بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 188 hadith
علی بن عبداللہ (مدینی) نے ہم سے بیان کیا کہ مروان بن معاویہ (فزاری) نے ہمیں بتایا کہ ابویعفور (عبدالرحمٰن بن عبید کوفی) نے ہم سے بیان کیا۔ اُنہوں نے کہا: ہم نے ابوضحیٰ کے پاس آپس میں ذکر کیا تو اُنہوں نے کہا: حضرت ابن عباسؓ نے ہم سے بیان کیا۔ کہتے تھے کہ ہم ایک روز صبح کو اُٹھے، دیکھتے کیا ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج رو رہی ہیں۔ اُن میں سے ہر ایک زوجہ کے پاس اُن کے رشتہ دار ہیں۔ میں مسجد آیا تو دیکھا کہ وہ لوگوں سے بھری ہے۔ اتنے میں حضرت عمر بن خطابؓ آئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (اوپر)چڑھ کر گئے اُس وقت آپؐ اپنے ایک بالا خانہ میں تھے۔ اُنہوں نے آپؐ کو سلام کیا مگر اُن کو کسی نے جواب نہ دیا۔ پھر اُنہوں نے سلام کیا۔ پھر بھی کسی نے جواب نہ دیا۔ پھر اُنہوں نے سلام کیا۔ پھر بھی کسی نے جواب نہیں دیا۔ پھر اس کے بعد آپؐ نے اُن کو بلوایا اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور پوچھا: کیا آپؐ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے؟ آپؐ نے فرمایا: نہیں بلکہ میں نے اُن سے قسم کھائی ہے کہ ایک مہینہ تک اُن کے پاس نہیں جاؤں گا۔ اس لئے آپؐ انتیس دن تک ٹھہرے ۔ پھر آپؐ اپنی بیویوں کے پاس گئے۔
محمد بن یوسف (فریابی) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے ہشام (بن عروہ) سے، ہشام نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے حضرت عبداللہ بن زمعہؓ سے، حضرت عبداللہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: تم میں سے کوئی اپنی بیوی کو اس طرح نہ مارے جیسے غلام کو مارتا ہے۔ پھر دن کے آخری حصے میں اُس سے جماع کرتا ہے ۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ بن سعید نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے ابن جریج سے، ابن جریج نے عطاء (بن ابی رباح) سے، عطاء نے حضرت جابرؓ سے روایت کی۔ اُنہوں نے فرمایا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عزل کیا کرتے تھے۔
علی بن عبداللہ (مدینی) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے کہا: عمرو (بن دینار) کہتے تھے کہ عطاء (بن ابی رباح) نے مجھے خبر دی۔ اُنہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ فرماتے تھے: ہم عزل کیا کرتے تھے اور اُس وقت قرآن بھی نازل ہوتا تھا۔
اور عمرو (بن دینار) سے مروی ہے اُنہوں نے عطاء سے، عطاء نے حضرت جابرؓ سے یہی روایت کی اُنہوں نے فرمایا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عزل کیا کرتے تھے جبکہ قرآن بھی نازل ہورہا تھا۔
مالک بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ زہیر (بن معاویہ) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے ہشام سے، ہشام نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی کہ حضرت سودہؓ بنت زمعہ نے اپنی باری حضرت عائشہؓ کو ہبہ کر دی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہؓ کے پاس اُن کی باری میں اور حضرت سودہؓ کی باری میں آیاکرتے تھے۔
