بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 161 hadith
اور تم اس حکومت کے لئے سب سے بہتر وہ شخص پاؤ گے جو اُن میں سے سب سے زیادہ اس سے نفرت کرتا ہوگا یہاں تک کہ وہ اس میں پھنس جائے۔ اور لوگ بھی کانوں کی طرح ہیں۔ زمانہ جاہلیت میں جو ان میں سے بہتر تھے، وہ اسلام میں بھی ان سے بہتر ہیں۔
اور تم میں سے ایک پر ایسا وقت ضرور آئے گا کہ مجھے دیکھنا اس کو زیادہ پسند ہوگا بہ نسبت اس کے کہ اس کو اپنے کھوئے ہوئے بیوی بچے اور مال و دولت مل جائیں جو اُس کے تھے۔
سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ جریربن حازم نے ہمیں بتایا کہ میں نے حسن (بصری) سے سنا۔ وہ کہتے تھے: حضرت عمروؓ بن تغلب نے ہم سے بیان کیا، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے کہ اس گھڑی سے پہلے تم ایسے لوگوں سے لڑو گے جو بالوں والے جوتے پہنتے ہیں اور تم ایسے لوگوں سے لڑو گے جن کے منہ گویا ڈھالیں ہیں، جن پر تہہ بہ تہہ چمڑہ چڑھا ہوتا ہے۔
حکم بن نافع نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا کہ زہری سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: سالم بن عبداللہ نے مجھے بتایا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: یہود تم سے لڑیں گے۔ تمہیں ان پر غالب کیا جائے گا۔ یہاں تک کہ پتھر کہے گا: اے مسلمان! یہ یہودی ہے میرے پیچھے، اس کو مار ڈالو۔
ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ ابن عیینہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے، زہری نے عروہ سے، عروہ نے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم محلوں (یعنی بلند مکانوں) میں سے ایک محل پر چڑھے اور فرمایا: کیا تم بھی دیکھتے ہو جو میں دیکھ رہا ہوں؟ میں فتنوں کو دیکھتا ہوں جو تمہارے گھروں کے اندر ایسے پڑ رہے ہیں، جیسے بارش کے قطرے پڑتے ہیں۔
یحيٰ نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالرزاق نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے معمر سے، معمر نے ہمام سے، ہمام نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ گھڑی نہیں برپا ہوگی جب تک کہ تم خوز اور کرمان (یا خوزستان) سے نہ لڑو؛ یعنی ان اعجمیوں سے جن کے چہرے سرخ، ناک پھیلے ہوئے، آنکھیں چھوٹی چھوٹی ہیں گویا ان کے چہرے ڈھالیں ہیں جن پر تہہ بہ تہہ چمڑہ چڑھا ہوتا ہے۔ ان کے جوتے بالوں کے ہوں گے (یحيٰ کے سوا اس حدیث کو) اوروں نے بھی عبدالرزاق سے نقل کیا ہے۔
علی بن عبداللہ (مدینی) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا، کہا کہ اسماعیل نے بتایا کہ قیس نے مجھے خبردی، کہا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس ہم آئے تو وہ کہنے لگے: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تین برس رہا۔ اپنے ان تین برسوں میں مَیں کسی بات پر بھی اتنا حریص نہ تھا جیسا کہ اس بات پر کہ میں آپؐ کی باتیں یاد رکھوں۔ میں نے آپؐ کو فرماتے سنا اور آپؐ نے اپنے ہاتھ سے یوں اشارہ کیا۔ فرمایا: اس گھڑی سے پہلے تم ایسے لوگوں سے لڑو گے جن کے جوتے بالوں کے ہیں اور وہ یہ بارِز لوگ ہیں۔ اور سفیان نے ایک مرتبہ یوں کہا کہ وہ بازِر کے لوگ ہیں۔
قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو سے، عمرو نے حضرت جابر سے، حضرت جابرؓ نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوسعیدؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ وہ جنگ کرنے کے لئے نکلیں گے اور پوچھا جائے گا: کیا تم میں ایسے لوگ ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہے ہوں؟ تو وہ کہیں گے: ہاں۔ تو پھر ان کو فتح ہوگی۔ پھر لوگ جنگ کرنے کے لئے نکلیں گے اور ان سے پوچھا جائے گا: کیا تم میں ایسے لوگ ہیں جو اُن لوگوں کی صحبت میں رہے ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے؟ تو وہ کہیں گے: ہاں؛ تو پھر ان کو فتح ہوگی۔
