بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 40 hadith
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، کہا: محمد بن جعفر نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے کہا: زید بن اسلم نے مجھے بتلایا۔ انہوں نے عیاض بن عبداللہ سے، عیاض نے حضرت ابوسعید خدری سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ عید اضحی کی۔ یا عید فطر میں عید گاہ کی طرف گئے اور عورتوں کے پاس سے گذرے اور فرمایا: اے عورتوں کی جماعت! صدقہ دو۔ کیونکہ دوزخیوں میں تم ہی مجھے زیادہ تعداد میں دکھلائی گئی ہو تو انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! کس وجہ سے؟ فرمایا: تم لعنت زیادہ کرتی ہو۔ اور اپنے خاوندوں کی ناشکری کرتی ہو۔ میں نے ناقص عقل اور ناقص دین اشخاص میں سے تم سے زیادہ کسی کو بھی دوراندیش انسان کی عقل ضائع کرنے والا نہیں دیکھا۔ کہنے لگیں: یا رسول اللہ! ہمارے دین اور عقل میں کیا نقص ہے؟ فرمایا: کیا عورت کی شہادت مرد کی شہادت کے نصف کے برابر نہیں۔ انہوں نے کہا: ہاں۔ آپ نے فرمایا: تو یہ اس کی عقل کی کمی ہے۔ کیا یہ نہیں ہے کہ جب اُسے حیض آئے تو وہ نماز نہیں پڑھتی اور روزہ نہیں رکھتی۔ انہوں نے کہا: ہاں۔ فرمایا: یہی اس کے دین کی کمی ہے۔
(تشریح)Abū Saʿīd al-Khudrī (r.a) narrated: ‘The Messenger of Allāh (sa) set out on the day of ʿĪd al-Aḍḥá or ʿĪd al-Fiṭr to where the Prayer was taking place. He passed by the women and said: “O women! Give in charity, as I have been shown that there is an abundance of you among the people of Hell.” They asked: “Why is that, O Messenger of Allāh?” He replied: “You curse excessively and are ungrateful to your husbands. I have not seen anyone so lacking in intellect and in religion who can snatch away the judgement of a strong-willed man more than you can.” They asked: “And what is lacking in our religion and our intellect, O Messenger of Allāh?” He replied: “Is the testimony of a woman not equivalent to half the testimony of a man?” They replied: “Yes.” He said: “Then this is what is lacking in her intellect. Is it not the case that during her menstrual period, she cannot offer Prayer nor fast?” They replied: “Yes.” He said: “This is what is lacking in her religion”.’
ہم سے ابو نعیم نے بیان کیا، کہا: عبد العزیز بن ابی سلمہ نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے عبدالرحمن بن قاسم سے، عبدالرحمن نے قاسم بن محمد سے، قاسم نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ نکلے اور ہم حج کا ہی ذکر کرتے تھے۔ جب ہم سرف مقام میں آئے تو مجھے حیض آگیا۔ نبی ﷺ میرے پاس آئے اور میں رو رہی تھی۔ آپ نے فرمایا: تمہیں کیا بات ڈرا رہی ہے؟ میں نے کہا: بخدا میری تو یہ آرزو ہے کہ اس سال حج کو نہ آئی ہوتی۔ فرمایا: شاید تمہیں حیض آگیا ہے؟ میں نے کہا: ہاں۔ فرمایا: یہ تو ایک ایسی بات ہے جو اللہ تعالیٰ نے آدم کی بیٹیوں کے لئے مقدر کردی ہے۔ اس لئے جو کام حاجی کرتا ہے وہ تم کرو، سوائے اس کے کہ بیت اللہ کا طواف نہ کرنا تا وقتیکہ خون بند ہو جائے۔
(تشریح)ʿĀʾishah (r.a) narrated: ‘We set out with the Prophet (sa) with the intention solely of performing the Ḥajj. When we reached Sarif, my menstrual period had begun. The Messenger of Allāh (sa) came to me while I was crying and asked: “Why are you crying?” I replied: “I wish I were not performing the Ḥajj this year.” He said: “Perhaps your menses has begun?” I said: “Yes.” He said: “Indeed this is a matter which has been decreed by Allāh for the daughters of Adam (as). Do everything the other pilgrims do except for circumambulating the Kaʿbah, until you are clean”.’
