بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 66 hadith
مسلم بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا،کہا: وہیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: (عبداللہ) بن طائوس نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت ابوہریرہؓ سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے:ہم سب سے پیچھے آنے والے ہیں … قیامت کے دن سب سے آگے ہوں گے۔ (ہاں اتنی بات ہے کہ) ان کو ہم سے پہلے کتاب دی گئی اور ہمیں ان کے بعد دی گئی۔ سو یہ وہ دن ہے جس کے بارے میں انہوں نے اختلاف کیا اور اللہ تعالیٰ نے (اس میں) ہماری رہنمائی فرمائی۔ سو کل یہود کا دن ہے اور پرسوں عیسائیوں کا ۔ پھر آپؐ خاموش ہوگئے۔
پھر آپؐ نے فرمایا: ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ سات دنوں میں ایک دن نہائے۔ اس میں اپنے سر اور اپنے بدن کو دھوئے۔
یہ حدیث ابان بن صالح نے بھی روایت کی ۔ انہوں نے مجاہد سے، مجاہد نے طائوس سے، طائوس نے حضرت ابوہریرہؓ سے ، حضرت ابو ہریرہؓؓ کہتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کاہر مسلمان پر حق ہے کہ وہ سات دنوں میں سے ایک دن نہائے۔
عبداللہ بن محمد نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) شبابہ نے ہمیں بتایا۔ (انہوں نے کہا:) ورقاء نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو بن دینار سے، عمرو نے مجاہد سے، مجاہد نے حضرت ابن عمرؓ سے، حضرت ابن عمرؓنے نبی
عبدان نے ہم سے بیان کیا، کہا: عبداللہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: یحيٰ بن سعید نے ہم کو بتایا کہ انہوں نے عمرۃ (بنت عبدالرحمن) سے جمعہ کے روز نہانے کی بابت پوچھا: تو انہوں نے کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں: لوگ اپنے کام کاج آپ کیا کرتے تھے اور جب جمعہ کے لئے جاتے تو وہ اپنی اسی ہیئت میں جاتے اور ان سے کہا گیا: (اچھا ہو) اگر تم نہا لیا کرو۔
سریج بن نعمان نے ہم سے بیان کیا، کہا: فلیح بن سلیمان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عثمان بن عبدالرحمن بن عثمان تیمی سے، عثمان نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی ﷺ جمعہ اس وقت پڑھا کرتے تھے جب سورج ڈھل جاتا۔
عبدان نے ہم سے بیان کیا ،کہا: عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں خبردی۔ انہوں نے کہا: حمید نے ہمیں بتایا۔ حضرت انس (بن مالکؓ)سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: ہم جمعہ اول وقت پڑھتے اور جمعہ کے بعد قیلولہ کرتے۔
(تشریح)یوسف بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) ابواسامہ (حماد بن اسامہ) نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا:) عبیداللہ بن عمر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمرؓ سے روایت کہ وہ کہتے تھے: حضرت عمرؓ کی ایک بیوی تھیں جو مسجد میں صبح اور عشاء کی نماز باجماعت پڑھا کرتی تھیں۔ اس پر ان سے کہا گیا کہ تم کیوں باہر نکلتی ہو۔ حالانکہ تم جانتی ہو کہ حضرت عمرؓ اسے ناپسند کرتے ہیں اور وہ غیرت کرتے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا: پھر انہیں کیا رکاوٹ ہے کہ مجھے روک دیں۔انہوں نے کہا: انہیں رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان روکتا ہے کہ مسجد میں اللہ کی باندیوں کو آنے سے مت روکو۔
(تشریح)مسدد نے ہم سے بیان کیا، کہا: اسماعیل (بن علیہ) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: عبدالحمید صاحب الزیادی نے مجھے بتایا، کہا: عبدااللہ بن حارث نے جو محمد بن سیرین کے چچا کے بیٹے تھے ہم سے بیان کیاکہ حضرت ابن عباسؓ نے برسات کے دن اپنے مؤذن سے کہا: جب تم کہو: اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ ( اس کے بعد) یہ نہ کہو: نماز کے لئے آئو۔( بلکہ) کہو: اپنے گھروں میں نماز پڑھ لو۔ لوگوں نے اس بات کو اوپرا سمجھا۔ انہوں نے کہا: یہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کیا تھا۔ جو مجھ سے بہتر ہیں۔ دیکھو جمعہ فرض ہے اور میں نے ناپسند کیا کہ تم کو کیچڑ اور پھسلنے کی جگہوں میں چلنا پڑے۔
(تشریح)احمد (بن صالح) نے ہم سے بیان کیا، کہا: عبداللہ بن وہب نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: عمرو بن حارث نے مجھے بتایا۔ عبیداللہ بن ابوجعفر (بن زبیر) سے مروی ہے کہ محمد بن جعفر بن زبیر نے ان کو بتایا۔ انہوں نے عروہ بن زبیر سے، عروہ نے نبی ﷺکی زوجہ حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا) سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں: لوگ اپنے ڈیروں اور عوالی (مضافات مدینہ) سے باری باری جمعہ میں آتے تھے۔ راستے میں ان پر گرد پڑتی۔ پسینہ آجاتا اور ان سے پسینہ کی بو آتی۔ ان میں سے ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ ؐ میرے پاس ہی تھے۔ نبیﷺ نے فرمایاکہ (اچھا ہو) اگر تم اس دن نہا دھو کر صاف ستھرے ہوجایا کرو۔