بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 188 hadith
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالواحد (بن زیاد) نے ہمیں بتایا۔ صالح بن صالح ہمدانی نے ہم سے بیان کیا۔ (عمر) شعبی نے ہمیں بتایا کہ ابوبُردہ (بن ابی موسیٰ اشعری) نے مجھے خبر دی۔ انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کے پاس لونڈی ہو اور وہ اُس کو تعلیم دے اور اچھی تعلیم دے اور اُس کو ادب سکھائے اور اچھا ادب سکھائے اور پھر اُس کو آزاد کردے اور اس سے شادی کرلے تو اُس کو دو ثواب ملیں گے۔ اور اہل کتاب میں سے جو شخص بھی اپنے نبی پر ایمان لایا اور مجھ پر بھی ایمان لایا اُس کو بھی دو ثواب ملیں گے۔ اور جس غلام نے اپنے مالکوں کا اور اپنے ربّ کا حق ادا کیا اُس کو بھی دو اجر ملیں گے۔ (عمر )شعبی نے کہا: اس حدیث کو یونہی مفت لے لو۔ آدمی اس سے ادنیٰ بات کے لئے مدینہ سوار ہوکر جایا کرتا تھا۔اور ابوبکر (بن عیاش) نے بھی اس حدیث کو ابوحَصین سے نقل کیا۔ ابوحصین نے ابوبُردہ سے، ابوبردہ نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے بتایا۔ (اس میں یہ الفاظ ہیں:) اُس کو آزاد کیا اور اُس کو حق مہر دیا۔
قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ حماد (بن زید( نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ثابت )بنانی) اور شعیب بن حبحاب سے، ان دونوں نے حضرت انس بن مالکؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہؓ کو آزاد کیا اور اُن کی آزادی ہی اُن کا مہر مقرر کیا۔
سعید بن تلید نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابن وہب نے ہمیں خبردی۔ انہوں نے کہا: جریر بن حازم نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ایوب (سختیانی) سے، ایوب نے محمد (بن سیرین) سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ نیز سلیمان (بن حرب) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حماد بن زید سے، حماد نے ایوب سے، ایوب نے محمد (بن سیرین) سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی۔ حضرت ابراہیمؑ نےتین باتوں کے سوا خلافِ واقعہ نہیں کہا۔ ایک بار حضرت ابراہیمؑ ایک ظالم بادشاہ کے ملک سے گزرے اور حضرت ابراہیمؑ کے ساتھ حضرت سارہؑ تھیں۔ انہوں نے سارا واقعہ بیان کیا (اور کہا:) بادشاہ نے حضرت سارہؑ کو حضرت ہاجرہؑ دی۔ حضرت سارہؑ نے (حضرت ابراہیمؑ سے) کہا: اللہ نے کافر کا ہاتھ روکا اور آجر خدمت کے لئے دلوائی۔ حضرت ابوہریرہؓ نے کہا: اے آسمان کے پانی کے بیٹو! یہی تمہاری ماں ہے۔
قتیبہ (بن سعید) نے ہم سے بیان کیا کہ اسماعیل بن جعفر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حُمَید سے، حُمَید نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر اور مدینہ کے درمیان تین دن قیام کیا کہ حضرت صفیہ بنت حییؓ کوآپؐ کے ہاں رخصت کیا جائے۔ پھر میں نے مسلمانوں کو آپؐ کے ولیمہ کی دعوت دی۔ اس میں نہ روٹی تھی نہ گوشت۔ چمڑے کے دستر خوان بچھانے کا حکم دیا گیا اور اس پر آپؐ نے کھجور، پنیر اور گھی رکھ دیا اور یہی آپؐ کا ولیمہ تھا۔ مسلمان کہنے لگے: کیا یہ اُمہات المؤمنین میں سے ایک ہیں یا اُن لونڈیوں میں سے ہیں جن پر جائز طور پر قبضہ کیا گیا۔ لوگوں نے کہا: اگر آپؐ نے اُن کو پردہ میں رکھا تو وہ اُمہات المؤمنین میں سے ہیں اور اگر اُن کو پردے میں نہ رکھا تو وہ اُن لونڈیوں میں سے ہیں جن پر جائز طور پر قبضہ کیا گیا۔ جب آپؐ نے کوچ کیا تو آپؐ نے حضرت صفیہؓ کے لئے اپنے پیچھے بیٹھنے کی جگہ درست کی اور اُن کے اور لوگوں کے درمیان پردہ تان دیا۔
