بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 188 hadith
احمد بن یونس نے ہم سے بیان کیا کہ ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔ ابن شہاب نے ہمیں خبر دی کہ انہوں نے سعید بن مسیب سے سنا۔ وہ کہتے تھے: میں نے حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کو کہتے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان بن مظعونؓ کو مجرد رہنے کی اجازت نہ دی اور اگر آپؐ انہیں اجازت دیتے تو ہم ضرور خصی ہوجاتے۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زُہری سے روایت کی۔ کہا: سعید بن مسیب نے مجھے خبر دی کہ انہوں نے حضرت سعد بن ابی وقاصؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: آپؐ نے اسے ردّ کردیا۔ یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان بن مظعونؓ کو اجازت نہیں دی۔ اور اگر آپؐ ان کو مجرد رہنے کی اجازت دیتے تو ہم خصی ہی ہوجاتے۔
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یزید (بن ابی حبیب) سے، یزید نے عراک (بن مالک) سے، عراک نے عروہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکرؓ کو حضرت عائشہؓ سے شادی کرنے کا پیغام بھیجا تو حضرت ابوبکرؓ نے آپؐ سے کہا: میں تو آپؐ کا بھائی ہوں۔ آپؐ نے ان سے فرمایا: تم میرے بھائی ہو اللہ کے دین میں اور اس کی کتاب کی رُو سے اور عائشہؓ میرے لئے حلال ہے۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں خبردی۔ ابوزناد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔آپؐ نے فرمایا: جو عورتیں اُونٹوں پر سوار ہوتی ہیں ان میں سے بہتر قریش کی وہ صالح عورتیں ہیں جو اپنی اولاد پر بچپن میں بہت مہربان ہوتی ہیں اور اپنے خاوند کی ملکیت کی خوب حفاظت کرتی ہیں۔
قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ جریر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اسماعیل (بن ابی خالد بجلی) سے، اسماعیل نے قیس (بن ابی حازم) سے روایت کی۔ کہتے تھے کہ حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ کے لئے نکلا کرتے تھے اور ہمارے پاس کچھ نہ ہوتا۔ ہم نے کہا: کیا ہم خصی نہ ہو جائیں؟ آپؐ نے ہم کو اس سے روکا۔ پھر آپؐ نے ہمارے لئے آسان کردیا کہ ہم عورت سے کپڑے کے عوض میں نکاح کرلیں۔ پھر آپؐ نے ہمارے سامنے یہ آیت پڑھی: يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ … یعنی اے وہ جو ایمان لائے ہو! پاکیزہ چیزیں جو اللہ نے تمہارے لئے جائز قرار دی ہیں حرام قرار نہ دو، حد سے نہ بڑھو، اللہ حد سے بڑھنے والوں سے محبت نہیں رکھتا۔
اور اصبغ (بن فرج) نے کہا: (عبداللہ) ابن وہب نے مجھے خبر دی۔ انہوں نے یونس بن یزید (ایلی) سے، یونس نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے ابوسلمہ (عبداللہ بن عبدا لرحمٰن بن عوف) سے، ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے بتایا۔ وہ کہتے تھے: میں نے عرض كيا: یا رسول اللہ! میں جوان مرد ہوں اور میں اپنے متعلق ڈرتا ہوں کہ کہیں گناہ نہ کر بیٹھوں اور میں اتنی استطاعت بھی نہیں رکھتا کہ جس سے عورتوں سے شادی کروں۔ آپؐ میری بات سن کر خاموش ہو رہے۔ پھر میں نے ویسے ہی کہا۔ آپؐ پھر خاموش رہے۔ پھر میں نے ویسے ہی کہا۔ تب بھی آپؐ خاموش رہے۔ پھر میں نے ویسے ہی کہا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوہریرہ! جو تمہیں ملنا تھا اُس کو لکھ کر قلم خشک ہوگئی۔ اس تقدیر کے ہوتے ہوئے اب خصی کرو یا نہ کرو۔
(تشریح)اسماعیل بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: میرے بھائی (عبدالحمید) نے مجھے بتایا۔ انہوں نے سلیمان (بن بلال) سے، سلیمان نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں: میں نے عرض كيا: یا رسول اللہ! بتایئے اگر آپؐ کسی وادی میں اُتریں جس میں درخت ہوں جن کے پتے کھالئے گئے ہوں۔ اور آپؐ ایک ایسا درخت پائیں کہ ابھی جس کے پتے نہیں چرے گئے تو آپؐ اپنے اُونٹ کو کس میں چرائیں گے؟ آپؐ نے فرمایا: اُس میں جس کو ابھی چرا نہ گیا ہو۔(حضرت عائشہؓ کی) مراد یہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کے سوا کسی باکرہ سے شادی نہیں کی۔
ابونعمان نے ہم سے بیان کیا۔ ہشیم نے ہمیں بتایا۔ سیار )بن ابی سیار وردن) نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے شعبی سے، شعبی نے حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ سے واپس لوٹے۔ میں اپنے ایک سُست اُونٹ کو جلدی چلانے کی کوشش کررہا تھا کہ میرے پیچھے سے ایک سوار مجھے آملا اور اُس نے اپنے بھالے سے جو اُس کے پاس تھا میرے اُونٹ کو چوب دی تو میرا اُونٹ ایسی عمدگی سے چلنے لگا کہ جو تم اونٹ چلتے دیکھا کرتے ہو۔ میں کیا دیکھتا ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ آپؐ نے پوچھا: تمہیں کیا جلدی پڑی ہے؟ میں نے عرض کیا: میں نے نئی نئی شادی کی ہے۔ آپؐ نے فرمایا: باکرہ سے یا ثیبہ سے؟ میں نے کہا: ثیبہ سے۔ آپؐ نے فرمایا: باکرہ کیوں نہ کی؟ تم اُس سے کھیلتے اور وہ تم سے کھیلتی۔ (حضرت جابرؓ) کہتے تھے: جب ہم مدینہ داخل ہونے لگے آپؐ نے فرمایا: ٹھہر جاؤ۔ رات کو یعنی عشاء کے وقت داخل ہونا تا کہ پراگندہ بالوں والی کنگھی کرلے اور جس کا خاوند غائب رہا ہو وہ پاکی کرلے۔
آدم (بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ محارب نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا۔ وہ کہتے تھے: میں نے شادی کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: کس سے شادی کی؟ میں نے کہا: ثیبہ سے۔ آپؐ نے فرمایا:کنواری سے کیوں نہ کی تاکہ اس سے کھیلتے۔ (محارب کہتے تھے:) میں نے عمرو بن دینار سے اس کا ذکر کیا تو عمرو نے کہا: میں نے حضرت جابر بن عبداللہؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ فرمایا: باکرہ کیوں نہ کی کہ جس سے تم کھیلتے اور وہ تم سے کھیلتی۔
(تشریح)