بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 66 hadith
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا، کہا: مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت کی کہ حضرت عمر بن خطابؓ نے مسجد کے دروازے کے پاس ایک ریشمی جوڑا دیکھا تو انہوں نے کہا: یا رسول اللہ ! اگر آپؐ اسے خرید لیں اور جمعہ کے روز پہنا کریں اور نمائندوں کی ملاقات کے وقت بھی جب وہ آپؐ کے پاس آئیں ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ تو وہی شخص پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ۔ پھر اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کے پاس اسی قسم کے کچھ جوڑے آئے تو آپؐ نے ان میں سے ایک جوڑا حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیا۔ حضرت عمرؓ نے کہا: یا رسول اللہ! آپؐ نے مجھے یہ پہننے کو دیا ہے حالانکہ آپؐ عطارد کے جوڑے کی نسبت فرماچکے ہیں، جو فرماچکے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: میں نے تمہیں اس لئے نہیں دیا تھا کہ اسے خود پہنو۔ تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک مشرک بھائی کو پہننے کے لئے دے دیا جو مکہ میں تھا۔
(تشریح)عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا، کہا: مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوالزناد سے، ابوالزناد نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر مجھے اس کا خیال نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو تکلیف میں ڈال دوں گا یا یہ فرمایا کہ اگر لوگوں کی تکلیف کا مجھے خیال نہ ہوتا٭ تو میں انہیں ضرور ہر نماز کے ساتھ مسواک کا حکم دیتا۔
ابومعمر نے ہم سے بیان کیا، کہا: عبدالوارث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: شعیب بن حبحاب نے ہم سے بیان کیا،(کہا:) ہم سے حضرت انسؓ نے بیان کیا، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے مسواک کے بارہ میں تمہیں بار ہا تاکید کی ہے۔
محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا، کہا: سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصور(ابن معمر اور حصین (بن عبدالرحمن ) سے ، ان دونوں نے ابووائل (بن شفیق) سے ۔ ابووائل نے حضرت حذیفہؓ (بن یمان)سے روایت کی۔ ا نہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو تہجد کے لیے اٹھتے تو آپؐ اپنے دانت مسواک سے رگڑ کر صاف کرتے ۔
محمد بن مثنیٰ نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابوعامر عقدی نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابراہیم بن طہمان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوجمرہ (نضر بن عبدالرحمن) ضبعی سے، ابوجمرہ نے حضرت ابن عباسؓؓ سے روایت کی ۔ انہوں نے کہا کہ پہلا جمعہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد والے جمعہ کے بعد ہوا، وہ بحرین کے علاقہ جواثیٰ میں عبد القیس کی مسجد میں ہوا۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا، کہا: شعیب نے ہمیں بتایا۔ زہری سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: سالم بن عبد اللہ (بن عمر) نے مجھ سے بیان کیا کہ انہوں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا: کہتے تھے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: جو تم میں سے جمعہ میں آئے چاہیے کہ وہ نہا لے۔
عبداللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا ۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے صفوان بن سلیم سے، صفوان نے عطاء بن یسار سے، عطاء نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جمعہ کے دن نہانا ہر ایک بالغ پر واجب ہے۔
اسماعیل نے ہم سے بیان کیا، کہا: سلیمان بن بلال نے مجھے بتایا۔ انہوں نے کہا: ہشام بن عروہ کہتے تھے: میرے والد نے مجھے بتایاکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ وہ کہتی تھیں:حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر ؓ آئے اور ان کے پاس ایک مسواک تھی جس سے وہ دانت صاف کررہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف دیکھا ۔ میں نے ان سے کہا: عبدالرحمن یہ مسواک مجھے دے دو۔ انہوں نے مجھے وہ دے دی۔ میں نے اسے توڑا پھر میں نے دانتوں سے چبائی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی۔ آپؐ نے اس سے دانت صاف کئے اور آپؐ میرے سینہ سے ٹیک لگائے ہوئے تھے۔
(تشریح)ابونعیم نے ہم سے بیان کیا، کہا: سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سعد بن ابراہیم سے، سعد نے عبدالرحمن بن ہرمز سے، عبدالرحمن نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ۔انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے روز صبح کی نماز میں اَلم تَنْزِیْلُ السجدہ اور ھَلْ اَتٰی عَلَی الْاِنْسَانِ پڑھا کرتے تھے۔
بشر بن محمد نے ہم سے بیان کیا، کہا: عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں بتایا، کہا: یونس نے زہری سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا،(کہا:) ہمیں سالم بن عبداللہ نے خبر دی کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔ }٭ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا۔{ آپؐ فرماتے تھے: تم میں سے ہر ایک پاسبان ہے۔ لیث (بن سعد) نے اپنی روایت میں اتنا زیادہ کیا۔ یونس نے کہا: رُزَیق بن حُکیم نے ابن شہاب کو لکھا جبکہ میں ان دِنوں وادی القریٰ میں ابن شہاب کے پاس تھا۔ کیا آپ کی رائے ہے کہ میں جمعہ پڑھائوں اور اس وقت رُزَیق اپنی زمین میں کھیتی کر رہے تھے۔ وہاں کچھ حبشی وغیرہ بھی تھے اور رزیق ایلہ کے حاکم تھے۔ ابن شہاب نے لکھا کہ جمعہ پڑھایا کریں اور میں سن رہا تھا۔ یہ بھی بتایا کہ سالم نے ان سے بیان کیا کہ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کہتے تھے: میں نے رسول اللہ ﷺ کوفرماتے سنا کہ تم میں سے ہر ایک پاسبان ہے اور تم میں سے ہر ایک اپنی رعیت کی نسبت پوچھا جائے گا۔ بادشاہ بھی پاسبان ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں پرسش ہو گی اور مرد بھی اپنے گھر والوں کا پاسبان ہے اور اس سے بھی اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا اور عورت بھی اپنے خاوند کے گھر کی پاسبان ہے۔ اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ نوکر بھی اپنے آقا کے مال کا پاسبان ہے۔ اس سے بھی اس کی رعیت کے بارے میںپرسش ہوگی (سالم) کہتے تھے اور میرا خیال ہے کہ آپؐ نے یہ بھی فرمایا: اور مرد اپنے باپ کے مال کا پاسبان ہے اور وہ بھی اپنی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا اور تم میں سے ہر ایک پاسبان ہے، اس سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔
(تشریح)