بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 188 hadith
اور یحيٰ (بن ابی کثیر) سے مروی ہے کہ ابوسلمہ نے اُن سے بیان کیا کہ حضرت ابوہریرہؓ نے اُنہیں بتایا کہ اُنہوں نے بھی (نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے) یہی سنا۔ نیز ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ شیبان (بن عبدالرحمٰن نحوی) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے یحيٰ (بن ابی کثیر) سے، یحيٰ نے ابوسلمہ سےروایت کی کہ اُنہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا۔ حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: اللہ بھی غیرت کھاتا ہے اور اللہ کی غیرت اس وقت ہوتی ہے کہ جب مؤمن وہ بات کرے جس کو اللہ نے حرام قرار دیا۔
محمود (بن غیلان) نے مجھ سے بیان کیا کہ ابواُسامہ نے ہمیں بتایا کہ ہشام (بن عروہ) نے ہم سے بیان کیا۔ اُنہوں نے کہا مجھے میرے باپ نے خبر دی،انہوں نے حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں کہ حضرت زبیرؓ نے مجھ سے شادی کی اور زمین میں اُن کی نہ کوئی جائیداد تھی اور نہ کوئی غلام لونڈی نہ ہی کوئی اور چیز سوائے ایک پانی ڈھونے والے اونٹ اور سوا اُن کی گھوڑی کے۔ میں اُن کی گھوڑی چَرایا کرتی تھی اور پانی بھی لایا کرتی تھی اور اُن کے ڈول کو سیتی بھی تھی اور آٹا بھی گوندھتی تھی اور میں اچھی طرح روٹی نہ پکا سکتی تھی اور میری بعض انصاری پڑوسنیں روٹیاں پکایا کرتی تھیں اور وہ نہایت اچھی عورتیں تھیں اور میں زبیرؓ کی اُس زمین سے کھجوروں کی گٹھلیاں اپنے سر پر ڈھو کر لایا کرتی تھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمنے اُن کو بطور جاگیر کے دی تھی اور یہ مجھ سے تین فرلانگ کے فاصلے پر تھی۔ ایک دن میں آئی اور گٹھلیاں میرے سر پر تھیں۔ راستے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ملے اور آپؐ کے ساتھ کچھ انصاری لوگ تھے ۔ آپؐ نے مجھے بلایا پھر آپؐ نے (اونٹ کے بٹھانے کے لئے) اِخ اِخ کہا تا کہ آپؐ مجھے اپنے پیچھے سوار کرلیں مگر میں شرما گئی کہ مردوں کے ساتھ چلوں اور میں نے زبیرؓ اور اُن کی غیرت کا خیال کیا اور وہ لوگوں میں بہت ہی غیرت مند تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہچان گئے کہ میں شرما گئی ہوں اور آپؐ آگے چلے گئے۔ میں زبیرؓ کے پاس آئی اور میں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ملے تھے اور میرے سر پر گٹھلیاں تھیں اور آپؐ کے ساتھ چند صحابہ تھے آپؐ نے اپنے اونٹ کو بٹھایا تا میں سوار ہوجاؤں لیکن میں آپؐ سے شرمائی اور تمہاری غیرت کو بھی سمجھتی تھی۔ وہ کہنے لگے: اللہ کی قسم! تمہارا گٹھلیاں اُٹھا کر لانا مجھے زیادہ ناگوار ہے بنسبت اِس کے کہ تم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سوار ہوتی۔ کہتی تھیں: آخر حضرت ابوبکرؓ نے اِس کے بعد مجھے ایک خادم دے دیا، جو میری جگہ گھوڑی کی خدمت کرتا تھا مجھے ایسا معلوم ہوا کہ گویا اُنہوں نے مجھے آزاد کردیا۔
علی (بن عبداللہ) نے ہم سے بیان کیا کہ (اسماعیل) بن عُلَیَّہ نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے حمید سے، حمید نے حضرت انسؓ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی بیوی کے پاس تھے تواُمہات المؤمنین میں سے ایک نے پیالہ بھیجا جس میں کچھ کھانا تھا۔ اُس بیوی نے جس کے گھر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم تھے، خادم کے ہاتھ پر ہاتھ مارا اور وہ پیالہ گر گیا جس سے وہ ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پیالے کے ٹکڑوں کو اکٹھا کیا پھر اس میں اس کھانے کو اکٹھا کرنے لگے جو اُس پیالے میں تھا اور فرمانے لگے: تمہاری ماں کو غیرت آگئی۔ پھر آپؐ نے خادم کو روکے رکھا یہاں تک کہ آپؐ کے پاس اُس کے گھر سے پیالہ لایا گیا جس کے گھر میں آپؐ تھے اور آپؐ نے ثابت پیالہ اس بیوی کو بھجوایا جس کا پیالہ ٹوٹ گیا تھا اور ٹوٹا ہوا اُس کے گھر میں رکھا جس نے توڑا تھا۔
