بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 66 hadith
محمد بن مقاتل نے ہم سے بیان کیا، کہا: عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: یونس (بن یزید) نے ہمیںبتایا۔ زہری سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے سائب بن یزید کو کہتے سناکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکرؓؓ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے زمانے میں جمعہ کے دن پہلی اذان تب ہوا کرتی تھی جب امام جمعہ کے دن منبر پر بیٹھتا ۔ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کا زمانہ ہوا اور لوگ زیادہ ہوگئے توحضرت عثمانؓ نے جمعہ کے دن تیسری اذان کا حکم دیا اور وہ زوراء مقام پر دی گئی ۔ پھر یہی دستور رہا۔
(تشریح)آدم (بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابن ابی ذئب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے، زہری نے سالم سے، سالم نے اپنے باپ سے روایت کی ۔انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ منبر پر (کھڑے) لوگوں سے مخاطب تھے۔ آپؐ نے فرمایا: جو جمعہ میں آئے چاہیے کہ وہ نہالے۔
(تشریح)عبید اللہ بن عمر قواریری نے ہم سے بیان کیا، کہا: خالد بن حارث نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: عبید اللہ (بن عمر) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت (عبد اللہ) بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوکر تقریر فرماتے ۔ پھر بیٹھ جاتے۔ پھر کھڑے ہوجاتے اسی طرح جس طرح تم کرتے ہو۔
معاذ بن فضالہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: ہشام نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یحيٰ (بن کثیر) سے، یحيٰ نے ہلال بن ابی میمونہ سے روایت کی۔ (انہوں نے کہا:) عطاء بن یسار نے ہم سے بیان کیاکہ انہوں نے حضرت ابوسعید خدریؓ سے سنا ۔ انہوں نے کہاکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن منبر پر بیٹھے اور ہم آپؐ کے ارد گر د بیٹھے۔
قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا، کہا: یعقوب بن عبدالرحمن بن محمد بن عبداللہ بن عبدقاری قرشی اسکندرانی نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابوحازم بن دینار نے ہم سے بیان کیا، کہاکہ کچھ لوگ حضرت سہل بن سعد ساعدیؓ کے پاس آئے اوران کا منبر کے متعلق اختلاف تھا کہ اس کی لکڑی کس ( درخت) کی تھی۔ انہوں نے حضرت سہلؓ سے اس کی بابت پوچھا تو انہوں نے جواب دیا: بخدا میں خوب جانتا ہوں کہ وہ کس کی تھی۔ میں نے خود دیکھا تھا جبکہ وہ پہلے دن رکھا گیا اور جب پہلے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر بیٹھے تھے۔ آپؐ نے (انصاریوں میں سے۱؎ ) فلاں عورت کو کہلا بھیجا اور حضرت سہل ؓنے اس کا نام بھی لیا، اپنے غلام سے جو بڑھئی ہے، کہو کہ وہ میرے لئے ایسی لکڑیوں سے بنادے کہ جس پر؛ جب میں لوگوں سے گفتگو کروں؛ بیٹھا کروں۔ تب اس نے اس کو حکم دیا اور اس غلام نے غابہ کے جھائو سے اس کو بنایا۔ پھر انہیں لے آیا اور اس عورت نے رسول اللہ ﷺ کے پاس وہ بھیج دیں۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا (کہ وہ یہاں رکھی جائیں) اور وہ یہاں رکھی گئیں۔ پھر میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپؐ نے اس منبر پر نماز پڑھی اور اللہ اکبر کہا۔ پھر رکوع کیا اس وقت آپؐ اسی پر تھے۔ پھر اُلٹے پائوں نیچے اترے اور منبر کے پائیدان کے پاس سجدہ کیا پھر(وہیں) لوٹ گئے۔ جب فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: لوگو ! میں نے یہ اسی لئے کیا ہے کہ تم (میری۲؎ ) پیروی کرو اور میری نماز سیکھو۔
