بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 77 hadith
علی بن جعد نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے سیار (بن وردان) سے، سیار نے ثابت بنانی سے، ثابت نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ وہ کچھ بچوں کے پاس سے گزرے ۔ انہوں نے ان کو السلام علیکم کہا اور کہنے لگے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کیا کرتے تھے۔
ابوالولید ہشام بن عبدالملک نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے محمد بن منکدر سے روایت کی۔ محمد نے کہا: میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے سنا۔ وہ کہتے تھے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک قرضے کے متعلق آیا جو میرے باپ کے ذمہ تھا۔ میں نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ آپؐ نے فرمایا: کون ہے؟ میں نے کہا: میں۔ آپؐ نے فرمایا: میں تو میں ہوں۔ جیسے آپؐ نے اسے ناپسند فرمایا۔
(محمد) ابن بشار نے ہم سے بیان کیا، کہا: یحيٰ (بن سعید قطان) نے مجھے بتایا۔ انہوں نے عبیداللہ (عمری) سے کہ سعید (مقبری) نے مجھ سے بیان کیا۔ سعید نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی۔ کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تم سر اُٹھاؤ یہاں تک کہ بیٹھ کر تمہیں اطمینان ہوجائے۔
ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ زکریا نے ہمیں بتایا، کہا: میں نے عامر سے سنا۔ عامر کہتے تھے: مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بتایا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے روایت کی۔ (انہوں نے کہا) کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: جبریل تمہیں سلام کہتے ہیں۔ انہوں نے کہا: وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللهِ۔
عبداللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا کہ ابن ابی حازم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت سہلؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ہم جمعہ کے دن خوشی منایا کرتے تھے۔ میں نے حضرت سہلؓ سے کہا: کیوں؟ انہوں نے کہا: ہماری ایک بوڑھیا تھی جو بضاعہ کی طرف کسی کو بھیجتی۔ ابن مسلمہ نے کہا: بضاعہ مدینہ میں ایک نخلستان تھا۔ اور وہ چقندر کی جڑیں لیتی اور ان کو ہانڈی میں ڈالتی اور جَو کے کچھ دانے دلتی۔ جب ہم نماز پڑھ چکتے تو وہاں سے لوٹتے اور اس کو السلام علیکم کہتے تو وہ یہ کھانا ہمارے سامنے رکھتی اور ہم اس لئے خوش ہوتے اور ہم نہ قلیولہ کرتے اور نہ دوپہر کا کھانا کھاتے مگر جمعہ کے بعد۔
(محمد) ابن مقاتل نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں بتایا کہ معمر نے ہم سے بیان کیا۔ معمر نے زُہری سے، زہری نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے، ابوسلمہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ آپؓ بیان کرتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یا عائشہ! یہ جبریل ہیں جو تم کو السَّلَامُ عَلَیْکُمْ کہتے ہیں۔ حضرت عائشہؓ کہتی تھیں: میں نے کہا: وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللهِ۔ آپؐ وہ کچھ دیکھتے ہیں جو ہم نہیں دیکھتے۔ حضرت عائشہؓ کی مراد اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تھی۔ (معمر کی طرح) اس حدیث کو شعیب نے بھی روایت کیا۔ اور یونس اور نعمان نے بھی زہری سے یہی نقل کیا۔ اس میں وَبَرَکَاتُہُ بھی ہے۔
اسحاق بن منصور نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ بن نمیر نے ہمیں بتایا کہ عبیداللہ نے ہم سے بیان کیا۔ عبیداللہ نے سعید بن ابی سعید مقبری سے، سعید نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک شخص مسجد میں آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے ایک طرف بیٹھے ہوئے تھے۔ اس نے نماز پڑھی اور اس کے بعد آکر آپؐ کو سلام کہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا: وَعَلَيْكَ السَّلَامُ واپس جاؤ اور نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔ وہ لوٹا اور نماز پڑھی۔ پھر آیا اور سلام کہا۔ آپؐ نے فرمایا: وَعَلَيْكَ السَّلَامُ واپس جاؤ اور نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔ اس نے دوسری بار یا اس کے بعد کہا: یا رسول اللہ! مجھے سکھائیں۔ آپؐ نے فرمایا: جب تم نماز کے لئے کھڑے ہو تو پورے طور پر وضو کرو پھر قبلے کی طرف منہ کرو اور اللہ اکبر کہو۔ پھر قرآن سے وہ آیتیں پڑھو جو تم آسانی سے پڑھ سکو۔ پھر رکوع کرو یہاں تک کہ رکوع کی حالت میں تمہیں اطمینان حاصل ہو جائے۔ پھر سر اُٹھاؤ یہاں تک کہ تم سیدھے کھڑے ہوجاؤ۔ پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ سجدے کی حالت میں تمہیں اطمینان حاصل ہوجائے۔ پھر سر اُٹھاؤ یہاں تک کہ تم اطمینان سے بیٹھ جاؤ۔ پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ سجدے کی حالت میں تمہیں اطمینان حاصل ہوجائے۔ پھر سر اُٹھاؤ یہاں تک کہ تم اطمینان سے بیٹھ جاؤ۔ پھر ساری نماز میں اسی طرح کرو۔ اور ابواسامہ نے (دوسرے سجدے کے ذکر کے) آخر میں یوں کہا:یہاں تک کہ تم سیدھے کھڑے ہوجاؤ۔
