بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 43 hadith
محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے صالح سے، صالح نے شعبی سے، شعبی نے ابوبردہ سے، ابوبردہ نے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کے پاس لونڈی ہو اور وہ اس کو آداب سکھائے اور نہایت اچھے آداب٭ سکھائے اور پھر اسے آزادکرکے اس سے شادی کرلے تو اس کو دو ثواب ملیں گے اور جو غلام اللہ کا حق بھی ادا کرے اور اپنے مالکوں کا حق بھی تو اس کو بھی دو ثواب ملیں گے۔
اسحاق بن نصر نے ہم سے بیان کیا کہ ابواُسامہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے روایت کی کہ ہمیں ابوصالح نے بتایا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے فرمایا: ان(غلاموں) میں سے اس کے لئے کیا ہی اچھی بات ہے کہ وہ اپنے ربّ کی عبادت بھی اچھی طرح کرے اور اپنے آقا کی خیر خواہی بھی کرتا رہے۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (قطان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبیداللہ سے روایت کی کہ نافع نے مجھے بتایا۔ انہوں نے حضرت عبداللہ (بن عمر) رضی اللہ عنہ سے، حضرت عبداللہؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: اگر غلام اپنے آقا سے خیر خواہی کرے اور اپنے ربّ کی عبادت اچھی طرح کرے، اس کا اس کو دوہرا ثواب ہوگا۔ طرفہُ: ۲۵۴۶۔
محمد بن علاء نے ہم سے بیان کیاکہ ابواُسامہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے برید( بن عبداللہ) سے، برید نے ابوبردہ سے، ابوبردہ نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوموسٰیؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: وہ غلام جو اپنے ربّ کی عبادت اچھی طرح کرتا ہو اور اپنے آقا کا حق اور جوخیر خواہی اور فرمانبرداری اس کے ذمہ ہے اس کو ادا کرے تو اس کو دو ثواب ملیں گے۔
ابونعمان نے مجھ سے بیان کیا کہ جریر بن حازم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ۔ انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی غلام میں اپنا حصہ آزاد کردے اور اس کے پاس اتنا مال ہو جو اس کی قیمت کو پورا کرتا ہو تو غلام کی منصفانہ قیمت لگائی جائے اور پھر وہ قیمت (شریک کو) دے کر غلام کو آزاد کردیا جائے ورنہ وہ اتنا تو آزاد ہوچکا جتنا اسے کردیا گیا ہے۔
بشر بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں بتایا۔ (انہوں نے کہا:) یونس نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے روایت کی (زہری نے کہا:) میں نے سعید بن مسیب سے سنا۔ وہ کہتے تھے: حضرت ابوہریرہ ص نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وہ نیک بندہ جو کسی کی ملکیت میں ہو، اس کو دو ثواب ملیں گے۔( اور حضرت ابوہریرہ ؓ نے کہا:) اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر اللہ کی راہ میں جہاد کرنا نہ ہوتا اور حج کرنا بھی نہ ہوتا اور اپنی ماں کی خدمت کرنی بھی نہ ہوتی تو میں ضرور ہی پسند کرتا کہ میںغلام ہونے کی حالت میں مروں۔
محمد(بن سلام) نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالرزاق نے ہمیں بتایا۔ معمر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہمام بن منبِّہ سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ نبی ﷺ سے روایت کرتے تھے کہ آپؐ نے فرمایا: تم میں سے کوئی اپنے غلام سے یہ نہ کہے کہ اپنے ربّ کو کھانا کھلا اور اپنے ربّ کو وضو کرا} اور اپنے ربّ کو پانی پلا،٭{ بلکہ یوں کہے : سیدی، مولائی یعنی میرے آقا ۔ اسی طرح تم میں سے کوئی اپنے غلام کو اے میرے غلام، اے میری لونڈی کہہ کر نہ پکارے بلکہ یہ کہے: اے نوجوان لڑکے یا اے نوجوان لڑکی یا کہے: اے میرے بچے۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (قطّان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبیداللہ (عمری) سے روایت کی۔ انہوںنے کہا: نافع نے مجھے بتایا۔ حضرت عبداللہ ص سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے ہر ایک پاسبان ہے اور وہ اپنی رعیت کے بارے میں جواب دِہ ہوگا۔ وہ حاکم بھی جو لوگوں پر مقرر ہے، اُن پر پاسبان ہے اور اس سے اپنے ماتحت لوگوں کے بارے میں باز پرس ہوگی، اور مرد بھی اپنے اہل بیت پر پاسبان ہے اور اس سے بھی ان کے بارے میں پوچھا جائے گا، اور عورت بھی اپنے خاوند کے گھر اور اس کی اولاد کی پاسبان ہے اور وہ بھی ان سے متعلق جوابدہ ہوگی اور غلام بھی اپنے آقا کے مال کا پاسبان ہے اور اس سے بھی اس کے لئے پوچھا جائے گا۔ اچھی طرح سن لو! تم میں سے ہر شخص پاسبان ہے اور تم میں سے ہر شخص سے اس کی رعیت کی نسبت پوچھا جائے گا۔
مالک بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے روایت کی۔ (انہوں نے کہا:) عبید اللہ (بن عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود) نے مجھے بتایا کہ میں نے حضرت ابوہریرہ ص اور حضرت زید بن خالدؓ سے سنا۔ یہ دونوں نبی ﷺ سے روایت کرتے تھے۔ آپؐ نے فرمایا: جب لونڈی زناکرے تو اس کو کوڑے لگائو۔ پھر اگر زنا کرے تو پھر اس کو کوڑے لگائو۔ پھر اگر زنا کرے تو پھر اس کو کوڑے لگائو۔ تیسری یا چوتھی بار فرمایا کہ ایسی لونڈی کو بیچ دو خواہ ایک رسی ہی کے بدلے۔
(تشریح)مالک بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے روایت کی۔ (انہوں نے کہا:) عبید اللہ (بن عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود) نے مجھے بتایا کہ میں نے حضرت ابوہریرہ ص اور حضرت زید بن خالدؓ سے سنا۔ یہ دونوں نبی ﷺ سے روایت کرتے تھے۔ آپؐ نے فرمایا: جب لونڈی زناکرے تو اس کو کوڑے لگائو۔ پھر اگر زنا کرے تو پھر اس کو کوڑے لگائو۔ پھر اگر زنا کرے تو پھر اس کو کوڑے لگائو۔ تیسری یا چوتھی بار فرمایا کہ ایسی لونڈی کو بیچ دو خواہ ایک رسی ہی کے بدلے۔
(تشریح)