بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 161 hadith
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے روایت کی۔ انہوں نے حضرت انس بن مالکؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: حضرت ابوطلحہؓ نے حضرت امّ سلیمؓ سے کہا: میں نے رسول اللہﷺ کی آواز کمزور سنی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ آپؐ کو بھوک ہے۔ کیا تمہارے پاس کچھ ہے؟ حضرت امّ سلیمؓ نے کہا: ہاں۔ یہ کہہ کر جَو کی کچھ روٹیاں نکال لائیں۔ پھر انہوں نے اپنی ایک اوڑھنی نکالی اور ان روٹیوں کو اس کے ایک کنارے میں لپیٹ دیا اور وہ میرے ہاتھ میں دے دیں اور اوڑھنی کا کچھ حصہ میرے بدن پر لپیٹ دیا۔ پھر انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی طرف مجھے بھیجا۔ حضرت انسؓ کہتے تھے: میں وہ لے کر چلا گیا۔ تو رسول اللہ ﷺ کو مسجد میں پایا۔ آپؐ کے ساتھ کچھ لوگ تھے۔ میں ان کے پاس کھڑا ہوگیا تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا: کیا ابوطلحہؓ نے تجھے بھیجا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپؐ نے فرمایا: کھانا دے کر؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ رسول اللہ ﷺ نے ان لوگوں سے کہا جو آپؐ کے پاس تھے: چلو اُٹھو۔ آپؐ چل پڑے اور میں بھی آپؐ کے آگے آگے چل پڑا اور حضرت ابوطلحہؓ کے پاس پہنچا اور ان کو بتایا۔ حضرت ابوطلحہؓ کہنے لگے: امّ سلیم! رسول اللہ ﷺ لوگوں کو لے آئے ہیں اور ہمارے پاس اتنا کھانا نہیں جو اُن کو کھلائیں۔ وہ بولیں: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ حضرت ابوطلحہؓ گئے اور جاکر رسول اللہ ﷺ سے ملے۔ رسول اللہ ﷺ آئے، حضرت ابوطلحہؓ آپؐ کے ساتھ تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: امّ سلیم! جو تمہارے پاس ہو وہ لے آؤ۔ وہ روٹیاں لے آئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق فرمایا۔ وہ توڑی گئیں اور حضرت امّ سلیمؓ نے گھی کی ایک کُپّی نچوڑی اور اس کو بطور سالن کے پیش کیا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے ان روٹیوں پر دعا کی جو دعا اللہ نے چاہی کہ کریں۔ پھر آپؐ نے فرمایا کہ دس آدمیوں کو اندر آنے کی اجازت دو۔ ان کو اجازت دی اور لوگوں نے اتنا کھایا کہ وہ سیر ہوگئے اور باہر چلے گئے۔ پھر آپؐ نے فرمایا: دس اور آدمیوں کو اجازت دو۔ ان کو اجازت دی اور لوگوں نے اتنا کھایا کہ وہ سیر ہوگئے اور باہر چلے گئے۔ پھرآپؐ نے فرمایا: دس اور آدمیوں کو اجازت دو۔ ان کو اجازت دی اور لوگوں نے اتنا کھایا کہ وہ سیر ہوگئے اور باہر چلے گئے۔ پھر آپؐ نے فرمایا: دس اور آدمیوں کو اجازت دو۔ ان کو اجازت دی اور لوگوں نے اتنا کھایا کہ وہ سیر ہو گئے۔ اور باہر چلے گئے۔ غرض ان سب لوگوں نے کھایا اورپیٹ بھر کر کھایا اور وہ لوگ ستّر یا اسّی آدمی تھے۔
محمد بن مثنیٰ نے مجھ سے بیان کیا کہ ابواحمد زبیری نے ہمیں بتایا کہ اسرائیل نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے منصور سے، منصور نے ابراہیم سے، ابراہیم نے علقمہ سے، علقمہ نے حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ہم ان نشانوں کو برکت شمار کرتے تھے اور تم سمجھتے ہو کہ وہ ڈرانے کے لئے تھے۔ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے اور پانی کم ہوگیا۔ آپؐ نے فرمایا: کچھ بچا ہوا پانی تلاش کرو۔ چنانچہ وہ ایک برتن لائے جس میں تھوڑا سا پانی تھا۔ آپؐ نے اپنا ہاتھ برتن میں ڈالا۔ پھر فرمایا: آؤ برکت والا پاکیزہ پانی لو اور برکت خدا کی طرف سے ہے۔ میں نے پانی کو دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان سے پھوٹ کر نکل رہا تھا اور ہم تو کھانے کی تسبیح بھی سنا کرتے تھے، اس حالت میں کہ جب کھایا جاتا تھا۔
