بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 309 hadith
عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالعزیز بن ابی حازم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو غزوئہ خیبرمیں یہ کہتے سنا کہ اب یہ جھنڈا میں ایسے شخص کو دوں گا جس کے ہاتھ پر اللہ فتح دے گا۔ یہ سن کر لوگ اُٹھے۔ آپؐ کی اس بات سے امید کرنے لگے کہ دیکھیں ان میں سے کس کو (یہ جھنڈا) دیا جاتا ہے۔ صبح اُٹھے اور ان میں سے ہر ایک کو یہ امید تھی کہ اسے (جھنڈا) ملے گا۔ آپؐ نے پوچھا: علیؓ کہاں ہیں؟ کہا گیا کہ ان کی آنکھیں دُکھتی ہیں۔ آپؐ نے (انہیں بلانے کے لئے) فرمایا اور وہ لائے گئے۔ آپؐ نے ان کی آنکھوں پر (اپنا) لعاب دہن لگایا اور انہوں نے اسی جگہ بیماری سے شفا پائی۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ان کو بیماری ہوئی نہ تھی۔ حضرت علیؓ نے پوچھا: آیا ان سے اس وقت تک لڑتے رہیں جب تک کہ وہ ہماری طرح نہ ہوجائیں؟ آپؐ نے فرمایا: آہستہ نرمی سے۔ جب تم ان کے آنگن میں ڈیرے لگا دو تو پھر ان کو اِسلام کی دعوت دو اور جو باتیں ان کیلئے ضرور ی ہیں وہ انہیں بتائو۔ کیونکہ بخدا تمہارے ذریعہ اگر ایک آدمی بھی راہ راست پر آجائے تو یہ سرخ اونٹوں سے تمہارے لئے بہتر ہے۔
(دوسری سند) قُتَیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ اسماعیل بن جعفر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حُمَید سے، حُمَید نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ (حضرت انسؓ نے کہا) کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ جہاد کرتے۔ (پھر وہی حدیث بیان کی)
اور (عبد اللہ بن مبارک نے) یونس سے، یونس سے زُہری سے روایت کی۔ زُہری نے کہا: عبدالرحمن بن کعب بن مالک نے مجھے بتایا کہ حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے تھے: کم ہی ایسا ہوتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی سفر میں جمعرات کے سوا اَور کسی دِن نکلیں۔
سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب (سختیانی) سے، ایوب نے ابوقلابہ سے، ابوقلابہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں ظہر کے وقت چار رکعت نماز پڑھی اور ذوالحلیفہ میں عصر کے وقت دو رکعت پڑھی اور میں نے اُن کو (حج اور عمرہ) دونوں کا اکٹھے لبیک پکارتے سنا۔
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے حُمَید سے، حُمَید نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خیبر کی طرف نکلے اور وہاں رات کو پہنچے اور جب آپؐ کسی قوم کے پاس رات کو پہنچتے تو جب تک صبح نہ ہوجاتی آپؐ ان پر حملہ نہ کرتے۔ جب صبح ہوئی یہود اپنے پھاوڑے اورٹوکریاں لے کر نکلے ۔ جب انہوں نے آپؐ کو دیکھا تو کہنے لگے: }محمد ٭ہے بخدا{ محمد لشکر سمیت آپہنچا۔ تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ اکبر۔ خیبر برباد ہوگیا۔ ہم جب کسی قوم کے آنگن میں ڈیرا لگا تے ہیں تو پھر ان لوگوں کی صبح بری ہی ہوتی ہے جن کو قبل از وقت خطرے سے آگاہ کردیا گیا ہو۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زُہری سے روایت کی کہ سعید بن مسیب نے مجھے بتایا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں کا اس وقت تک مقابلہ کرتا رہوں جب تک کہ وہ یہ اقرار نہ کرلیں کہ اللہ کے سوا اَور کوئی معبود نہیں۔ سو جس نے اقرار کر لیا کہ اللہ کے سوا اَور کوئی معبود نہیں تو یقینا اس نے اپنی جان کو اور اپنے مال کو بچالیا، اس کے سوا کہ وہ حق کے ساتھ لئے جائیں اور اس شخص کا محاسبہ تو اللہ کے ذمہ ہے۔ حضرت عمرؓ اور (حضرت عبد اللہ) بن عمرؓنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسے روایت کیا۔
(تشریح)یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عُقَیل سے، عُقَیل نے ابن شہاب سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: عبدالرحمن بن عبداللہ }٭بن کعب بن مالک نے مجھے بتایا کہ عبداللہ{ بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا اور حضرت کعبؓ کے بیٹوں میں سے یہی تھے جو انہیں (بوجہ کمزور بینائی کے) پکڑ کر لے جایا کرتے تھے۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت کعب بن مالکؓ سے اس وقت سنا جب وہ (غزوئہ تبوک میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گئے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس جنگ کے لئے نکلنے کا ارادہ فرماتے تو اس کے سوا کسی اور جگہ کا قصد کرکے وہ (اصل جگہ) ظاہر نہ فرماتے۔
احمد بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں خبردی۔ یونس نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زُہری سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: عبدالرحمن بن عبداللہ بن کعب بن مالک نے مجھے بتایا، کہا: میں نے حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہتے تھے: ایسا کم ہی ہوتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی جنگ میں نکلنے کا ارادہ فرماتے تو جہاں جانا ہوتا اس کے سوا کسی اور طرف کا قصد کرکے (اصل جگہ کو) ظاہر نہ کرتے۔ جب تبوک پر چڑھائی ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سخت گرمی میں وہاں جانے کیلئے نکلے اور چونکہ آپؐ کو دور دراز کا سفر درپیش تھا اور ایک وسیع بیابان میں سے گذرنا تھا اور بڑی تعداد والے دشمن سے مقابلہ کرنا تھا۔ اس لئے آپؐ نے مسلمانوں کو ان کی اصلی حالت کھول کر بیان کردی تا جو سازوسامان انہیں اپنے دشمن سے مقابلہ کرنے کے لئے درکار ہو وہ اپنے ساتھ لے لیں اور جس رُخ آپؐ جانا چاہتے تھے وہ بھی انہیں بتا دیا۔