بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 77 hadith
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ ہمام نے ہمیں بتایا۔انہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے حضرت انسؓ سے، حضرت انسؓ نے حضرت معاذ (بن جبلؓ) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نبی ﷺ کے پیچھے آپؐ کے ساتھ سوار تھا۔ آپؐ نے فرمایا: معاذ! میں نے کہا: لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ۔ پھر آپؐ نے اسی طرح تین بار فرمایا۔ (اس کے بعد پوچھا:) کیا تم جانتے ہو کہ اللہ کا حق بندوں پر کیا ہے؟ میں نے کہا: نہیں۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ کا حق بندوں پر یہ ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں اور اس کا کسی چیز کو بھی شریک نہ ٹھہرائیں۔ پھر تھوڑی دور چلتے رہے اور پھر فرمایا: معاذ! میں نے کہا: لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ۔ آپؐ نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو بندوں کا حق اللہ پر کیا ہے؟ جب وہ اس کے حق کو ادا کریں یہ کہ وہ ان کو سزا نہ دے۔ ہدبہ (بن خالد) نے ہم سے بیان کیا کہ ہمام (بن یحيٰ) نے ہمیں بتایا کہ قتادہ (بن دعامہ) نے ہم سے بیان کیا۔ قتادہ نے حضرت انسؓ سے، حضرت انسؓ نے حضرت معاذؓ سے یہی روایت کی۔
اسماعیل بن عبداللہ نے ہم سے بیان کرتے ہوئے کہا کہ مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، حضرت ابن عمر ؓنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: کوئی شخص کسی شخص کو اُس کی جگہ سے نہ اُٹھائے اور پھر خود اس جگہ بیٹھے۔
(تشریح)خلاد بن یحيٰ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبیداللہ سے، عبیداللہ نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمرؓ سے، حضرت ابن عمر ؓنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپؐ نے منع فرمایا کہ آدمی کو اس کی جگہ سے اُٹھایا جائے اور دوسرا وہاں بیٹھ جائے بلکہ تم کھل کے بیٹھا کرو اور تم فراخدلی سے پیش آیا کرو اور حضرت ابن عمرؓ نا پسند کیا کرتے تھے کہ کوئی شخص اپنی مجلس سے اُٹھے، پھر کوئی اور اُس کی جگہ بیٹھے۔
محمد بن ابی غالب نے مجھ سے بیان کیا کہ ابراہیم بن منذر حزامی نے ہمیں بتایا کہ محمد بن فلیح نے ہم سے بیان کیا۔ محمد نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کعبہ کے صحن میں اپنے ہاتھ سے اس طرح گوٹھ مارے ہوئے بیٹھے دیکھا۔
علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ بشر بن مفضل نے ہمیں بتایا کہ (سعید بن ایاس) جُریری نے ہم سے بیان کیا۔ جُریری نے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ سے، عبدالرحمٰن نے اپنے باپ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں وہ گناہ نہ بتاؤں جو بڑے سے بڑے ہیں؟ لوگوں نے کہا: کیوں نہیں یا رسول اللہ ضرور بتلائیں۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ کا شریک ٹھہرانا اور والدین کی نافرمانی۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ بشر (بن مفضل) نے بھی ایسا ہی بتایا اور آپؐ اس وقت تک تکیہ لگائے ہوئے تھے اور آپؐ بیٹھ گئے اور فرمایا: سنو اور جھوٹ بولنا بھی۔ آپؐ اس کو دہراتے رہے یہاں تک کہ ہم نے کہا: کاش آپؐ چپ ہوجائیں۔
ابوعاصم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمر بن سعید سے، عمر نے ابن ابی ملیکہ سے روایت کی کہ عقبہ بن حارث نے ان سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھائی اور پھر جلدی جلدی چلے اور گھر کے اندر گئے۔