ابونُعیم نے ہم سے بیان کیا کہ زکریا نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: عامر نے مجھ سے بیان کیا، کہا: حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا کہ ان کے باپ فوت ہوگئے اور ان کے ذمہ کچھ قرض تھا۔ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے کہا: میرے باپ اپنے ذمہ قرض چھوڑ گئے ہیں اور میرے پاس کچھ نہیں مگر وہی جو کھجوروں کے درخت پیدا کرتے ہیں اور یہ کھجوریں کئی سالوں تک بھی پیداوار دیں تو وہ بھی ان کے قرضہ کو نہیں نپٹا سکیں گی۔ اس لئے آپؐ میرے ساتھ چلیں تاکہ قرض خواہ مجھے گالیاں نہ دیں۔ آپؐ کھجوروں کے ڈھیروں میں سے ایک ڈھیر کے اردگرد گھومے اور دعا کی۔ پھر دوسرے ڈھیر کے اردگرد گھومے پھر بیٹھ گئے۔ آپؐ نے فرمایا: کھجوریں نکالو۔ غرض آپؐ نے جو قرض ان کا تھا، ان کو پورا کا پورا دیا اور جتنا آپؐ نے ان کو دیا تھا، اتنا ہی بچ رہا۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ معتمر نے اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا: ابوعثمان نے ہم سے بیان کیا۔ حضرت عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما نے انہیں بتایا کہ صفہ والے محتاج لوگ تھے۔ اور ایک دفعہ نبی ﷺ نے فرمایا: جس کے پاس دو آدمیوں کا کھانا ہو، وہ تیسرے کو لے جائے اور جس کے پاس چار کا کھانا ہو، وہ پانچویں کو لے جائے یا چھٹے کو یا ایسے ہی کچھ الفاظ فرمائے۔ اور حضرت ابوبکرؓ تین آدمیوں کو لے آئے اور نبی ﷺ دس کو لے گئے اور گھر میں حضرت ابوبکرؓ اور تین اور شخص تھے۔ حضرت عبدالرحمٰنؓ کہتے تھے: میں، میرا باپ اور میری ماں۔ میں نہیں جانتا آیا انہوں نے یہ بھی کہا کہ میری بیوی یا میرا خادم جو کہ ہمارے اور حضرت ابوبکرؓ کے گھر میں مشترکہ تھا۔ اور ایسا ہوا کہ حضرت ابوبکرؓ نے نبی ﷺ کے ہاں شام کا کھانا کھایا۔ پھر وہیں ٹھہرے رہے یہاں تک کہ عشا ء کی نماز پڑھی پھر واپس آگئے۔ وہ وہاں اتنی دیر ٹھہرے کہ رسول اللہ ﷺ نے شام کا کھانا کھایا اور اتنی رات گذرنے کے بعد آئے جتنا کہ اللہ نے چاہا۔ ان کی بیوی نے ان سے کہا: کس بات نے آپؓ کو اپنے مہمانوں سے یا کہا مہمان سے روکے رکھا؟ حضرت ابوبکرؓ نے کہا: کیا تم نے انہیں کھانا نہیں کھلایا؟ وہ کہنے لگیں: انہوں نے آپؓ کے آنے تک کھانے سے انکار کردیا۔ انہوں نے تو ان کے سامنے کھانا پیش کر دیا تھا مگر مہمانوں نے ان کی پیش نہ چلنے دی۔ حضرت عبدالرحمٰنؓ کہتے تھے: میں جاکر چھپ رہا۔ حضرت ابوبکرؓ نے کہا: اے بیوقوف! اور انہوں نے سخت سست کہا۔ اور مہمانوں سے کہنے لگے: کھانا کھائیں اور خود قسم کھالی کہ میں ہرگز نہیں کھاؤں گا۔ حضرت عبدالرحمٰنؓ کہتے تھے: اللہ کی قسم! ہم جو لقمہ بھی لیتے، اس کے نیچے سے اس سے زیادہ کھانا بڑھ جاتا اور انہوں نے اتنا کھایا کہ وہ سیر ہوگئے اور جتنا پہلے تھا اس سے بھی زیادہ ہوگیا۔ حضرت ابوبکرؓ نے دیکھا تو وہ کھانا ویسے کا ویسا بلکہ اس سے بھی زیادہ تھا۔ انہوں نے اپنی بیوی سے کہا: بنی فراس کی بہن! (یہ کیا!) وہ بولیں: قسم میری آنکھوں کی ٹھنڈک کی یہ تو اَب اس سے تین گنا زیادہ ہے جتنا پہلے تھا۔ حضرت ابوبکرؓ نے بھی اس سے کھایا اور کہنے لگے: وہ تو صرف شیطان تھا یعنی اس کی تحریک پر میں نے نہ کھانے کی قسم کھائی تھی۔ پھر اس میں سے ایک لقمہ کھایا۔ اس کے بعد وہ کھانا اُٹھا کر نبی ﷺ کے پاس لے گئے اور وہ آپؐ کے ہاں صبح تک رہا۔ ہمارے اور ایک قوم کے درمیان عہد تھا اور اس کی معیاد گذر گئی تھی۔ ہم بارہ آدمی الگ الگ چلے گئے۔ ان میں سے ہر ایک آدمی کے ساتھ کچھ لوگ تھے، اللہ بہتر جانتا ہے کہ ہر ایک آدمی کے ساتھ کتنے تھے۔ مگر اس قدر ضرور ہے کہ آپؐ نے ان آدمیوں کو لوگوں کے ساتھ بھیجا۔ حضرت عبدالرحمٰنؓ کہتے تھے: تو ان سب نے اس کھانے میں سے کھایا ۔ یا کچھ ایسا ہی کہا۔ ان کے علاوہ بعض نے کہا: اس جگہ (فَفَرَّقْنَا کی بجائے لفظ) فَعَرَّفْنَا ہے جو عِرَافَۃ سے ہے۔ (یعنی ہم نے نگران بنایا۔)
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ حماد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبدالعزیز سے، عبدالعزیز نے حضرت انسؓ سے روایت کی۔ نیز (حماد نے) یونس سے، یونس نے ثابت سے، ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مدینہ والوں میں قحط پڑا۔ ایک جمعہ کے دن آپؐ لوگوں سے مخاطب تھے کہ اتنے میں ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا: یارسول اللہ! گھوڑے مر گئے، بکریاں تباہ ہوگئیں۔ اللہ سے دعا کریں کہ ہمیں پانی دے۔ آپؐ نے یہ سن کر اپنے ہاتھ پھیلائے اور دعا کی۔ حضرت انسؓ کہتے تھے: اس وقت حالت یہ تھی کہ آسمان بالکل آئینہ کی طرح صاف تھا۔ اتنے میں آندھی اُٹھی۔ اس نے اَبر کو اُٹھایا۔ پھر وہ اَبر گھل گیا اور آسمان نے اپنے دھانے کھول دئیے ۔ ہم پانی میں سے چلتے ہوئے اپنے گھروں کو پہنچے اور دوسرے جمعہ تک ہم پر بارش ہوتی رہی تو وہی شخص یا اس کے سوا کوئی اور اُٹھ کر آپؐ کی طرف آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ! گھر گر گئے۔ اللہ سے دعا کریں کہ بارش تھامے۔ آپؐ مسکرائے۔ پھر آپؐ نے دعا کی: ہمارے اردگرد برسے اور ہم پر نہ برسے تو میں نے بادل کو دیکھا کہ وہ پھٹ کر مدینہ کے اردگرد ہو گیا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا گویا مدینہ مثل تاج ہے۔
محمد بن مثنیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ بن کثیر ابوغسان نے ہمیں بتایا کہ ابوحفص نے ہم سے بیان کیا اور ان کا نام عمر بن علاء ہے جو ابوعمرو بن علاء کے بھائی تھے۔ وہ کہتے تھے: میں نے نافع سے سنا۔ وہ حضرت ابن عمررضی اللہ عنہما سے روایت کرتے تھے کہ نبی ﷺ کھجور کے ایک تنے سے سہارا لے کر لوگوں سے مخاطب ہوا کرتے تھے۔ جب آپؐ نے منبر بنوایا تو پھر آپؐ اس پر چلے گئے، اس تنے نے اپنے درد اور شوق کا اظہار کیا تو آپؐ اس کے پاس آئے اور اس پر اپنا ہاتھ پھیرا۔ اور عبد الحمید نے کہا: عثمان بن عمر نے ہمیں بتایا کہ معاذ بن علاء نے نافع سے روایت کرتے ہوئے ہمیں یہ حدیث بتائی۔اور ابو عاصم نے بھی اسے روایت کیا ہے۔ انہوں نے ابن ابی روّاد سے، انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمرؓ سے، حضرت ابن عمرؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔
ابونُعَیم نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالواحد بن ایمن نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: میں نے اپنے باپ سے، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن ایک درخت سے، یا (کہا:) کھجور کے درخت سے ٹیک لگا کر کھڑے ہوا کرتے تھے۔ تو انصار کی ایک عورت نے یا مرد نے کہا: یارسول اللہ! کیا ہم آپؐ کے لئے منبر نہ بنوا دیں؟ آپؐ نے فرمایا: اگرتم چاہو۔ تو انہوں نے آپؐ کے لئے منبر بنوایا۔ جب جمعہ کا دن ہوا، آپؐ اس منبر پر گئے تو کھجور کا درخت بچے کے رونے کی طرح چلانے لگا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نیچے اترآئے اور اس کو اپنے گلے لگایا۔ وہ اس بچے کے رونے کی طرح رو رہا تھا جس کو چپ کرایا جاتا ہے۔ حضرت جابرؓ کہتے تھے: وہ اس بات پر رو رہا تھا کہ پہلے اپنے قریب ذکر الٰہی سنا کرتا تھا۔
