بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 43 hadith
مسدد نے (بھی) ہمیں بتایا۔ یزید بن زُرَیع نے ہم سے بیان کیا کہ سعید( بن ابی عروبہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے نضر بن انس سے، نضر نے بشیر بن نہیک سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے فرمایا: جس نے کسی غلام میں حصہ یا فرمایا: تھوڑا سا ٹکڑا آزاد کر دیا ہو تو پھر اپنے مال سے اس کو آزاد کروانااس کے ذمہ ہو جاتا ہے اگر اُس کے پاس مال ہو ورنہ اس کی قیمت اندازہ کرکے اُس سے محنت کرائی جائے (تا وہ پورا آزاد ہو جائے) مگر اس پر محنت لینے میں تشدد نہ کیا جائے۔ سعید کی طرح اس حدیث کو حجاج بن حجاج اور ابان اور موسٰی بن خلف نے بھی قتاد ہ سے نقل کیا۔ شعبہ نے اسے مختصر بیان کیا۔
(تشریح)شہاب بن عباد نے مجھ سے بیان کیا کہ ابراہیم بن حمیدنے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اسماعیل سے، اسماعیل نے قیس سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: جب حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ آئے اور ان کے ساتھ ان کا غلام بھی تھا اور وہ مسلمان ہونا چاہتے تھے تو ان میں سے ایک اپنے ساتھی سے راستہ بھول۱؎ کر الگ ہو گیا۔ پھر یہی حدیث بیان کی۔ اس میں یوں ہے کہ سنئے! میں آپ کو گواہ ٹھہراتا ہوں کہ وہ اللہ کیلئے ہے۔
آدم بن ابی ایاس نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا:) ہم سے شعبہ نے بیان کیا کہ عمرو بن دینار نے ہمیں بتایا۔ (انہوںنے کہا:) میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہماسے سنا۔ وہ کہتے تھے: ہم میں سے ایک شخص نے اپنے غلام کو اپنے مرنے کے بعدآزاد قراردیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس غلام کو بلوا بھیجا اور بیچ دیا۔ حضرت جابرؓ کہتے تھے: وہ غلام پہلے سال ہی مرگیا۔
(تشریح)ابوالولید نے ہمیں بتایا کہ شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: عبداللہ بن دینار نے مجھے بتایا کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا۔ وہ کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غلام اور لونڈی کے ورثہ کو بیچنے اور اس کے ہبہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔ طرفہُ: ۶۷۵۶۔
محمد بن کثیر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سفیان ( ثوری) سے روایت کی کہ یحيٰبن سعید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے محمد بن ابراہیم تیمی سے، ابن تیمی نے علقمہ بن وقاص لیثی سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے تھے کہ آپؐ نے فرمایا: اعمال نیت کے مطابق ہوتے ہیں اور آدمی کو جو اس نے نیت کی ہے وہی ملتا ہے۔ سو جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لئے ہو، اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لئے ہوگی۔ اور جس کی ہجرت دنیا حاصل کرنے یا کسی عورت سے شادی کی غرض سے ہو تو اس کی ہجرت اسی امر کے لئے ہوگی جس کے لئے اس نے ہجرت کی۔
(تشریح)محمد بن عبداللہ بن نمیر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے محمد بن بشر سے، محمد بن بشر نے اسماعیل سے، اسماعیل نے قیس سے، قیس نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ جب وہ مسلمان ہونے کے ارادہ سے آئے اور ان کے ساتھ ان کا غلام بھی تھا تو ان میں سے ہر ایک راستہ بھول کر اپنے ساتھی سے الگ ہوگیا۔ پھر وہ غلام اس کے بعد آگیا اور حضرت ابوہریرہؓ اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوہریرہؓ یہ لو تمہارا غلام تمہارے پاس آگیا ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ نے کہا: سن لیجئے! میں آپؐ کو گواہ ٹھہراتا ہوں کہ وہ آزاد ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ نے جب وہ (مدینہ) پہنچے تھے، یہ شعر کہے تھے: ہائے وہ رات جو کتنی طولانی اور کیسی ایذارساں تھی ہاں یہ بات ہے کہ اس نے کفر کے گھر سے نجات دلادی