خلاد بن یحيٰ نے ہم سے بیان کیا کہ ابراہیم بن نافع نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے حسن سے جو کہ مسلم کے بیٹے ہیں، حسن نے حضرت صفیہؓ (بنت شیبہ) سے، حضرت صفیہؓ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی کہ ایک انصاری عورت نے اپنی بیٹی کی شادی کی۔ اُس کے سر کے بال گرگئے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اس نے آپؐ سے اِس کا ذکر کیا وہ کہنے لگی کہ اس کے خاوند نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اس کے بالوں میں پیوند لگاؤں۔آپؐ نے فرمایا: ہرگز نہیں۔ دیکھو بالوں کو پیوند لگانے والیوں کو لعنت کی گئی ہے۔
محمد بن سلام نے ہم سے بیان کیا کہ ابومعاویہ (محمد بن خازم) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے ہشام سے، ہشام نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ وَ اِنِ امْرَاَةٌ خَافَتْ مِنْۢ بَعْلِهَا نُشُوْزًا…یعنی اور اگر کوئى عورت اپنے خاوند سے مخاصمانہ روىّے ىا عدمِ توجّہى کا خوف کرے۔حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں: اس سے مراد وہ عورت ہے جو کسی مرد کے پاس ہو وہ اُس کے ساتھ زیادہ میل جول نہیں رکھتا اور اُس کو طلاق دینا چاہتا ہے اور دوسری سے شادی کرنا چاہتا ہے وہ اُس سے کہتی ہے مجھے اپنے پاس رہنے دو اورطلاق نہ دو، میرے سوا کسی اور سے شادی کرلو تم میرے لئے خرچ کرنے اور باری مقرر کرنے سے بھی آزاد ہو۔ تو یہ مراد ہے اللہ تعالیٰ کے اِس قول سے یعنی اُن پر کوئی گناہ نہیں اگر وہ آپس میں ایسی صلح کریں جو صلح کا حق ہے اور صلح ہی بہتر ہوتی ہے۔
(تشریح)عبداللہ بن محمد بن اسماء نے ہم سے بیان کیا کہ جویریہ (بن اسماء) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے مالک بن انس سے، مالک نے زہری سے، زہری نے (عبداللہ) بن محیریز سے، اُنہوں نے حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: ہم نے لڑائی میں عورتیں قید کیں اور ہم عزل کیا کرتے تھے۔ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا۔ آپؐ نے فرمایا: کیا تم ایسا کرتے ہو؟ آپؐ نے تین بار فرمایا: کوئی بھی جان ایسی نہیں جو قیامت کے دن تک ہونے والی ہے مگر وہ ضرور ہی ہوکر رہے گی۔
(تشریح)ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالواحد بن ایمن نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نےکہا: مجھے ابن ابی ملیکہ نے بتایا۔ ابن ابی ملیکہ نے قاسم (بن محمد) سے، قاسم نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی کہ جب کہیں سفر كا اراده كرتے تو اپنی ازواج کے درمیان قرعہ ڈالتے۔ ایک دفعہ حضرت عائشہؓ اور حضرت حفصہؓ کے نام پر قرعہ نکلا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ جب رات کو سفر کرتے تو حضرت عائشہؓ کے ساتھ باتیں کرتے جاتے۔ حضرت حفصہؓ نے (حضرت عائشہؓ سے) کہا: کیا آج رات تم میرے اونٹ پر سوار ہوگی اور میں تمہارے اونٹ پر سوار ہو جاتی ہوں اور تم بھی تماشا دیکھو گی اور میں بھی دیکھوں گی۔ حضرت عائشہؓ نے کہا: کیوں نہیں ضرور چنانچہ وہ سوار ہو گئیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہؓ کے اونٹ کے پاس آئے اوراس پر حضرت حفصہؓ سوار تھیں۔آپؐ نے اُنہیں السلام علیکم کہا، پھر چل پڑے۔ يہاں تک کہ پڑاؤ کیا۔ حضرت عائشہؓ آپؐ سے محروم رہیں۔ جب اُنہوں نے پڑاؤ کیا تو حضرت عائشہؓ نے اپنے دونوں پاؤں اِذخر گھاس میں ڈال دیے اور کہنے لگیں: اے ربّ مجھ پر کسی بچھو یا سانپ کو مسلط کر جو مجھے کاٹ کھائے اور میں آپؐ سے کچھ کہہ نہیں سکتی۔