بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 100 hadith
اور مجھ سے اسماعیل (بن ابی اُوَیس) نے کہا کہ مالک نے نے مجھے بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمرؓ سے روایت کرتے ہوئے بتایا کہ جب چار مہینے گزر جائیں تو مرد کو (پکڑ کر) مجبور کیا جائے کہ وہ طلاق دے، اور جب تک وہ طلاق نہ دے گا طلاق نہ ہوگی۔ اور حضرت عثمانؓ، حضرت علیؓ، حضرت ابودرداءؓ، حضرت عائشہؓ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے بارہ اور اشخاص سے یہی بیان کیا جاتا ہے۔
(تشریح)قبیصہ (بن عقبہ کوفی) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبداللہ بن دینار سے، عبداللہ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: فتنہ ادھر سے ہوگا اور آپؐ نے مشرق کی طرف اشارہ کیا۔
علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یحيٰ بن سعید (انصاری) سے، یحيٰ نے یزید سے جو مُنْبَعِث کے غلام تھے، روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے گمشدہ بکری کے متعلق پوچھا گیا۔ آپؐ نے فرمایا: اُسے لے لو کیونکہ وہ یا تمہارے لئے ہے یا تمہارے بھائی کے لئے یا بھیڑئیے کے لئے۔ اور آپؐ سے گمشدہ اُونٹ کے متعلق پوچھا گیا۔ آپؐ ناراض ہوئے اور آپؐ کے رخسار سرخ ہو گئے اور فرمایا: تمہیں اس سے کیا تعلق؟ جوتااور مشکیزہ اس کے پاس ہے۔ پانی پیتا ہے، درختوں سے چرتا ہے جب تک کہ اُس کا مالک اُس سے نہ مل جائے؛ اور آپؐ سے گری پڑی چیز سے متعلق پوچھا گیا۔ آپؐ نے فرمایا: اس کا سر بندھن اور تھیلا پہچان رکھو اور ایک برس تک اس کی شناخت کرواتے رہو۔ اگر تو وہ آ گیا جو اُس کو پہچانتا ہے (تو بہتر) ورنہ اُس کو اپنے مال میں ملا لو۔ سفیان (بن عیینہ) نے کہا: پھر میں ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن سے ملا۔ سفیان نے کہا: اور میں نے ربیعہ سے سوائے اس حدیث کے اور کچھ یاد نہیں رکھا۔ میں نے (اُن سے) پوچھا: بتائیں یہ جو مُنْبَعِث کے غلام یزید کی حدیث گمشدہ چیز کے متعلق ہے، آیا وہ حضرت زید بن خالدؓ سے مروی ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ (سفیان کہتے تھے کہ) یحيٰ نے کہا: ربیعہ نے مُنْبَعِث کے غلام یزید سے روایت کی۔ یزید،حضرت زید بن خالدؓ سے اس کو موصولاً روایت کرتے ہیں۔ سفیان کہتے تھے: اس پر میں ربیعہ سے ملا اور میں نے اُن سے پوچھا۔
عبداللہ بن محمد (مسندی) نے ہمیں بتایا کہ ابوعامر عبدالملک بن عمرو نے ہم سے بیان کیا کہ ابراہیم (بن طہمان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے خالد (حذاء) سے، خالد نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اُونٹ پر سوار ہوکر طواف کیا اور آپؐ جب حجر اَسْود کے سامنے آتے تو آپؐ اُس کی طرف اشارہ کرتے اور اللہ اکبر کہتے۔ اور حضرت زینبؓ کہتی تھیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یاجوج ماجوج کا بند اتنا کھل گیا ہے اور انگلیوں سے نوے کا عدد (اشارہ کرکے) بنایا۔
مسدد نے ہمیں بتایا کہ بشر بن مفضل نے ہم سے بیان کیا۔ سلمہ بن علقمہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے محمد بن سیرین سے، محمد نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جمعہ میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ جس کو جو مسلمان بھی ایسی حالت میں پا لے گا کہ وہ کھڑا ہوکر نماز پڑھتا ہوگا، پھر وہ اللہ سے جو بھلائی بھی مانگے تو وہ اس کو ضرور عطا کرے گا اور آپؐ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کرکے بتایا۔ اپنے انگوٹھے کی پور اپنی درمیانی انگلی اور چھنگلی کے درمیان رکھی۔ ہم نے سمجھا کہ آپؐ کا مطلب یہ ہے کہ وہ گھڑی تھوڑی دیر رہتی ہے۔