سعید بن ابی مریم نے ہم سے بیان کیا، کہا: محمد بن جعفر (بن ابی کثیر) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: یحيٰ بن سعید نے مجھے بتایا، کہا: (عبداللہ) بن انس نے مجھ سے بیان کیا کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہؓ (انصاری )سے سنا ۔ وہ کہتے تھے کہ کھجور کا تنا تھاجس کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوا کرتے تھے۔ جب آپؐ کے لئے منبر رکھا گیا۔ تو ہم نے اس تنے سے ایسی آوازیں سنیں جو دس مہینے کی گابھن اونٹنی کی آواز کی مانند تھیں اور آخر نبی ﷺ نیچے اتر آئے اور اپنا ہاتھ اس پر رکھا ۔ (اور) سلیمان نے یحيٰ سے یوں روایت کی ہے کہ حفص بن عبید اللہ بن انس نے مجھے بتایا کہ انہوں نے حضرت جابرؓ سے سنا۔
اور محمود نے کہا کہ ابواسامہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: ہم کو ہشام بن عروہ نے بتایا،کہا: فاطمہ بنت منذر نے مجھے بتایا۔ انہوں نے حضرت اسماء بنت ابی بکرؓ سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں: میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی لوگ نماز پڑھ رہے تھے۔ میں نے کہا: لوگوں کی یہ کیا حالت ہے؟ انہوں نے اپنے سر سے آسمان کی طرف اشارہ کیا۔ میں نے کہا: کیا کوئی نشانِ الٰہی ہے ؟تو انہوں نے اپنے سر سے اشارہ کیا۔ یعنی ہاں۔ کہتی تھیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت لمبی(نماز) پڑھائی۔ یہاں تک کہ مجھ پر غشی طاری ہوگئی اور میرے قریب ایک مشک تھی جس میں کچھ پانی تھا۔ میں نے وہ کھولی اور اس سے اپنے سر پرپانی ڈالنے لگی اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے اور سورج ظاہر ہوچکاتھا ۔ آپؐ لوگوں سے مخاطب ہوئے اور آپؐ نے اللہ تعالیٰ کی تعریف کی جس کا کہ وہ اہل ہے۔ پھر آپؐ نے فرمایا: اما بعد۔ کہتی تھیں: اور انصار کی چند عورتوں نے شورو غل شروع کردیا۔ میںان کی طرف لپکی تاکہ میں انہیں خاموش کروں ۔ میں نے حضرت عائشہؓ سے پوچھا کہ آپ نے کیا فرمایاہے؟ انہوں نے کہا: آپؐ نے فرمایا ہے: کوئی بھی ایسی چیز نہیں جو مجھ کو پہلے نہیں دکھلائی گئی تھی۔ مگر میں نے اسے اپنی اس جگہ میں دیکھ لیا ہے۔ یہاں تک کہ جنت و نار بھی اور مجھے وحی کی گئی ہے کہ تم قبروں میں مسیح دجال کی آزمائش کی طرح یا اس کے قریب قریب آزمائے جائو گے۔ تم میں سے ایک کے پاس فرشتہ آئے گا او ر اس سے پوچھا جائے گا کہ اس شخص کی نسبت تمہیں کیا علم ہے؟ جو ماننے والا یافرمایا یقین کرنے والا ہے۔ ہشام نے شک کیا ( کہ ان دونوں میں سے کونسا لفظ تھا) تو وہ کہے گا: وہ اللہ کے رسول ہیں۔ وہ محمد ہیں صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس کھلے کھلے دلائل اور ہدایت کی باتیں لائے۔ ہم نے مان لیا اور قبول کیا اور ہم نے فرمانبرداری کی اور ہم نے سچا جانا۔ تو اس سے کہا جائے گا: آرام سے سوجا۔ ہم تو جانتے ہی تھے کہ تو ان کو ماننے والا ہے اور جو منافق ہو گا یا فرمایا شک کرنے والا ہوگا ہشام نے شک کیا (کہ ان دونوں لفظوں میں سے کون سا لفظ تھا) تو اس سے پوچھا جائے گا: اس شخص کے متعلق تمہیں کیا علم ہے ؟وہ کہے گا: میں نہیںجانتا۔ میں نے لوگوں کو کچھ کہتے سنا، میں نے بھی کہہ دیا۔ ہشام کہتے تھے: فاطمہ نے جو کچھ مجھ سے کہا، میں نے اسے یاد رکھا ہے۔ مگر انہوں نے کچھ ذکر کیا تھا کہ اس منافق پر سختی کی جائے گی ( وہ مجھے یاد نہیں رہا) ۔
