بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 100 hadith
عبد الاعلیٰ بن حماد نے ہمیں بتایا کہ وہیب (بن خالد) نے ہم سے بیان کیا کہ ایوب (سختیانی) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: یہ یعنی بریرہؓ کا خاوند مغیث تھا جو فلاں لوگوں کا غلام تھا۔ مجھے ایسا یاد ہے جیسا کہ میں اُس کو دیکھ رہا ہوں۔ وہ بریرہؓ کے پیچھے مدینہ کی گلیوں میں اُس کے لئے روتا جاتا تھا۔
قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالوہاب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب سے، ایوب نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: بریرہؓ کا خاوند حبشی غلام تھا۔ اسے مغیث کہتے تھے۔ وہ فلاں لوگوں کا غلام تھا۔ مجھے ایسا یاد ہے کہ گویا میں اس کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ بریرہؓ کے پیچھے پیچھے مدینہ کی گلیوں میں چکر لگا رہا تھا۔
قتیبہ (بن سعید) نے ہم سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے روایت کی کہ حضرت ابن عمرؓ سے جب نصرانی یا یہودی عورت سے نکاح کرنے کے متعلق پوچھا جاتا تو وہ کہتے: اللہ نے مؤمنوں کے لئے مشرک عورتیں حرام کی ہیں اور میں اس سے بڑھ کر شرک کی بات کو نہیں جانتا کہ عورت یہ کہے کہ اُس کا ربّ عیسیٰؑ ہے حالانکہ وہ اللہ کے بندوں میں سے ایک بندہ تھا۔
قتیبہ (بن سعید) نے ہم سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے روایت کی۔ (وہ کہتے تھے:) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اس ایلاء کے متعلق کہتے تھے جس کے بار ے میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ مدت گزرنے کے بعد کسی کے لئے کوئی بات درست نہیں سوائے اس کے کہ اُس کو دستور کے مطابق بھلائی سے رکھے یا طلاق کا قطعی فیصلہ کرے جیسا کہ اللہ عزّوجل نے حکم دیا ہے ۔
محمد (بن سلام بیکندی) نے مجھ سے بیان کیا کہ عبدالوہاب (بن عبدالمجید ثقفی)نے ہمیں خبر دی کہ خالد (حذاء) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی۔ (انہوں نے کہا:) بریرہؓ کا خاوند غلام تھا جسے مغیث کہتے تھے۔ مجھے ایسا یاد ہے گویا میں اب بھی اُس کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ اُس کے پیچھے پیچھے روتے ہوئے چکر لگا رہا ہے۔ اُس کے آنسو اُس کی داڑھی پر بہہ رہے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عباسؓ سے فرمایا: عباسؓ! کیا تمہیں اس سے تعجب نہیں آتا کہ مغیث کو بریرہؓ سے کس قدر محبت ہے اور بریرہؓ کو مغیث سے کیسی نفرت ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم اس کے پاس واپس چلی جاؤ؟ بریرہؓ نے کہا: یا رسول اللہ! کیا آپؐ مجھے حکم دیتے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا: بلکہ سفارش ہی کرتا ہوں۔ اُس نے کہا: مجھے اس کی کوئی حاجت نہیں۔
عبداللہ بن رَجاء نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حَکَم سے، حَکَم نے ابراہیم (نخعی) سے، ابراہیم نے اَسْوَد سے روایت کی۔ (انہوں نے کہا:) حضرت عائشہؓ نے بریرہؓ کو خریدنا چاہا تو اُس کے مالکوں نے اُس کو بیچنے سے انکار کردیا مگر اس شرط پر کہ وہ حقِ وراثت کو مشروط رکھیں گے۔ حضرت عائشہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا۔ آپؐ نے فرمایا: اُس کو خرید لو اور اُس کو آزاد کردو کیونکہ حقِ وراثت اُس کا ہوتا ہے جس نے آزاد کیا۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گوشت لایا گیا ۔ آپؐ سے کہا گیا: یہ وہ ہے جو بریرہؓ کو بطور صدقہ کے دیا گیا ۔ آپؐ نے فرمایا: وہ اُس کے لئے صدقہ ہے اور ہمارے لئے تحفہ ۔ آدم (بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا اور انہوں نے اتنا زیادہ بیان کیا۔ بریرہؓ کو اُس کے خاوند کے متعلق اختیار دیا گیا۔
