بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 77 hadith
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبداللہ بن دینار سے، عبداللہ بن دینار نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب یہود تمہیں سلام کریں۔ ان میں سے ایک یہی کہتا ہے: السَّامُ عَلَيْكُمْ۔ تم کہو: وَعَلَیْکَ یعنی تم ہی پر۔
عثمان بن ابی شیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ ہشیم نے ہمیں بتایا کہ عبیداللہ بن ابی بکر بن انس نے ہم سے بیان کیا۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ہمیں بتایا۔ کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اہل کتاب تمہیں سلام کریں تو تم کہو: وَعَلَیْکُمْ۔ یعنی تم ہی پر۔
(تشریح)عمرو بن عاصم نے ہم سے بیان کیا کہ ہمام نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے قتادہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت انسؓ سے پوچھا: کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں مصافحہ کرنے کا رواج تھا؟ انہوں نے کہا: ہاں۔
یحيٰ بن سلیمان نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: (عبداللہ) بن وہب نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: حیوہ نے مجھے بتایا، کہا: ابوعقیل زہرہ بن معبد نے مجھ سے بیان کیا۔ ابوعقیل نے اپنے دادا عبداللہ بن ہشام سے سنا۔ وہ کہتے تھے: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور آپؐ حضرت عمر بن خطابؓ کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے۔
یوسف بن بہلول نے ہم سے بیان کیا کہ (عبداللہ) بن ادریس نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: مجھے حصین بن عبدالرحمٰن نے بتایا۔ حصین نے سعد بن عبیدہ سے، سعد نے ابوعبدالرحمٰن سلمی سے، سلمی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے مجھے اور زبیر بن عوامؓ اور ابومرثد غنویؓ کو بھیجا اور ہم میں سے ہر ایک شہسوار تھا۔ آپؐ نے فرمایا: چلے جاؤ یہاں تک کہ جب روضہ خاخ میں پہنچو تو وہاں مشرکوں کی ایک عورت ہے اس کے پاس حاطب بن ابی بلتعہؓ سے مشرکوں کے نام ایک خط ہے۔ حضرت علیؓ کہتے تھے: ہم نے اس کو وہیں پایا جہاں رسول اللہ ﷺ نے ہم سے فرمایا تھا، اپنے ایک اونٹ پر سوار جا رہی تھی۔ کہتے تھے، ہم نے کہا: وہ خط کہاں ہے جو تمہارے پاس ہے؟ کہنے لگی: میرے پاس تو کوئی خط نہیں۔ ہم نے اُس کا اونٹ بٹھادیا اور ہم اس کے کجاوے میں ڈھونڈنے لگے مگر ہم نے کچھ نہ پایا۔ میرے دونوں ساتھیوں نے کہا: ہم تو کوئی خط نہیں دیکھتے۔ حضرت علیؓ کہتے تھے: میں نے کہا: میں خوب جانتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے غلط نہیں کہا۔ اسی ذات کی قسم ہے کہ جس کی قسم کھائی جاتی ہے، تمہیں اس خط کو نکالنا ہوگا ورنہ میں تمہاری جامہ تلاشی لوں گا۔ کہتے تھے: جب اس نے مجھ سے سنجیدگی کو دیکھا تو اس نے اپنا ہاتھ اپنے نیفے کی طرف جھکایا اور اس نے موٹی چادر باندھی ہوئی تھی اور اس خط کو نکالا۔ حضرت علیؓ کہتے تھے: ہم وہ خط لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلے گئے۔ آپؐ نے فرمایا: حاطبؓ! تمہیں اس کام پر جو تم نے کیا ہے کس نے آمادہ کیا ؟ وہ کہنے لگے: مجھے کیا جنون تھا کہ میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہ رکھوں؟ میں نے کوئی اور دین نہیں اختیار کیا نہ ہی اپنے دین کو بدلا ہے۔ میں چاہتا تھا کہ ان لوگوں پر میرا کوئی احسان ہو جس کے ذریعہ سے اللہ میرے گھر بار اور مال سے شر کو دور کرے اور آپؐ کے ساتھیوں میں سے یہاں کوئی بھی ایسا نہیں جس کا کوئی ایسا نہ ہو کہ جس کے ذریعہ سے اللہ اس کے گھر بار اور مال سے مدافعت کررہا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: اس نے سچ کہا اِس لئے اس کے متعلق سوائے بھلی بات کے کچھ نہ کہو۔ حضرت علیؓ کہتے تھے: حضرت عمر بن خطابؓ نے یہ سن کر کہا: اس نے اللہ اور اس کے رسول اور مؤمنوں سے خیانت کی ہے اس لئے مجھے اجازت دیں کہ اس کی گردن اُڑا دوں۔ کہتے تھے: آپؐ نے فرمایا: عمرؓ! تمہیں کیا پتہ شاید اللہ نے بدر والوں کو جھانک کر دیکھا ہو اور فرمایا ہو: اب جو چاہو کرو، تمہارے لئے جنت تو ہو چکی۔ حضرت علیؓ کہتے تھے: یہ سن کر حضرت عمرؓ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔
(تشریح)محمد بن مقاتل ابوالحسن نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ نے ہمیں بتایا۔ یونس نے ہم سے بیان کیا۔ یونس نے زُہری سے روایت کی۔ زہری نے کہا: عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے مجھے بتایا کہ حضرت ابن عباسؓ نے اُن سے بیان کیا۔ ابوسفیان بن حرب نے انہیں خبر دی کہ ہرقل نے اُن کو قریش کے کچھ آدمیوں سمیت بلا بھیجا اور وہ شام میں تجارت کے لئے گئے تھے۔ وہ اس کے پاس آئے۔ پھر حضرت ابن عباسؓ نے ساری حدیث ذکر کی۔ ابوسفیان نے کہا: پھر ہرقل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط منگوایا اور وہ پڑھا گیا۔ اس میں یہ مضمون تھا: اللہ کے نام کے ساتھ جو رحمٰن اور رحیم ہے۔ محمد جو اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، کی طرف سے روم کے بادشاہ ہرقل کی طرف ۔ اس پر سلامتی ہو جس نے ہدایت کی پیروی کی۔ اس کے بعد…
