بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 6 of 66 hadith
معاویہ بن عمرو نے ہم سے بیان کیا، کہا: زائدہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حصین سے، حصین نے سالم بن ابی جعد سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے: حضرت جابر بن عبداللہؓ نے ہم سے بیان کیا، کہا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے کہ اتنے میں ایک قافلہ غلہ اٹھائے ہوئے سامنے آگیا تو لوگ اس کی طرف متوجہ ہوگئے۔ یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سوا بارہ آدمیوں کے اور کوئی نہ رہا۔ تب یہ آیت نازل ہوئی: وَاِذَا رَأَوْا تِجَارَۃً … یعنی جب وہ تجارت یا کھیل دیکھیں تو اس پر ٹوٹ پڑیں اور تجھے کھڑا چھوڑ دیں۔
(تشریح)عبداللہ بن یوسف (تینسی) نے ہم سے بیان کیا، کہا: مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز سے پہلے دورکعتیں اور اس کے بعد دو رکعتیں اور مغرب کے بعد اپنے گھر میں دورکعتیں اور عشاء کے بعد دورکعتیں پڑھا کرتے تھے اور جمعہ کے بعد ( مسجد میں ) نہیں پڑھتے تھے۔ جب گھر لوٹ کر جاتے تو دورکعتیں پڑھتے۔
عبداللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: (عبدالعزیز) بن ابی حازم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت سہلؓ (بن سعد) سے روایت کرتے ہوئے یہی بیان کیا اور کہا:ہم جمعہ کے بعد ہی قیلولہ بھی کرتے اور کھانا بھی کھاتے تھے۔
(تشریح)محمد بن عقبہ شیبانی نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابواسحق فزاری نے ہمیں بتایا کہ حمید (طویل) سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت انسؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: جمعہ کے دن ہم سویرے نمازپڑھ لیتے تھے۔ پھر قیلولہ کرتے۔
سعید بن ابی مریم نے ہم سے بیان کیا کہا: ابوغسان نے ہم سے بیان کیا ۔ انہوں نے کہا: ابوحازم نے مجھے بتایا۔ حضرت سہلؓ ( بن سعد) سے مروی ہے کہ وہ کہتے تھے: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ پڑھتے اورپھر قیلولہ ہوتا۔
(تشریح)سعید بن ابی مریم نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابوغسان نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابوحازم نے مجھے بتایا کہ حضرت سہلؓ (بن سعد ساعدی )سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: ہم میں ایک عورت تھی وہ اپنی کھیتی کی نالیوں پر چقندر بویا کرتی تھی۔ جب جمعہ کا دن ہوتا تو وہ چقندر کی جڑیں نکال کر ایک ہانڈی میں ڈالتی اور اس کے اوپر مٹھی بھر جو کا آٹا پیس کر ڈالتی۔ گویا چقندر کی جڑیں اس میں بوٹیاں ہوتیں۔ ہم جمعہ کی نماز سے فارغ ہوکر لوٹتے اور اس کو سلام کرتے اوروہ یہ کھانا ہمارے سامنے رکھتی اور ہم اس کو چاٹ لیتے اور اس کے اس کھانے پر ہمیں جمعہ کے دن کی آرزو رہتی۔