قتیبہ (بن سعید) نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالعزیز بن ابی حازم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ (سلمہ بن دینار) سے، انہوں نے حضرت سہل بن سعد ساعدیؓ سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے: ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی: یا رسول اللہ ! میں اس لئے آئی ہوں کہ اپنے تئیں آپؐ کو ہبہ کرلوں۔ (حضرت سہلؓ) کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو نظر اُٹھا کر دیکھا اور اس کو اُوپر تلے غور سے دیکھا اور نظر نیچے کرلی۔ پھر آپؐ نے اپنا سر جھکالیا۔جب اُس عورت نے دیکھا کہ آپؐ نے اس کے متعلق کچھ فیصلہ نہیں کیا وہ بیٹھ گئی۔ آپؐ کے ساتھیوں میں سے ایک شخص اُٹھا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ! اگر آپؐ کو اس عورت کی ضرورت نہیں تو آپؐ مجھ سے ہی اس کی شادی کردیں۔ آپؐ نے پوچھا: اور کیا تمہارے پاس کچھ ہے۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ! بخدا نہیں۔ آپؐ نے فرمایا: اپنے رشتہ داروں کے پاس جاؤ اور دیکھو کیا تمہیں کوئی چیز مل سکتی ہے۔ وہ گیا اور پھر لوٹ آیا اور کہنے لگا: بخدا! مجھے کچھ نہیں ملا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دیکھو ایک لوہے کی انگوٹھی ہی سہی۔ وہ گیا اور پھر لوٹ آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ! بخدا کچھ نہیں ملا۔ لوہے کی انگوٹھی بھی نہیں۔ البتہ یہ میرا تہ بند ہے۔ حضرتسہلؓ کہتے تھے: اس کے پاس (اُوپر اوڑھنے کی) چادر بھی نہ تھی۔ (وہ کہنے لگا: یہ تہ بند) آدھا اس کو دے دیتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ تمہارے تہ بند سے کیا کرے گی۔ اگر تم نے اِس کو پہنا تو اِس میں سے اُس پر کچھ نہ رہے گا اور اگر اُس نے لیا تو تم پر اس میں سے کچھ نہ رہے گا۔ (یہ سن کر) وہ شخص بیٹھ گیا یہاں تک کہ بہت دیر تک بیٹھے بیٹھے آخر کھڑا ہوکر چل دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کو پیٹھ موڑ کر جاتے ہوئے دیکھا۔ آپؐ نے اُس کو بلوانے کے لئے فرمایا اور اُسے بلایا گیا۔ جب وہ آیا آپؐ نے پوچھا: تمہیں قرآن سے کیا یاد ہے؟ اس نے کہا: مجھے فلاں فلاں سورة یاد ہے۔ اُس نے ان کو شمار کیا۔ آپؐ نے پوچھا: کیا تم انہیں زبانی پڑھا کرتے ہو۔ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپؐ نے فرمایا: جاؤ، میں نے اُن سورتوں کے بدلہ میں جو تمہیں یاد ہیں یہ عورت تمہارے قبضہ میں کردی۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے زُہری سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: عروہ بن زبیر نے مجھے بتایا۔ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ حضرت ابوحذیفہؓ بن عتبہ بن ربیعہ بن عبد شمس نے، اور وہ اُن لوگوں میں سے تھے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بدر میں شریک ہوئے، سالمؓ (بن معقل) کو اپنا بیٹا بنایا اور اُن سے اپنی بھتیجی ہندؓ کی شادی کر دی جو ولید بن عتبہ بن ربیعہ کی بیٹی تھیں۔ اور یہ (سالمؓ) ایک انصاری عورت کے (آزاد کردہ) غلام تھے۔ انہوں نے اس کو اُسی طرح بیٹا بنایا جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زیدؓ کو بیٹا بنایا تھا۔ اور جاہلیت میں جو کسی شخص کو اپنا بیٹا بناتا تو لوگ اس کو اسی کی طرف منسوب کرکے پکارتے اور وہ اُس کی وراثت کا وارث ہوتا۔ (یہی حال رہا) یہاں تک کہ اللہ نے یہ حکم نازل کیا: یعنی (چاہیئے کہ) اُن (لے پالکوں) کو اُن کے باپوں کا بیٹا کہہ کر پکارو۔ یہ اللہ کے نزدیک زیادہ منصفانہ فعل ہے۔ اور اگر تم کو معلوم نہ ہو کہ اُن کے باپ کون ہیں تو (بہر حال) وہ تمہارے دینی بھائی ہیں اور دینی دوست ہیں، اس لئے وہ پھر اُن کے باپوں کی طرف ہی منسوب کئے جانے لگے۔ جس کا باپ معلوم نہ ہوتا وہ مولیٰ اور دینی بھائی کے نام سے پکارا جاتا۔ حضرت سہلہؓ بنت سہیل بن عمرو قریشی عامری جو کہ حضرت ابوحذیفہؓ بن عتبہ کی بیوی تھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہنے لگیں: یا رسول اللہ ! ہم سالم کو بیٹا سمجھا کرتے تھے اور اب اللہ نے اس کے متعلق وہ کچھ حکم نازل کیا ہے جو آپؐ جانتے ہی ہیں۔ پھر انہوں نے ساری حدیث کا ذکر کیا۔
