بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 77 hadith
اسحاق (بن شاہین واسطی) نے ہم سے بیان کیا کہ خالد (طحان) نے ہمیں بتایا۔ نیز عبداللہ بن محمد (مسندی) نے مجھ سے بیان کیا کہ عمرو بن عون نے ہم سے بیان کیا کہ خالد (بن عبداللہ طحان) نے ہم سے بیان کیا۔ خالد بن عبداللہ نے خالد (حذاء) سے، خالد نے ابوقلابہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: مجھے ابوملیح نے بتایا، کہا: میں تمہارے باپ زید کے ساتھ حضرت عبداللہ بن عمرو (بن عاصؓ) کے پاس گیا۔ انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ نبی ﷺ کے پاس میرے روزے کا ذکر کیا گیا تو آپؐ میرے پاس آئے اور میں نے آپؐ کے لئے چمڑے کا گاؤ تکیہ رکھ دیا جس میں کھجور کے ریشے بھرے ہوئے تھے۔ آپؐ زمین پر بیٹھ گئے اور وہ گدا میرے اور آپؐ کے درمیان رہا تو آپؐ نے مجھ سے فرمایا: کیا تمہیں ہر مہینے میں تین دن کافی نہیں؟ میں نے کہا: یا رسول اللہ! آپؐ نے فرمایا: پانچ دن؟ میں نے کہا: یا رسول اللہ! آپؐ نے فرمایا: سات دن سہی۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! آپؐ نے فرمایا: نو دن سہی۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! آپؐ نے فرمایا: گیارہ دن سہی۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! آپؐ نے فرمایا: حضرت داؤدؑ کے روزوں سے بڑھ کر اور کوئی روزہ نہیں جو آدھی عمر کے روزے تھے یعنی ایک دن روزہ اور ایک دن افطار۔
محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوحازم سے، ابوحازم نے حضرت سہل بن سعدؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: جمعہ کے بعد ہی ہم قیلولہ کیا کرتے تھے اور دن کا کھانا کھایا کرتے تھے۔
یحيٰ بن جعفر نے ہم سے بیان کیا کہ یزید (بن ہارون) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے شعبہ سے، شعبہ نے مغیرہ (بن مقسم) سے، مغیرہ نے ابراہیم (نخعی) سے، ابراہیم نے علقمہ (بن قیس) سے روایت کی کہ وہ شام میں آگئے اور ابوالولید نے بھی ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے مغیرہ سے، مغیرہ نے ابراہیم سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: علقمہ شام کو گئے اور مسجد میں جاکر دو رکعتیں نماز پڑھی اور یہ دعا کی: اے اللہ! مجھے کوئی ہمنشین عطا کیجیو اور پھر جاکر حضرت ابودرداءؓ کے پاس بیٹھ گئے تو انہوں نے پوچھا: تم کن لوگوں سے ہو؟ انہوں نے کہا: میں کوفہ کے باشندوں میں سے ہوں۔ انہوں نے کہا: کیا تم میں اس راز کے وہ محرم نہیں جس کو ان کے سوا اور کوئی نہ جانتا تھا۔ اس سے ان کی مراد حضرت حذیفہؓ سے تھی۔ کیا وہ شخص تم میں نہیں جس کو اللہ نے اپنے رسول ﷺ کی زبان سے، شیطان سے اپنی پناہ میں رکھا تھا یعنی حضرت عمارؓ یا تم میں وہ شخص نہیں جو مسواک اور گدالئے رہتے تھے یعنی حضرت ابن مسعودؓ۔ حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) وَالَّيْلِ اِذَا يَغْشَى کو کس طرح پڑھا کرتے تھے؟ علقمہ نے کہا: یوں پڑھا کرتے تھے: وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى۔ حضرت ابودرداءؓ کہنے لگے: یہ لوگ میرے پیچھے پڑے رہے یہاں تک کہ قریب تھا کہ وہ مجھے شک میں ڈال دیتے حالانکہ میں نے بھی رسول اللہ ﷺ سے یہی سنا تھا۔
قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالعزیز بن ابی حازم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوحازم سے، ابوحازم نے حضرت سہل بن سعد (ساعدیؓ) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ حضرت علیؓ کو ابوتراب سے بڑھ کر پیارا نام اور کوئی نہ تھا۔ وہ اس نام سے تو بہت ہی خوش ہوا کرتے تھے۔ اگر اس سے ان کو پکارا جاتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت فاطمہ علیہ السلام کے گھر میں آئے اور آپؐ نے گھر میں حضرت علیؓ کو نہ پایا۔ آپؐ نے پوچھا: تمہارے چچا کا بیٹا کہاں ہے؟ تو وہ کہنے لگیں: میرے اور ان کے درمیان کوئی جھگڑا ہوا تھا تو وہ مجھ سے ناراض ہو کر باہرچلے گئے اور میرے پاس قیلولہ بھی نہیں کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی آدمی سے فرمایا: دیکھو وہ کہاں ہے؟ وہ آیا اور اس نے کہا: یا رسول اللہ! وہ مسجد میں سوئے ہوئے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور وہ لیٹے ہوئے تھے۔ ان کی چادر ان کے ایک پہلو سے گر گئی تھی جس سے ان کو مٹی لگ گئی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے مٹی پونچھنے لگے اور یہ فرماتے جاتے تھے: اُٹھو ابوتراب، اُٹھو ابوتراب۔
قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن عبداللہ انصاری نے ہمیں بتایا، کہا: میرے باپ نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے ثمامہ سے، ثمامہ نے حضرت انسؓ سے روایت کی کہ حضرت اُم سلیمؓ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک چمڑہ بچھاتی تھیں اور آپؐ ان کے ہاں اس چمڑے پر ہی قیلولہ کرتے تھے۔ حضرت انسؓ کہتے تھے: جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سوتے تو حضرت اُم سلیمؓ آپؐ کا پسینہ اور آپؐ کے کچھ بال لیتیں اور انہیں ایک شیشی میں محفوظ رکھتی جاتیں۔ پھر ان میں خوشبو ملالیتیں۔ ثمامہ کہتے تھے کہ جب حضرت انس بن مالکؓ فوت ہونے لگے، انہوں نے وصیت کی کہ اسی خوشبو کو اُن کے حنوط میں ڈالا جائے۔ کہتے تھے: چنانچہ وہ خوشبو اُن کے حنوط میں ڈالی گئی۔
اسماعیل (بن ابی اویس) نے ہم سے بیان کیا، کہا: مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے، اسحاق نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے اُن کو کہتے ہوئے سنا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مسجد قبا کو جاتے تو حضرت اُم حرام بنت ملحانؓ کے ہاں جاتے۔ وہ آپؐ کو کھانا کھلاتیں اور وہ حضرت عبادہ بن صامتؓ کی بیوی تھیں۔ ایک دن آپؐ ان کے ہاں گئے اور حضرت اُم حرامؓ نے آپؐ کو کھانا کھلایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوئے پھر ہنستے ہوئے جاگے۔ حضرت اُم حرامؓ کہتی تھیں: میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! آپؐ کو کیا بات ہنسا رہی ہے؟ آپؐ نے فرمایا: میری اُمت میں سے کچھ لوگ میرے سامنے پیش کئے گئے جو اللہ کی راہ میں غازی ہیں۔ اس سمندر میں سوار جا رہے ہیں، بادشاہ ہیں تختوں پر بیٹھے ہوئے یا فرمایا: جیسے بادشاہ ہوتے ہیں تختوں پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ اسحاق نے ان الفاظ کے متعلق شک کیا۔ میں نے کہا: اللہ سے دعا کریں کہ مجھے بھی انہی میں سے کرے۔ آپؐ نے دعا کی اور پھر سر رکھ کر سو گئے۔ پھر جاگے تو ہنس رہے تھے۔ میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! آپؐ کو کیا بات ہنسا رہی ہے؟ آپؐ نے فرمایا: میری اُمت کے کچھ لوگ میرے سامنے پیش کئے گئے جو اللہ کی راہ میں غازی ہیں۔ اس سمندر میں سوار جا رہے ہیں۔ بادشاہ ہیں تختوں پر بیٹھے ہوئے۔ یا (فرمایا:) بادشاہوں کی طرح تختوں پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ میں نے کہا: اللہ سے دعا کریں کہ مجھے بھی ان میں سے کرے۔ آپؐ نے فرمایا: تم تو پہلوں میں ہو۔ چنانچہ انہوں نے بھی حضرت معاویہؓ کے زمانہ میں سمندر میں سفر کیا اور جب سمندر سے باہر آئیں تو اپنے جانور پر سے گر کر فوت ہو گئیں۔