اور لیث نے کہا: مجھے جعفر بن ربیعہ نے بیان کیا۔ انہوں نے عبدالرحمٰن بن ہرمز سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے بنی اسرائیل کے ایک شخص کا ذکر کیا کہ اس نے ایک لکڑی لی، اس کو کُریدا اور اس میں ہزار دینار اور اپنی طرف سے ایک خط اپنے ساتھی کے نام ڈال دیا۔ اور عمر بن ابی سلمہ نے اپنے باپ سے نقل کیا کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس نے ایک لکڑی اندر سے کرید کر خالی کی اور مال اس کے اندر رکھ دیا اور اس کی طرف ایک خط لکھا: فلاں کی طرف سے فلاں کو۔
ابوالولید نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سعد بن ابراہیم سے، سعد نے ابوامامہ بن سہل بن حنیف سے، ابوامامہ نے حضرت ابوسعیدؓ سے روایت کی کہ قریظہ والے حضرت سعدؓ کے فیصلہ پر اُتر آئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بلا بھیجا۔ وہ آئے اور آپؐ نے فرمایا: اپنے سردار کے استقبال کے لئے اُٹھو یا فرمایا: اپنے میں سے بہتر کے لئے۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ گئے اور آپؐ نے فرمایا کہ تمہارے فیصلہ پر اُترے ہیں۔ حضرت سعدؓ نے کہا: پھر میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ ان میں سے جو لڑنے والے تھے ان کو قتل کیا جائے اور ان لڑنے والوں کے بال بچے قید کر لئے جائیں۔ آپؐ نے سن کر فرمایا: تم نے وہ فیصلہ کیا ہے جو اس بادشاہ (یعنی خدا) نے فیصلہ کیا۔ ابوعبداللہ (امام بخاریؒ) نے کہا: میرے بعض ساتھیوں نے ابوالولید سے حضرت ابوسعیدؓ کا قول نقل کرتے ہوئے یوں بتایا: یعنی عَلٰی حُكْمِكَ کی بجائے إِلَى حُكْمِكَ۔
ابو نعیم نے ہم سے بیان کیا کہ سیف نے ہمیں بتایا۔ سیف نے کہا: میں نے مجاہد سے سنا۔ وہ کہتے تھے: عبداللہ بن سخبرہ ابو معمر نے مجھ سے بیان کیا، کہا: میں نے حضرت ابن مسعودؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تشہد سکھایا جبکہ میرا ہاتھ آپؐ کے ہاتھوں کے درمیان تھا۔ مجھے آپؐ نے اس طرح تشہد سکھایا جس طرح آپؐ مجھے قرآن کی کوئی سورت سکھاتے۔ تمام تحفے اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں اور تمام بدنی عبادتیں اور مالی عبادتیں اللہ کے لئے ہیں۔ اے نبی تجھ پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت اور برکت ہو۔ہم پر سلامتی ہو اور اللہ کے نیک بندوں پر۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں اور آپؐ اس وقت ہمارے درمیان موجود تھے۔ جب آپؐ کی وفات ہو گئی ہم نے کہا: سلامتی ہو، یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر۔
اسحاق (بن راہویہ) نے ہم سے بیان کیا کہ بشر بن شعیب نے ہمیں بتایاکہ میرے باپ نے مجھ سے بیان کیا۔انہوں نے زُہری سے، زہری نے کہا: عبداللہ بن کعب نے مجھے بتایا کہ حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے ان کو خبر دی کہ حضرت علیؓ یعنی ابن ابی طالب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے نکلے۔ اور احمد بن صالح نے بھی ہم سے بیان کیا کہ عنبسہ (بن خالد) نے ہمیں بتایا کہ یونس (بن یزید) نے ہم سے بیان کیا۔ یونس نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے کہا: عبداللہ بن کعب بن مالک نے مجھے خبر دی کہ حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے ان کو بتایا کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اس بیماری میں جس میں آپؐ فوت ہوئے، باہر نکلے تو لوگوں نے پوچھا: ابو حسنؓ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آج صبح کیسے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: الحمد للہ آپؐ آج صبح اچھے ہیں۔ حضرت عباسؓ نے اُن کا ہاتھ پکڑا اور کہا: کیا تم نہیں سمجھتے کہ تم اللہ کی قسم تین دن کے بعد ڈنڈے کے غلام ہوگے؟ اللہ کی قسم! میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا ہوں کہ عنقریب آپؐ اس بیماری میں فوت ہو جائیں گے اور میں عبدالمطلب کے بیٹوں کے چہروں سے موت پہچان لیتا ہوں۔ چلو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلیں اور آپؐ سے پوچھیں کہ یہ امر کس کے لئے ہوگا؟ اگر تو ہمارے لئے ہوگا تو ہمیں اس کا علم ہوجائے گا اور اگر ہمارے سوا کسی اور کے لئے ہوا تو آپؐ ہمارے متعلق وصیت کریں گے۔ حضرت علی نے کہا: اللہ کی قسم! اگر ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا اور آپؐ ہمیں محروم کر دیں تو پھر لوگ ہمیں یہ کبھی نہ دیں گے اور میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کبھی نہیں پوچھوں گا۔