بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 161 hadith
ابونُعَیم نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالرحمٰن بن سلیمان بن حنظلہ ابن غسیل نے ہمیں بتایا کہ عکرمہ نے ہم سے بیان کیا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اس بیماری میں جس میں آپؐ فوت ہوئے، چادر اوڑھے ہوئے باہر آئے۔ آپؐ نے ایک چکنے کپڑے سے اپنا سر باندھا ہوا تھا، آکر منبر پر بیٹھ گئے۔ اللہ کی حمدوثنا کی۔ پھر آپؐ نے فرمایا: امابعد لوگ تو بڑھ جائیں گے اور انصار کم ہوجائیں گے یہاں تک کہ لوگوں کے مقابل میں و ہ ایسے ہی ہوں گے جیسے کھانے میں نمک۔ اس لئے تم میں سے جو کسی ایسی بات پر مقرر ہو کہ جس میں وہ لوگوں کو نقصان دے سکتا ہو اور بعض کو وہ اس میں فائدہ پہنچا سکتا ہو تو جو اُن انصار میں سے اچھے کام کرنے والا ہو، اس سے وہ قبول کرے اور جو اُن میں سے برائی کرنے والا ہو، اس سے درگذر کرے ۔ یہی آخری مجلس تھی جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے۔
سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیاکہ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب سے، ایوب نے حُمَید بن ہلال سے، حُمَید نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جعفرؓ )بن ابی طالب)اور حضرت زیدؓ (بن حارثہ) کے شہید ہونے کی خبر دی۔ پیشتر اس کے کہ لوگوں کو ان کے شہید ہونے کی خبر آتی؛ اور آپؐ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔
عبداللہ بن محمد نے مجھ سے بیان کیا کہ یحيٰ بن آدم نے ہمیں بتایا کہ حسین جعفی نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے ابوموسیٰ سے، ابوموسیٰ نے حسن (بصری) سے، حسن نے حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن حسنؓ کو باہر لائے اور ان کو لے کر منبر پرچڑھے۔ آپؐ نے فرمایا: میرا یہ بیٹا سردار ہے اور امید ہے کہ اللہ اس کے ذریعہ سے مسلمانوں کے دو گروہوں کے درمیان صلح کرائے۔
عمرو بن عباس نے ہم سے بیان کیا کہ (عبدالرحمٰن) بن مہدی نے ہمیں بتایا کہ سفیان (ثوری) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے محمد بن منکدر سے، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے پاس قالین ہیں؟ میں نے کہا: ہمارے پاس قالین کہاں! آپؐ نے فرمایا: سنو! عنقریب تمہارے پاس بھی قالین ضرور ہوں گے۔ میں اس سے کہا کرتا یعنی اپنی بیوی سے کہ ان اپنے قالینوں کو ہم سے ہٹا دو۔ تو وہ کہتی: کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (تمہیں) نہیں فرمایا تھا کہ عنقریب تمہارے پاس بھی قالین ہوں گے تو یہ سن کر میں نے انہیں رہنے دیا۔
