بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 66 hadith
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا، کہا: شعیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: علی بن حسین نے مجھے بتایا۔ مسور بن مخرمہ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور جب آپؐ نے کلمہ شہادت پڑھا۔ آپؐ کو میں نے یہ کہتے سنا: اما بعد (محمد بن ولید) زبیدی نے بھی زہری سے (شعیب کی طرح) روایت کی ہے۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا، کہا: بشر بن مفضل نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: عبیداللہ (عمری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت عبداللہ (بن عمرؓ) سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو خطبے پڑھتے ۔ جن کے درمیان آپؐ بیٹھتے ۔
(تشریح)ابونعمان نے ہم سے بیان کیا، کہا: حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو بن دینار سے، عمرو نے حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ایک شخص آیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن لوگوں سے مخاطب تھے۔ آپؐ نے فرمایا: فلاں کیا تم نے نماز پڑھی ہے؟ اس نے جواب دیا: نہیں۔ فرمایا: اٹھو اور نماز پڑھو۔
علی بن عبداللہ (مدینی ) نے ہم سے بیان کیا، کہا: سفیان(بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ عمرو سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت جابرؓ سے سنا۔ حضرت جابرؓ نے کہا: ایک شخص جمعہ کے دن (مسجد میں) آیا اور نبی ﷺ تقریر کررہے تھے۔ آپؐ نے فرمایا: کیا تم نے نماز پڑھی ہے ؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپؐ نے فرمایا: (اٹھو٭) اور دورکعتیں پڑھو۔
(تشریح)اسماعیل بن ابان نے ہم سے بیان کیا، کہا: (عبدالرحمن) ابن الغسیل (بن سلیمان) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: عکرمہ نے ہمیں بتایا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ وہ کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم منبر پرچڑھے اور یہ آپؐ کا آخری بیٹھنا تھا جو آپؐ ( منبر پر) بیٹھے۔ آپ ؐنے مونڈھوں پر ایک چادر لپیٹی ہوئی تھی اور اپنا سر ایک سیاہ پٹی سے باندھا ہوا تھا۔ آپؐ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی ۔ پھر فرمایا: لوگو ! میرے قریب آجائو ۔ تو لوگ آپؐ کے پاس اکٹھے ہوگئے۔ پھر آپؐ نے فرمایا: اما بعد یہ انصار کا قبیلہ کم ہوتا جائے گا اوردوسرے لوگ زیادہ ہوجائیں گے۔ پس جو شخص محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں امارت کا والی ہو اور اس وجہ سے اسے طاقت ہو کہ وہ کسی کو نقصان اور نفع پہنچا سکے تو چاہیے کہ وہ ان میں سے نیک کی نیکی کو قبول کرے اور ان کی ناگوار بات سے درگذر کرے۔
(تشریح)آدم نے ہم سے بیان کیا، کہا: (محمدبن عبدالرحمن) بن ابی ذئب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے، زہری نے ابوعبداللہ اغر(سلمان) سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی ۔ وہ کہتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب جمعہ کا دن ہوتا ہے تو ملائکہ مسجد کے دروازے پر کھڑے ہوکر لکھتے ہیں جو پہلے آتا ہے، اس کا پہلے اور سویرے جانے والے کی مثال اس شخص کی سی ہے جو اونٹ کی قربانی کرتا ہے۔ پھر اس شخص کی جو ایک گائے کی اور پھر اس کی جو ایک مینڈھے کی۔ پھر اس کی جو مرغی کی قربانی کرتا ہے۔ پھر اس کی جو انڈے کی قربانی کرتا ہے۔ پھر جب امام نکلتاہے تو وہ اپنے کاغذ لپیٹ لیتے ہیں اور غور سے نصیحت سنتے ہیں۔
(تشریح)مسدد(ابن مسرھد) نے ہم سے بیان کیا،کہا: حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبدالعزیزسے، عبدالعزیز نے حضرت انسؓ سے روایت کی اور (حماد نے ہی) یونس سے، یونس نے ثابت سے، ثابت نے حضرت انسؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: اس اثناء میں کہ نبی ﷺ جمعہ کے دن(لوگوں سے)مخاطب تھے ایک شخص اٹھا او ر اس نے کہا: یارسول اللہ گھوڑے تباہ ہوگئے ‘ بکریاں مر گئی ہیں۔ آپؐ اللہ سے دعا کریںکہ وہ مینہ برسائے۔ آپؐ نے اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے اور دعا کی۔
ابراہیم بن منذر نے ہم سے بیان کیا، کہا: ولید (بن مسلم) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: ابوعمرو(اوزاعی) نے ہمیں بتایا کہا: اسحق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے مجھے بتایا کہ حضرت انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں لوگوں کو قحط کی مصیبت پڑی۔ اسی اثناء میں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کہ دن لوگوں سے مخاطب تھے ایک دیہاتی کھڑا ہوا اور اس نے کہا: یارسول اللہ! جانور مر گئے ہیں اور بال بچے بھوکے ہیں۔ آپؐ اللہ سے ہمارے لئے دعا کریں۔ تب آپؐ نے دونوں ہاتھ اٹھائے اور حالت یہ تھی کہ آسمان میں بادل کا ایک ٹکڑا بھی ہمیں نظر نہ آتا تھا۔ اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ آپؐ نے ہاتھ نیچے نہیں کئے تھے کہ بادل پہاڑوں کی طرح امڈ آئے اور منبر سے آپؐ اس وقت تک نہیں اترے جب تک میں نے مینہ کے قطرے آپؐ کی داڑھی پر سے ٹپکتے نہ دیکھے۔ غرض اس روز دن بھر ہم پر بارش ہوتی رہی اور اگلے دن بھی اور اس سے اگلے دن بھی اور اس کے بعد کے دنوں میں بھی دوسرے جمعہ تک۔ پھر وہی دیہاتی یا( راوی نے یہ) کہا: کوئی اور شخص اٹھا اور اس نے کہا: یا رسول اللہ ! عمارتیں گر گئیں اور جانور ڈوب گئے۔ آپؐ اللہ سے ہمارے لئے د عاکریں۔ تب آپؐ نے اپنے ہاتھ اٹھائے اور کہا: اے اللہ!ہمارے اردرگرد(ہو) اور ہم پر نہ ہو۔ آپ ابر کے جس کنارے کی طرف بھی اپنے ہاتھ سے اشارہ فرماتے وہ پھٹ جاتا اور مدینہ تالاب سا بن گیا تھا اور قنات کا نالہ مہینہ بھربہتا رہا۔ اور جس طرف سے بھی کوئی آتا کثرت باراں کا ہی ذکر کرتا۔
(تشریح)