے کھجور کے درخت ایسے تھے جیسے سانپوں کے پھن۔ بیان کرتی تھیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور آپؐ نے اس کنوئیں کا حال بتایا۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! آپؐ نے اس جادو ٹونے کو نکلوایا کیوں نہ؟ آپؐ نے فرمایا: مجھے تو اللہ نے شفا دے دی ہے اورمیں نے ناپسند کیا کہ لوگوں کے برخلاف شر کو بھڑکاؤں۔ عیسیٰ بن یونس اور لیث بن سعد نے ہشام سے، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کرتے ہوئے اتنا اور بیان کیا کہ وہ بیان کرتی تھیں:نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا گیا اور آپؐ نے بہت بہت دعا کی۔ اور پھر ساری حدیث بیان کی۔
(تشریح)معاذ بن فضالہ نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام بن ابی عبداللہ (دستوائی) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یحيٰ (بن ابی کثیر) سے، یحيٰ نے ابوسلمہ (بن عبدالرحمٰن) سے، ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا جب عشاء کی نماز کی آخری رکعت میں سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ کہتے تو کھڑے ہو کر یوں دعا کرتے: اے اللہ! عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات دے، اے اللہ! ولید بن ولید کو نجات دے، اے اللہ! سلمہ بن ہشام کونجات دے (اور) اے اللہ! اُن مؤمنوں کونجات دے جنہیں کمزور سمجھا جاتا ہے، اے اللہ! مضر کو سختی سے لتاڑ، اے اللہ! ان کے سالوں کو ایسے سال کر دے جو یوسف کے سالوں کے سے ہوں۔