محمد بن حکم نے مجھ سے بیان کیا کہ نضر نے ہمیں بتایا۔ اسرائیل نے ہمیں خبردی، (کہا:) سعد طائی نے ہمیں خبردی کہ محل بن خلیفہ نے ہمیں بتایا کہ حضرت عدی بن حاتمؓ سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: ایک بار میں نبی ﷺ کے پاس تھا۔ اتنے میں ایک شخص آپؐ کے پاس آیا تو اس نے آپؐ سے بھوک کا شکوہ کیا۔ پھر آپؐ کے پاس ایک اور شخص آیا اور اس نے آپؐ سے رہزنی کا شکوہ کیا۔ آپؐ نے فرمایا: عدی! کیا تم نے حیرہ دیکھا ہے؟ (یہ بستی کوفہ کے پاس ہے) میں نے کہا: اسے میں نے نہیں دیکھا مگر مجھے اس کی نسبت بتایا گیا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: اگر تمہاری زندگی لمبی ہوئی تو تم اکیلی سوار عورت کو دیکھ لو گے کہ وہ حیرہ سے چل کر آئے گی اور کعبہ کا طواف کرے گی۔ سوا اللہ کے کسی سے نہ ڈر ے گی۔ میں نے اپنے دل میں کہا: طی (قبیلہ) کے وہ ڈاکو کہاں چلے جائیں گے جنہوں نے شہروں میں آگ بھڑکائی ہے۔ (آپؐ نے فرمایا:) اگر زندگی تمہاری لمبی ہوئی تو کسرٰی کے خزانے ضرور فتح کیے جائیں گے۔ میں نے کہا: کسرٰی بن ہرمز کے؟ آپؐ نے فرمایا: کسرٰی بن ہرمز کے؛ اور اگرزندگی تمہاری لمبی ہوئی تو تم یہ بھی دیکھ لو گے کہ ایک آدمی اپنی مٹھی بھر سونا یا چاندی نکالے گا اور ایسے شخص کو تلاش کررہا ہوگا جو اس سے وہ قبول کرے اور وہ کسی کو بھی نہ پائے گا جو اُس سے اس کو لے اور تم میں سے ایک اللہ سے اس روز ضرور ملے گا جس روز کہ وہ اس سے ملے گا۔ حالت یہ ہوگی کہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی ترجمان نہ ہوگا جو اس کے لئے ترجمانی کرے اور وہ فرمائے گا: کیا میں نے تیرے پاس رسول نہیں بھیجا جو تجھے میرا حکم پہنچائے؟ تو وہ کہے گا: کیوں نہیں، ضرور بھیجا ہے اور وہ فرمائے گا: کیا میں نے تجھے مال نہیں دیا تھا اور تجھ پر فضل نہیں کیا تھا۔ وہ کہے گا: کیوں نہیں، ضرور کیا تھا۔ پھر وہ اپنی دائیں طرف دیکھے گا تو جہنم ہی دیکھے گا اور اپنی بائیں طرف دیکھے گا تو جہنم ہی دیکھے گا۔ عدیؓ کہتے تھے: میں نے نبی ﷺ سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: آگ سے بچو خواہ کھجور کا ایک ٹکڑا دے کر؛ اور جو کھجور کا ایک ٹکڑا نہ پائے تو وہ اچھی بات سے ہی۔ عدیؓ کہتے تھے: چنانچہ میں نے عورت سوار دیکھی جو حیرہ سے چل کر آئی اور کعبہ کا طواف کرتی۔ اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرتی اور میں بھی ان لوگوں میں سے تھا جنہوں نے کسرٰی بن ہرمز کے خزانے فتح کئے اور اگر زندگی تمہاری لمبی ہوئی تو تم بھی ضرور ان باتوں کو پورا ہوتے دیکھ لو گے جو اس نبی ابو القاسم ﷺ نے فرمائی ہیں؛ یعنی یہ کہ ایک آدمی مٹھی بھر (سونا چاندی) لے کر نکلے گا (اور کوئی اس کو قبول نہ کرے گا۔ (
سعید بن شرحبیل نے مجھ سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یزید (بن ابی حبیب) سے، یزید نے ابوالخیر سے، ابوالخیر نے حضرت عقبہ بن عامرؓ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن باہر آئے اور اُحد والوں کا اس طرح جنازہ پڑھا جس طرح آپؐ میت کا جنازہ پڑھا کرتے تھے۔ پھر فارغ ہوکر منبر پرآئے اور فرمایا: میں تمہارا پیش خیمہ ہوں گا اور میں تمہارا گواہ ہوں گا۔ اللہ کی قسم اب اس وقت بھی اپنے حوض کو دیکھ رہا ہوں اور مجھے زمین کے خزانوں کی چابیاں دی گئی ہیں اور اللہ کی قسم! اپنے بعد مجھے یہ ڈر نہیں کہ تم مشرک ہوجاؤ گے بلکہ یہ ڈر ہے کہ تم دنیا میں پڑ کر ایک دوسرے کی ریس کرنے لگ جاؤ گے۔