عبیداللہ بن سعید نے ہمیں بتایا۔ (کہا:) ابواُسامہ نے ہم سے بیان کیا کہ اسماعیل نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے قیس سے، قیس نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ۔ انہوں نے کہا: جب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو میں نے راستہ میں یہ شعر کہا تھا: ہائے وہ رات جو کتنی طولانی اور کیسی ایذارساں تھی ہاں یہ بات ہے کہ اس نے کفر کے گھر سے نجات دلادی کہتے تھے: اور میرا ایک غلام راستے میں مجھ سے بھاگ گیا۔ اسی طرح بیان کرتے تھے کہ جب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو میں نے آپؐ سے بیعت کی ۔ ابھی میں آپؐ کے پاس ہی تھا کہ وہ غلام بھی آگیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ابوہریرہؓ ! یہ ہے تمہاراغلام۔ میں نے کہا: وہ اللہ کے لئے آزاد ہے۔ چنانچہ میں نے اسے آزاد کردیا۔ ابو عبد اللہ (امام بخاریؒ)نے کہا: ابوکریب نے ابواُسامہ سے جو روایت کی اس میں لفظ ’’آزاد‘‘ نہیں۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ زہری سے روایت ہے ۔ انہوں نے کہا: عروہ بن زبیر نے مجھے بتایا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں کہ عتبہ بن ابی وقاص نے اپنے بھائی سعد بن ابی وقاص کو وصیت کی کہ وہ زمعہ کی لونڈی کے لڑکے کواپنے پاس لے لے۔ عتبہ نے کہا: وہ میرا بیٹا ہے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے وقت وہاں آئے تو سعد نے زمعہ کی لونڈی کے لڑکے کو لے لیا اور اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے اور عبدبن زمعہ کو بھی اپنے ساتھ لائے۔ سعد نے کہا: یا رسول اللہ! یہ میرے بھائی کا بیٹا ہے۔ اس نے مجھے وصیت کی تھی کہ وہ اس کا بیٹا ہے۔ عبدبن زمعہ نے کہا: یا رسول اللہ! یہ میرا بھائی ہے جو (میرے باپ) زمعہ کی لونڈی کا بیٹا ہے۔ انہی کے بستر پر پیدا ہوا ۔ رسول اللہ ﷺ نے زمعہ کی لونڈی کے بیٹے کی طرف غور سے دیکھا تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہ تمام لوگوں سے اس (عتبہ) کے بہت مشابہ ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عبدبن زمعہ یہ لڑکا تمہارے پاس رہے گا۔ (آپؐ نے یہ اس لئے فرمایا) کیونکہ یہ اپنے باپ کے بستر پر پیدا ہوا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سودہؓ بنت زمعہ سے فرمایا: تم اس سے پردہ کیا کرو کیونکہ آپؐ نے دیکھا کہ وہ شکل میں عتبہ سے ہم مشابہ ہے اور حضرت سودہؓ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ تھیں۔
(تشریح)عثمان بن ابی شیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ جریر (بن عبدالحمید) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصور سے، منصور نے ابراہیم سے، ابراہیم نے اَسود سے، اَسود نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ کہتی تھیں: میں نے بریرہؓ کو خریدا تو اس کے مالکوں نے اس کی وراثت لینے کی شرط کی۔ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپؐ نے فرمایا: تم اس کو لے کر آزاد کردو کیونکہ وراثت تو اسی کی ہوگی جس نے روپیہ خرچ کیا۔ تو میں نے اس کو آزاد کردیا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہؓ کو بلوایا اور آپؐ نے اس کو اس کے خاوند سے متعلق بھی اختیار دیا۔ وہ کہنے لگی کہ اگر وہ مجھے اتنا اتنا مال بھی دے تب بھی میں اس کے پاس نہیں رہوں گی پھر اس نے اپنی مرضی کے مطابق کیا۔
(تشریح)