بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 182 hadith
قتیبہ (بن سعید) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے اپنے باپ سے،ان کے باپ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی۔ آپ فرماتی تھیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ کام بہت پسند ہوتا کہ جسے اس کا کرنے والا ہمیشہ کرتا رہتا ۔
محمد بن عرعرہ نے مجھ سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سعد بن ابراہیم سے، سعد نے ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نےحضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ آپ فرماتی تھیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا۔ کونسے اعمال اللہ کو بہت پسند ہیں؟ فرمایا: وہ جسے ہمیشہ کیا جائے گو وہ تھوڑا ہی ہو اور فرمایا: اعمال میں سےاتنے ہی کی ذمہ داری اُٹھاؤ جتنی کہ تم طاقت رکھتے ہو۔
خلاد بن یحيٰ نے ہم سے بیان کیا کہ مسعر (بن کدام) نے ہمیں بتایا۔ زیاد بن علاقہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا میں نے حضرت مغیرہ بن شعبہؓ سے سنا وہ کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم اتنی دیر تک نماز پڑھتے کہ آپؐ کے پاؤں سوج جاتے یا (کہا:) پھول جاتے۔ تو آپؐ سے کہا جاتا۔ آپؐ فرماتے: کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں۔
(تشریح)آدم نے ہم سے بیان کیا کہ ابن ابی ذئب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سعید مقبری سے، سعید نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی کو اس کا عمل نجات نہیں دلائے گا ۔ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ ! اور نہ ہی آپؐ؟ آپؐ نے فرمایا۔ نہ ہی میں سوائے اس کے کہ اللہ مجھے اپنی آغوش رحمت میں لے۔ تم بہت سنوار کر عمل کرو اور میانہ روی اختیار کرو اور صبح بھی (اللہ کی عبادت) کرو اور شام کو بھی کرو اور کچھ رات کو بھی اور میانہ روی اختیار کرو میانہ روی اختیار کرو پہنچ جاؤ گے۔
عثمان بن ابی شیبہ نے مجھ سے بیان کیا کہ جریر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصور سے، منصور نے ابراہیم (نخعی) سے، ابراہیم نے علقمہ سے روایت کی انہوں نے کہا: میں نے اُم المؤمنین حضرت عائشہؓ سے پوچھا، میں نے کہا: اُم المؤمنینؓ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طرزِ عمل کیا تھا۔ کیا آپؐ کوئی دِن (روزہ کے لئے) مخصوص کیا کرتے تھے؟ تو اُنہوں نے کہا: نہیں آپ کا عمل دائمی صور ت رکھتا تھا اور تم میں سے کون ہے جو ایسی استطاعت رکھتا ہو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکھتے تھے۔
علی بن عبدا للہ نے ہم سے بیان کیا۔ محمد بن زبرقان نے ہمیں بتایا کہ موسیٰ بن عقبہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن سے روایت کی۔ اُنہوں نے حضرت عائشہؓ سے، حضرت عائشہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: سنوار کر ٹھیک طور پر عمل کرو اور میانہ روی اختیار کرواور خوش رہو۔ کیونکہ تم میں سے کسی کو اُس کا عمل جنت میں ہرگز داخل نہیں کرے گا۔ صحابہ نے کہا: یا رسول اللہ ! اور نہ ہی آپؐ؟ آپؐ نے فرمایا: اور میں بھی نہیں سوائے اس کے کہ اللہ مجھے اپنی مغفرت اور رحمت میں لے لے۔ (مدینی نے) بیان کیا کہ میرا خیال ہے کہ (موسیٰ بن عقبہ نے) یہ حدیث ابو سلمہ سے ابو النضر کے واسطے سے سنی ہے۔ ابو سلمہ نے حضرت عائشہ ؓ سے۔ اور عفان (بن مسلم) نے بیان کیا کہ ہم سے وُہیب نے بیان کیا انہوں نے موسیٰ بن عُقبہ سے روایت کی ، کہا کہ میں نے ابو سلمہ سے سنا اور انہوں نے حضرت عائشہؓ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپؐ نے فرمایا : سنوار کر ٹھیک طور پر عمل کرو اور خوش رہو۔ اور مجاہد نے بیان کیا کہ سَدَادًا سَدِيدًا ہر دو کے معنی صدق کے ہیں۔
ابراہیم بن منذر نے مجھے بتایا کہ محمد بن فلیح نے ہم سے بیان کیا انہوں نے کہا میرے باپ نے مجھے بتایا۔انہوں نے ہلال بن علی سے، انہوں نے کہا میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا۔ ایک دن رسول اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی ۔ پھر آپ منبر پر کھڑے ہوئے اور آپؐ نے مسجد کے قبلہ کی جانب اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا اور فرمایا:ابھی جبکہ میں نے تمہیں نماز پڑھائی، جنت و دوزخ مجھے دکھائی گئیں۔ جو اس دیوار پر متمثل تھیں۔ میں نے خیر وشر میں آج کے دن کی طرح کوئی دن نہیں دیکھا۔ میں نے خیر وشر میں آج کے دن کی طرح کوئی دن نہیں دیکھا۔
(تشریح)قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ یعقوب بن عبدالرحمٰن نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے عمرو بن ابی عمرو سے، عمرو نے سعید بن ابی سعید مقبری سے، سعید نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپؐ فرماتے تھے: اللہ نے رحمت کو جس دن پیدا کیا۔ اس کے سو حصے بنا لئے اور پھر اپنے پاس ننانوے حصے رحمت کے روک لئے اور اپنی تمام مخلوقات میں ایک حصہ رحمت کا بھیج دیا۔ اگر کافر اس ساری رحمت کو جانتا جو اللہ کے پاس ہے تو جنت سے مایوس نہ ہوتا اور اگر مؤمن اس سارے عذاب کو جانتا جو اللہ کے پاس ہے تو آگ سے نڈر نہ ہوتا۔
(تشریح)ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے، زہری نے کہا مجھے عطاء بن یزید نے خبر دی کہ حضرت ابو سعیدؓ نے انہیں بتایا کہ کچھ انصاری لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ مانگا تو اُن میں سے جس نے بھی آپؐ سے مانگا آپؐ نے اس کو دیا یہاں تک کہ جو آپ کے پاس تھا ختم ہوگیا تو جب سب کچھ ختم ہوگیا یعنی آپؐ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے خرچ کر ڈالا تو آپؐ نے ان سے فرمایا: جو (مال)بھلائی بھی میرے پاس ہو گی میں اس کو تم سے چھپا کر نہیں رکھوں گا اور بات یہ ہے کہ جو سوال سے بچے گا اللہ اُسے بچائے گا اور جو اپنے نفس پر زور ڈال کر صبر کرے گا اللہ اس کو صبر دے گا اور جو شخص استغناء چاہے گا اللہ اُسے مستغنی کر دے گا اور صبر سے بہتر اور اس سے بڑھ کر کوئی نعمت تمہیں ہرگز نہیں ملے گی۔