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا: مالک نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے حضرت عائشہ سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں کہ ابو حبیش کی لڑکی حضرت فاطمہ نے رسول اللہ ﷺ سے کہا: یا رسول اللہ! میرا تو خون بند نہیں ہوتا۔ کیا میں نماز چھوڑ دوں؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ تو ایک رگ کا خون ہے، حیض نہیں۔ پس جب حیض آئے تو نماز چھوڑ دو۔ جب اس کا مقررہ وقت گزر جائے تو اپنے بدن سے خون دھو ڈالو اور نماز پڑھو۔
(تشریح)ʿĀʾishah (r.a) narrated that the daughter of Abū Ḥubaish, Fāṭimah (r.a) said to the Messenger of Allāh (sa): ‘O Messenger of Allāh! I can never be in a state of purity [due to constant bleeding], should I abandon Prayer?’ The Messenger of Allāh (sa) replied: ‘This is the [state of] bleeding from a blood vessel and not the [state of] menstruation. When the menses arrives, refrain from the Prayer, and when its time has passed, wash away the blood and pray’.’
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا: مالک نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے منذر کی بیٹی فاطمہ سے، فاطمہ نے حضرت ابو بکر کی بیٹی حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں کہ ایک عورت نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ! بتلائیں اگر ہم میں سے کسی کے کپڑے کو حیض کا خون لگ جائے تو وہ کیا کرے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر تم میں سے کسی کے کپڑے کو حیض کا خون لگ جائے تو چاہیے کہ وہ اس کو کھرچ ڈالے۔ پھر اس کو پانی سے اچھی طرح دھو ڈالے۔ اس کے بعد اس میں نماز پڑھ لے۔
The daughter of Abū Bakr (r.a), Asmāʾ (r.a) narrated: ‘A woman asked the Messenger of Allāh (sa): “O Messenger of Allāh, what should any of us do if menstrual blood has stained her clothes?” The Messenger of Allāh (sa) replied: “If someone’s clothes have been stained by menstrual blood, she should rub it off and then wash them with water. Then she may offer Prayer in it”.’
ہم سے اصبغ نے بیان کیا، کہا: ابن وہب نے مجھے بتلایا۔ انہوں نے کہا: عمرو بن حارث نے عبد الرحمان بن قاسم سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتلایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی۔ کہتی تھیں کہ ہم میں سے ایک کو حیض آتا تو وہ حیض بند ہونے پر اپنے کپڑے سے خون کھرچ دیتی اور اسے دھوتی اور پھر سب پر پانی بہا کر اس کو جھاڑتی پھر اس میں نماز پڑھتی۔
(تشریح)ʿĀʾishah (r.a) narrated: ‘Whenever one of us experienced menstruation, she would remove the blood from her clothing once she became clean, wash them and sprinkle water over the rest of it. Then, she would offer Prayer whilst wearing it.’
ہم سے اسحٰق نے بیان کیا، کہا: خالد بن عبد اللہ نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے خالد سے، خالد نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی ﷺ کے ساتھ آپ کی بیویوں میں سے کوئی اعتکاف بیٹھیں اور وہ استحاضہ سے بیمار تھیں۔ خون دیکھتیں بلکہ کبھی خون کی وجہ سے اپنے نیچے طشت رکھتیں۔ اور عکرمہ کا خیال ہے کہ عائشہ نے کئم کا پانی دیکھا تو کہا: گویا کہ یہ وہ چیز ہے اسے فلانی پایا کرتی تھیں۔
ʿIkrimah narrated that ʿĀʾishah (r.a) said that one of the Prophet’s wives observed iʿtikāf with him, while she was experiencing istiḥāḍah. She noticed the presence of blood and sometimes placed a basin underneath herself due to the blood. [ʿIkrimah] thinks that when ʿĀʾishah (r.a) saw safflower water (ʿuṣfur), she said: ‘This is similar to what so-and-so used to experience.’