ابراہیم بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے معمر سے، معمر نے زُہری سے، زہری نے عروہ بن زبیر سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: مجھے حضرت اسامہ بن زیدؓ نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک گدھے پر سوار ہوئے جس پر پالان تھی۔ اس پر فدک کی چادر پڑی تھی اور آپؐ نے حضرت اسامہ بن زیدؓ کو اپنے پیچھے سوار کیا اور آپؐ بنی حارث بن خزرج کے محلے میں حضرت سعد بن عبادہؓ کی عیادت کو جا رہے تھے۔ اور یہ جنگ بدر سے پہلے کا واقعہ ہے۔ جاتے ہوئے آپؐ ایک ایسی مجلس کے پاس سے گزرے جس میں مسلمان اور مشرک بُت پرست اور یہودی ملے جلے تھے اور ان میں عبداللہ بن اُبيّ بن سلول بھی تھا اور اس مجلس میں حضرت عبداللہ بن رواحہؓ بھی تھے۔ جب مجلس پر جانور کی گرد پڑنے لگی تو عبداللہ بن اُبيّ نے اپنی چادر سے اپنی ناک کو ڈھانپ لیا پھر کہا: ہم پر غبار مت اُڑاؤ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں السَّلَامُ عَلَیْکُمْ کہا۔ پھر ٹھہر گئے اور نیچے اُتر آئے۔ آپؐ نے ان کو اللہ کی طرف بلایا اور ان کے سامنے قرآن پڑھا۔ عبداللہ بن اُبيّ بن سلول بولا: بھلے آدمی! اگر جو تم کہتے ہو سچ ہے تو اس سے اچھی اور کوئی بات نہیں مگر ہمیں ہماری مجلسوں میں آکر تکلیف نہ دیا کرو۔ اپنے ڈیرے کو لوٹ جاؤ۔ جب ہم میں سے کوئی تمہارے پاس وہاں آئے تو اس کو یہ قصے سنانا۔ حضرت ابن رواحہؓ بولے: آپؐ ہماری مجلسوں میں آیا کریں کیونکہ ہم یہ باتیں پسند کرتے ہیں۔ اس پر مسلمان اور مشرک اور یہود ایک دوسرے کو بُرا بھلا کہنے لگے یہاں تک کہ وہ ایک دوسرے پر حملہ کرنے کے لئے بھی آمادہ ہوئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے جوش کو فرو کرتے رہے۔ پھر آپؐ اپنے جانور پر سوار ہوگئے اور حضرت سعد بن عبادہؓ کے پاس آئے۔ آپؐ نے فرمایا: سعدؓ تم نے سنا نہیں جو ابوحباب نے کہا؟ یعنی عبداللہ بن اُبيّ نے ایسا ایسا کہا ہے۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! آپؐ اس کو معاف کریں اور اس سے درگزر فرمائیں۔ اللہ کی قسم! اللہ نے آپؐ کو جو دیا ہے، اس بستی والوں نے آپس میں یہ ٹھہرا ہی لیا تھا کہ اس کو تاج پہنائیں اور اس کے سر پر سرداری کی پگڑی باندھیں۔ جب اللہ نے اس کو اس حق کی وجہ سے جو اس نے آپؐ کو دیا منظور نہ کیا تو اس سے اس کا گلا گُھٹ گیا اسی لئے اس نے ایسا کیا ہے جو آپؐ نے دیکھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر اس سے درگزر کیا۔
(تشریح)(یحيٰ) بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عقیل سے، عقیل نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب سے، عبدالرحمٰن نے عبداللہ بن کعب سے، عبداللہ نے کہا: میں نے حضرت کعب بن مالکؓ سے سنا۔ وہ اس واقعہ کے متعلق بیان کرتے تھے جبکہ وہ تبوک سے پیچھے رہ گئے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بات چیت کرنا منع کردیا اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتااور آپؐ کو السلام علیکم کہتا اور پھر اپنے دل میں کہتا: کیا آپؐ نے سلام کا جواب دینے میں اپنے ہونٹوں کو ہلایا یا نہیں۔ آخر اس طرح پچاس راتیں پوری ہوگئیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان کیا کہ ہماری توبہ قبول ہوگئی اس وقت جبکہ آپؐ نے صبح کی نماز پڑھی۔
(تشریح)ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زُہری سے روایت کی۔ زہری نے کہا: مجھے عروہ نے بتایا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: یہودیوں میں سے کچھ لوگ نبی ﷺ کے پاس آئے اور کہا: السَّامُ عَلَيْكَ۔ میں سمجھ گئی۔ میں نے بھی کہا: عَلَيْكُمُ السَّامُ وَاللَّعْنَةُ۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ سن کر فرمایا: عائشہ! ٹھہرو۔ اللہ ہر معاملہ میں نرمی پسند کرتا ہے۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! کیا آپؐ نے سنا نہیں جو انہوں نے کہا؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں بھی تو جواب دے چکا ہوں عَلَیْکُمْ۔