بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 161 hadith
خلف بن خالد قرشی نے ہم سے بیان کیا کہ بکر بن مضر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے جعفر بن ربیعہ سے، جعفر نے عراک بن مالک سے، عراک نے عبیداللہ بن عبداللہ بن مسعود سے، عبیداللہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ چاند نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں پھٹ کر دوٹکڑوں میں ہوگیا۔
(تشریح)عبداللہ بن ابی الاسود نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ نے ہمیں بتایا کہ اسماعیل سے روایت ہے۔ (انہوں نے کہا:) قیس نے ہم سے بیان کیا کہ میں نے حضرت مغیرہ بن شعبہؓ سے سنا۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے تھے۔ آپؐ نے فرمایا: میری امت میں سے کچھ لوگ ہمیشہ غالب رہیں گے یہاں تک کہ اللہ کا حکم ایسی حالت میں ان کے پاس آئے گا کہ وہ غالب ہی ہوں گے۔
البتہ میں نے حضرت عروہؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: گھوڑوں کی پیشانی سے قیامت کے روز تک بھلائی بندھی ہوئی ہے۔ شبیب نے کہا: حضرت عروہؓ کی حویلی میں مَیں نے ستر گھوڑے بندھے دیکھے۔ سفیان نے کہا: حضرت عروہؓ نے جو آپؐ کے لئے بکری خریدی تھی تو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ قربانی کے لئے ہوگی۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (قطان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبیداللہ سے روایت کی، کہا: مجھے نافع نے بتایا۔ انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گھوڑوں کی پیشانیوں میں بھلائی قیامت کے روز تک رہے گی۔
قیس بن حفص نے ہم سے بیان کیا کہ خالد بن حارث نے ہمیں بتایا کہ شعبہ نے ہم سے بیان کیا کہ ابوتیاح سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس بن مالک سے سنا۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے تھے کہ آپؐ نے فرمایا: گھوڑوں کی پیشانیوں میں بھلائی بندھی ہوئی ہے۔
حمیدی نے ہم سے بیان کیا کہ ولید نے ہمیں بتایا کہ انہوں نے کہا: ابن جابر نے مجھ سے بیان کیا، کہا: عُمَیر بن ہانی نے مجھے بتایا کہ انہوں نے حضرت معاویہؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: میں نے نبی ﷺ سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے کہ میری امت میں سے ایک گروہ اللہ کے حکم پر ہمیشہ قائم رہے گا۔ ان کو وہ شخص نقصان نہیں دے سکے گا جو ان کی مددکرنا چھوڑ دے گا اور نہ ہی وہ شخص جو اُن کی مخالفت کرے گا یہاں تک کہ اللہ کا حکم آجائے گا جبکہ وہ اسی حالت میں ہوں گے۔ عُمَیر کہتے تھے کہ یہ سن کر مالک بن یخامر نے کہا کہ حضرت معاذ (بن جبلؓ) نے ہمیں بتایا کہ یہ لوگ شام میں ہی ہیں۔ حضرت معاویہؓ نے کہا: یہ دیکھو۔ مالک کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت معاذؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: وہ شام میں ہی ہیں۔
علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان(بن عیینہ)نے ہمیں بتایا کہ شبیب بن غرقدہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: میں نے اپنے قبیلے والوں سے سنا۔ وہ حضرت عروہؓ سے روایت کرتے ہوئے بیان کرتے تھے کہ نبی ﷺ نے ان کو ایک دینار دیا کہ وہ اس سے آپؐ کے لئے ایک بکری خریدیں تو انہوں نے اس سے آپؐ کے لیے دو بکریاں خریدیں۔ ان میں سے ایک بکری ایک دینار پر بیچ دی۔ پھر وہ {آپؐ کے پاس} ایک دینار اور ایک بکری لے آئے۔ آنحضرت ﷺ نے ان کے لئے دعا کی کہ ان کی تجارت میں برکت ہو اور وہ ایسے تھے کہ اگر مٹی خریدتے تو اُس میں بھی فائدہ اٹھاتے۔ سفیان نے کہا: حسن بن عمارہ نے یہ حدیث شبیب سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلائی۔ انہوں نے کہا کہ شبیب نے یہ حدیث حضرت عروہؓ سے سنی۔ پھر میں شبیب کے پاس آیا تو انہوں نے کہا: میں نے یہ حدیث حضرت عروہؓ سے نہیں سنی۔ انہوں نے کہا: میں نے اپنے قبیلہ والوں سے سنی۔ وہ اس حدیث کو حضرت عروہؓ سے نقل کرتے تھے۔
عبداللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے زید بن اسلم سے، زید نے ابوصالح سمان سے، ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی ۔ آپؐ نے فرمایا: گھوڑے تین شخصوں کے لئے ہیں: ایک شخص کے لئے ثواب کا موجب ہیں اور ایک شخص کے لئے پردہ پوشی کا موجب ہیں اور ایک شخص کے لئے وبال ہوتے ہیں۔ وہ شخص جس کے لئے ثواب کا موجب ہوتے ہیں، وہ شخص ہے جس نے ان کو اللہ کی راہ میں باندھے رکھا اور اس نے ان کی رسی مرغزار یا باغیچہ میں لمبی رکھی اور جو بھی وہ جہاں تک رسی کی لمبائی ہے مرغزار یا باغیچہ میں سے چریں تو اسی قدر اس کے لیے نیکیاں ہوں گی؛ اور اگر انہوں نے رسی توڑ ڈالی اور زغند لگاتے ہوئے ایک یا دو میل چلے گئے تو ان کی لید بھی ان کے لئے نیکیاں ہوں گی اور اگر وہ کسی ندی پر سے گذریں اور پانی پی لیں اور وہ ان کو پانی پلانا نہ چاہتا ہو تو یہ ان کا پانی پینا بھی اس کیلئے نیکی کا موجب ہوگا۔ اور ایک وہ شخص ہے جس نے گھوڑوں کو اس لئے باندھا کہ وہ سواری کی ضرورت کے وقت دوسروں کا محتاج نہ ہو {اور وہ اس کیلئے بچاؤ کا سبب ہوں} اور مانگنے کی ضرورت نہ رہے۔ وہ اللہ کا حق بھی نہ بھولا جو اُن کی گردنوں اور اُن کی پیٹھوں میں ہے تو وہ اس کے لئے بھی اسی طرح پردہ پوشی کا موجب ہوں گی۔ اور ایک وہ شخص ہے جس نے ان کو فخر اور ریاء کے لئے اور اہل اسلام کی دشمنی کی غرض سے باندھے رکھا تو وہ وبال ہی ہوں گے؛ اور نبی ﷺ سے گدھوں کے متعلق پوچھا گیا تو آپؐ نے فرمایا: ان کے متعلق مجھ پر سوائے اس اکیلی جامع آیت کے اور کچھ نازل نہیں کیا گیا۔ جس نے ذرہ بھر نیکی کی وہ اس کو دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ بھر بھی بدی کی وہ بھی اس کو دیکھ لے گا۔
علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا کہ ایوب نے ہم سے بیان کیا کہ محمد(بن سیرین) سے روایت ہے کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح سویرے ہی خیبر پر حملہ کیا اور وہ کدالیں لے کر (زراعت کیلئے ) باہر نکل چکے تھے۔ جب انہوں نے آپؐ کو یکھا تو وہ کہنے لگے: یہ تو محمدؐ مع لشکر آپہنچے اور وہ دوڑتے ہوئے قلعہ کی طرف چلے گئے۔ نبی ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ اُٹھائے اور فرمایا: اللہ اکبر ! خیبر برباد ہوگا۔ ہم جب کسی قوم کے آنگن میں ڈیرہ ڈالتے ہیں تو پھر اُن لوگوں کی صبح بُری ہوتی ہے جن کو قبل از وقت خطرہ سے آگاہ کردیا ہوتا ہے۔