ابراہیم بن موسیٰ نے مجھ سے بیا ن کیاکہ ہشام (بن یوسف) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن جریج سے سے روایت کی اور عطاء نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کرتے ہوئے کہا: مشرک دو طرح کے تھے جن سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنوں کو واسطہ پڑا۔ ایک حربی مشرک تھے جن سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جنگ کرتے تھے۔ اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑتے تھے۔ ایک وہ مشرک جنہوں نے عہد کئے تھے کہ آپؐ ان سے نہ لڑیں اور وہ آپؐ سے نہ لڑیں۔ اور جب حربی مشرکوں سے کوئی عورت (خاوند چھوڑ کر) آ جاتی تو جب تک اُسے حیض نہ آتا اور وہ پاک نہ ہو جاتی اس وقت تک اُس کو پیغامِ نکاح نہ دیا جاتا۔ اور جب وہ پاک ہو جاتی تو اُ س سے نکاح جائز ہو جاتا۔ اور اگر نکاح کرنے سے پہلے اُس کا خاوند بھی ہجرت کرکے آجاتا تو وہ اُس کو واپس دے دی جاتی۔ اور اگر اُن میں سے کوئی غلام یا لونڈی ہجرت کرکے آتی تو وہ آزاد ہوجاتے۔ اور اُن کے وہی حقوق ہوتے جو اور مہاجروں کے تھے۔ پھر عطاء نے اُن مشرکوں کا جن سے عہد و پیمان تھے، ذکر اسی طرح کیا جس طرح مجاہد کی حدیث میں ہے۔ یعنی اگر عہد و پیمان کرنے والے مشرکوں کا غلام یا لونڈی ہجرت کرکے آتا تو وہ اُن کو واپس نہ کئے جاتے اور اُن کی قیمتیں اُن کو دے دی جاتیں ۔
اور عطاء نے حضرت ابن عباسؓ سے نقل کیا کہ قَرِیبہ، ابواُمیہ کی بیٹی حضرت عمر بن خطابؓ کے پاس تھی تو انہوں نے اُس کو طلاق دے دی۔ پھر معاویہ بن ابی سفیانؓ نے اُس سے نکاح کیا۔ اور امّ حَکَم، ابوسفیان کی بیٹی عیاض بن غنم فِہری کے نکاح میں تھی اور انہوں نے اُس کو طلاق دے دی اور عبداللہ بن عثمان ثقفی نے اُس سے نکاح کرلیا۔
یحيٰ بن بُکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عُقَیل سے، عُقَیل نے ابن شہاب سے۔ اور ابراہیم بن منذر نے یوں کہا کہ ابن وہب نے مجھ سے بیان کیا کہ یونس نے مجھے بتایا۔ ابن شہاب نے کہا: عروہ بن زبیر نے مجھے بتایا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ کہتی تھیں: مومن عورتیں جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہجرت کر کے آئیں تو آپؐ اللہ تعالیٰ کے اس قول سے اُن کی آزمائش کرتے: اے مومنو! جب تمہارے پاس مومن عورتیں ہجرت کرکے آئیں، تو اُن کو اچھی طرح آزما لیا کرو۔اللہ اُن کے ایمان کو خوب جانتا ہے لیکن اگر تم بھی جان لو کہ وہ مومن عورتیں ہیں تو اُن کو کافروں کی طرف مت لوٹاؤ۔ نہ وہ اُن (کافروں) کے لیے جائز ہیں اور نہ وہ (کافر) اُن (عورتوں) کے لیے جائز ہیں۔ اور چاہیے کہ کفار نے جو اُن (عورتوں کے نکاح) پر خرچ کیا ہو وہ اُن کو واپس کر دو۔ اور (جب تم اُن عورتوں کو کفار سے فارغ کروا لو تو) اُن کے معاوضے (یعنی مہر) ادا کرنے کی صورت میں اگر تم اُن سے شادی کر لو تو تم پر کوئی اعتراض نہیں اور کافر عورتوں کے ننگ و ناموس کو قبضہ میں نہ رکھو اور جو کچھ تم نے اُن پر خرچ کیا ہے (اگر وہ بھاگ کر کفار کی طرف چلی جائیں تو) کفار سے مانگو۔ اور (اگر کفار کی بیویاں مسلمان ہو کر مسلمانوں سے آ ملیں تو) جو کچھ انہوں نے (اپنے نکاحوں پر) خرچ کیا ہے مسلمانوں سے مانگیں۔ یہ تمہیں اللہ کا ارشاد ہے۔ وہ تمہارے درمیان فیصلہ کرتا ہے۔ اور اللہ جاننے والا (اور) حکمت والا ہے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی تھیں: جو مومن عورتیں اس شرط کا اقرار کرلیتیں تو گویا وہ امتحان میں پوری اترتیں۔ جب وہ اپنے قول سے اس کا اقرار کر لیتیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُن سے فرماتے: تم چلی جاؤ۔ میں نے تم سے بیعت لے لی۔ اللہ کی قسم! ہرگز نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ نے کبھی کسی عورت کے ہاتھ کو نہیں چُھوا لیکن آپؐ زبانی الفاظ سے ہی بیعت لیتے تھے۔ اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے صرف انہی باتوں کا عہد لیا جن کے متعلق اللہ نے آپؐ کو حکم دیا۔ جب آپؐ اُن سے اقرار لے لیتے تو آپؐ اُن سے زبانی الفاظ میں یوں فرماتے: میں نے تم سے بیعت لے لی۔
(تشریح)اِسماعیل بن ابی اُوَیس نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے بھائی (عبدالحمید بن ابی اُوَیس) سے، عبدالحمید نے سلیمان (بن بلال) سے، سلیمان نے حُمَید طویل سے، حُمَید نے حضرت انس بن مالکؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کے پاس نہ جانے کی قسم کھائی اور آپؐ کے پاؤں میں موچ آ گئی تھی تو آپؐ اپنے ایک بالا خانے میں اُنتیس دن تک رہے۔ پھر اس کے بعد اُترے۔ لوگوں نے کہا:یا رسول اللہ! آپؐ نے مہینہ کی قسم کھائی تھی۔ آپؐ نے فرمایا: مہینہ اُنتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