بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 188 hadith
مسدد نے ہمیں بتایا کہ بشر (بن مفضل) نے ہم سے بیان کیا کہ خالد (حذاء) نے ہمیں بتایا خالد نے ابوقلابہ سے، ابوقلابہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ (ابو قلابہ نے کہا:) اور اگر میں چاہوں تو یوں کہوں کہ نبی ﷺنے فرمایا، مگر حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ سنت یوں ہے کہ جب کوئی کنواری سے شادی کرے تو وہ اس کے پاس سات دن ٹھہرے اور جب ثیبہ سے شادی کرے تو اس کے پاس تین دن ٹھہرے۔
ہمیں عبدالاعلیٰ بن حماد نے بتایا کہ ہم سے یزید بن زُرَیع نے بیان کیا کہ سعید (بن ابی عروبہ) نے قتادہ سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا کہ حضرت انس بن مالکؓ نے اُن سے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی رات میں اپنی تمام بیویوں کے پاس ہوآتے اور اُن دنوں آپؐ کی نو بیویاں تھیں۔
فروہ (بن ابی المغراء) نے ہم سے بیان کیا کہ علی بن مسہر نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے ہشام (بن عروہ) سے، ہشام نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ فرماتی تھیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عصر کی نماز سے فارغ ہوتے تو اپنی تمام بیویوں کے پاس جاتے اور اُن میں سے کسی کے پاس بیٹھتے بھی۔ ایک بار حفصہؓ کے پاس گئے اور وہاں اُس سے زیادہ ٹھہرے رہے جتنا کہ آپؐ عادتاً ٹھہرا کرتے تھے۔
عمر بن حفص (بن غیاث) نے ہم سے بیان کیا کہ میرے باپ نے ہمیں بتایاکہ اعمش نے ہم سے بیان کیا۔ اعمش نے شقیق (بن سلمہ) سے، شقیق نے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے، حضرت عبداللہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ سے بڑھ کر کوئی غیرت مند نہیں اس لئے اُس نے بے حیائی کے کام حرام کردیے اور کوئی ایسا نہیں ہے جس کو اللہ سے بڑھ کر تعریف پسند ہو۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ ہمام (بن یحيٰ) نے ہمیں بتایا۔اُنہوں نے یحيٰ (بن ابی کثیر) سے، یحيٰ نے ابوسلمہ (بن عبدالرحمٰن )سے روایت کی کہ عروہ بن زبیر نے اُنہیں بتایا۔ عروہ نے اپنی ماں حضرت اسماءؓ سے روایت کی۔ اُنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: کوئی بھی اللہ سے بڑھ کر غیرت مند نہیں۔
یوسف بن راشد نے ہم سے بیان کیا کہ ابواُسامہ نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے سفیان (ثوری) سے روایت کی کہ ہمیں ایوب (سختیانی) اور خالد (حذاء) نے بتایا۔ انہوں نے ابوقلابہ سے، ابوقلابہ نے حضرت انسؓ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: سنت یہ ہے کہ جب کوئی مرد ثیبہ کے ہوتے ہوئے کنواری سے شادی کرے تو اس کے پاس سات دن ٹھہرے اور پھر باری مقرر کرے اور جب باکرہ کے ہوتے ہوئے ثیبہ سے نکاح کرے تو اُس کے پاس تین دن رہے پھر باری مقرر کرے۔ ابوقلابہ نے کہا: اگر میں چاہوں تو یہ کہہ دوں کہ حضرت انسؓ نے اس حدیث کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچایا ہے۔ اور عبدالرزاق نے کہا کہ ہمیں سفیان (ثوری) نے ایوب اور خالد سے روایت کرتے ہوئے بتایا، خالد نے کہا: اگر میں چاہوں تو یہ کہہ دوں کہ اُنہوں نے اس حدیث کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچایا ہے۔
اسماعیل (بن ابی اویس) نے ہم سے بیان کیا۔ اُنہوں نے کہا: سلیمان بن بلال نے مجھے بتایا کہ ہشام بن عروہ نے کہا: مجھے میرے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہوئے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اس بیماری میں جس میں آپؐ فوت ہوئے پوچھتے تھے کل میں کہاں ہوں گا، کل میں کہاں ہوں گا۔ آپؐ کی مراد حضرت عائشہؓ کی باری معلوم کرنا تھی۔ یہ دیکھ کر آپؐ کی بیویوں نے آپؐ کو اجازت دے دی کہ جہاں چاہیں رہیں۔ چنانچہ آپؐ حضرت عائشہؓ کے گھر میں رہے۔ یہاں تک کہ اُنہی کے پاس فوت ہوگئے۔ حضرت عائشہؓ کہتی تھیں آپؐ اس دن فوت ہوئے جس میں آپؐ میرے گھر میں میرے پاس باری پر آیا کرتے تھے اور اللہ نے آپؐ کو وفات دے دی اس حال میں کہ آپؐ کا سر میرے گلے اور میرے سینے کے درمیان تھا اور آپؐ کا لعاب بھی میرے لعاب سے ملا۔
عبدالعزیز بن عبداللہ (اویسی) نے ہم سے بیان کیا کہ سلیمان (بن بلال) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے یحيٰ (بن سعید انصاری) سے، یحيٰ نے عبید بن حنین سے روایت کی۔ اُنہوں نے حضرت ابن عباسؓ سے سنا۔ وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہم سے روایت کرتے تھے کہ وہ حضرت حفصہؓ کے پاس گئے اور فرمانے لگے: بیٹی! کہیں تمہیں یہ عورت دھوکہ نہ دے جس کو اُس کے حسن نے نازاں کیا ہوا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے محبت رکھتے ہیں۔ اُن کی مراد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے تھی۔ پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بیان کیا تو آپؐ سن کر مسکرائے۔
سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے ہشام (بن عروہ) سے، ہشام نے فاطمہ (بنت منذر) سے، فاطمہ نے حضرت اسماءؓ سے، حضرت اسماء ؓنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ نیز محمد بن مثنیٰ نے مجھ سے بیان کیا کہ یحيٰ (بن سعید قطان) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے ہشام (بن عروہ) سے روایت کی کہ مجھے فاطمہ (بنت منذر) نے حضرت اسماءؓ سے روایت کرتے ہوئے بتایا کہ ایک عورت نے کہا: یا رسول اللہ ! میری ایک سوکن ہے تو کیا مجھ پر گناہ ہوگا کہ اگر میں جھوٹ موٹ یہ کہوں کہ میرے خاوند سے مجھے یہ کچھ ملا ہے جو اُس نے مجھے نہیں دیا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص جو جھوٹ موٹ اُن چیزوں کے ملنے کے متعلق کہتا ہے جو اس کو دی نہیں گئیں وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے جھوٹ کے کپڑے پہنے ہوں۔
(تشریح)