بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 261 hadith
قتیبہ (بن سعید) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو (بن دینار) سے روایت کی کہ( انہوں نے کہاـ:) ہم نے حضرت ابن عمررضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیا آدمی عمرہ میں صفا اور مروہ کے درمیان طواف کرنے سے پہلے اپنی بیوی سے مباشرت کرسکتا ہے؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ (مکہ میں) آئے۔ آپؐ نے بیت اللہ کا سات بار طواف کیا۔ پھر آپؐ نے مقامِ ابراہیم کے پیچھے دو رکعتیں پڑھیں اور صفا و مروہ کے درمیان طواف کیا۔پھر انہوں نے کہا: تمہارے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں عمدہ نمونہ ہے۔
عمرو بن دینار نے کہا: او ر میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے کہا: جب تک صفا و مروہ کے درمیان طواف نہ کرے، اپنی بیوی کے پاس نہ جائے۔
(تشریح)محمد بن ابی بکر نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) فضیل نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) موسیٰ بن عقبہ نے ہمیں بتایا، (کہا:) کریب نے مجھے بتایا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں آئے۔ آپؐ نے (سات بار) طواف کیا اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کی اور اپنے طواف کے بعد کعبہ کے قریب نہیں گئے۔ یہاں تک کہ آپؐ عرفات سے لوٹ آئے۔
آدم (بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) شعبہ نے ہمیں بتایا، (کہا:) عمرو بن دینار نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا:میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا۔ وہ کہتے تھے: نبی
ابراہیم بن منذر نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) ابوضمرہ نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) موسیٰ بن عقبہ نے ہمیں بتایا۔ نافع سے مروی ہے کہ حضرت عبداللہ (بن عمر) رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سورج کے نکلنے اور غروب ہونے کے وقت نماز سے منع کرتے ہوئے سنا ہے۔
حسن بن محمد (صباح) جو زعفرانی ہیں؛ نے ہم سے بیان کیا،(کہا:) عبیدہ بن حمید نے ہمیں بتایا (کہا:) عبدالعزیز بن رفیع نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو صبح کی نماز کے بعد طواف کرتے دیکھا اور دو رکعت نماز پڑھتے دیکھا۔
عبدالعزیز نے کہا: اور میں نے حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کوعصر کی نماز کے بعد دو رکعت پڑھتے دیکھا اور وہ کہتے تھے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر۱؎ میں جب بھی آتے تو آپؐ یہ دو رکعتیں ضرور پڑھتے۔
(تشریح)اسحق (بن شاہین) واسطی نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) خالد (طحان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے خالد حذاء سے، خالد نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کا طواف کیا اور آپؐ ایک اونٹ پر سوار تھے۔ جب آپؐ حجرِ اسود کے سامنے آتے تو آپؐ اس کی طرف ایک چیز سے جو آپؐکے ہاتھ میں تھی؛ اشارہ کرتے او راللہ اکبر کہتے۔
عبد اللہ بن یوسف (تنیسی) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے محمد بن عبدالرحمن سے، محمد نے عروہ سے، عروہ نے زینب (بنت ابی سلمہ) سے، زینب نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ (وہ کہتی تھیں:) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیماری کی شکایت کی۔ (امام بخاریؒ نے کہا:) اور محمد بن حرب نے مجھ سے بیان کیا۔ ابومروان یحيٰ بن ابی زکریا غسانی نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام سے، ہشام نے عروہ سے، عروہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تھے اورآ پؐ نے نکلنے کا ارادہ کیا اور حضرت ام سلمہؓ نے بیت اللہ کا طواف نہیں کیا تھا اور وہ بھی روانہ ہونا چاہتی تھیں تو آپؐ نے ان سے فرمایا: جب صبح کی نماز کے لئے تکبیر ہو تو تم اونٹ پر سوار ہوکر طواف کرلینا جبکہ لوگ نماز پڑھ رہے ہوں۔ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا اور نماز نہیں پڑھی جب تک کہ مکہ سے باہر نہیں نکلیں۔
(تشریح)حسن بن عمر بصری نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) یزید بن زُرَیع نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حبیب سے، حبیب نے عطاء سے، عطاء نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ کچھ لوگوں نے صبح کی نماز کے بعد بیت اللہ کا طواف کیا۔ پھر اس کے بعد واعظ کے پاس جا بیٹھے۔ پھر جب سورج نکلنے لگا تو اُٹھ کر نماز (دوگانہ طواف) پڑھنے لگے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ وہ بیٹھے رہے۔ یہاں تک کہ جب وہ گھڑی ہوئی جس میں نماز مکروہ ہے؛ اُٹھ کر نماز پڑھنے لگے۔