بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 187 hadith
موسیٰ (بن اسماعیل) نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالواحد (بن زیاد) نے ہمیں بتایا۔ عمارہ (بن قعقاع) نے ہمیں بتایا کہ ابوزرعہ (بن عمرو بن جریر)نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: میں حضرت ابوہریرہؓ کے ساتھ ایک گھر میں داخل ہوا ہوا جو مدینہ میں تھا تو انہوں نے مکان کی چھت پر ایک مصور کو دیکھا کہ تصویریں بنا رہا تھا۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے کہ (اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:) اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہے جو میری مخلوق جیسی مخلوق بنانے لگا۔ پس وہ ایک دانہ ہی پیدا کریں اور وہ ایک چیونٹی تو بنائیں ۔ پھر انہوں نے پانی کا ایک لگن منگوایا اور اپنے ہاتھ دھونے لگے اور دھوتے دھوتے اپنے بغلوں تک پہنچایا۔ میں نے کہا: ابوہریرہؓ ! کیا یہ ایسی بات ہے جسے آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا؟ انہوں نے کہا: جہاں تک زیور پہنا جاسکتا ہے وہاں تک دھوتا ہوں۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ بن داؤد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام (بن عروہ) سے، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی۔ وہ فرماتی تھیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر سے آئے اور میں نے پردہ لٹکایا ہوا تھا جس میں مورتیں تھیں۔ آپؐ نے مجھے حکم دیا کہ میں اس کو اتار ڈالوں ۔ میں نے اس کو اتار ڈالا۔
اور میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن سے نہایا کرتے تھے۔
عمران بن میسرہ نے ہمیں بتایا کہ عبدالوارث نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالعزیز بن صہیب نے ہم سے بیان کیا۔ عبدالعزیز نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت عائشہؓ کا ایک پردہ تھا جس سے انہوں نے اپنے گھر کی ایک جانب کو ڈھانپ دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان(حضرت عائشہؓ) سے فرمایا: مجھ سے یہ پردہ ہٹا دوکیونکہ اس کی تصویریں میری نماز میں میرے سامنے آتی رہی ہیں۔
محمد بن مثنیٰ نے ہمیں بتایا کہ محمد بن جعفر غندر نے مجھ سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا، شعبہ نے عون بن ابی جحیفہ سے، عون نے اپنے باپ سے روایت کی کہ انہوں نے ایک غلام خریدا جو حجام تھا۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خون نکالنے کی قیمت اور کتے کی قیمت اور رنڈی کی کمائی لینے سے منع کیا ہے اور سود کھانے والے اور کھلانے والے کو اور گودنے والی اور گدوانے والی کو اور مورت بنانے والے کو لعنتی قرار دیا۔
علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: میں نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے سنا اور مدینہ میں ان دنوں ان سے بڑھ کر اور کوئی نہ تھا۔انہوں نے کہا: میں نے اپنے باپ سےسنا۔ا نہوں نے کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر سے آئے اور میں نے اپنے ایک برآمدے پر اپنا ایک سرخ پردہ ڈالا ہوا تھا جس میں تصویریں تھیں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا تو آپؐ نے اسے پھاڑ دیا اور فرمایا: قیامت کے دن جن لوگوں کو سخت سے سخت سزا ہوگی وہ لوگ بھی ہیں جو اللہ کی مخلوق کی طرح بناتے ہیں۔ فرماتی تھیں: پھر ہم نے اس سے ایک یا (فرمایا) دو توشک بنالیں۔
حجاج بن منہال نے ہم سے بیان کیا کہ جویریہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے قاسم (بن محمد) سے، قاسم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے ایک گدا خریدا جس میں تصویریں تھیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ کر دروازے پر کھڑے ہوئے ، اندر نہیں آئے۔ میں نے کہا: میں اللہ کے حضور توبہ کرتی ہوں اس سے جو قصور میں نے کیا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: یہ گدا کیا ہے؟ میں نے کہا: اس لئے تا آپؐ اس پر بیٹھیں اس پر تکیہ لگائیں۔ آپؐ نے فرمایا: جن لوگوں نے یہ مورتیاں بنائی ہیں انہیں قیامت کے دن سزا دی جائے گی۔ انہیں کہا جائے گا: جو تم نے بنایا ہے ان میں جان ڈالو اور ملائکہ اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں مورت ہو۔
قتیبہ (بن سعید) نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے بکیر (بن عبداللہ بن اشج) سے، بکیر نے بُسر بن سعید سے، بُسر نے زید بن خالد سے، زید نے حضرت ابوطلحہؓ سے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ملائکہ اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں مورت ہو۔ بُسر نے کہا: اس کے بعد زید بیمار ہوئے اور ہم ان کی عیادت کو گئے تو کیا دیکھا کہ ان کے دروازے پر ایک پردہ ہے جس میں مورت ہے۔ میں نے عبید اللہ ( بن اسود) خولانی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت میمونؓہ کے ربیب تھے، سے کہا: کیا زید نے ہمیں پہلے ان مورتوں کے متعلق نہیں بتایا تھا؟ عبیداللہ نے کہا: کیا تم نے ان سے نہیں سنا جب انہوں نے کہا: مگر ایسا نقش جو کپڑے میں ہو ؟ اور (عبداللہ) بن وہب نے کہا کہ ہمیں عمرو نے جو کہ حارث کے بیٹے ہیں بتایا کہ بکیر نے ان سے بیان کیا کہ بُسر نے ان سے بیان کیا کہ زیدنے ان کو بتایا کہ حضرت ابوطلحہؓ نے ان سے بیان کیا۔ انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کی۔
یحيٰ بن سلیمان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا کہ (عبداللہ) بن وہب نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: عمر بن محمد نے مجھ سے بیا ن کیا۔ عمر نے سالم سے، سالم نے اپنے باپ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: جبریل نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے کا وعدہ کیا مگر آپؐ کے پاس آنے میں دیر لگائی یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر گراں گزرا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے۔ پھر جبریل آپؐ سے ملے ۔ آپؐ نے ان سے اس تکلیف کی شکایت کی جو آپؐ نے محسوس کی۔ انہوں نے آپؐ سے کہا: ہم ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں مورت ہو اور نہ (اس میں) جس میں کتا ہو۔
عبداللہ بن مسلمہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے نافع سے، نافع نے قاسم بن محمد سے، قاسم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے قاسم سے ذکر کیا کہ انہوں نے ایک گدا خریدا جس میں تصویریں تھیں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا تو آپؐ دروازے پر کھڑے ہوگئے اور اندر داخل نہ ہوئے۔ حضرت عائشہؓ آپؐ کے چہرے پر ناپسندیدگی کو پہچان گئیں،کہنے لگیں: یا رسول اللہ ! میں اللہ کے حضور اور اس کے رسول کے سامنے توبہ کرتی ہوں۔ میں نے کیا قصور کیا؟ آپؐ نے فرمایا: یہ گدا کیسا ہے۔ انہوں نے کہا:میں نے اس کو اس لئے خریدا ہے کہ آپؐ اس پہ بیٹھیں اور تکیہ لگائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان تصویروں والوں کو قیامت کے دن سزا دی جائے گی اور ان سے کہا جائے گا کہ جو تم نے بنایا اس میں جان ڈالو اور فرمایا: جس گھر میں مورتیں ہوں فرشتے اس میں داخل نہیں ہوتے۔