عبید بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ ابواسامہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام (بن عروہ) سے، ہشام نے اپنے باپ سے، انہوں نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی۔ فرماتی تھیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ضباعہ بنت زبیرؓ کے پاس آئے۔ آپؐ نے اس سے پوچھا: شاید تو حج کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس نے کہا: بخدا میں تو اپنے تئیں بیمار ہی پاتی ہوں۔ آپؐ نے اس سے فرمایا: حج کا احرام باندھ لو اور مشروط کر دو اور کہو: اے اللہ! میں وہیں احرام کھول دوں گی جہاں بھی تو نے مجھے روک دیا۔ اور یہ حضرت مقداد بن اسودؓ کی بیوی تھی۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (بن سعید قطان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبیداللہ (عمری) سے روایت کی۔ (عبیداللہ نے) کہا: سعید بن ابی سعید نے مجھے بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: چار غرضوں سے عورت سے نکاح کیا جاتا ہے۔ اس کے مال کی وجہ سے، اس کے حسب نسب کی وجہ سے، اور اس کی خوبصورتی کی وجہ سے اور اس کی دین داری کی وجہ سے۔ دین دار عورت کو غنیمت سمجھو۔ ورنہ تمہارے ہاتھ خاک آلودہ ہوں گے۔
ابراہیم بن حمزہ نے ہم سے بیان کیا کہ (عبدالعزیز) ابن ابی حازم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت سہلؓ (بن سعد ساعدی) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے گزرا۔ آپؐ نے پوچھا: تم اس شخص کے متعلق کیا کہتے ہو؟ انہوں نے کہا: اس شان کا ہے کہ اگر نکاح کا پیغام بھیجے تو اِس کا نکاح کردیا جائے اور اگر وہ سفارش کرے تو اس کی سفارش قبول ہو اور اگر وہ بات کرے تو اس کی بات توجہ سے سنی جائے۔ (سہلؓ) کہتے تھے: یہ سن کر آپؐ خاموش ہوگئے۔ پھر غریب مسلمانوں میں سے ایک شخص گزرا۔ آپؐ نے پوچھا: اس کے متعلق تم کیا کہتے ہو؟ انہوں نے کہا: یہ اس قابل ہے کہ اگر شادی کا پیغام بھیجے تو اس کا کہیں بھی نکاح نہ کیا جائے اور اگر سفارش کرے تو اس کی سفارش قبول نہ ہو اور اگر بات کرے تو توجہ سے نہ سنی جائے۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ شخص ایسا ہے کہ اگر پہلے شخص جیسے انسانوں سے زمین بھر بھی جائے تو بھی یہ ان سے بہتر ہے۔
یحيٰ بن بُکَیر نے مجھ سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عُقَیل سے، عُقَیل نے ابن شہاب سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: عروہ نے مجھے خبر دی کہ اُنہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: وَ اِنْ خِفْتُمْ… سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے فرمایا: میرے بھانجے یہ وہ یتیم لڑکی ہے جو اپنے سر پرست کی پرورش میں ہو اور وہ اس کی خوبصورتی اور اس کی جائیداد پر للچاتے ہوئے یہ چاہے کہ اس سے نکاح کرلے اور اس کو مہر بھی کم دے۔ اس لئے انہیں ایسی یتیم لڑکیوں سے نکاح کرنے سے روک دیا سوائے اس کے کہ وہ پورا پورا حق مہر ادا کرنے میں انصاف کریں۔اور انہیں ان کے سوا عورتوں سے نکاح کرنے کے لئے حکم دیا گیا۔ فرماتی تھیں کہ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بعد فتویٰ پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: وَيَسْتَفْتُوْنَكَ۠ فِي النِّسَآءِ… اس لئے اللہ نے ان کے لئے یہ حکم نازل کیا کہ یتیم اگر خوبصورت اور مالدار ہو، وہ پورا مہر ادا کرکے اس سے نکاح کرنے اور اس کے خاندان سے تعلق پیدا کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ اور اگر وہ بوجہ اپنے مال اور خوبصورتی کی کمی کے ناپسندیدہ ہے تو وہ اس کو چھوڑ دیتے ہیں اور اس کے سوا اَور عورتوں کو لیتے ہیں۔ حضرت عائشہؓ فرماتی تھیں: تو جیسا کہ یہ لوگ اس یتیم لڑکی کو اُس وقت چھوڑ دیتے ہیں جب وہ اُن کے لئے بے رغبت ہو تو اُن کا کوئی حق نہیں کہ وہ اس یتیم لڑکی سے نکاح کرلیں جبکہ اس کی خواہش رکھتے ہوں۔ مگر اسی حالت میں کہ وہ اس کے حق میں انصاف کریں اور اُس کو جو اُس کا مہر میں حق ہے پورا کا پورا دیں۔
(تشریح)