احمد بن اسحاق نے مجھ سے بیان کیا کہ عبیداللہ بن موسیٰ نے ہمیں بتایا۔ اسرائیل نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے ابواسحاق سے، ابواسحاق نے عمرو بن میمون سے، عمرو نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: حضرت سعد بن معاذ عمرہ کی نیت سے چلے گئے۔ حضرت عبداللہ کہتے تھے: اور وہ امیہ بن خلف ابوصفوان کے پاس اُترے اور امیہ کی عادت تھی کہ جب شام کی طرف جاتا تو مدینہ سے گذرتا، حضرت سعدؓ کے پاس ٹھہرتا۔ امیہ نے حضرت سعدؓ سے کہا: ابھی انتظار کرو۔ جب دوپہر ہو، اور لوگ غافل ہوجائیں تو جاکر طواف کرلینا۔ اس اثناء میں کہ حضرت سعدؓ طواف کررہے تھے، کیا دیکھتے ہیں کہ ابوجہل ہے ۔ وہ کہنے لگا: یہ کون ہے جو کعبہ کا طواف کررہا ہے؟ حضرت سعدؓ نے کہا: میں سعد ہوں۔ ابوجہل بولا: کیا تم کعبہ کا طواف امن سے کرو گے حالانکہ تم نے محمد (ﷺ) اور اس کے ساتھیوں کو پناہ دی ہے۔ حضرت سعدؓ نے کہا: ہاں۔ تب ان دونوں نے ایک دوسرے کو گالیاں دیں۔ امیہ نے حضرت سعدؓ سے کہا: ابوالحکم پر اپنی آواز اونچی نہ کرو کیونکہ وہ باشندگانِ وادی کا سردار ہے۔ حضرت سعدؓ نے کہا: بخدا اگر تم نے بیت اللہ کا طواف کرنے سے مجھے روکا تو میں بھی شام میں تمہاری تجارت بند کردوں گا۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کہتے تھے: یہ سن کر امیہ حضرت سعدؓ سے یہی کہتا رہا کہ اپنی آواز بلند نہ کرو اور ان کو روکتا رہا۔ حضرت سعدؓ غصہ میں آئے اور کہنے لگے: ہمیں ان باتوں سے رہنے دو۔ میں نے محمد ﷺ سے سنا ہے کہ آپؐ فرماتے تھے: یہی تمہیں قتل کروانے والا ہے۔ امیہ نے کہا: مجھ کو! حضرت سعدؓ نے کہا: ہاں۔ یہ سن کر امیہ بولا: اللہ کی قسم! محمدؐ جب بات کہتے ہیں تو جھوٹی بات نہیں کہتے۔ آخر وہ اپنی بیوی کے پاس واپس آیا اور کہنے لگا: کیا تمہیں علم نہیں کہ میرے یثربی بھائی نے مجھ سے کیا کہا ہے؟ اس نے پوچھا: کیا کہا؟ امیہ نے کہا: کہتا ہے کہ اس نے محمدؐ سے سنا کہ وہ کہتے ہیں کہ ابوجہل ہی میرا قاتل ہوگا۔ اس کی بیوی نے بھی کہا: اللہ کی قسم! محمدؐ تو جھوٹی بات نہیں کیا کرتے۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کہتے تھے: جب وہ بدر کی طرف نکلے اور مددطلب کرنے کیلئے فریادی آیا توامیہ کی بیوی نے اس سے کہا: کیا وہ بات تمہیں یاد نہیں جو تمہارے یثربی بھائی نے تم سے کہی تھی؟ کہتے تھے: تو اس نے چاہا کہ نہ نکلے مگر ابوجہل نے ا سے کہا کہ تم اس وادی کے رؤساء میں سے ہو تو ایک دو دِن کے لئے ہی ساتھ چلو۔ چنانچہ وہ ان کے ساتھ دو دِن کے لیے چلا گیا اور اللہ نے اس کو قتل کرا دیا۔
عباس بن ولید نرسی نے ہم سے بیان کیا کہ معتمر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: میں نے اپنے باپ سے سنا۔ انہوں نے کہا: ابوعثمان نے ہم سے بیان کیا، کہا: مجھے بتایا گیا ہے کہ جبرئیل علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور اس وقت آپؐ کے پاس حضرت امّ سلمہؓ تھیں اور وہ باتیں کرنے لگے۔ پھر اُٹھ کر چلے گئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت امّ سلمہؓ سے پوچھا: یہ کون ہے یا کچھ ایسے ہی الفاظ فرمائے۔ ابوعثمان کہتے تھے: حضرت امّ سلمہؓ نے کہا: یہ دحیہ (کلبی) ہیں۔ حضرت ام سلمہؓ کہتی تھیں: بخدا میں ان کو دحیہ (کلبی) ہی سمجھتی رہی یہاں تک کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ سنا۔ آپؐ فرماتے تھے کہ جبرئیل تھے یا کہا کہ آپؐ نے وہی باتیں بتائیں جو جبرئیل نے بتائی تھیں۔ (سلیمان) کہتے تھے: میں نے ابوعثمان سے پوچھا: آپ نے یہ بات کس سے سنی؟ انہوں نے کہا: حضرت اسامہ بن زیدؓ سے۔