اسماعیل (بن ابی اویس) نے ہم سے بیان کیا، کہا: میرے بھائی نے مجھے بتایا۔ انہوں نے سلیمان بن بلال سے، سلیمان نے یحيٰ بن سعید سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حفص بن عبیداللہ بن انس بن مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا۔ وہ کہتے تھے کہ مسجد کھجور کے تنوں پر چھتی ہوئی تھی۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم تقریر فرماتے تو ان تنوں میں سے ایک تنے پر سہارا لے کر کھڑے ہوتے جب آپؐ کے لئے منبر تیار کیا گیا اور آپؐ اس پر بیٹھے ہوئے تھے تو ہم نے اس تنے کی آواز سنی جو دس مہینے کی گابھن اونٹنی کی آواز ہوتی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آئے اور آپؐ نے اس پر اپنا ہاتھ رکھا تو وہ چپ ہوگیا۔
محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا کہ ابن ابی عدی نے شعبہ سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا۔ نیز بشر بن خالد نے ہم سے بیان کیا کہ محمد (بن جعفر غندر) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے شعبہ سے، شعبہ نے سلیمان سے روایت کی۔ (انہوں نے کہا:) میں نے ابووائل سے سنا۔ وہ کہتے تھے: حضرت حذیفہؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے کہا: تم میں سے کون رسول اللہ ﷺ کی بات فتنہ سے متعلق یاد رکھتا ہے؟ حضرت حذیفہؓ نے کہا: میں یاد رکھتا ہوں، اسی طرح پر جس طرح آپؐ نے فرمایا تھا۔ حضرت عمرؓ نے کہا: آئیں بیان کریں، آپؓ تو بڑے دلیر ہیں۔ (حضرت حذیفہؓ نے کہا:) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وہ فتنہ جو کہ مرد کو اس کی بیوی یا اس کے مال یا اس کے ہمسایہ کی وجہ سے پیش آتا ہے، نماز پڑھنے اور صدقہ دینے اور بھلی بات کا حکم کرنے اور بُری بات سے روکنے سے اس کا کفارہ ہوجاتا ہے۔ حضرت عمرؓ نے کہا: میری مراد اس فتنہ سے نہیں بلکہ وہ فتنہ جو سمندر کی موج کی طرح ٹھاٹھیں مارے گا۔ حضرت حذیفہؓ نے کہا: امیر المومنین! اس فتنہ سے آپؓ کو کوئی ڈر نہیں۔ آپؓ کے اور اس کے درمیان ایک بند دروازہ ہے۔ حضرت عمرؓ نے پوچھا: یہ دوازہ کھولا جائے گا یا توڑا جائے گا؟ حضرت حذیفہؓ نے کہا: نہیں بلکہ توڑا جائے گا۔ حضرت عمرنے کہا: پھر یہ دروازہ تو کبھی بھی بند نہیں ہونے کا۔ ہم نے (حضرت حذیفہؓ سے) پوچھا: کیا {حضرت عمرؓ کو} اس دروازہ کا علم تھا؟ کہا: ہاں، اسی طرح جس طرح یہ علم تھا کہ کل کی صبح سے پہلے رات ہے۔ میں نے ان سے ایک ایسی حدیث بیان کی جو غلط باتوں میں سے نہ تھی۔ (ابووائل کہتے تھے کہ) ہم جھینپے کہ حضرت حذیفہؓ سے پوچھیں اور ہم نے مسروق سے کہا تو انہوں نے ان سے پوچھا کہ وہ دروازہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: حضرت عمر۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا: ابوزناد نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: اس وقت تک وہ گھڑی برپا نہیں ہوگی جب تک تم ایسے لوگوں سے نہ لڑو جن کے جوتے بالوں کے ہوں گے یعنی جب تک کہ تم ترکوں سے نہ لڑو جو چھوٹی آنکھوں والے، سرخ منہ، پھیلی ہوئی ناکوں والے ہیں؛ گویا ان کے چہرے ڈھالیں ہیں جن پر تہہ بہ تہہ چمڑہ چڑھا ہوتا ہے۔