اور اُوَیسی نے کہا: ہمیں ابراہیم بن سعد نے بتایا۔ انہوں نے شعبہ بن حجاج سے، شعبہ نے ہشام بن زید سے، ہشام نے حضرت انس بن مالکؓ سے روایت کرتے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک یہودی نے ایک لڑکی پر حملہ کیا اور (اُس کا) زیور جو اُس نے پہنا ہوا تھا لے لیا اور اُس کا سر کچل ڈالااُس لڑکی کے رشتہ دار اُس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے اور وہ آخری سانس لے رہی تھی اور زبان بھی بند ہو چکی تھی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: تم کو کس نے قتل کیا؟ اور جس نے اُس کو قتل نہیں کیا تھا اُس کا نام لے کر فرمایا: فلاں نے؟ اس نے اپنے سر سے اشارہ کیا کہ نہیں۔ حضرت ابوہریرہؓ کہتے تھے کہ آپؐ نے پھر ایک اور شخص کا نام لیا جس نے اُس کو قتل نہیں کیا تھا تو اُس نے اشارہ کیا کہ نہیں۔ پھر اُس کے قاتل کا نام لے کر کہا کہ فلاں نے؟ تو اُس نے سر کے اشارہ سے بتایا کہ ہاں۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس قاتل کے متعلق حکم دیا۔ اس کا سر بھی دو پتھروں کے درمیان کچلا گیا۔
علی بن عبداللہ (مدینی) نے ہم سے بیان کیا کہ جریر بن عبدالحمید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابواسحاق شیبانی سے، ابواسحاق نے حضرت عبداللہ بن ابی اَوفیٰ ؓ سے روایت کی ۔ انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے۔ جب سورج ڈوب گیا تو آپؐ نے ایک شخص سے فرمایا: اُترو اور میرے لئے ستو گھولو۔ وہ کہنے لگا: یا رسول اللہ! شام ہولے۔ پھر تھوڑی دیر کے بعد آپؐ نے فرمایا: اُترو ستو گھولو۔ وہ کہنے لگا: یا رسول اللہ! شام ہو لے۔ ابھی تو دن ہے۔ پھر کچھ دیر بعد فرمایا: اُترو ستو گھولو۔آخر تیسری بار فرمانے پر وہ اُترا اور اس نے آپؐ کے لئے ستو گھولے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ پئے اور پھر اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: جب تم دیکھو کہ تاریکی اس طرف (مشرق)سے چھا گئی ہے تو پھر روزہ دار نے روزہ افطار کر لیا۔
عبداللہ بن مسلمہ (قعنبی) نے ہم سے بیان کیا کہ یزید بن زُرَیع نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سلیمان تَیْمی سے، سلیمان نے ابوعثمان (نہدی) سے، ابوعثمان نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی کو بلالؓ کی نداء یا فرمایا: اس کی اذان اپنی سحری کھانے سے نہ روکے کیونکہ وہ صرف اس لئے پکارتا ہے یا فرمایا: اس لئے اذان دیتا ہے تا کہ جو تم میں سے کھڑا نماز پڑھ رہا ہو لَوٹ جائے۔ اس سے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ گویا وہ وقت صبح کا ہے یا (فرمایا:) فجر کا ہے (جو روشنی اس طرح لمبی ظاہر ہوتی ہے۔) یزید (راوی) نے اپنے دونوں ہاتھ اُوپر اٹھائے پھر ایک کو دوسرے سے کھینچ کر الگ لے گئے ۔
اور لیث (بن سعد) نے کہا کہ جعفر بن ربیعہ نے مجھے بتایا۔ انہوں نے عبدالرحمٰن بن ہرمز سے، عبدالرحمٰن نے حضرت ابوہریرہؓ سے سنا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بخیل اور خرچ کرنے والے کی مثال دو شخصوں کی ہے جنہوں نے اپنی چھاتی سے لے کر اپنی ہنسلی تک لوہے کے جبے پہنے ہوئے ہوں۔ وہ جو خرچ کرنے والا ہے تو وہ جو بھی خرچ کرتا ہے تو وہ جبہ اس کے جسم پر لمبا ہوتا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ اس کے سارے جسم کو انگلیوں تک ڈھانپ لیتا ہے۔ اور اس کے قدم کے نشان کو پیچھے سے مٹاتا چلا آتا ہے۔ اور جو بخیل ہے وہ خرچ کرنے کا ارادہ نہیں کرتا مگر اس جبے کا ایک ایک حلقہ اپنی جگہ میں سمٹ کر تنگ ہوجاتا ہے۔ اور وہ اس کو کشادہ کرتا ہے اور وہ کشادہ نہیں ہوتا۔ اور وہ اپنی انگلی سے اپنے حلق کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
قتیبہ (بن سعید) نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یحيٰ بن سعید انصاری سے، یحيٰ نے حضرت انس بن مالکؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں انصار کے گھرانوں میں سے بہتر گھرانہ نہ بتاؤں؟ صحابہ نے کہا: کیوں نہیں یا رسول اللہ! ضرور بتائیں۔ فرمایا: بنو نجار، پھر جو اُن سے قریب رہتے ہیں یعنی بنو عبد الاشہل، پھر جو اُن کے قریب یعنی بنو حارث بن خزرج، پھر وہ جو اُن کے قریب ہیں یعنی بنو ساعدہ۔ پھر آپؐ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کرکے بتایا اور اپنی انگلیوں کو اکٹھا کر لیا پھر اُن کو کھولا جیسے پھینکنے والا اپنے ہاتھ کو کھولتا ہے۔ پھر فرمایا: انصار کے سارے گھرانوں میں بھلائی ہے۔