اسماعیل (بن ابی اویس) نے ہم سے بیان کیا، کہا: مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے، اسحاق نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے اُن کو کہتے ہوئے سنا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مسجد قبا کو جاتے تو حضرت اُم حرام بنت ملحانؓ کے ہاں جاتے۔ وہ آپؐ کو کھانا کھلاتیں اور وہ حضرت عبادہ بن صامتؓ کی بیوی تھیں۔ ایک دن آپؐ ان کے ہاں گئے اور حضرت اُم حرامؓ نے آپؐ کو کھانا کھلایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوئے پھر ہنستے ہوئے جاگے۔ حضرت اُم حرامؓ کہتی تھیں: میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! آپؐ کو کیا بات ہنسا رہی ہے؟ آپؐ نے فرمایا: میری اُمت میں سے کچھ لوگ میرے سامنے پیش کئے گئے جو اللہ کی راہ میں غازی ہیں۔ اس سمندر میں سوار جا رہے ہیں، بادشاہ ہیں تختوں پر بیٹھے ہوئے یا فرمایا: جیسے بادشاہ ہوتے ہیں تختوں پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ اسحاق نے ان الفاظ کے متعلق شک کیا۔ میں نے کہا: اللہ سے دعا کریں کہ مجھے بھی انہی میں سے کرے۔ آپؐ نے دعا کی اور پھر سر رکھ کر سو گئے۔ پھر جاگے تو ہنس رہے تھے۔ میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! آپؐ کو کیا بات ہنسا رہی ہے؟ آپؐ نے فرمایا: میری اُمت کے کچھ لوگ میرے سامنے پیش کئے گئے جو اللہ کی راہ میں غازی ہیں۔ اس سمندر میں سوار جا رہے ہیں۔ بادشاہ ہیں تختوں پر بیٹھے ہوئے۔ یا (فرمایا:) بادشاہوں کی طرح تختوں پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ میں نے کہا: اللہ سے دعا کریں کہ مجھے بھی ان میں سے کرے۔ آپؐ نے فرمایا: تم تو پہلوں میں ہو۔ چنانچہ انہوں نے بھی حضرت معاویہؓ کے زمانہ میں سمندر میں سفر کیا اور جب سمندر سے باہر آئیں تو اپنے جانور پر سے گر کر فوت ہو گئیں۔
علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے، زہری نے عطاء بن یزید لیثی سے، عطاء نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو طرح کے پہننے اور دو قسم کی خریدو فروخت سے منع فرمایا۔ کپڑے کو اس طرح لپیٹنا کہ دونوں ہاتھ اندر ہی ہوں اور ایک کپڑے میں گوٹھ مار کر بیٹھنا کہ آدمی کی شرمگاہ پر کوئی کپڑے کا حصہ نہ رہے اور چیز کو چھو کر اور پھینک کر لینا دینا۔ (سفیان کی طرح) معمر اور محمد بن ابی حفص اور عبداللہ بن بدیل نے بھی زہری سے یہی روایت کی۔
موسیٰ (بن اسماعیل) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوعوانہ (وضاح یشکری) سے کہ فراس (بن یحيٰ) نے ہم سے بیان کیا۔ فراس نے عامر سے، عامر نے مسروق سے روایت کی کہ مجھے حضرت عائشہ اُم المؤمنینؓ نے بتایا۔ انہوں نے کہا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج تمام کی تمام آپؐ کے پاس تھیں۔ ہم میں سے کوئی بھی ایسی نہ تھی جو نہ بلائی گئی ہو۔ حضرت فاطمہ علیہاالسلام سامنے سے چلتی ہوئی آئیں۔ اللہ کی قسم اُن کی چال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چال سے ایسی مشابہ تھی کہ چھپی نہ رہتی تھی۔ جب آپؐ نے اُن کو دیکھا تو آپؐ نے خوشی سے استقبال کیا، فرمایا: مرحبا میری بیٹی۔ پھر آپؐ نے ان کو اپنی دائیں طرف بٹھا لیا یا (کہا:) اپنی بائیں طرف۔ پھر آپؐ نے ان سے پوشیدہ بات کی اور وہ بہت ہی روئیں۔ جب آپؐ نے اُن کے اس غم کو دیکھا تو آپؐ نے دوبارہ اُن سے پوشیدگی میں بات کی تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہ ہنس رہی تھیں۔ تو آپؐ کی ازواج میں سے مَیں نے ان سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے پوشیدگی میں تم سے خصوصیت سے بات کی ہے، پھر تم رو رہی ہو۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُٹھ کر چلے گئے تو میں نے اُن سے پوچھا: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے چپکے سے کیا فرمایا؟ انہوں نے کہا: میں تو ایسی نہیں ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے (منع کرنے کے باوجود آپؐ کے) راز کا افشاء کروں۔ جب آپؐ فوت ہوگئے تو میں نے ان سے کہا: میں تمہیں اسی حق کی قسم دیتی ہوں جو میرا تم پر ہے کہ تمہیں مجھے ضرور ہی بتانا ہوگا۔ جب انہوں نے مجھے بتایا تو کہا: ہاں اب تو بتاتی ہوں۔ چنانچہ انہوں نے بتایا۔ کہنے لگیں: جب آپؐ نے پہلی بار مجھ سے راز میں بات کی تھی تو آپؐ نے مجھے بتایا تھا کہ جبرائیل ہر سال آپؐ کے ساتھ ایک دفعہ قرآن کا دور کیا کرتے تھے اور اس سال انہوں نے میرے ساتھ دو دفعہ دور کیا ہے اور میں یہی سمجھتا ہوں کہ اجل قریب پہنچ چکی ہے۔ تمہیں اللہ ہی کو اپنا سپر بنانا ہوگا اور صبر کرنا ہوگا کیونکہ میں تمہارے لئے بہت ہی اچھا پیش خیمہ ہوں گا۔ کہتی تھیں: یہ سن کر میں رو پڑی، وہی جو آپؓ نے دیکھا تھا۔ جب آپؐ نے میری بے قراری کو دیکھا تو دوبارہ آپؐ نے مجھے راز بتایا۔ فرمایا: فاطمہؓ کیا تم پسند نہیں کرتی کہ تم مؤمن عورتوں کی سردار بنو یا فرمایا: اس اُمت کی عورتوں کی سردار بنو؟
موسیٰ (بن اسماعیل) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوعوانہ (وضاح یشکری) سے کہ فراس (بن یحيٰ) نے ہم سے بیان کیا۔ فراس نے عامر سے، عامر نے مسروق سے روایت کی کہ مجھے حضرت عائشہ اُم المؤمنینؓ نے بتایا۔ انہوں نے کہا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج تمام کی تمام آپؐ کے پاس تھیں۔ ہم میں سے کوئی بھی ایسی نہ تھی جو نہ بلائی گئی ہو۔ حضرت فاطمہ علیہاالسلام سامنے سے چلتی ہوئی آئیں۔ اللہ کی قسم اُن کی چال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چال سے ایسی مشابہ تھی کہ چھپی نہ رہتی تھی۔ جب آپؐ نے اُن کو دیکھا تو آپؐ نے خوشی سے استقبال کیا، فرمایا: مرحبا میری بیٹی۔ پھر آپؐ نے ان کو اپنی دائیں طرف بٹھا لیا یا (کہا:) اپنی بائیں طرف۔ پھر آپؐ نے ان سے پوشیدہ بات کی اور وہ بہت ہی روئیں۔ جب آپؐ نے اُن کے اس غم کو دیکھا تو آپؐ نے دوبارہ اُن سے پوشیدگی میں بات کی تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہ ہنس رہی تھیں۔ تو آپؐ کی ازواج میں سے مَیں نے ان سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے پوشیدگی میں تم سے خصوصیت سے بات کی ہے، پھر تم رو رہی ہو۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُٹھ کر چلے گئے تو میں نے اُن سے پوچھا: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے چپکے سے کیا فرمایا؟ انہوں نے کہا: میں تو ایسی نہیں ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے (منع کرنے کے باوجود آپؐ کے) راز کا افشاء کروں۔ جب آپؐ فوت ہوگئے تو میں نے ان سے کہا: میں تمہیں اسی حق کی قسم دیتی ہوں جو میرا تم پر ہے کہ تمہیں مجھے ضرور ہی بتانا ہوگا۔ جب انہوں نے مجھے بتایا تو کہا: ہاں اب تو بتاتی ہوں۔ چنانچہ انہوں نے بتایا۔ کہنے لگیں: جب آپؐ نے پہلی بار مجھ سے راز میں بات کی تھی تو آپؐ نے مجھے بتایا تھا کہ جبرائیل ہر سال آپؐ کے ساتھ ایک دفعہ قرآن کا دور کیا کرتے تھے اور اس سال انہوں نے میرے ساتھ دو دفعہ دور کیا ہے اور میں یہی سمجھتا ہوں کہ اجل قریب پہنچ چکی ہے۔ تمہیں اللہ ہی کو اپنا سپر بنانا ہوگا اور صبر کرنا ہوگا کیونکہ میں تمہارے لئے بہت ہی اچھا پیش خیمہ ہوں گا۔ کہتی تھیں: یہ سن کر میں رو پڑی، وہی جو آپؓ نے دیکھا تھا۔ جب آپؐ نے میری بے قراری کو دیکھا تو دوبارہ آپؐ نے مجھے راز بتایا۔ فرمایا: فاطمہؓ کیا تم پسند نہیں کرتی کہ تم مؤمن عورتوں کی سردار بنو یا فرمایا: اس اُمت کی عورتوں کی سردار بنو؟