بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 43 hadith
اسماعیل بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ اسماعیل بن ابراہیم بن عقبہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے موسیٰ بن عقبہ سے، موسیٰ نے ابن شہاب سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: حضرت انس رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیان کیا کہ چند انصار نے رسول اللہ ﷺ سے اجازت مانگی اور کہا: آپؐ ہمیں اجازت دیں کہ ہم اپنی بہن کے بیٹے عباسؓ کو اس کا فدیہ چھوڑ دیں۔ آپؐ نے فرمایا: اس کا ایک درہم بھی نہ چھوڑنا۔
(تشریح)عبداللہ بن مسلمہ نے مجھے بتایا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غلام اگر اپنے مالک سے خیر خواہی کرے اور اپنے ربّ کی عبادت اچھی طرح بجالائے تو اس کو دوہرا ثواب ملے گا۔ طرفہُ: ۲۵۵۰۔
عبید بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ ابواُسامہ نے ہمیں بتایا کہ ہشام سے مروی ہے۔ (انہوں نے کہا:) مجھے میرے باپ نے بتایا کہ حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے جاہلیت میں ایک سو گردنیں آزاد کی تھیں اور ایک سو اُونٹ لوگوں کو سواری کے لئے دئیے۔ جب وہ مسلمان ہوئے تو انہوں نے پھر سو اُونٹ سواری کے لئے لوگوں کو دئیے اور ایک سو غلام آزاد کئے۔ کہتے تھے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا۔ میں نے کہا: یارسول اللہ! آپؐ کو علم ہی ہے جو کام میں جاہلیت میں کیا کرتا تھا۔ میں انہیں عبادت سمجھ کر کیا کرتا تھا یعنی نیکی سمجھ کر کیا کرتا تھا۔ ( کیا اُن پر بھی مجھے ثواب ملے گا؟)کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کو ان بھلائیوں کی وجہ سے ہی اسلام قبول کرنے کی توفیق ملی ہے جو تم سے پہلے ہوئیں۔
(تشریح)ابن ابی مریم نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عقیل سے، عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی کہ عروہ نے ذکر کیا۔ مروان اور مِسور بن مخرمہ نے انہیں بتایا کہ نبی ﷺ کے پاس جب ہوازن کے نمائندے آئے اور انہوں نے آپؐ سے درخواست کی کہ انہیں ان کے اموال اور قیدی واپس کردئیے جائیں تو آنحضرت ﷺ (خطبہ دینے کیلئے) کھڑے ہوئے اور فرمایا: تم دیکھتے ہو جو لوگ میرے ساتھ ہیں (یعنی میں اکیلا نہیں۔ اکیلا ہوتا تو تم کو تمہارے اموال اور قیدی واپس دے دیتا) اور نہایت پیاری بات مجھے وہ لگتی ہے جو سچی ہو۔ اس لئے تم دوباتوں میں سے ایک بات پسند کرلو۔ یا تو مال لے لو یا قیدی۔ اور میں نے تو ان قیدیوں کے تقسیم کرنے میں اس لئے دیر کی تھی کہ تم آجائو۔ اور نبی ﷺ نے، جب آپؐ طائف سے واپس لوٹے، اس پر دس سے کچھ زائد راتیں ان کا انتظار کیا تھا۔ جب انہیں یہ اچھی طرح معلوم ہوگیا کہ نبی ﷺ ان کو دو چیزوں میں سے ایک ہی چیز واپس کریں گے تو انہوں نے کہا: پھر ہم اپنے قیدیوں کو لینا پسندکرتے ہیں۔ اس پر نبی ﷺ لوگوں کے درمیان خطبہ دینے کیلئے کھڑے ہوئے اور اللہ کی وہ تعریف کی جو اس کے شایانِ شان ہے۔ پھر آپؐ نے اس کے بعد فرمایا: دیکھو! تمہارے بھائی ہمارے پاس توبہ کرکے آئے ہیں اور میں مناسب سمجھتا ہوں کہ ان کو ان کے قیدی واپس دے دوں۔ اس لئے جو تم میں سے بخوشی واپس کرنا چاہے تو چاہیے کہ وہ واپس کردے اور جو یہ چاہے کہ وہ اپنے حصے پر ہی قائم رہے تو چاہیے کہ وہ بھی واپس کردے اور اس وقت کا انتظار کرے جب اللہ تعالیٰ ہم کو (اس کے بعد) پہلا مال غنیمت دے تو ہم اس میں سے اس کو حصہ دے دیں گے۔ لوگوں نے کہا: ہم حضور کے فیصلہ پر راضی ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: ہم نہیں جانتے کہ تم میں سے کس نے اجازت دی اور کس نے اجازت نہیں دی۔ تم واپس جائو یہاں تک کہ تمہارے سربراہ ہمارے پاس تمہارا مشورہ پیش کریں۔ لوگ واپس چلے گئے اور ان کے سربراہوں نے ان سے گفتگو کی۔ اس کے بعد وہ نبی ﷺ کے پاس واپس آئے اور انہوں نے آپؐ کو بتایا کہ وہ لوگ خوش ہیں اورانہوں نے اجازت دے دی ہے ۔ (زہری نے کہا:)سو یہ وہ خبر ہے جو ہمیں ہوازن کے قیدیوں سے متعلق پہنچی ہے۔
ابن ابی مریم نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عقیل سے، عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی کہ عروہ نے ذکر کیا۔ مروان اور مِسور بن مخرمہ نے انہیں بتایا کہ نبی ﷺ کے پاس جب ہوازن کے نمائندے آئے اور انہوں نے آپؐ سے درخواست کی کہ انہیں ان کے اموال اور قیدی واپس کردئیے جائیں تو آنحضرت ﷺ (خطبہ دینے کیلئے) کھڑے ہوئے اور فرمایا: تم دیکھتے ہو جو لوگ میرے ساتھ ہیں (یعنی میں اکیلا نہیں۔ اکیلا ہوتا تو تم کو تمہارے اموال اور قیدی واپس دے دیتا) اور نہایت پیاری بات مجھے وہ لگتی ہے جو سچی ہو۔ اس لئے تم دوباتوں میں سے ایک بات پسند کرلو۔ یا تو مال لے لو یا قیدی۔ اور میں نے تو ان قیدیوں کے تقسیم کرنے میں اس لئے دیر کی تھی کہ تم آجائو۔ اور نبی ﷺ نے، جب آپؐ طائف سے واپس لوٹے، اس پر دس سے کچھ زائد راتیں ان کا انتظار کیا تھا۔ جب انہیں یہ اچھی طرح معلوم ہوگیا کہ نبی ﷺ ان کو دو چیزوں میں سے ایک ہی چیز واپس کریں گے تو انہوں نے کہا: پھر ہم اپنے قیدیوں کو لینا پسندکرتے ہیں۔ اس پر نبی ﷺ لوگوں کے درمیان خطبہ دینے کیلئے کھڑے ہوئے اور اللہ کی وہ تعریف کی جو اس کے شایانِ شان ہے۔ پھر آپؐ نے اس کے بعد فرمایا: دیکھو! تمہارے بھائی ہمارے پاس توبہ کرکے آئے ہیں اور میں مناسب سمجھتا ہوں کہ ان کو ان کے قیدی واپس دے دوں۔ اس لئے جو تم میں سے بخوشی واپس کرنا چاہے تو چاہیے کہ وہ واپس کردے اور جو یہ چاہے کہ وہ اپنے حصے پر ہی قائم رہے تو چاہیے کہ وہ بھی واپس کردے اور اس وقت کا انتظار کرے جب اللہ تعالیٰ ہم کو (اس کے بعد) پہلا مال غنیمت دے تو ہم اس میں سے اس کو حصہ دے دیں گے۔ لوگوں نے کہا: ہم حضور کے فیصلہ پر راضی ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: ہم نہیں جانتے کہ تم میں سے کس نے اجازت دی اور کس نے اجازت نہیں دی۔ تم واپس جائو یہاں تک کہ تمہارے سربراہ ہمارے پاس تمہارا مشورہ پیش کریں۔ لوگ واپس چلے گئے اور ان کے سربراہوں نے ان سے گفتگو کی۔ اس کے بعد وہ نبی ﷺ کے پاس واپس آئے اور انہوں نے آپؐ کو بتایا کہ وہ لوگ خوش ہیں اورانہوں نے اجازت دے دی ہے ۔ (زہری نے کہا:)سو یہ وہ خبر ہے جو ہمیں ہوازن کے قیدیوں سے متعلق پہنچی ہے۔
علی بن حسن نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں بتایا۔ (انہوں نے کہا: عبداللہ) ابن عون نے ہمیں بتایا۔ کہتے تھے: میں نے نافع کو لکھا تو انہوں نے مجھے جواب میں یہ لکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی مصطلق پر حملہ کیا۔ وہ غفلت میں تھے اور ان کے مواشی کو پانی پلایا جارہا تھا او رآپؐ نے ان میں سے لڑنے والوں کو جنگ میں قتل کردیا اور ان کی عورتوں اور بچوں کو قید کرلیا اور اسی جنگ میں حضرت جویریہؓ آپؐ کو (آپؐ کے) حصے میں ملیں ۔ (نافع نے کہا:) یہ واقعہ حضرت (عبداللہ) بن عمرؓ نے مجھے بتایا تھا اور وہ اس لشکر میں شامل تھے۔