محمد بن ابی بکر مقدمی نے ہم سے بیان کیا کہ معتمر (بن سلیمان) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے عبیداللہ (بن عمر عمری) سے، عبیداللہ نے محمد بن منکدر سے، محمد نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے،حضرت جابرؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا کہ میں جنت میں داخل ہوا یا (فرمایا:) جنت میں آیا تو ایک محل دیکھا میں نے پوچھا:یہ کس کا ہے؟ کہنے لگے : عمر بن خطابؓ کا۔ میں نے چاہا کہ اُس کے اندر جاؤں مگر مجھے صرف اِس بات نے روکا کہ میں تمہاری غیرت کو جانتا تھا۔ حضرت عمر بن خطابؓ نے کہا: یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپؐ پر قربان۔نبی اللہ! کیا میں آپؐ سے غیرت کروں گا؟
عبدان نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے یونس سے، یونس نے زہری سے، (زہری نے) کہا: (سعید) بن مسیب نے مجھے خبر دی۔ اُنہوں نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: ایک بار ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھےتو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں سویا ہوا ہی تھا کہ میں نے اپنے آپؐ کو جنت میں دیکھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک عورت محل کے ایک طرف ہوکر وضو کررہی ہے۔ میں نے پوچھا: یہ محل کس کا ہے ؟ کسی نے کہا: یہ عمر ؓ کا ہے۔ پھر میں نے اُن کی غیرت کا خیال کیا اور پیٹھ موڑ کر واپس چلا آیا۔ یہ سن کر حضرت عمرؓ رو پڑے وہ اُس مجلس میں ہی تھے۔ پھر اُنہوں نے کہا: کیا آپؐ سے یا رسولؐ اللہ میں غیرت کروں گا؟
عبید بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ اُبواسامہ نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے ہشام (بن عروہ) سے، ہشام نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی وہ کہتی تھیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: میں خوب جانتا ہوں جب تم مجھ سے راضی ہوتی ہو اور جب تم مجھ سے ناراض ہوتی ہو۔ کہتی تھیں: میں نے پوچھا: آپ یہ کیسے پہچان لیتے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا: جب تم مجھ سے راضی ہوتی ہو تو کہتی ہو: یوں نہیں محمدؐ کے ربّ کی قسم اور اگر تم ناراض ہوتی ہو تو کہتی ہو: یوں نہیں ابراہیمؑ کے ربّ کی قسم۔ حضرت عائشہؓ کہتی تھیں: میں نے کہا: ہاں اللہ کی قسم! یا رسول اللہ میں صرف آپؐ کا نام چھوڑتی ہوں۔
احمد بن ابی رجاء نے مجھ سے بیان کیا کہ نضر (بن شمیل) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے ہشام سے، (ہشام نے) کہا: مجھے میرے باپ نے خبر دی۔ اُنہوں نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بیوی پر اتنی غیرت نہیں کھائی جتنی کہ میں نے حضرت خدیجہؓ پر۔ اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کثرت سے اُن کا ذکر کرتے تھے اور اُن کی تعریف کیا کرتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ وحی بھی کی گئی کہ اُنہیں جنت میں اُن کے ایک ایسے گھر کی بشارت دیں جو خولدار موتیوں کا ہو۔
(تشریح)قتیبہ(بن سعید) نے ہم سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے ابن ابی ملیکہ سے، ابن ابی ملیکہ نے حضرت مسور بن مخرمہؓ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ اس وقت منبر پر تھے، فرماتے تھے: بنو ہشام بن مغیرہ نے اپنی بیٹی کا نکاح علی بن ابی طالبؓ سے کرنے کی اجازت مجھ سے مانگی۔ مگر میں اجازت نہیں دیتا، پھر اجازت نہیں دیتا، پھر اجازت نہیں دیتا سوائے اس کے کہ ابوطالب کا بیٹا میری بیٹی کو طلاق دے دے اور اُن کی بیٹی سے نکاح کرے کیونکہ میری لڑکی میرا لختِ جگر ہے مجھے بھی وہ بات بے چین کرتی ہے جس نے اس کو بے چین کیا او ر مجھ کو تکلیف دیتی ہے جس بات نے اس کو تکلیف دی۔ (آپ نےاِسی طرح فرمایا)
(تشریح)حفص بن عمر حوضی نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: میں تم سے ایک بات بیان کرتا ہوں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی۔ میرے سوا کوئی بھی تم کو وہ بات نہیں بتائے گا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: اس گھڑی کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ علم اٹھا لیا جائے گا اور جہالت بہت پھیل جائے گی اور زنا بھی کثرت سے ہوگا اور شراب نوشی بھی کثرت سے ہوگی اور مرد کم ہوجائیں گے اور عورتیں بڑھ جائیں گی یہاں تک نوبت پہنچ جائے گی کہ پچاس عورتوں کا ایک ہی سر پرست ہوگا۔
(تشریح)