محمد بن معمر نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابوعاصم نے جریر بن حازم سے روایت کی انہوں نے کہا: میں نے حسن (بصری) سے سنا۔ وہ کہتے تھے: ہم سے حضرت عمرو بنت تغلبؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ مال یا کوئی چیز لائی گئی۔ آپؐ نے وہ بانٹ دی ۔ آپؐ نے بعض آدمیوں کو دیا اور بعض کو نہ دیا۔ پھر آپؐ کو یہ خبر پہنچی کہ جن لوگوں کو آپؐ نے چھوڑ دیا تھا۔ وہ کچھ ناراض ہیں۔ آپؐ نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی اور اس کی تعریف کی۔پھر فرمایا: اما بعد ۔ اللہ کی قسم! میں ایک شخص کو دیتا ہوں (اور ایک شخص کو چھوڑ دیتا ہوں ) اور حالانکہ جسے چھوڑ تا ہوں ۔ وہ مجھ کو زیادہ پیار اہوتا ہے بہ نسبت اس کے جسے میں دیتا ہوں۔ لیکن میں بعض لوگوں کو اس لئے دیتا ہوں کہ ان کے دلوں میں بے چینی اور بے صبری دیکھتا ہوں اور بعض لوگوں کو اس سیر چشمی اور بھلائی کے حوالہ کردیتا ہوں جو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں پیدا کی ہوتی ہے۔ انہی لوگوں میں عمرو بن تغلبؓ بھی ہیں( یہ کہتے تھے:) بخدا! میں ہرگز پسند نہیں کرتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بات کے مقابل میں مجھے سرخ اونٹ ملتے۔ یونس (بن عبید) نے بھی یہی روایت بیان کی ہے۔
یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا، کہا: لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عقیل (بن خالد) سے عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: عروہ نے مجھے بتایا کہ حضرت عائشہؓ نے ان کو خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ ایک دفعہ آدھی رات کو باہر گئے اورمسجد میں نماز پڑھی اور لوگوں نے بھی آپؐ کی اقتداء میں نماز پڑھی۔ لوگ صبح اٹھے انہوں نے( نماز پڑھنے والوں سے سن کر) آپس میں (اس کے متعلق) بات چیت کی (دوسری رات) پہلے سے بھی زیادہ لوگ اکٹھے ہوگئے اور انہوں نے رسول اللہ ﷺکے ساتھ نماز پڑھی۔ لوگ صبح اٹھے اور آپس میں باتیں کیں۔ تیسری رات مسجد کے لوگ اور زیادہ ہوگئے۔ رسول اللہ ﷺ باہر آئے اور لوگوں نے آپؐ کی اقتداء میں نماز پڑھی۔ جب چوتھی رات ہوئی تو مسجد لوگوں کو سمیٹ نہ سکی( لیکن آپؐ گھر سے باہر تشریف نہ لائے) آخر جب صبح کی نماز کے لئے آپؐ آئے اور فجر پڑھا چکے تو لوگوں کی طرف آپؐ متوجہ ہوئے اور کلمہ شہادت پڑھا۔ پھر فرمایا: اما بعد- مجھ سے پوشیدہ نہ تھا کہ تم لوگ مسجد میں ہو لیکن میں ڈر گیا ۔ مبادا تم پر یہ نماز فرض ہوجائے اور تم اس سے عاجز آجائو ۔(عقیل کی طرح )یونس (بن یزید) نے بھی یہی روایت بیان کی ہے۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا، کہا: شعیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: عروہ نے مجھے بتایا۔ حضرت ابوحمیدؓ ساعدی سے مروی ہے کہ انہوں نے ان کو بتایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات (عشاء کی) نماز کے بعد کھڑے ہوئے اور کلمہ شہادت پڑھا اور جس تعریف کے اللہ تعالیٰ لائق ہے آپ نے اس کی تعریف کی۔ پھر فرمایا: اما بعد ۔ (زہری کی طرح) ابو معاویہ اور ابو اسامہ نے بھی ہشام (بن عروہ) سے، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے ابی حمید سے، حضرت ابو حمیدؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: اما بعد۔ اور (ابوالیمان کی طرح محمد بن یحيٰ) عدنی نے سفیان سے اما بعد سے متعلق روایت کی۔