بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 520 hadith
عبداللہ بن محمد جُعفی نے مجھے بتایا کہ ابوعامرعبدالملک (بن عمروعقدی) نے ہم سے بیان کیا کہ ابراہیم نے جو کہ طہمان کے بیٹے ہیں, ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوجمرہ سے, ابوجمرہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: پہلا جمعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں ہوا تھا۔ اس کے بعد جو جمعہ پڑھا گیا وہ عبدالقیس کی مسجد میں تھا جو جواثیٰ میں تھی۔ (جواثیٰ) بحرین کی ایک بستی تھی۔
(تشریح)اور میں نے ابورجاء سے سنا وہ کہتے تھے: جس زمانہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے، میں اس وقت لڑکا ہی تھا۔ اپنے گھر والوں کے اونٹ چرایا کرتا تھا۔ جب ہم نے آپؐ کے ظاہر ہونے کی خبر سنی، ہم بھاگ کر آگ کی طرف چلے گئے یعنی مسیلمہ کذاب کی طرف ۔
(تشریح)ہم سے عبداللہ بن یوسف (تنیسی) نے بیان کیا کہ ہمیں لیث (بن سعد) نے بتایا۔ انہوں نے کہا: مجھ سے سعید بن ابی سعید (مقبری) نے بیان کیا کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، حضرت ابوہریرہؓ کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کی طرف کچھ سوار بھیجے اور وہ بنی حنیفہ کا ایک آدمی پکڑ کر لے آئے، جسے ثمامہ بن اُثال کہتے تھے۔ انہوں نے اس کو مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون کے ساتھ باندھ دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس باہر آئے۔ آپؐ نے پوچھا: ثمامہ تمہاری کیا رائے ہے؟ (یعنی یہ کہ میں تمہارے ساتھ کیا معاملہ کروں گا۔) اس نے کہا: محمد! اس بارے میں میری رائے اچھی ہی ہے۔ اگر تم نے مجھے مار ڈالا تو ایسے آدمی کو مارو گے جو خون کر چکا ہے۔ اگرتم احسان کرو تو شکرگزار پر احسان کرو گے۔اور اگر تم مال چاہتے ہو تو اس سے جو چاہو مانگو۔ثمامہ کو اپنے حال پر چھوڑ دیا گیا۔ جب دوسرا دن ہوا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ثمامہ تمہاری کیا رائے ہے؟ اس نے کہا: میں تو عرض کر چکا۔اگر آپؐ احسان کریں تو شکرگزارپر احسان کریں گے۔ آپؐ نے اسے پھر ویسے ہی رہنے دیا۔ جب تیسرا دن ہوا۔ آپؐ نے کہا: ثمامہ تمہاری کیا رائے ہے؟ اس نے کہا: وہی جو میں کہہ چکا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا: ثمامہ کو آزاد کردو۔ اس پر وہ ایک پانی پر چلا گیا جو مسجد کے قریب تھا اور نہایا۔ پھر مسجد میں آیا اور کہنے لگا: میں گواہی دیتا ہوں کہ کوئی معبود نہیں سوائے اللہ کےاور محمد اللہ کے رسول ہیں۔ محمدؐ! اللہ کی قسم، زمین پر کوئی منہ بھی آپؐ کے منہ سے بڑھ کر میرے نزدیک زیادہ قابل نفرت نہیں تھا مگر آج آپؐ کا چہرہ تمام چہروں سے مجھے زیادہ پیارا ہے۔ اللہ کی قسم! آپؐ کے دین سے بڑھ کر کوئی دین قابل نفرت نہیں تھا مگر آج آپؐ کا دین تمام دینوں سے بڑھ کر مجھے محبوب ہے۔ اللہ کی قسم! کوئی شہر بھی آپؐ کے شہر سے بڑھ کر میرے لئے قابل نفرت نہیں تھا مگر آج آپؐ کا شہر تمام شہروں سے بڑھ کر مجھے محبوب ہے اور آپؐ کے سواروں نے مجھے پکڑ لیا جبکہ میں عمرہ کا ارادہ کررہا تھا۔ آپؐ کی کیا رائے ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے اس کو بشارت دی اور اس کو کہا کہ وہ عمرہ ادا کرے۔ جب وہ مکہ میں پہنچا، کسی کہنے والے نے اسے کہا: تم نے دین بدل ڈالا۔ اس نے کہا: اللہ کی قسم! نہیں, بلکہ میں محمد رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا فرمانبردار ہوگیا ہوں اور اللہ کی قسم! تمہارے پاس یمامہ کی طرف سے گندم کا ایک دانہ بھی ہرگز نہیں آئے گا جب تک کہ نبی ﷺ اس کے متعلق اجازت نہ دیں گے۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ عبداللہ بن ابی حسین سے مروی ہے کہ نافع بن جبیر نے ہم سے بیان کیا: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: مسیلمہ کذاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں آیا اور کہنے لگا: اگر محمؐد اپنے بعد مجھے جانشین بنائیں تو میں اُن کا پیرو ہوں گا اور وہ مدینہ میں اپنی فوج کے بہت سے لوگوں کے ساتھ آیا۔ رسول اللہ صلی ا للہ علیہ وسلم اس کے پاس آئے اور آپؐ کے ساتھ حضرت ثابت بن قیس بن شماسؓ تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں کھجور کی ایک چھڑی تھی۔ آپؐ آکر مسیلمہ کے سامنے جبکہ وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ بیٹھا تھا, کھڑے ہوگئے۔ آپؐ نے فرمایا: اگر تو مجھ سے یہ لکڑی کا ٹکڑا بھی مانگے, میں تمہیں یہ بھی نہ دوں اور تو ہرگز اللہ کے فیصلے سے آگے نہیں بڑھ سکے گا، جو تیرے لئے مقدر ہے اور اگر تو پیٹھ پھیر کر چلا گیا تو اللہ تمہاری جڑ کاٹ دے گا اور میں تمہیں وہی شخص دیکھ رہا ہوں جس کے متعلق مجھے خواب میں بہت کچھ دکھایا گیا ہے اور یہ ثابتؓ ہیں جو میری طرف سے تمہیں جواب دیں گے اور یہ کہہ کر آپؐ اس کو چھوڑ کر واپس چلے گئے۔
حضرت ابن عباسؓ کہتے تھے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کے متعلق پوچھا کہ تم کو میں وہی شخص دیکھ رہا ہوں جس کے متعلق مجھے خواب میں وہ کچھ دکھایا گیا جو دکھایا گیا۔ حضرت ابوہریرہؓ نے مجھ سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک بار میں سویا ہوا تھا کہ اس اثنا میں مَیں نے اپنے ہاتھ میں سونے کے دو کنگن دیکھے۔ ان کی کیفیت نے مجھے فکر میں ڈال دیا۔ پھر مجھے خواب میں وحی کی گئی کہ میں ان پر پھونکوں۔ چنانچہ میں نے ان پر پھونکا اور وہ اُڑ گئے۔ میں نے ان کی تعبیر دو جھوٹے شخص سمجھے جو میرے بعد ظاہر ہوں گے۔ ان میں سے ایک عنسی ہے اور دوسرا مسیلمہ۔
اسحاق بن نصر نے مجھ سے بیان کیا کہ عبدالرزاق نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے معمر سے, معمر نے ہمام سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک بار میں سویا ہوا تھا کہ اس اثناء میں میرے پاس زمین کے خزانے لائے گئے اور میرے ہاتھ میں سونے کے دو کنگن ڈالے گئے۔ مجھ پر یہ گراں گزرا۔ پھر مجھے وحی کی گئی کہ میں ان پر پھونکوں۔ میں نے ان پر پھونکا تو وہ غائب ہوگئے۔ میں نے ان کنگنوں کی تعبیر دو جھوٹے شخص سمجھے جن کے درمیان میں ہوں۔ یعنی صنعاء والا (اسود عنسی) اور یمامہ والا (مسیلمہ کذاب)۔
صلت بن محمد نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے مہدی بن میمون سے سنا۔ انہوں نے کہا: میں نے ابورجاء عطاردی سے سنا۔ کہتے تھے: ہم پتھروں کی پوجا کیا کرتے تھے جب ہم ایک پتھر پاتے جو پہلے سے بہتر ہوتا، اس کو پھینک دیتے اور دوسرے کو لے لیتے اور اگر کوئی پتھر نہ پاتے تو ہم مٹی کو اکٹھا کرکے ایک چھوٹی سی ڈھیری بناتے،پھر اس کے بعد بکری لاتے اور اس پر اُس کو دوہتے اور اس کا طواف کرتے۔ جب رجب کا مہینہ آتا، ہم کہتے: اَنّی اور تیروں کے اُتار کر رکھ دینے والا (مہینہ) آگیا ہے۔ تو کوئی برچھا نہ چھوڑتے جس میں لوہے کا پھل ہوتا اور نہ ہی کوئی ایسا تیر جس میں لوہے کا پھل ہوتا مگر اس کو کھینچ کر نکال لیتے اور اسے رجب کے مہینے میں ہی پھینک دیتے ۔