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ربیعہ بن ابی عبدالرحمن سے، ربیعہ نے محمد بن یحيٰبن حبان سے، انہوں نے (عبداللہ) بن محیریز سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں حضرت ابوسعید(خدری) رضی اللہ عنہ سے ملا۔ ان سے میں نے (عزل کا مسئلہ) پوچھا تو انہوں نے کہا:ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بنی مصطلق کی جنگ میں نکلے تھے اور ہم نے عرب کے چند قیدی حصے میں پائے۔ ہمیں عورتوں کی خواہش ہوئی کیونکہ بے وطنی ہم پر بہت ہی شاق گزر رہی تھی اور ہم چاہتے تھے کہ مباشرت کے وقت حمل نہ ہو۔ رسول اللہ ﷺ سے ہم نے پوچھا۔ آپؐ نے فرمایا: عزل نہ بھی کرو تومضائقہ نہیں۔ جو جان بھی قیامت تک ہونے والی ہے، وہ تو ضرورہوکر رہے گی۔
زہیر بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ جریر ( بن عبدالحمید) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمارہ بن قعقاع سے، عمارہ نے ابوزُرعہ سے، ابوزُرعہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: مجھے ہمیشہ ہی بنی تمیم سے محبت رہی ہے۔ نیز (محمد) بن سلام نے بھی مجھ سے بیان کیا کہ جریر بن عبدالحمید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے مغیرہ سے، مغیرہ نے حارث (بن یزید) سے، حارث نے ابوزُرعہ سے، ابوزُرعہ نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی ۔ اور (مغیرہ نے) عمارہ سے، عمارہ نے ابوزُرعہ سے، ابوزُرعہ نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: جب سے میں نے رسول اللہ ﷺ سے تین باتیں سنی ہیں جو آپؐ نے ان کے متعلق فرمائیں؛ بنی تمیم سے مجھے محبت رہتی ہے۔ میں نے آپؐ سے سنا، آپؐ فرماتے تھے کہ وہ میری امت میں سے سب سے بڑھ کر دجال کے مخالف ہوں گے۔ کہتے تھے: ان کی زکوٰۃ کے اموال آئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ ہماری قوم کے زکوٰۃ کے اموال ہیں اور اُن میں سے ایک قیدی عورت حضرت عائشہؓ کے پاس تھی تو آپؐ نے فرمایا: اسے آزاد کردو کیونکہ یہ حضرت اسماعیل ؑ کی اولاد میں سے ہے۔
(تشریح)آدم بن ابی ایاس نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ واصل اَحدب نے ہم سے بیان کیا ۔ انہوں نے کہا: میں نے معرور بن سُوید سے سنا۔ کہتے تھے: میں نے حضرت ابوذر غفاری ص کو دیکھا۔ وہ ایک نیا کپڑوں کا جوڑا پہنے تھے اور ان کا غلام بھی ویسا ہی نیا جوڑا پہنے ہوئے تھا، تو ہم نے اس کے متعلق ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: میں نے ایک شخص کو گالی دی تھی تو اس نے نبی ﷺ سے میری شکایت کر دی۔ نبی ﷺ نے مجھ سے فرمایا: کیا تم نے اس کو اس کی ماں کا طعنہ دیا ہے؟ پھر آپؐ نے فرمایا: تمہارے بھائی ہی تمہارے نوکر چاکر ہوتے ہیں جنہیں اللہ نے تمہارے ماتحت کر دیا ہے۔ اس لئے جس کا بھائی اس کے ماتحت ہو تو چاہیے کہ وہ اس کو اسی کھانے سے کھلائے جو وہ خود کھاتا ہو اور اسی کپڑے سے پہنائے جو وہ خود پہنتا ہو اور تم ان کو ایسے کاموں کی تکلیف نہ دیا کروجو انہیں نڈھال کردیںاور اگر تم ان کو ایسے کاموں کی تکلیف دو جو اُن پر گراں ہوں تو ایسے کاموں میں ان کو مدد دیا کرو۔
(تشریح)