عبدالرحمٰن بن شیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالرحمٰن بن مغیرہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے موسیٰ بن عقبہ سے، موسیٰ نے سالم بن عبداللہ سے، سالم نے حضرت عبداللہ (بن عمر) ؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے رؤیا میں لوگوں کو دیکھا کہ وہ ایک میدان میں جمع ہیں اور ابوبکرؓ اُٹھے اور انہوں نے (کنوئیں سے) ایک یا دو ڈول کھینچ کر نکالے اور ان کے کھینچنے میں کچھ کمزوری ہے۔ اللہ ان کی کمزوری پر پردہ پوشی فرماتے ہوئے ان سے درگذر کرے گا۔ پھر عمرؓ نے اس ڈول کو لیا تو وہ ان کے ہاتھ میں ایک چرسا ہوگیا۔ میں نے لوگوں میں ایسا شہ زور کبھی نہیں دیکھا جو ان کی طرح حیرت انگیز کام کرتا ہو۔ اتنا پانی نکالا کہ لوگ سیر ہوکر اپنے اپنے ٹھکانوں میں جابیٹھے۔ ہمام نے کہا: میں نے حضرت ابوہریرہؓ سے سنا۔ حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے یوں کہا: پھر حضرت ابوبکرؓ نے ایک یا دو ڈول نکالے۔
(تشریح)عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک بن انس نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہودی آئے اور انہوں نے آپؐ سے ذکر کیا کہ ان میں سے ایک مرد اور ایک عورت نے زنا کیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے پوچھا: رجم کے متعلق تم تورات میں کیا حکم پاتے ہو؟ وہ کہنے لگے: ہم تو ان کو رسوا کرتے ہیں اور ان کو کوڑے لگائے جاتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن سلامؓ نے کہا: تم نے جھوٹ کہا ہے، (تورات میں تو) سنگسار کرنے کا حکم ہے۔ وہ تورات لائے، اس کو کھولا تو ان میں سے ایک نے اپنا ہاتھ اس آیت پر رکھ دیا جس میں سنگسار کرنے کا حکم تھا اور اس کے آگے اور پیچھے سے پڑھنے لگے۔ حضرت عبداللہ بن سلامؓ نے اس سے کہا: اپنا ہاتھ اُٹھاؤ۔ اس نے اپنا ہاتھ اُٹھایا تو کیا دیکھا کہ اس میں سنگسار کرنے کا حکم ہے۔ یہ دیکھ کر یہودی کہنے لگے: محمدؐ! (عبداللہ بن سلامؓ) نے سچ کہا ہے کہ تورات میں سنگسار کرنے کا حکم ہے۔ چنانچہ آپؐ نے ان کے متعلق یہی حکم دیا اور ان دونوں کو سنگسار کیا گیا۔ حضرت عبداللہ (بن عمرؓ) کہتے تھے: میں نے اس مرد کو دیکھا کہ وہ اس عورت پر جھک جاتا تھا اور اس کو پتھروں سے بچاتا تھا۔
(تشریح)عبداللہ بن محمد نے مجھ سے بیان کیا کہ یونس نے ہمیں بتایا کہ شیبان نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے حضرت انس بن مالکؓ سے روایت کی۔ نیز خلیفہ نے مجھ سے کہا کہ یزید بن زُرَیع نے ہم سے بیان کیا کہ سعید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے ان سے بیان کیا کہ اہل مکہ نے رسول اللہ ﷺ سے مطالبہ کیا کہ ان کو کوئی نشان دکھائیں تو آپؐ نے شق القمر کا نشان ان کو دکھلایا۔