عمر بن حفص نے ہم سے بیان کیا کہ میرے باپ نے ہمیں بتایا۔ اعمش نے ہم سے بیان کیا کہ زید بن وہب نے ہمیں بتایا۔ (انہوں نے کہا) کہ اللہ کی قسم حضرت ابوذرؓ نے ہم سے ربزہ میں یہ بیان کیا۔ وہ کہتے تھے: میں عشاء کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کے پتھریلے میدان میں چلاجارہا تھا۔ اتنے میں اُحد کا پہاڑ ہمارے سامنے ہوا تو آپؐ نے فرمایا: ابوذرؓ! میں پسند نہیں کرتا کہ میرے پاس اُحد برابر سونا ہو، مجھ پر ایک رات یا فرمایا:تین رات ایسی گزر جائیں کہ اس میں سے میرے پاس ایک دینار باقی رہے سوائے اس کے کہ جو میں نے قرض کے چکانے کے لئے رکھ چھوڑا ہو۔ میں تو ضرور ہی اس کو اللہ کے بندوں میں اس طرح اس طرح اس طرح تقسیم کر دوں اور حضرت ابوذرؓ نے ہم کو اپنے ہاتھ کے اشارہ سے سمجھایا۔ پھر آپؐ نے فرمایا: ابوذرؓ! میں نے کہا: لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، یا رسول اللہ۔ آپؐ نے فرمایا: جو بہت مال دار ہیں وہی نادار ہوں گے سوائے اُن کے جو یوں اور یوں تقسیم کریں۔ پھر آپؐ نے مجھے فرمایا: ابوذرؓ! تم اپنی جگہ کھڑے رہنا، یہاں سے جانا نہیں جب تک میں لوٹ نہ آؤں۔ آپؐ چلے گئے اور میری نظر سے غائب ہوگئے۔ اتنے میں میں نے ایک آواز سنی اور میں ڈرا کہ کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی حادثہ نہ پیش آیا ہو۔میں نے ارادہ کیا کہ جاؤں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا خیال کیا کہ یہاں سے جانا نہیں، اس لئے میں ٹھہرا رہا۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! میں نے ایک آواز سنی، میں ڈرا کہ کہیں کوئی حادثہ پیش نہ آیا ہو۔ پھر میں نے آپؐ کے ارشاد کا خیال کیا اور میں کھڑا رہا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ جبریل تھے جو میرے پاس آئے تھے اور انہوں نے مجھے بتایا کہ میری امت میں سے جو ایسی حالت میں فوت ہو جائے کہ وہ کسی چیز کو بھی اللہ کا شریک نہ ٹھہراتا ہوگا وہ جنت میں داخل ہوجائے گا۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! گو اس نے زنا اور چوری بھی کی ہو؟ آپؐ نے فرمایا: گو اس نے زنا بھی کیا ہو اور چوری بھی کی ہو۔ (اعمش کہتے تھے:) میں نے زید سے کہا: مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ یہ راوی حضرت ابودرداءؓ تھے تو انہوں نے کہا: میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ حضرت ابوذرؓ نے مجھ سے یہ واقعہ ربزہ میں بیان کیا۔ اعمش نے کہا اور ابوصالح (سمان) نے مجھے حضرت ابودرداءؓ سے روایت کرتے ہوئے اسی طرح کا واقعہ بتایا اور ابوشہاب نے بھی اعمش سے اسے نقل کیا۔ انہوں نے یہ الفاظ کہے کہ میرے پاس تین دن سے زیادہ ٹھہرا رہے۔
حسن بن عمر نے ہم سے بیان کیا کہ معتمر (بن سلیمان) نے ہمیں بتایا۔ (انہوں نے کہا:) میں نے اپنے باپ سے سنا۔ وہ بیان کرتے تھے کہ انہوں نے ابومجلز (لاحق بن حمید) سے روایت کی۔ ابو مجلز نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ وہ بیان کرتے ہیں: جب رسول اللہ ﷺ نے حضرت زینب بنت جحشؓ سے نکاح کیا تو آپؐ نے لوگوں کو دعوت دی۔ انہوں نے کھانا کھایا اور پھر بیٹھ گئے، لگے باتیں کرنے۔ حضرت انسؓ کہتے تھے کہ آپؐ نے یوں ظاہر کیا کہ گویا کہ اُٹھنے کی تیاری کرتے ہیں مگر وہ نہیں اُٹھے۔ جب آپؐ نے یہ دیکھا تو آپؐ کھڑے ہوگئے۔ جب آپؐ کھڑے ہوگئے تو لوگوں میں سے آپؐ کے ساتھ جو اُٹھ کر چلے گئے چلے گئے اور تین آدمی رہ گئے۔ اور نبی ﷺ اندر جانے کے لئے آئے تو کیا دیکھا کہ وہ لوگ بیٹھے ہوئے ہیں۔ پھر اس کے بعد وہ بھی اُٹھ کر چلے گئے۔ حضرت انسؓ کہتے تھے: میں آیااور میں نے نبی ﷺ کو خبر کر دی کہ وہ اب چلے گئے ہیں۔ تب آپؐ آئے اور اندر گئے۔ میں بھی اندر جانے لگا تو آپؐ نے اپنے اور میرے درمیان پردہ ڈال دیا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا… یعنی اے مومنو! نبی کے گھروں میں سوائے اس کے کہ تمہیں کھانے کے لئے بلایا جائے ہرگز داخل نہ ہوا کرو، وہ بھی اس شرط سے کہ کھانا پکنے کے انتظار میں نہ بیٹھے رہا کرو اور نہ باتیں کرنے کے شوق میں بیٹھے رہا کرو۔ ہاں! جب تم کو بلایا جائے تو پھر ضرور چلے جایا کرو، پھر جب کھانا کھا چکو تو اپنے اپنے گھروں کو چلے جایا کرو۔ یہ امر (یعنی بے فائدہ بیٹھے رہنا یا پہلے آجانا) نبی کو تکلیف دیتا تھا مگر وہ (تمہارے جذبات کا خیال کرکے) تم (کو منع کرنے ) سے حیا کرتا تھا۔ مگر اللہ سچی بات بیان کرنے سے (لوگوں کے خیالات کی وجہ سے) باز نہیں رہتا اور (چاہیئے کہ) جب تم اُن (یعنی نبی کی بیویوں) سے کوئی گھر کی چیز مانگو تو پردہ کے پیچھے سے مانگا کرو، یہ بات تمہارے دلوں اور اُن کے دلوں کے لئے بہت اچھی ہے اور اللہ کے رسول کو تکلیف دینا تمہارے لئے جائز نہیں اور نہ یہ جائز ہے کہ تم اس کے بعد اس کی بیویوں سے کبھی بھی شادی کرو۔ یہ بات اللہ کے فیصلہ کے مطابق بہت بُری ہے۔