سعید بن محمد جرمی نے ہمیں بتایا۔ یعقوب بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ میرے باپ (ابراہیم بن سعد) نے صالح (بن کیسان) سے, صالح نے ابن عبیدہ بن نشیط سے روایت کی اور ایک دوسری جگہ ان کا نام عبداللہ بیان ہوا ہے کہ عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے کہا: ہمیں یہ خبر پہنچی کہ مسیلمہ کذاب مدینہ میں آیا ہے اور حارث (بن کریز) کی بیٹی (کیسہ) کے گھر میں اُترا ہے اور حارث بن کریز کی بیٹی اس کی بیوی تھی اور وہ عبداللہ بن عامر کی ماں تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آئے اور آپؐ کے ساتھ حضرت ثابت بن قیس بن شماسؓ بھی تھے اور یہ وہ شخص ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خطیب کہلاتے تھے اور اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں کھجور کی ایک چھڑی تھی۔ آپؐ مسیلمہ کے سامنے ٹھہر گئے اور اس سے گفتگو کی۔ مسیلمہ نے آپؐ کی بات سن کر آپؐ سے کہا: آپ چاہیں حکومت سے متعلق ہمارے درمیان دخل نہ دیں اور آپؐ اپنے بعد یہ امر ہمارے لئے ہی کردیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا: اگر تم مجھ سے یہ چھڑی بھی مانگو تو میں تمہیں یہ بھی ہرگز نہ دوں اور میں تمہیں وہی شخص سمجھتا ہوں جس کے بارے میں مجھے خواب میں بہت کچھ دکھایا گیا ہے اور یہ ثابتؓ بن قیس ہیں۔ میری طرف سے یہ تمہیں جواب دیں گے۔ یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم لَوٹ گئے۔
عبیداللہ بن عبداللہ کہتے تھے: میں نے حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے رسول اللہ ﷺ کی اس رؤیا کی بابت پوچھا جس کا آپؐ نے ذکر کیا تھا۔ حضرت ابن عباسؓ نے کہا: مجھ سے ذکر کیا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک بار میں سویا ہوا تھا کہ اسی اثناء میں مَیں دیکھتا ہوں کہ میرے دونوں ہاتھوں میں سونے کے دو کنگن ڈالے گئے ہیں ۔ انہیں دیکھ کر میں گھبراگیا اور میں نے انہیں ناپسند کیا۔ مجھے حکم ہوا (کہ ان پر پھونک مارو۔) میں نے ان پر پھونک ماری اور وہ اُڑگئے۔ میں نے ان کی تعبیر یہ سمجھی کہ دو جھوٹے شخص ظاہر ہوں گے۔ عبیداللہ نے کہا: (ان میں سے) ایک (وہ) عنسی ہے جس کو فیروز نے یمن میں مارڈالا اور دوسرا مسیلمہ کذاب ہے۔
(تشریح)عباس بن حسین نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ بن آدم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اسرائیل سے, اسرائیل نے ابواسحاق سے, ابواسحاق نے صلہ بن زُفر سے, صلہ نے حضرت حذیفہؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: عاقب (عبدالمسیح) اور سید (ایہم) جو نجران کے عیسائیوں کے دو رئیس تھے رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے۔ وہ چاہتے تھے کہ آپؐ سے مباہلہ کریں۔ حضرت حذیفہؓ کہتے تھے: ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا: مباہلہ نہ کریں۔ کیونکہ اللہ کی قسم! اگر وہ نبی ہوئے اور ہمارے لئے لعنت کی دعا کی تو ہم کبھی کامیاب نہ ہوں گے اور نہ ہماری اولاد ہمارے بعد۔ ان دونوں نے کہا: ہم آپؐ کو جو بھی آپؐ ہم سے مانگیں گے, دیں گے۔ آپؐ ہمارے ساتھ ایک امین شخص بھیجیں اور آپؐ ہمارے ساتھ سوائے امین کے کسی کو نہ بھیجیں۔ آپؐ نے فرمایا: میں تمہارے ساتھ ایک امین شخص ہی بھیجوں گا جو بڑا ہی امین ہوگا۔ یہ سن کر رسول اللہ ﷺ کے صحابہؓ سر اُٹھاکر آپؐ کی طرف دیکھنے لگے۔ آپؐ نے فرمایا: ابوعبیدہ بن جراحؓ! اُٹھو کھڑے ہوجاؤ۔ جب وہ کھڑے ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اس امت کا امین ہے۔