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا: یزید بن زریع نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے خالد سے، خالد نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی کہ نبی ﷺ کے ساتھ آپ کی بیویوں میں سے ایک بیوی اعتکاف بیٹھیں تو وہ خون اور زردی دیکھتیں اور طشت ان کے نیچے ہوتا اور وہ نماز پڑھتیں۔
ʿĀʾishah (r.a) narrated that one of the wives of the Messenger of Allāh (sa) performed iʿtikāf with him. She noticed the presence of blood and yellow discharge. A basin was placed underneath her and she continued to offer Prayer.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا: معتمر نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے خالد سے، خالد نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت عائشہ سے روایت کی کہ ایک ام المؤمنین اعتکاف بیٹھیں اور وہ استحاضہ سے بیمار تھیں۔
(تشریح)ʿĀʾishah (r.a) narrated that one of the Mothers of the Believers performed iʿtikāf while she was experiencing istiḥāḍah.
ہم سے ابو نعیم نے بیان کیا کہا: ابراہیم بن نافع نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے ابن ابی بھیج سے۔ ابن ابی بھیج نے مجاہد سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے کہ حضرت عائشہ نے کہا: ہم میں سے کسی کے پاس ایک ہی کپڑا ہوتا جس میں اسے حیض آتا۔ اگر اسے کچھ خون لگ جاتا تو اپنا تھوک لیتیں اور اپنے ناخن سے اُسے دور کر دیتیں۔
(تشریح)Mujāhid (rh) narrated that ʿĀʾishah (r.a) said: ‘Each one of us only had one garment, and we would menstruate while wearing it. If any blood stained it, she would dampen it with her saliva and scrape it off with her nail.’
ہم سے عبد اللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا۔ کہا: حماد بن زید نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے ایوب سے، ایوب نے حفصہ سے، ابوعبداللہ (بخاری) نے کہا: یا (ایوب نے) ہشام بن حسان سے، انہوں نے حفصہ سے، حفصہ نے حضرت ام عطیہ سے، انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کی۔ کہتی تھیں ہمیں یا جاتا تھا کہ ہم میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کریں مگر خاوند پر چار مہینے اور دس دن۔ اور نہ سرمہ لگائیں اور نہ خوشبو لگائیں اور نہ رنگا ہوا کپڑا پہنیں، سوائے اس کپڑے کے کہ جو بننے سے پہلے رنگا گیا ہو۔ اور طہر کے وقت جب ہم میں سے کوئی اپنے حیض سے فارغ ہونے پر نہائے تو ہمیں تھوڑی سی قسط کی خوشبو لگانے کی اجازت دی گئی اور ہمیں جنازوں کے ساتھ جانے سے منع کیا جاتا تھا۔ (ابوعبداللہ بخاری نے) کہا کہ اس کو ہشام بن حسان نے حفصہ سے روایت کیا۔ حفصہ نے حضرت ام عطیہ سے۔ حضرت ام عطیہ نے نبی ﷺ سے۔
(تشریح)Umm ʿAṭiyyah (r.a) narrated: ‘We were forbidden to mourn over any dead person for more than three days, other than our husbands [who we would mourn for] four months and ten days; and [we were also instructed] that [during this period] we should not apply kuḥl [eyeliner], perfume or wear dyed clothes, except such clothes which were already coloured. When we bathed after menstruation and became pure, we were permitted to apply some fragrance made of costus (kust aẓfār). We were prohibited from accompanying funeral processions.’ [Abū ʿAbd Allāh al-Bukhārī (rh)] said that Hishām ibn Ḥassān related this on the authority of Ḥafṣah, who narrated it from Umm ʿAṭiyyah (r.a). She reported it from the Prophet (sa).